Type to search

تجزیہ سیاست

مسائل جو عمران خان کے سامنے منہ پھاڑے کھڑے ہیں، کیا ان سے نمٹنے کی صلاحیت ان میں ہے

دو جماعتی نظام کو پچھاڑ کر قائم ہونے والی نئی حکومت کو بہت سے نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ عمران خان صاحب کی قیادت میں قوم سے غیر روایتی وعدے کیے گئے ہیں جو غیر روایتی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور بہترین ٹیم کے انتخاب کا جو تاثر دیا جا رہا ہے، وہ ابھی سے الزامات کی زد میں ہے۔ منقسم اپوزیشن صدارتی انتخاب میں بھی کوئی دلچسپ صورتحال پیدا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اعتزاز احسن کو صدارت کا امیدوار نامزد کرنا اچھا فیصلہ ہے، مگر یہ فیصلہ پیپلزپارٹی دس برس قبل کرتی تو بہت کارگر ثابت ہوتا کیونکہ عدلیہ بحالی تحریک نے انہیں اسٹیبلشمنٹ مخالف رہنما کے طور پر ابھارا تھا۔ آج ان کی نامزدگی محض پیپلزپارٹی کو نمایاں ترین اپوزیشن جماعت کے طور پر پیش کرنے کا موقع نظر آتی ہے۔

منقسم اپوزیشن عمران خان کے لئے نیک شگون

پیپلزپاڑٹی سندھ میں اپوزیشن سے کسی محاذ آرائی کے بجائے اندرون خانہ مفاہمت کو ہی ترجیح دے گی کیونکہ ایم کیوایم اور وفاق کی حمایت یافتہ سندھ اپوزیشن مضبوط ثابت ہوگی۔ دوسری جانب میاں شہباز شریف کمزور اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں مگر ذہن نشین رہے کہ وہ پہلی مرتبہ یہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ممکن تھا کہ وہ غیر سیاسی و غیر متنازعہ صدارتی امیدوار کا نام پیش کر کے صدارتی انتخاب کو نئی حکومت کے لئے ایک چیلنج بنا پاتے۔ لیکن نظر یہی آتا ہے کہ سینیٹ انتخابات تک نئی حکومت کو کوئی اندرونی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہو گا۔

آئی ایم ایف کے پاس جانا تو ناگزیر ہے مگر۔۔۔

کارکردگی کی بات کریں تو معیشیت پہلا اور اہم ترین چیلنج ہے۔ سو ارب ڈالر سے زائد قرض اور تیس ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ عمران خان اور اسد عمر کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا تو ناگزیر ہے مگر اس سے قبل ایک بہت بڑا اثاثہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں جو اپنا سرمایہ پاکستان لا کر معیشت کو فوری ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔ گذشتہ دونوں حکومتیں اس میں ناکام ثابت ہوئی ہیں مگر عمران خان کا رابطہ اس کمیونٹی سے گذشتہ تیس برس سے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کو پاکستان لانے کے لئے حکومت کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہے۔ اگر فارن کرنسی کی شکل میں ترسیلات زر کا سلسلہ شروع ہوا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی پھولتی ہوئی سانسیں معمول پر آ سکتی ہیں۔ میگا پروجیکٹس کے لئے درکار سرمایہ کاری کا ہدف فوری طور پر حاصل کر پانا ممکن نہیں۔

ابتدا سے ہی وہائٹ ہاؤس کا دباؤ واضح نظر آ رہا ہے

معیشیت کے بعد خارجہ پالیسی بہت اہم ہے۔ ابتدا سے ہی وہائٹ ہاؤس کا دباؤ واضح نظر آ رہا ہے۔ اسی طرح کی مشکل صورتحال ہمیں ایران، افغانستان اور ہندوستان کے حوالے سے بھی درپیش ہے۔ سی پیک، پاک سعودی تعلقات اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جیسے معاملات براہ راست خارجہ پالیسی سے متعلق ہیں۔ اصلاحات ایک مشکل ترین مرحلہ ہے جس کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین جیسے تجربہ کار ٹیکنوکریٹ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو گورنر سٹیٹ بینک رہ چکے ہیں۔

سارا دارومدار بالواسطہ ٹیکس پر ہے جسے براہ راست ٹیکس میں تبدیل کرنا کسی کارنامے سے کم نہ ہوگا

محصولات کی وصولی یعنی ٹیکس کولیکشن گذشتہ سات دہائیوں سے مشکلات کا شکار ہے۔ سارا دارومدار بالواسطہ ٹیکس پر ہے جسے براہ راست ٹیکس میں تبدیل کرنا کسی کارنامے سے کم نہ ہوگا۔ کیا ایف بی آر اور دیگر محصولات اکٹھا کرنے والے اداروں میں کوئی ون ونڈو آپریشن شروع کیا جا سکے گا؟ کیا اصلاحات کو ادارے بآسانی قبول کر لیں گے؟ ان سوالات کا جواب نظام کی بہتری کے لئے جلد درکار ہو گا ورنہ اصلاحات نظام کی بہتری کے بجائے ابتری کی جانب بھی حالات کا رخ موڑ سکتی ہیں۔

آبی وسائل کی وزارت کو الگ کرنا اور ماحولیات کو ترجیحات میں شامل کرنا نیک شگون ہے

درآمدات کو کم کرنے کے لئے اور برآمدات میں اضافے کے لئے ملکی صنعت کو فوری طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا جس کے لئے توانائی کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عبدالرزاق داؤد جیسے صنعتکار کی کابینہ میں شمولیت کا بظاہر یہی مقصد نظر آتا ہے، تاہم کارکردگی ہی اس فیصلے پر سب سے بڑا تجزیہ ہوگی۔ آبی وسائل کی وزارت کو الگ کرنا اور ماحولیات کو ترجیحات میں شامل کرنا نیک شگون ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے تاہم مہمند ڈیم جسے منڈا ڈیم بھی کہا جاتا ہے، بہترین ترجیح ہے، کیونکہ نہ صرف یہ سات سو میگاواٹ سستی پن بجلی فراہم کرے گا بلکہ سیلاب کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا جو کالا باغ ڈیم کے حوالے سےخیبرپختونخوا کا اعتراض کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔

غیر یقینی وعدے کیے ہیں تو تنقید بھی غیر روایتی ہوگی

بلوچستان حکومت سے ہم آہنگی اور وہاں بہتر ہوتا ہوا پرامن ماحول پی ٹی آئی حکومت کے لئے کسی ریلیف سے کم نہیں۔ پاکستان کا مستقبل اب بلوچستان ہے جو نہ صرف گوادر کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ ریکوڈک جیسے منصوبے بھی توجہ کے منتظر ہیں۔ موجودہ حکومت کو غیر روایتی تنقید کا سامنا ہوگا اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اس نے انتخابات سے قبل غیر یقینی وعدے بھی عوام سے کر رکھے ہیں۔

بیوروکریسی گذشتہ دس برس میں سیاسی حوالے سے تاریخ میں پہلی بار منقسم نظر آتی ہے۔ سینیارٹی کو تار تار کر کے جس طرح ماضی میں تعیناتیاں کی گئیں، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر اس حکومت نے بھی یہی روش اختیار کی تو یہ ادارہ مزید تنزلی کا شکا ہوگا۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ اس طبقے کے ایلیکٹیبلز، بقول خان صاحب جنہیں سیاست کی سائنس آتی ہے، ان کی قیادت میں کیسے ان کے نظریے پہ چلتی ہے

2007 میں مشرف حکومت سے مزاکرات کے بعد ہی جمہوریت اور دوجماعتی نظام کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اب نئے سیٹ اپ کے ساتھ نیا ورکنگ ریلیشن وجود میں آئے گا۔ 1958 کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی قیادت، جس کی بنیاد ایوب خان نے رکھی تھی، اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہی پروان چڑھی تھی۔ بیرونی معاشی امداد کے ثمرات بھی اسی طبقے کو دان کیے گئے۔ لہٰذا یہ سیاسی طبقہ کاروباری سیاست یا سیاسی کاروبار کے خمیر سے تیار شدہ ہے جو انتطامی صلاحیتوں سے عاری ہے۔ بعد ازاں ضیا دور میں بننے والی مسلم لیگ (ن) بھی بنیادی طور پر خالصتاً کاروباری طبقے پر ہی مشتمل تھی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس طبقے کے ایلیکٹیبلز، بقول خان صاحب جنہیں سیاست کی سائنس آتی ہے، ان کی قیادت میں کیسے ان کے نظریے پہ چلتی ہے۔ مڈل کلاس کا ووٹ بنیادی طور پر اسی طبقے کے خلاف گیا ہے، جسے انتظامی قابلیت دکھانے کے لئے ہمیشہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں درکار ہوتی ہیں۔

کرپشن کا بیانیہ عملی طور پر نظر نہ آیا تو یہ پی ٹی آئی کی سب سے بڑی اخلاقی شکست ہو گی اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے سب سے بڑا ریلیف بھی اور مفاہمت کے ذریعے یہ کوئی ریلیف پیکیج بھی بن سکتا ہے۔ جمہوریت پانچ سالہ آمریت کا نام نہیں بلکہ عوامی شعور کے زیراثر ریاستی معاملات کی ادائیگی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *