Type to search

تجزیہ سیاست

اب آپ لبرل ہو گئے ہیں؟

یہی کوئی سترہ روز بیت چکے کہ ہمیں نیا پاکستان میں آفیشلی داخل کیا جا چکا ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ نئی حکومت کو پہلے تین سے چھ ماہ “ہنی مون پیریڈ” کا مارجن دیا جانا چاہیے۔ ہم بھی اس بھان متی کے بیاہ میں مخل نہ ہوتے لیکن کیا کیجیے ہر روز ایک نیا شگوفہ پھوٹتا ہے اور یہاں سے وہاں ہر سو قہقہے بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ تنقید یا سخت الفاظ میں کسی عمل پر مؤقف دینے کی گنجائش فی الحال نہیں نکالوں گی ہاں لیکن ان دو ڈھائی ہفتوں میں بیساکھیوں کے سہارے کھڑی کی گئی نئی حکومت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جو کچھ سمیٹا ہے اس کا مختصر جائزہ لینا یوں بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وقت کَم اور مقابلہ سخت والا حساب بنا ہوا ہے۔ “مقابلہ سخت” یہاں ہزیمت، محض دکھاوے اور بونگیوں کے زمرے میں سمجھا جائے تو بات زیادہ سمجھ میں آئے گی۔

کیا پہلے خطاب میں کوئی حکمت عملی سامنے رکھی گئی؟

اگر ہمیں قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان کے لئے ووٹنگ کے بعد کی گئی کنٹینرزدہ تقریر کو بھول جانے کے لئے یہ کہلوانا پڑے کہ اپوزیشن کے گھاک سیاستدانوں نے اعصاب پر سوار ہو کر من مرضی کا ردِعمل لیا تو جاگ جائیے کیونکہ یہ تاویل سوائے جذباتیت اور ردعمل میں اعصاب پر قابو نہ رکھ پانے کی علامت کو واضح کرتی ہے۔ آگے چلیے اور قوم سے ریکارڈڈ خطاب کے ایک گھنٹہ سے زائد وقت میں ہم وقتی طور پر چڑانے کے لئے کلبھوشن کی پھانسی کا پوچھ تو سکتے ہیں لیکن اصل سوال آپ کی خارجہ پالیسی کے خدوخال اور کشمیر و افغانستان پر چند سیکنڈز کی توجہ پر ہی ہوگا۔ بچپن تو کیا اب اس بڑھاپے میں بھی جب کسی ذمہ داری کے لئے والدین کے سامنے کہتے ہیں کہ “یہ کرلوں گی، وہ کرنا ہے۔۔ ابھی یہ یہ اور فلاں کام رہتے ہیں” تو پہلا سوال شاید آپ کے والدین بھی یہی کرتے ہوں گے کہ “او تے ٹھیک اے پتر۔ پَر کرنا کینج اے؟ رستہ کِتھوں کڈنا اے؟” مطلب کوئی روڈ میپ، کوئی واضح حکمتِ عملی کے ٹھوس نکات سامنے رکھنا ہی ہوتے ہیں۔

کرنے کو کوئی کام نہیں رہ گیا جو رہائش، ہیلی کاپٹر کے خرچے نکالنے جیسے کاموں میں وقت برباد کر رہے ہیں؟

ہفتہ ڈیڑھ تو صرف رہائش کا فیصلہ کرنے میں ہی گزار لیا گیا۔ شاید یہ ملکی سطح کا سب سے اہم مسئلہ تھا۔ کیونکہ بجلی کے بحران اور دہشتگردی سے کٹا پھٹا پاکستان کم از کم آپ کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا۔ سکونت کا معاملہ اتنی ہائپ لیتا بھی نہیں اگر دیگر معاملات کی طرح بڑے بڑے دعووں کے بوجھ میں دھنسے نہ ہوتے۔ بطور پاکستانی شہری ہم نے اپنے بھائی، بیٹوں اور سیاستدانوں کو دہشتگردی اور شدت پسندی کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے۔ اس ملک پر بینظیر بھٹو، کرنل شجاع، سلمان تاثیر اور بلور خاندان جیسوں کے خون کا قرض ہے۔ انسانی جان قیمتی ہوتی ہے اور کسی بھی لیڈر کی زندگی اس سے جُڑے لوگوں کی امیدوں، خوابوں اور بہتری کی خواہشات کے باعث زیادہ اہم بن جاتی ہے۔ دوسرے سربراہانِ مملکت کا سائیکل پر دفتر جانا تو یاد رکھا گیا لیکن آئیڈلزم کے سٹیرائڈز میں دہشتگردی سے زخمی پاکستان کے حالات کو جان بوجھ کر نظرانداز کر کے حکمرانوں کے لئے حفاظتی حصار کو پروٹوکول کا نام دے کر نفرت پھیلانے کی روش میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ اکثریت بیزار ہو چکی ہے۔ آپ کو روزانہ اپنی ذاتی رہائش گاہ سے پی۔ایم آفس آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر چاہیے تو اس پر مجھے یا کسی کو بھی اعتراض نہ ہوتا کیونکہ یہ آپ کا آئینی و قانونی حق ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ آپ سے پہلے والے وزرائے اعظم روزانہ یہ کچھ کرتے تو فلاں ملک کے وزیراعظم کی سائیکل نے نیندیں حرام کردینی تھیں سب کی۔ لیکن ہر معاملے میں دکھاوے اور “تاریخ میں پہلی دفعہ” والا ٹانکا جوڑنے کی خاطر فی کلومیٹر کا شوشا چھوڑ دیا۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہلوایا گیا ہیلی کاپٹر رائیڈ تقریباً مفت پڑتی ہے کیونکہ اس کو مینٹیننس کی خاطر اڑانا تو ہوتا ہی ہے۔ تو بھیا جہاں پرانی گاڑیاں نیلام کرنے میں کروڑوں کے اشتہار دے رہے ہو، یہ سفید ہاتھی چاپر بھی نیلام کر لو۔ مؤرخ ابھی تک حیران ہے کہ آپ کا چاپر پچپن روپلی میں کلومیٹر کرتا ہے تو شریف فیملی کے وہ دورے جنہیں آپ اپوزیشن میں اربوں کے بتایا کرتے تھے ان کا فقط ڈھائی کروڑ کا بِل کیوں بھجوایا جائے گا؟ یہ تو وہی بات ہوگئی کہ ان کے ذاتی اخراجات کے چیک دیکھ کر خفت مٹانے اور انا کی تسکین کی خاطر نئی راہ نکالی ہے۔

پہلے والوں کو دکھانے کے لئے مختلف پراجیکٹس اور چیلنجز سے فرصت نہ تھی جو ایسی باتوں پر شور کرتے

وزیراعظم ہاؤس، وزیرِاعظم آفس اور سیکریٹریٹ کا فرق اگر آپ کو سمجھ میں نہیں تھا تو آپ کی ٹیم کے جو لوگ دوسری جماعتوں سے مشیر یا وزارتوں کے وسیع تجربے کے ساتھ نیا پاکستان بنانے نکلے ہیں ان کا فرض تھا کہ ٹوکتے اور سمجھاتے کہ ریاستی یا سرکاری ملازمین کو آپ اپنے گھر کے ملازم کی طرح بغیر وجہ کے نوکری سے نہیں نکال سکتے۔ چونکہ ایسا نہیں ہوا لہٰذا کھسیانے بن کر کبھی ملازمین کی تعداد پر بحث تو کبھی ان کی خدمات دوسرے کھاتے میں ڈالنے کی بھونڈی کوششیں۔ آپ سے کہیں پہلے میٹنگز میں چائے بسکٹ اور لیموں پانی وغیرہ کا ہی سامان ہوا کرتا تھا لیکن انہیں عوام کو دکھانے کے لئے مختلف پراجیکٹس اور چیلنجز سے فرصت نہ تھی جو ایسی باتوں پر شور کیا کرتے۔ سادگی کے دکھاوے میں ہر روز کھوکھلا پن تھوتھے چنے کی مانند بجتا جا رہا ہے لیکن سمجھ پھر بھی نہیں آ رہی۔ کرنے کو سنجیدہ کام نہیں ہے کیا بابو؟

جو کچھ دو ہفتوں میں بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کو رائتہ کہتے ہیں وہ بھی پھیلا ہوا

خارجہ سطح پر نریندر مودی کے خط سے لے کر مائیک پومپیو کی فون کال سے ہوتا ہوا معاملہ فرانسیسی صدر تک جا پہنچا ہے۔ وزارتِ خارجہ ایک ایسے شخص کو سونپی گئی ہے جو بالکل نیا نہیں ہے لیکن ہر قدم پر بین الاقوامی سطح پر اپنی غلط بیانیوں کی اپوزیشن والی فطرت نہ چھوڑنے کے باعث پاکستان کے لئے شرمندگی خریدی جا رہی ہے اور ملال تک نہیں۔ ڈائس پر راج ببر والا پوز بنا کر بھٹو کی نقالی کرتے یہ کہنا آسان ہے کہ “خارجہ پالیسی اب یہاں بنے گی” لیکن جو کچھ دو ہفتوں میں بنا کر قوم کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کو رائتہ کہتے ہیں وہ بھی پھیلا ہوا۔ فرانسیسی صدر کی فون کال کے حوالے سے اگر کوئی بھرم جماتا تھرڈ کلاس ڈرامہ رچایا بھی گیا تھا تو یہاں اُن سترہ صحافیوں کی گوشمالی کرنا ہم سب پر فرض ہے جن کے علم میں سربراہانِ مملکت کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کا ڈیکورم نہیں اور جنہیں سفارتی آداب یا خارجہ امور کی راہ میں پڑتے پڑاؤ جاننے کی فرصت نہیں۔ جاگ جائیے جناب، اپوزیشن میں ہر گھڑی غلط بیانی اور بہتان تراشیوں کی عادت گھر والے برداشت کر لیا کرتے ہیں خاص کر جب ان کے اعصاب مضبوط ہوں لیکن ایسی چتر چالاکیاں بین الاقوامی سطح پر بالکل نہیں چل سکتیں جبکہ آپ کو حکومت بنا کر بٹھایا گیا ہو۔ باقی آپ کی دبنگ خارجہ پالیسی تو آج پومپیو چند گھنٹے کے دورے میں برہنہ کر کے جا چکا ہے۔ کب تک اپنے سوشل میڈیا ٹرولز اور الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے مقامی سپورٹرز کو ہی پھوکی بڑھک بازی میں راضی کیے جانا ہے؟

پنجاب کی وزارتِ اطلاعات ایسے شخص کو سونپ دی جو سیاسی جھگڑے میں قرآن رکھ کر بیویوں کو طلاق کی قسم کھاتا ہے

میں نگہت اورکزئی اور صوبائی اسمبلی کی رکن خواتین کے حوالے سے اس شخص کے غلیظ، ذومعنی الفاظ نہیں بھول سکوں گی جس کو پختونخوا کا گورنر بنا کر احسانِ عظیم کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کی وزارتِ اطلاعات ایسے شخص کو سونپ دی جو ایک سیاسی جھگڑے میں قرآن پاک رکھ کر بیویوں کو طلاق کی قسم کھاتا ہے یا بیگم نسیم ولی خان کے سیاسی قد کاٹھ کا لحاظ رکھے بغیر غلاظت بکتا ہے۔ تو وہ اب ممتاز قادری کی قبر پر جائے یا سٹیج فنکاروں پر حملہ کر کے متقی بنے کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ آپ نے کہا تھا امیدواروں کا ماضی دیکھ کر ٹکٹ دے رہے ہیں لیکن ابھی فرمان آیا ہے کہ کسی کے ماضی سے غرض نہیں۔ لہٰذا بحث سمیٹ لینے میں عافیت ہے ورنہ تو یاد کروانا پڑے گا کہ صدرِ مملکت یا وزارتِ عظمیٰ جیسے عہدوں کی ہر قدم تضحیک کر کے اپنی انا کی تسکین میں یہ بھول گئے کہ خود پر آن پڑی تو جھیلنا دوبھر ہوگا۔

دھرنا 2014 میں خان صاحب نے عاطف میاں کا نام لیا اور پھر خود ہی ایک انٹرویو میں معصوم بن گئے

ڈاکٹر عاطف میاں کا نام اقتصادی امور کی مشاورتی کمیٹی میں دیکھ کر میں ان پر کسی قسم کا تبصرہ یا رائے اس پوسٹ پر ان کے کام کی بنیاد پر دینے کا مکمل حق رکھتی ہوں۔ لیکن چونکہ کسی ٹاک شو کی اینکر نہیں ہوں لہٰذا یہ اقرار کرنے میں کوئی شرم نہیں کہ معاشی و اقتصادی معاملات میں میری سمجھ بوجھ اتنی ہی ہے جتنی شیخ رشید سے “اب کیا ہوگا شیخ صاحب” پوچھنے والوں کی ہو سکتی ہے۔ عاطف میاں کے نام کا بےحد احترام ہے لیکن اس عزت کے صدقے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ماضی قریب کے غلیظ سیاسی کردار اور نفرت بھری اشتعال انگیز انتخابی مہم کو یکسر بھول کر تالیاں نہیں پیٹ سکتی۔ بات کچھ تفصیل سے ہو ہی جائے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دھرنا 2014 میں خان صاحب نے عاطف میاں کا نام لیا اور پھر خود ہی ایک انٹرویو میں معصوم بن گئے بلکہ اپنے راسخ العقیدہ ہونے کی قسمیں کھاتے پائے گئے۔

ختم نبوت کی شق میں حلف اور اقرار جیسے الفاظ کی ترمیم کو بڑا ایشو بنایا گیا

اب اس سٹانس سے سیاسی منظرنامہ فاسٹ فارورڈ کیا جائے اور لاہور میں این۔اے 120 ضمنی انتخاب کے دن یاد کیے جائیں تو ڈاکٹر یاسمین راشد کے وہ بینرز کون بھولے گا جہاں مخالف ووٹر کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی وعید سنائی جاتی رہی؟ موجودہ حکومت کا اہم اتحادی اور وزیر ریلوے ٹی۔وی پر بیٹھ کر گورنر پنجاب کے قاتل کو گلوریفائے کرتا رہا لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ڈھائی تین برس کی محنت اور مختلف کمیٹیوں سے گزر کر الیکشن ایکٹ جب پاس ہو گیا تو ختم نبوت کی شق میں حلف اور اقرار جیسے الفاظ کی ترمیم کو جتنا بڑا ایشو بنایا گیا وہ ہماری دو نسلیں ٹھونسنے کا سامان کر چکا ہے۔ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہیجان انگیزی اور منافرت پھیلانے میں سہولتکار بنا رہا۔ بالآخر “فیض آباد” ہو کر رہا۔ اور تب اسی تحریکِ انصاف کے چئیرمین نے میڈیا ٹاک میں قوم کو بتایا کہ ان کے لوگ اس دھرنے میں شرکت کے لئے کتنے بےچین تھے۔

نماز عید کی تصویر جاری نہ ہونا شاید ذاتی معاملہ رہتا اگر مزاروں پر متها ٹیکنے یا عمرے کی سعادت سے لے کر قومی اسمبلی کی لابی میں شکرانے کے نوافل تک اور اس سے پہلے وقت بےوقت نمازوں کے فوٹو سیشن وائرل نہ کروائے گئے ہوتے. “نماز عید کے بعد وزیراعظم لوگوں میں گهل مل گئے” جیسی روایتی خبر نہ چلنے پر ردعمل نہ آتا اگر فیض آباد دهرنے کے اختتام پر آپ نے شکرانے کے نوافل عوام کے گوش گزار نہ کیے ہوتے. اچانک آپ کی نماز ذاتی معاملہ ہوگئی لیکن فنکارہ نرگس کا حج یا میگها کے روزے آپ کی حکومت کے فرائض منصبی میں شامل ہوگئے.

صرف یہیں بس نہیں کی گئی بلکہ گولڑہ شریف کا پلیٹ فارم استعمال ہوا جس سے قبل لاہور میں اس جماعت کے مذہبی ونگ کے مشائخ کی جانب سے کانفرنس منعقد کروا کر عمران نیازی صاحب سے کہلوایا بلکہ جتلایا گیا کہ ترمیم “چوری چھپے” ہوئی جس کا مقصد احمدیوں کے حوالے سے بیرونی طاقتوں کو خوش کرنا ہے۔

کیا ہم بھول جائیں کہ انتخابات سے قبل “مجاہدِ ختم نبوت” کے لیبل والے بینرز کِس مقصد کے لئے استعمال ہوئے؟ کیا ہم یہ بھی بھول جائیں کہ الاؤ اس قدر دہکایا گیا کہ وزیرِ خارجہ کے چہرے پر سیاہی پھینکنے کی مذمت کی بجائے جشن منایا گیا؟ یہاں محمد نوازشریف پر جوتا پھینکنے کو جسٹیفائے کرنے میں یہی آج کی اچانک “سیکولر” ہوئی جماعت کے دہاڑی دار شامل تھے۔ حالات اس نہج پر پہنچائے گئے کہ اس وقت کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے خلاف باقاعدہ مہم چلوائی گئی۔

اور جب احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہو گیا تو ہسپتال میں عیادت کے بہانے کیمروں کے سامنے اسی فواد چوہدری کے ساتھ کھڑے ہو کر سمجھایا گیا کہ ایسے کام ہی نہیں کرنے چاہئیں جس سے عوام کے جذبات بھڑکیں۔

میں وزیرِ اطلاعات کو سبین محمود قتل کیس پر ان کی جھاڑی بقراطیت یاد نہ بھی کرواؤں تو ہفتہ پہلے گھسیٹ پورہ (فیصل آباد) میں احمدی عبادتگاہ پر ہوئے حملے اور بدمعاشی کو جس طرح اس شخص نے “دو گروہوں کی آپسی چپقلش” قرار دے کر بے حسی کا مظاہرہ کیا وہ کیسے فراموش کیا جائے گا؟ اور اس جماعت کا سوشل میڈیا ونگ خادمی ٹولے کے ساتھ مل کر 7 افراد کے قتل کی جھوٹی خبر چلاتا رہا لیکن سائبر کرائم لاء یہاں لاگو نہیں ہوگا۔ رمضان المبارک میں 24 مئی کی رات سیالکوٹ کے کشمیری محلہ میں احمدیوں کی عبادتگاہ پر باقاعدہ پلاننگ کر کے حملہ ہوتا ہے۔ وہاں جو شخص اس کا کریڈٹ لیتا ہے وہ حافظ حامد رضا آزاد کشمیر انتخابات میں ایل۔اے 32 جموں تھری سے پی۔ٹی۔آئی کا امیدوار تھا۔ چودہ ہزار سے زائد ووٹ لیے اس شخص نے جناب۔

اس واقعہ میں ہماری ریاست بھی نیویں نیویں ہو کر ڈنگ ٹپا گئی اور موقع پر موجود تحریکِ انصاف کے لوگوں کو پارٹی کی جانب سے انعام بھی ملا۔

تصاویر اور وڈیوز میں موجود عامر ڈار کے بھائی عثمان ڈار کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا تو چوہدری اخلاق کو صوبائی اسمبلی کا۔ چوہدری صاحب تو ادھم مچانے اب صوبائی اسمبلی پہنچ بھی چکے ہیں۔ لیکن تب بھی یہی فواد چوہدری ٹی۔وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتے رہے کہ ان تصاویر اور وڈیو میں موجود لوگوں کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ تب بھی کسی نے انہیں سامنے سے جھٹلانے کی جرات نہیں کی۔

آج آپ روشن خیالی کے دعویدار بن کر گولڈفش میموری والوں سے داد وصول کر لیجیے لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ “مرشد دا دیدار ہے باہو، مینوں لَکھ کروڑ حجاں” کہنے والے رانا ثناء اللہ کے خلاف عقیدے کا شوشا اٹھائے کون گھومتا رہا ہے۔ عاطف میاں کے علم اور مطالعے کی وسعت پر ہم جی جان سے فخر کریں گے، کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سب میں یہ نہیں بھولیں گے کہ زاہد حامد جیسے ذہین اور پڑھے لکھے شخص کو اگر کسی نے ہزار ہزار روپے کی سلامی کی خاطر ذلیل کیا تو وہیں کون کون کٹھ پتلیاں شکرانے کے نوافل سے لے کر مجاہد بنی گردن کی رگیں پھلاتی رہی ہیں۔ اور آپ کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی کوتاہی نہ ہوگی کہ اگر عاطف میاں جیسا فیصلہ پیپلز پارٹی یا پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے کیا ہوتا تو خادم رضوی کے ساتھ آپ کی ہمدردیاں ہر صورت رہتیں۔

اس سب کے باوجود ہم جیسی آوازیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ آپ کو بھی سکرینوں پر کلمہ طیبہ اور ایمانِ مفصل و ایمانِ مجمل سنانے پڑیں۔ یا کسی استعفے کی قیمت اس دفعہ ہزار روپے فی کَس سے زائد ادا کرنا پڑے۔ ویسے ان سطور تک پہنچتے پہنچتے صبح کے اس پہر میں مجھے اچانک یونہی خیال آیا کہ حکومت کے ان تین ہفتوں میں عوام کو ذہنی طور پر اِدھر اُدھر توجہ بٹاتے ہوئے خوب تھکا دیا گیا ہے۔ جس کا فائدہ مقامی سطح پر بجلی گیس کے نرخ یا “سخت فیصلوں” سے لے کر خطے کے چوہدریوں کی جی حضوری میں بہم پہنچے گا۔ حق ہے

وتعز من تشاء و تذل من تشاء

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *