Type to search

تجزیہ جمہوریت

حامد میر کا نیا سفر اور پرانا میڈیا

خبر ہے کہ پاکستانی صحافت کے حالیہ دور کے بڑے برج حامد میر نے جنگ گروپ سے دو عشروں سے زیادہ کی رفاقت اور کیپٹل ٹاک کی 16 سالہ میزبانی کا سفر ختم کر دیا ہے اور اب ایک نئے نیوز چینل کے ساتھ سفر کو آگے بڑھائیں گے۔ حامد میر کے جیو نیوز چھوڑنے کی وجوہات تو یقیناً ان سے بہتر کوئی نہی جانتا اور نہ ہی اس ف تبصرہ جائز ہوگا لیکن ان کے نئے سفر سے امیدیں اور توقعات رکھنا ہم جیسے صحافت کے نوجوان کارکنوں کی مجبوری ہے۔ اور مجبوری اس لئے بھی ہے کیونکہ حامد میر ان دلیر صحافیوں میں سے ایک ہیں جو چاہے غلام اسحاق خان کی بینظیر بھٹو کے خلاف سازشوں کو منظرعام پر لانے پر صعوبتیں ہوں، آصف زرداری کے دوستوں کی المعروف بحری آبدوزوں میں مبینہ کرپشن کے سکینڈل کو بےنقاب کرنے پر نوکری سے برطرفی ہو، یا مشرّف کی ایمرجنسی کے خلاف بغاوت پر پابندیاں ہوں، حامد میر چٹان کی طرح استقامت کے ساتھ غلط کے خلاف کھڑے رہے، لڑتے رہے اور اس ملک میں خلاف روایت سچ کے حق میں کھڑے رہے۔

عمران خان سے جڑی اس امید کا خیالی خاکہ

اور آج کل تو عمران خان کی نئی طرز کی سیاست و حکومت کی وجہ سے پاکستان میں بڑے عرصے بعد امید کا انتہائی خوبصورت موسم بھی ہے۔ نوجوانوں کی مسکراہٹوں سے لے کر ان کی ملاقاتوں تک میں ایک امید نظر آ رہی ہے۔ دیکھتے ہیں عمران خان سے جڑی اس امید کا یہ خیالی خاکہ اداروں میں اصلاحات، تعلیم اور صحت کے نظام میں بہتری، کرپشن کے خاتمے اور اس طرح کی کئی اور اصلاحات کے ساتھ عملی جامہ بھی پہنے گا یا بھٹو کے سوشلزم، ضیا کی اسلامی اصلاحات، نواز شریف کے ایشین ٹائیگر اور کشکول توڑنے، مشرّف کے 7 پوائنٹس، اور زرداری و گیلانی کے ‘کلین گورنمنٹ’ کے وعدوں کی طرح محض ذہنی و خیالی خاکہ ہی رہے گا۔

حامد میر ایک جی سے دوسرے جی میں کیوں گئے

لیکن اس تحریر کی اصل بات حامد میر کے نئے سفر سے ہماری امیدوں کی ہے۔ امیدوں کے اس دور میں آج میڈیا کے کئی حلقے یا تو ‘1’ کے ہاتھوں جھوٹ، نامکمل سچ اور خاموشی کے یرغمال بنے ہوئے ہیں یا پھر ہمیشہ سے قائم حلقوں میں کچھ نئے لوگوں کی جدید اور پراسرار تدبیروں کے ہاتھوں۔ حامد میر ایک جی سے دوسرے جی میں کیوں گئے، یہ تو ان کا اپنا معاملہ ہے لیکن ہماری امید ہے کہ بعد والے جی میں اب صحافت اور ہر خبر کا فیصلہ صرف صحافی کریں گے، صحافیوں کی آزادی کو لگام دوسسرے جی میں صرف ایڈیٹوریل بورڈ یا اس جیسی کوئی باڈی لگا سکے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئینی و جمہوری معاملات پر چاہے وہ کوئی ترمیم ہو یا کسی ادارے کا ماضی، صحافی کم ازکم تعمیری تنقید اورجائز اختلاف کر سکیں گے اور کسی کا انٹرویو شوٹنگ ہونے کے بعد ائر ہونے سے نہیں رکے گا۔ سہیل وڑائچ کی تازہ ترین کتاب ‘2’ میں کئی جگہ استعمال ہوئی ‘3’ ‘4’ کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے لیکن آزاد صحافت کا زخمی شیر آج ان سے مرہم پٹی کی امید لگائے بیٹھا ہے۔

امید ہے اب افراد پر نہیں بلکہ معاملات پرصحافت ہوگی

امید تو یہ بھی ہے کہ اب اس طرف تحقیق ہوگی کے راؤ انوار اتنے لمبے عرصے ملک میں موجود ہوتے ہوئے ملکی اداروں کی نظروں سے اوجھل کیسے رہا اور پھر نقیب اللہ محسود کے مبینہ قاتل کو باآسانی ضمانت کیسے مل جاتی ہے، اور اختر منگل کے ایشوز بالخصوص گمشدہ افراد کے معاملے پر ریاست کتنی پیشرفت کر رہی ہے۔ امید ہے اشاروں کنایوں میں ہی سہی لیکن پشتون تحفظ موومنٹ کے آئینی مطالبات پر گفتگو ہوگی اور ریاست کو ان کے جائز حقوق کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ امید ہے اب افراد پر نہیں بلکہ معاملات پرصحافت ہوگی۔ اس صدی کا میڈیا صرف ‘5’ نہیں بلکہ کئی مرتبہ ‘6’ کا بھی کردار ادا کر سکتا ہے جس کا ہمارے میڈیا میں شدید فقدان ہے۔ امید ہے کراچی میں ‘مردم شماری’ اور پانی کی کمی کے مسئلے سے لے کر انصاف اور دفاعی اداروں کی خامیوں اور زیادتیوں پر بھی معیاری گفتگو، تحقیق اور تبصرہ ہوگا۔ اور حامد میر وقت کے کسی شیر کی معیاری تعمیرات کے دوران مبینہ دو نمبریوں اور مالی بیضابطگیوں کو بھی بےنقاب کرنے سے نہیں کترائیں گے۔

یہ عرضیوں سے بھری تحریر یقیناً حامد میر کے نام ہے لیکن ہماری باقی صحافت کا ‘7’ اور ‘8’ عکس بھی اس میں نمایا ہے۔

1-“Self-cencorship”
2-“Party is over”
3-“style of writing’
4-‘symbolism’
5- ‘watchdog’
6- ‘guidedog’
7-‘Caged’
8-‘well-controlled’

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *