Type to search

سیاست عوام کی آواز

2018 کے انتخابات، اور بھان متی کا کنبہ

یوں تو ہماری روایت ہے کہ ہر انتخاب کے بعد ہارنے والی جماعت دھاندلی کا واجبی سا شور مچاتی ہے لیکن 2018 کے انتخابات میں لگتا ہے کہ حقیقت میں ایک بڑی واردات ہوئی ہے۔ سوائے فاتح جماعت کے ہر جماعت الیکشن کمیشن پر دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہی ہے۔ اس میں شک بھی نہیں کہ ان انتخابات میں ‘خفیہ’ ہاتھوں کی کارگزاری بہت واضع نظر آتی ہے۔ عموماً انتخابی نتائج رات کے پچھلے پہر تک آ جاتے ہیں لیکن ان تنتخابات کے نتائج تین دن تک آتے رہے۔ ملکی میڈیا کے علاوہ غیر ملکی میڈیا نے بھی ان انتخابات کو ایک خاص جماعت کے حق میں ‘مینیج’ کرنے کا الزام لگایا۔

بھان متی کا مضحکہ خیز کنبہ

باوجود تمام ‘مثبت’ اقدامات کے ان انتخابات کے نتیجے میں جو جماعت فاتح قرار پائی اس کے پاس بھی اکثریت نہیں تھی لہٰذا کاریگروں نے شکار دھونڈنے شروع کیے اور شدید نظریاتی اختلاف رکھنے والی جماعتوں اور شخصیات کو ایک چھتری تلے جمع کیا اور یوں صرف چار ووٹ کی اکثریت سے حکومت تشکیل پا سکی۔ بھان متی نے اپنی دانست میں جو کنبہ جوڑا وہ اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ بقول غالب ‘ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے’۔

‘خواص’ کی حکومت، عوام کے ذریعے، ‘خواص’ کے لئے

بزرگوں سے سنا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے لیکن ہمارے ‘مہربانوں’ نے سوائے اپنی ذمہ داریوں کے ہر کام کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لے رکھا ہے اور اسی وجہ سے ملک بحرانوں سے نکل نہیں پا رہا۔ سارے مہذب ممالک میں جمہوری حکومت کا مطلب ہے عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے لیکن وطن عزیز میں اس کا مطلب ہے ‘خواص’ کی حکومت، عوام کے ذریعے، ‘خواص’ کے لئے۔ اب اگر غور کریں تو عوام سے ووٹ تو ہر انتخاب میں لیا جاتا ہے لیکن حکومت ‘خواص’ کی بنتی ہے اور ظاہر ہے پھر فائدے میں بھی وہی رہتے ہیں۔ عوام ہر انتخاب میں یہ سوچ کر صبح سے قبطاروں میں لگی ہوتی ہے کہ شائد اس دفعہ اس کے ووٹ کی پرچی سے اس کا نصیب جاگ جائے۔ عوام ووٹ دے کر اپنی قیادت سے وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں لیکن جب ان کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو وہ سیاستدانوں کو ہی کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان بے چاروں کو کیا معلوم کہ ان کے ووٹ کی پرچی سے حکومت تو ضرور بن گئی لیکن اختیار کسی اور کے پاس ہے۔

اب بس کر دیں

ہر ذی شعور جانتا ہے کہ آج تک اس ملک کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر چلایا گیا ہے لیکن خدارا اب اس ملک پر رحم کریں۔ ملک اس طرح نہیں چلا کرتے جس طرح ہم پچھلے 80 سالوں سے اس ملک کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی نت نئے تجربات نے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی روش کو ترک کر کے جمہوریت کو استحکام دیں۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو عوام خوشحال ہوگی اور جب عوام خوشحال ہوگی تب ہی یہ ملک مضبوط ہوگا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *