Type to search

تاریخ جمہوریت سیاست فیچر

تصاویر کیا کہتی ہیں؟

بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کے ہمراہ پاکستان کا پرچم لہرانے کراچی تشریف لاتے ہوئے۔

اپنے پہلے خطاب میں وہ پرامید تھے کہ پاکستان ایک جدید اورسماجی اجتماعیت پر یقین رکھنے والی مسلم ریاست بن جائے گا۔ تاہم 1948 تک پاکستان بھارت کے ساتھ اپنی پہلی جنگ میں الجھ گیا۔ مسٹر جناح کے اپنے سابق ساتھی لیاقت علی خان، جو پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، کے ساتھ کئی قسم کے اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔ ٹی بی کے مرض میں مبتلا محمد علی جناح ستمبر 1948 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اُن کی وفات سے قیادت کا ایک وسیع خلا پیدا ہو گیا، جو شاید ابھی تک پُر نہیں ہوا ہے۔

مئی 1950: پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان امریکی دورے کے دوران ایک دعوت میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے۔

یہ کسی بھی پاکستانی حکمران کا امریکہ کا پہلا دورہ تھا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اگست 1947 میں پاکستان کی تخلیق کے بعد اس کے رہنماؤں کو اُس وقت کی دومتحار ب عالمی طاقتوں، امریکہ اور سوؤیت یونین، نے مدعو کیا تھا۔

دو سال بعد لیاقت علی خان نے سوؤیت دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ طویل تعلقات کا آغاز ہوا، جو گاہے گاہے مشکلات کا شکار ہوتا رہا۔ بہرحال پاکستان سوؤیت کیمپ کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ کو ملک میں فوجی اڈے دینے کے عوض مالی اور فوجی امداد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ ایک تو امریکہ پاکستان سے زرعی پیدوار خریدنے والا پہلا ملک بن گیا تھا، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی طاقتور بیوروکریسی اور فوج کیمونزم کے خلاف تھی۔

پولیس اور سیاست دان راولپنڈی میں جاں بلب لیاقت علی خان کے گرد کھڑے ہوئے۔

لیاقت علی خان کو 1951 میں ایک جلسے کے بعد قتل کیا گیا۔ اگرچہ گولی چلانے والے ا فغان یا پشتون قوم پرست سعید اکبر کو موقع پرگرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن اُسے پولیس نے گولی مار دی۔ بہت سی کہانیاں گردش میں رہیں کہ اُس نے لیاقت علی خان کو قتل کیوں کیا، لیکن اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ تھی کہ پولیس نے اُسے گرفتار کر کے تفتیش کرنے کی بجائے گولی کیوں مار دی۔

جلد ہی قتل کی تفتیش کرنے والا آفیسر طیارے کے ایک ‘پراسرار’ حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ اُس کے بعد 1958 میں لیاقت علی خان قتل کی تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں۔ پتہ چلا کہ سعید اکبر ایک افغان تھا جسے قیامِ پاکستان سے پہلے افغانستان نے ملک سے نکال دیا تھا۔ وہ پشاور میں رہ رہا تھا، جہاں اُس وقت برطانوی راج تھا۔ اُسے پاکستان بننے کے بعد حکومتِ پاکستان سے رقم ملتی رہی۔ وہ جلسے کے وقت سکیورٹی انکلوژر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایسا کس طرح ممکن ہوا؟ تاہم 1958 میں شروع ہونے والی تحقیقات بھی انجام تک نہ پہنچ سکیں کیونکہ اس کی ایک اہم فائل اُسی تفتیشی آفیسر کے پاس تھی جو طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہوا۔ اُس کے ساتھ ہی وہ فائل بھی ضائع ہو گئی۔ آج تک اس کی کوئی باوثوق وضاحت پیش نہیں کی جا سکی۔ تاہم ایوب خان، جو 1958 سے لے کر 1969 تک پاکستان کے صدر رہے، نے ضرور کہا تھا کہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد کئی ایک سیاست دانوں اور سرکاری افسروں پر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی۔ اس سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ شاید وہ اس قتل میں ملوث تھے۔

1953 میں لاہور میں احمدیوں کے خلاف کارکن بپھرے دکھائی دیتے ہیں۔

دینی جماعتوں نے نفرت انگیز تقاریر سے ماحول زہرناک بنا دیا تھا۔ اُن کے کارکن احمدی ممبران اور ان کے گھروں پر حملے کرنے لگے۔ اُن کی جائیدادیں تباہ کر دی گئیں اور کچھ کی جان بھی لے لی گئی۔ وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین نے فوج بلا لی، جس نے مظاہرو ں کو کچل دیا اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے قائدین کو گرفتار کر لیا۔ فوجی عدالتوں نے کچھ اہم رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی۔ لیکن بعد میں کی جانے والی اپیل میں سزا معطل کر دی گئی۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ احمدیوں کو ریاستی اور حکومتی اداروں سے نکالا جائے اور اُنہیں اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ حکومت نے یہ مطالبات مسترد کر دیے، اورمظاہرین پر یہ الزام لگاتے ہوئے دبا دیا کہ یہ لوگ پاکستان مخالف، شرپسند اور اقبال اور جناح کے تصورات کو پامال کرنے والے ہیں۔

1954 میں دو سینیئر جج صاحبان کو گورنر جنرل نے ان فسادات کی وجوہات جاننے کے لئے متعین کیا۔ جج صاحبان نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ فسادات کے پیچھے وزیرِاعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ کا ہاتھ تھا۔ فسادات کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی، پنجاب کی صوبائی حکومت کو جس مالیاتی بحران کا سامنا تھا، اس سے توجہ ہٹانے کے کی کوشش، اور دوسری، وزیرِ اعظم کو نیچا دکھا کر عہدے سے ہٹانے کا منصوبہ۔ دولتانہ کا خیال تھا کہ وہ وزارتِ اعظمیٰ کے لئے زیادہ موزوں شخص ہیں۔ انکوائری میں خبردار کیا گیا کہ مذہبی جماعتیں ملائیت قائم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ دولتانہ اور ناظم الدین، دونوں کو گورنرجنرل نے برطرف کر دیا، اور مذہبی جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں۔

1958: صدر اسکندر مرزا، وزیرِ اعظم فیروز خان نون اور آرمی چیف جنرل ایوب خان کراچی ایئرپورٹ پر

تصویر بنانے کے فوراً بعد مرزا اور ایوب خان نے نون حکومت، جو بالواسطہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، کو برطرف کر دیا اور ملک پر پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ شب خون کی بیان کردہ وجوہات ‘بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام اور اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا’ بتائی گئیں۔

مارشل کے دوہفتوں کے بعد ایوب خان نے اسکندر مرزا کو فوج کو تقسیم کرنے کا الزام لگا کر چلتا کیا۔ ایوب فیلڈ مارشل، اور 1959 میں ملک کے ‘منتخب شدہ صدر’ بن گئے۔ اُنہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی۔ بائیں بازو کی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے اُنہیں سوؤیت ایجنٹ قرار دیا، اور دائیں بازو کی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ اسلام کو ‘ترقی مخالف مذہب’ بنانے کی کوشش میں ہیں۔

ایوب خان نے وعدہ کیا کہ وہ اُس پاکستانی قوم پرستی کو اجاگر کریں گے جو دراصل جناح کے تصور کی بنیاد تھی، اور جس سے ایوب خان کی مراد تھی، "ایک جدید ملک جس میں ترقی پسند اور لبرل اسلام، جاندار معیشت اور طاقتور دفاع اور فوج ہو”۔ اُنہوں نے ملک کا نام بھی تبدیل کر دیا۔ 1956 کے آئین نے پاکستان کو "اسلامی جمہوریہ” قرار دیا تھا۔ ایوب خان نے آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک کانام "رپبلک آف پاکستان” رکھا۔

ابتدائی دنوں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن، پی آئی اے کا پریس میں شائع ہونے والا ایک ابتدائی اشتہار

پی آئی اے کا قیام 1955 میں اُس وقت عمل میں آیا جب حکومت نے نجی ملکیت میں چلنے والی اوریئنٹ ایئرلائن کو قومی تحویل میں لے لیا۔ 1960 کی دہائی میں پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں ہونے لگا۔ یہ پہلی فضائی کمپنی تھی جس نے دورانِ پرواز مسافروں کو تفریح فراہم کرنے کا تصور متعارف کرایا۔ امریکی صدر جے ایف کینڈی کی بیوی جیکولین کینڈی نے پی آئی اے کو اپنی پسندیدہ ترین ایئرلائن قرار دیا تھا۔

جب ایئرلائن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو اس نے اپنے پائلٹوں اور دیگر عملے کے یونیفارم کا ڈیزائن تیار کرنے کے لئے 1967 میں مشہور فرانسیسی فیشن ڈیزائنر پیئر کارڈین کی خدمات حاصل کیں۔ مسٹر کارڈین نے بہترین ڈئزائن تیار کیا۔

1970 کی دہائی میں ایئرلائن نے اپنے فلیٹ اور پروازوں کے روٹس میں اضافہ کیا۔

1975 میں ایئرلائن نے نیا یونیفارم ڈیزائن کرنے کے لئے ملکہ الزبتھ کے ملبوسات کو ڈیزائن کرنے والے ہارڈی ایمز کی خدمات حاصل کیں۔ 1979 میں ائیرلائن نے امریکہ کے مشہور ہوٹل، روزویلٹ، نیویارک، کے مالکانہ حقوق حاصل کر لیے۔ 1980 کی دہائی کے آغاز میں پی آئی اے کے انجینئرز اور پائلٹوں نے امارات ایئرلائن لانچ کرنے میں یو اے ای کی مدد کی۔ بدقسمتی سے 1980 کی دہائی کے بعد سے پی آئی اے پر بدقسمتی کے سائے گہرے ہونے لگے۔ 2000 کے ابتدائی ایام تک یہ خستہ حالت میں تھی، لیکن ابھی تک محو پرواز تھی۔

1970 کے انتخابی نتائج کی برطانیہ کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی اشتعال انگیز خبر

ایوب خان نے اپنی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کی شدت دیکھتے ہوئے مارچ 1969 میں استعفا دے دیا۔
اُنہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دیا، جنہوں نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے ملک کے پہلے براہِ راست انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔

بنگالی قوم پرست جماعت، عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں بھرپور کامیابی حاصل کر لی۔ دوسری طرف مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی نے بڑی تعداد میں نشستیں جیت لیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مغربی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے صنعتی اور کاروباری طبقے ایک بنگالی، شیخ مجیب، اور ایک سندھی، بھٹو کو سبقت لے جاتے دیکھ کر پریشان تھے۔ یہ رپورٹ مغربی پاکستان کی معاشی اشرافیہ کے خدشات پر روشنی ڈالتی ہے کہ عوامی لیگ کی قیادت میں طاقت کا توازن مشرقی پاکستان کی طرف جھک جائے گا۔ دوسری طرف یہی اشرافیہ پی پی پی کی انقلابی اورسوشلسٹ پالیسیوں سے بھی خائف تھی۔

1971 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم

آفتاب گل (جو بائیں جانب سے پہلے نمبر پر کھڑے ہیں) نے اُس بیٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جسے مشرقی پاکستان میں سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے نیلام کیا جانا تھا۔

بائیں بازو کے جوشیلے تصورات رکھنے والے آفتاب گل پنجاب یونیورسٹی (1968-69) کے طالب علم تھے۔ 1969 میں انگلینڈ کی ٹیم کے دورے کے موقع پراُنہیں ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اگرچہ وہ ایک باصلاحیت بلے باز تھے، لیکن ٹیم میں شامل کرنے کی وجہ طلبہ کے جذبات کو ٹھنڈا کرنا تھا کہ وہ میچ کے دوران گڑبڑ نہ کریں۔

1971 کا دورہ اُس وقت ہوا جب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی۔ پی پی پی نے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت اُس وقت تک اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی جب تک عوامی لیگ اپنے ‘علیحدگی کے مؤقف’ سے دستبردار نہیں ہو جاتی۔ یحییٰ خان نے بھی یہی مؤقف اپناتے ہوئے مشرقی پاکستان میں بنگالی انتہا پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی ایکشن کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کا بایاں بازو مشرقی پاکستان کے ایشو پر تقسیم ہو گیا۔ سوؤیت نواز دھڑے مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے خلاف تھے جبکہ چین نواز دھڑے اس کی حمایت کر رہے تھے۔ آفتاب گل کا تعلق چین نواز بائیں بازو سے تھا۔ انگلینڈ کے دورے کے دوران آفتاب گل کا مؤقف تھا کہ بیٹ کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم بنگالی قوم پرستوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گی، چنانچہ اُنہوں نے، اور کچھ دیگر کھلاڑیوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل یحییٰ خان نے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے مداخلت کی اور کھلاڑی دستخط کرنے پر تیار ہو گئے۔

دستخط کرنے والوں میں گل کا آخری نمبر تھا۔ دسمبر 1971 میں بنگالی قوم پرست (بھارت کی مدد سے) مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ یحییٰ خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اُن کی جگہ ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی پی پی پی نے حکومت سنھال لی۔

اگست 1973: 1973 کے آئین کی منظوری پر اتفاق کرنے کے بعد قومی اسمبلی میں پی پی پی کے کچھ ممبران اپوزیشن ارکین سے گلے ملتے ہوئے۔

آئین میں پاکستان کا نام دوبارہ ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان’ رکھ دیا گیا، لیکن اس اصطلاح پر حکمران جماعت پی پی پی اور مذہبی جماعتوں کے ارکین اسمبلی کے دوران گرما گرم بحث ہوئی۔ تاہم فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہوگا۔ پی پی پی نے کچھ شرعی قوانین کو آئین میں شامل کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا، لیکن طلبہ کو سکولوں میں عربی، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کی لازمی تعلیم دینے کا مطالبہ مان لیا۔ یہ آئین پاکستان کے چھبیسویں یومِ آزادی (14 اگست 1973) کو نافذ ہوا۔

1974 میں احمدی برادری کے سرکردہ ممبران قومی اسمبلی کے باہر جمع ہو کر کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف رکھتے ہوئے۔

یہ کمیٹی مذہبی اور اپوزیشن جماعتوں کے متعارف کرائے گئے ایک پارلیمانی بل پر تحقیقات کر رہی تھی جس کا مقصد احمدیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا تھا۔

1974 میں مذہبی جماعتوں نے اس مقصد کے لئے ایک تازہ تحریک شروع کر دی، جو پرتشدد ہو گئی۔ بھٹو حکومت نے اس ایشو پر پارلیمان میں بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اسے 1953 کی طرح کچل دیا جائے گا۔ پنجاب میں تشدد میں ہوتے ہوئے اضافے، اور ان رپورٹس، کہ پی پی پی کے پنجاب اسمبلی کے کچھ ارکان بھی اپوزیشن کا ساتھ دینے کا ارادہ کر رہے ہیں، نے بھٹو کو مجبور کر دیا کہ وہ مذہبی جماعتوں کو بل پیش کرنے کی اجازت دے دیں۔

تمام فرقوں اور ذیلی فرقوں سے تعلق رکھنے والے علما کا مؤقف جاننے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ احمدی برداری کے ایک وفد کو بھی دعوت دی گئی۔ لیکن بھٹو پارلیمنٹ کے ارکان کو دوسری ترمیم منظور کرنے سے باز نہ رکھ سکے۔ اس آئینی ترمیم نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس برادری نے 1970 کے عام انتخابات میں پی پی پی کو پنجاب میں بھاری تعداد میں ووٹ دیتے ہوئے اس کی کامیابی کی راہ ہموار کی تھی۔

1975 میں کراچی کے ایک نائٹ کلب کا اخبار میں شائع ہونے والا اشتہار

1977 میں وزارت سیاحت کی جانب سے شائع ہونے والے ایک کتابچے ‘پاکستان میں سیاحت’ کے مطابق کراچی میں 1959 سے 1970 کے درمیان چھے نائٹ کلب تھے۔ 1970 سے 1976 کے درمیان ان کی تعداد چودہ تک پہنچ گئی۔ 1963 میں ایوب خان کے دور حکومت میں کراچی کو ‘روشنیوں کے شہر’ کا لقب ملا۔ جبکہ لاہور ملک کا ثقافتی دارالحکومت کہلاتا تھا تو کراچی کو پاکستان کا معاشی اور تفریحی مرکز کہا جاتا تھا۔ یہاں پر ہوٹلوں اور سنیما گھروں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی تھی۔

1970 میں صف اول کے نائٹ کلبوں میں پلے بوائے اور اوئیسس، میٹروپولیٹن گارڈنز اور انٹرکاٹیننٹل ہوٹل شامل تھے۔ درمیانے درجے کی فہرست میں پینٹ ہاؤس، سٹار لائٹ، ہوٹل بیچ پر واقع 007، پیلس ہوٹل میں لا گورمے، لاڈو اور ہوٹل مڈوے کے کلب شامل تھے۔ کلبز اور ہوٹلوں میں بارز کے علاوہ کتابچے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ صدر اور طارق روڈ پر تقریباً دو درجن بارز واقع تھے۔ کتابچے کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان کی سیاحت کا عروج 1960 کی دہائی کے وسط اور آخر میں، اور پھر 1970 کی دہائی میں تھا۔ سوات، درّہ خیبر، لاہور، کراچی اور موہنجو داڑو سیاحوں کے پسندیدہ مقامات تھے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بھٹو حکومت پر دباؤ بڑھانے کی وجہ سے اپریل 1970 میں مسلمانوں کو شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔ نائٹ کلب، بشمول ایک بہت بڑا کسنیو، جو مارچ 1977 میں کلفٹن کے ساحل پر کراچی میں کھولا جانا تھا، بند کر دیے گئے۔ پی آئی اے کی فلائٹس کے دوران شراب پیش کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

بھٹو نے پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے اسے عارضی قرار دیا، لیکن 1979 میں ضیا حکومت کے آرڈیننس نے اسے مستقل کر دیا۔ ضیاالحق نے 5 جولائی 1977 کو شب خون مارتے ہوئے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ صرف لائسنس یافتہ سٹور ہی غیر مسلم پاکستانیوں اور غیر مسلم سیاحوں کو شراب فروخت کر سکتے تھے۔ ایسی تمام دکانیں کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں، کوئٹہ اور بلوچستان کے کچھ قصبوں میں تھیں۔

مارچ 1977 میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے گھیرے میں آئے ہوئے بھٹو نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں اُنہوں نے امریکہ اور پاکستان کی کاروباری اور صنعتی برداری پر اپوزیشن پارٹیوں کو مالی وسائل فراہم کرنے کا الزام لگایا۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں پی پی پی پر 1977 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا رہی تھیں۔

جولائی 1977 میں بھٹو حکومت کا تختہ ضیا کے شب خون نے الٹ دیا۔ بھٹو کو 1974 میں ایک سیاسی حریف کو قتل کرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک متنازع مقدمہ چلا کر اُنہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ بھٹو کو 4 ایرپل 1979 کو پھانسی دے دی گئی۔

1982: اہم شخصیات میں گھرے پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان اختر رسول 1982 کے ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائے لاہور ایئرپورٹ پر طیارے سے باہر آ رہے ہیں۔ یہ ٹورنا منٹ بھارت میں کھیلا گیا۔

یہ قومی ہاکی ٹیم کا تیسرا عالمی ٹائٹل تھا۔ اس نے مسلسل دو مرتبہ ہاکی کا عالمی کپ جیتا تھا۔ اُس وقت پاکستانی ہاکی ٹیم عالمی رینکنگ میں نمبر ون تھی۔ اس کے بعد پاکستان نے صرف 1994 کا ورلڈ کپ جیتا، پھر پاکستان میں ہاکی کا زوال شروع ہو گیا۔ آج یہ دنیا میں 13ویں پوزیشن کے لئے بھی ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ پاکستان 2014 میں ہاکی کے عالمی کپ میں شرکت کے لئے کوالی فائی نہیں کر سکا تھا۔

جنرل ضیا اور امریکی صدر رونالڈ ریگن ضیا کے 1984 کے امریکہ کے دورے کی ایک تصویر

رونالڈ ریگن ضیا کے سب سے بڑی حمایتی اور مہربان تھے۔ اُن دونوں نے سوؤیت حمایت رکھنے والی کابل کی حکومت اور وہاں موجود سوؤیت فوج کے خلاف افغان مجاہدین کو فنڈز اور ہتھیار فراہم کرنے کے لئے مل کر کام کیا۔

رونالڈ ریگن نے ضیا حکومت کو بھاری امداد فراہم کی، اورافغان مجاہدین کو امریکہ کے بانیوں کے مساوی قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے ضیا آمریت کی سیاسی حریفوں، عورتوں اور اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی کھلی پامالی سے چشم پوشی روا رکھی۔ ریگن اورضیا کی شراکت داری نے ہزاروں مسلمانوں کو انتہاپسند بنا دیا۔ اُن میں بہت سے بعد میں جنونی اور دہشتگرد بن گئے۔ کئی سال بعد اسلامی ممالک، خاص طور پر پاکستان، اور یورپ اور امریکہ میں پائی جانے والی انتہاپسند تنظیموں کی جڑیں 1980 کی دہائی میں ہونے والی افغان خانہ جنگی میں ملتی ہیں۔ اس جنگ میں امریکہ اور سعودی عرب نے ان جنگجوؤں کو فنڈز اور ہتھیار فراہم کیے، جبکہ ضیاالحق کی حکومت نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

ایک آوارہ کتا اُس جگہ آ نکلا جہاں ضیا فوجی دستوں کے مارچ پاسٹ کا معائنہ کررہے تھے۔

جب کچھ اخبارات نے یہ تصویر شائع کی تو ضیا کی وزارتِ اطلاعات ناراض ہو گئی۔ کچھ کا خیال ہے کہ ضیا مخالف طلبہ نے وہ کتا چھوڑا تھا، لیکن اس بات کی تصدیق نہ کی جا سکی۔ ضیا نے گیارہ سال تک حکومت کی، یہاں تک کہ وہ اگست 1988 میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ حادثے میں سازش کا اشارہ ملتا تھا لیکن کچھ بھی ثابت نہ ہو سکا۔

ضیا کے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے کے اگلے روز، 18 اگست 1988 کو کئی سیاسی جماعتوں نے کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر بیک وقت ریلیاں نکالیں۔ اُن کا اہتمام پارٹی کارکنوں نے نہیں کیا تھا، تاہم ان میں پارٹی کے حامی شامل تھے۔

کراچی میں زیادہ تر کار ریلیوں کا اہتمام پی پی پی اور ایم کیو ایم نے، جبکہ لاہور میں پی پی پی اورپی ایم ایل نے کیا تھا۔ ان میں زیادہ تر شہری علاقوں کے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے آدمی اورعورتیں شامل تھیں۔ حتیٰ کہ اُنہیں روکنے کے لئے بھیجے جانے والے پولیس مین بھی اس جشن میں شریک ہو گئے۔ یہ ریلیاں 1988 کے انتخابات تک جاری رہیں۔ ان میں بے نظیر بھٹو کی پی پی پی فتح یاب ہوئی۔

پی ایم ایل کا ایک حامی ایک ٹی شرٹ پہنے ہوئے جس پر ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ، نصرت کی تصویر ہے جو ایک امریکی سے گلے مل رہی ہیں۔

1990 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی پی پی پی اور نواز شریف کی پی ایم ایل کے درمیان رقابت انتہائی شدید تھی۔ 1988 اور 1990 کے انتخابات کے دوران پی ایم ایل کے روایتی حلقوں میں جذبات بھڑکانے کے لئے کارکن اکثر ایسی ٹی شرٹس پہنتے اور پوسٹرز لگاتے تھے۔

پی ایم ایل اور پی پی پی نے 1990 کی دہائی ہونے والے دو انتخابات میں سے ایک ایک میں کامیابی حاصل کی، لیکن اُن کی حکومتیں اسٹیبلشمنٹ کے حامی صدور نے ضیا کی متعارف کرائی گئی آئینی ترمیم کے ذریعے مدت ختم ہونے سے بہت پہلے توڑ دیں۔ نواز شریف کی دوسری مدت کی حکومت (1997-99) کا خاتمہ فوجی مداخلت سے کیا گیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران سڈنی ایئرپورٹ پر اخبار پڑھتے ہوئے۔

تصویر بنانے والے مشہور فوٹو گرافر اقبال منیر کا کہنا ہے کہ اُس وقت عمران خان باقی ٹیم سے الگ تھلگ دکھائی دیتے تھے، اور پاکستان اپنے ابتدائی میچز ہار چکا تھا۔ اقبال منیر نے اپنی کتاب ‘آئی آن عمران’ میں لکھا ہے کہ عمران کا رویہ میزبان آسٹریلیا کے خلاف انتہائی اہم میچ سے پہلے یک لخت بدل گیا۔ منیر کے مطابق نائب کپتان جاوید میاں داد نے اُن کا رویہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فائٹنگ سپرٹ، اچھی کرکٹ اور قسمت کے ادغام کے ساتھ آخر کار عمران کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ کی ٹرافی جیت لی۔ یہ کامیابی 26 سال بعد عمران خان کے اندر بطور ایک سیاستدان قائدانہ صلاحیتیں ابھارنے میں اہم کردار ادا کرنے جا رہی تھی۔ آج اُن کی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف، 2018 کے انتخابات جیت چکی ہے اور عمران خان ملک کے بائیسویں وزیرِ اعظم ہیں۔

1994 میں پاکستانی پوپ بینڈ وائٹل سائنزکے ‘گریٹسٹ ہٹس’ کا کور

وائٹل سائنز نے مقامی پوپ موسیقی کو عروج بخشا۔ پوپ میوزک ضیا دور کے خاتمے پر اچانک 1980 کی دہائی کے آخر میں پاکستان میں متعارف ہوا تھا۔ اگرچہ 1990 کی دہائی میں کئی ایک پوپ اور راک بینڈ سامنے آئے اور غائب ہو گئے لیکن سائنز ملک کا اہم ترین پوپ بینڈ رہا۔ تاہم بینڈ کے ارکان کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی کمزور تھے۔ بینڈ نے کم از کم چار گٹار بجانے والوں کی خدمات حاصل کیں، اور ان کا آنا جانا لگا رہا۔ اس کے اہم ممبران کے درمیان تلخ کلامی ہوتی رہتی کیونکہ وہ موسیقی اور سیاست پر مختلف نظریات رکھتے تھے۔

آخر کار یہ بینڈ 1998 میں ختم ہو گیا۔ اس کے اہم ترین گلوکار جنید جمشید نے موسیقی کی دنیا کو خیر آباد کہا اور ایک غیر سیاسی مذہبی تنظیم کا رکن بن کر مذہب کی تبلیغ کرنے لگے۔ وہ بعد میں 2016 میں ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

جنرل پرویز مشرف پی ٹی وی سٹیشن، راولپنڈی میں 1999 میں قوم سے پہلا خطاب کرنے کے بعد

اُنہوں نے ایک ڈرامائی شب خون میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ یہ پاکستان کا چوتھا شب خون تھا۔

مشرف نے پاکستان کو 1990 کی افراتفری سے نکالنے کے لئے ایک فوری منصوبہ بنایا۔ اسے روشن خیال پاکستان کا نام دیا گیا۔

مشرف کی حکومت (1999-2008) کے دوران پاکستان میں بہت متاثر کن معاشی شرح نمو دیکھنے میں آئی۔ اس نے ثقافتی طور پر بھی جدید دنیا کی کھڑکی کھولی۔ اس دوران انتہا پسند گروہوں پر کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔

تاہم 2006 میں مشرف حکومت کی معاشی ترقی کے متاثر کن غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہو گئی۔ انتہاپسندوں کے خلاف اس کی پالیسیوں کی ناکامی سامنے آنے لگی۔ 2007 میں چلنے والی ایک عوامی تحریک نے اُنہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ مشرف کا کہنا تھا کہ اُس تحریک کے مالی وسائل نواز شریف کی پی ایم ایل (ن) نے فراہم کیے تھے۔ اُنہیں افسوس تھا کہ جب اُنہیں سیاسی طور پر گھیرا جا رہا تھا تو اُن کے اپنے ادارے فوج نے اُن کا ساتھ نہ دیا۔ 2008 کے انتخابات جیتنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے اُنہیں عہدہ چھوڑنے کا کہا۔ آج کل مشرف دبئی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اُنہیں یقین ہے کہ بہت سے پاکستانی اُن کی وطن واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، مصباح الحق دورۂ انگلینڈ کے دوران

وہ طویل عرصے تک نظر انداز کیے گئے، لیکن پھر وہ ملکی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ثابت ہوئے۔

2002 اور 2010 کے درمیان تین مرتبہ ٹیم میں آنے اور جانے کے بعد مصباح 2010 کے آخر میں 36 سال کی عمر میں چوتھی مرتبہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس مرتبہ اُن کی واپسی عارضی کپتان کے طور پر ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی ٹیم میچ فکسنگ کے سنگین الزامات کی زد میں تھی۔ کھلاڑیوں کی باہمی چپلقش اپنے عروج پر تھی۔ دوسری طرف دہشتگردی کی کارروائیوں اور بم حملوں نے پاکستان میں زندگی مفلوج کر رکھی تھی۔ کوئی ٹیم پاکستان آنے کے لئے تیار نہ تھی۔

آہستہ آہستہ مصباح نے حالات کو سنبھالا۔ سب سے پہلے تو اُنہوں نے ٹیم میں ایک قابلِ اعتماد بلے باز کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کی، اس کے بعد ایک پراعتماد کپتان ثابت ہوئے۔ وہ تباہی کے دہانے سے پاکستانی کرکٹ کو واپس لانے میں کامیاب رہے۔ اُس وقت پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم عالمی رینکنگ میں آخری نمبروں پر تھی۔ چھے سال بعد، 2016 میں وہ دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کے کپتان تھے۔

مصباح کی کپتانی کا انداز نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے لئے احترام کا مؤجب بنا، بلکہ وہ دہشتگردی کے مارے ملک کی ایک دوستانہ اور قابلِ قبول پہچان بھی بن گئے۔ جب مصباح 2017 میں کرکٹ کے میدانوں سے رخصت ہوئے تو اُنہیں بھرپور طریقے سے الوداع کہا گیا۔

پاکستان کے سابق آرمی چیف، جنرل راحیل شریف خوش دکھائی نہیں دے رہے

اُنہیں نواز شریف نے 2013 میں اپنی تیسری مدت کے دوران آرمی چیف بنایا۔ جنرل راحیل نے اپنا طاقتور بیانیہ آگے بڑھایا کہ پاکستان داخلی طور پر (انتہاپسند گروہوں کی طرف سے) شدید خطرے سے دو چار ہے۔

اُنہوں نے انتہا پسندوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کرنے پر زور دیا۔ اُس وقت انتہا پسندوں نے ملک کا نظامِ زندگی مفلوج بنا رکھا تھا۔ تاہم آرمی چیف کے زور دینے کے باوجود سولین حکومت متذبذب تھی، اور اسی طرح پارلیمنٹ کے اندر کچھ دیگر جماعتیں بھی۔ دسمبر 2014 میں انتہا پسندوں نے پشاور کے ایک سکول پر حملہ کر کے 140 طلبہ کو شہید کر دیا تو جنرل راحیل شریف نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اس پر حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس بلاتے ہوئے فوجی آپریشن کے لئے گرین سگنل دے دیا۔

پارلیمنٹ سے کارروائی کی اجازت ملنے کے بعد فوج نے مختلف جنگجو گروہوں کے خلاف ایک غیر معمولی آپریشن شروع کر دیا۔ جب جنرل راحیل شریف 2017 میں ریٹائر ہوئے تو خودکش حملوں اور دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد کمی آ چکی تھی۔ تاہم آخری وقت تک حکومت کے ‘نیشنل ایکشن پلان’ کے نفاذ کی کوششوں سے مطمئن نہ ہوئے۔ یہ پلان انتہا پسندی، جو دہشتگردی کی جڑ ہے، کے خاتمے کے لئے بنایا گیا تھا۔

ایک سیاح گلگت بلتستان میں سیر کرتے ہوئے۔ 2018 میں امریکی ٹی وی، سی این این نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دنیا کے سب سے خوبصورت اور سیاح دوست علاقے قرار دیا تھا۔

2018 میں ملک کے منتخب شدہ وزیرِاعظم عمران خان جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملتے ہوئے۔

2018 کے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت جیت تو گئی لیکن حاصل ہونے والی اکثریت بہت معمولی سی ہے۔ ان انتخابات میں فوج کی مبینہ پشت پناہی سے دھاندلی کا بھی الزام لگا۔ فوج کے ملک کی دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

دوسری طرف کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے فوج کے ساتھ ‘بہتر تعلقات’ انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کے لئے سازگار ماحول بنائیں گے، حالانکہ ذاتی طور پر عمران خان ایسے کسی بھی آپریشن کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ فوج کوعمران خان کی حکومت سے توقع ہے وہ نیشنل ایکشن پلان، جسے نواز حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر نافذ کرنے میں ناکام رہی تھی، کو مکمل طور پر نافذ کرے گی۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عمران خان کی جماعت، پی ٹی آئی، جو دائیں بازو کی جماعت ہے، نے 2018 کے انتخابات میں نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کو اپنے سیاسی منشور کا حصہ بنایا تھا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *