Type to search

تاریخ سیاست فیچر

عارف علوی سندھ سے مسلسل پانچویں صدر اور دیگر دلچسپ اعداد و شمار

پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل اور موجودہ نائب صدر واضح اکثریت سے صدر مملکت بن گئے۔ آئینی طور پر صدر کا عہدہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بلند ترین منصب ہے۔ آئین پاکستان میں ہونے والی ترامیم کے نتیجے میں صدر کبھی تو طاقت کا مرکز ہوتا ہے اور کبھی محض ایک رسمی منصب بن جاتا ہے۔

پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کے درمیان تاریخی کشمکش

پارٹی کا سربراہ اگر وزیر اعظم ہو تو صدر کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ، نواز شریف کے دوسرے اور تیسرے دور حکومت میں یہی صورتحال دیکھنے میں آئی کہ جب پارٹی سربراہ وزیر اعظم تھا تو صدر مملکت صرف رسمی سربراہ مملکت رہا۔ عمران خان نے بھی پارٹی سربراہ کے طور پر اپنے لئے وزارت عظمیٰ کا انتخاب کیا ہے۔ لہٰذا ممکنہ طور پر صدر عارف علوی بھی فضل الٰہی چوہدری، رفیق تارڑ اور ممنون حسین کی طرح محض ایک علامتی سربراہ مملکت کی حیثیت سے اپنی ٹرم پوری کریں گے۔

فوجیوں نے ہمیشہ اپنے لئے صدر کا عہدہ پسند کیا

دوسری جانب فوجی ادوار حکومت میں صدر پاکستان کا منصب، مارشل لا یا ایمرجنسی نافذ کرنے والے آرمی چیف اپنے پاس رکھتے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے دور میں وزیر اعظم کے اختیارات بھی صدر مملکت نے استعمال کیے۔ جنرل ضیاالحق نے 1977 میں مارشل لا نافذ کر دیا اور وزیر اعظم بھٹو سمیت تمام وزرا کو برطرف کر دیا۔ تاہم صدر فضل الٰہی چوہدری کو معزول کرنے کی بجائے اپنے عہدے کی مدت مکمل کرنے دی گئی۔ وہ ایک سال بعد 1978 میں سبکدوش ہو گئے جس کے بعد چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاالحق نے عہدہ صدارت بھی سنبھال لیا۔

58 ٹو بی، وزرائے اعظم کے لئے ایک ماضی کا ایک ڈراؤنا خواب

1985 تک وزیر اعظم کے اختیارات بھی انہی کے پاس رہے۔ آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار ملا، جس کا استعمال سب سے پہلے ضیاالحق نے خود ہی کیا اور جونیجو حکومت کو چلتا کر دیا۔ ان کے بعد صدر غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے بینظیر کی دونوں اور نواز شریف کی پہلی حکومت اسی اختیار سے کے تحت برطرف کی۔ گویا سیاسی جماعتوں کے سربراہ کی حیثیت میں وزارت عظمیٰ رکھنے کے باوجود محترمہ اور میاں صاحب 58 ٹو بی کے صدارتی وار سے نہ بچ سکے۔ 1990 کی دہائی کی میوزیکل چئیر سے تنگ آ کر 1997 میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے 58 ٹو بی کا صدارتی اختیار ختم کر دیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار محترمہ بےنظیر بھٹو اور نواز شریف نے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے اس آئینی ترمیم کی منظوری میں اپنا کردار ادا کیا۔ تاہم 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور اپنے لئے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کیا۔ 2001 تک رفیق تارڑ عہدہ صدارت پر برقرار رکھے گئے جس کے بعد جنرل پرویز مشرف خود ہی صدر بن گئے۔ 2002 میں قائم ہونے والی اسمبلی نے مشرف کے ایما پر ایک بار پھر 58 ٹو بی بحال کر دی۔ اگرچہ اس کے استعمال کی نوبت نہیں آئی۔ اور 2008 میں قائم ہونے والی اسمبلی نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو ختم کر دیا۔ اس کےبعد آصف علی زرداری اپنے سسر جناب بھٹو کی طرح پارٹی سربراہ اور صدر مملکت کے طور پر ایک طاقتور سیاسی صدر رہے۔

صدر کی غیر موجودگی میں صدر کا عہدہ کون سنبھالتا ہے؟

پاکستان کےآئین کے آرٹیکل 49 کے تحت صدر مملکت کا عہدہ کسی بھی لمحے خالی نہیں رہ سکتا۔ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ہمہ وقت ملک میں موجود ایک شخصیت کا اس عہدے پر فائز رہنا لازمی ہے۔ بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں نائب صدر کا عہدہ موجود نہیں (اگرچہ سقوط بنگال کے بعد نور الامین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا)۔ 1973 کے آئین کی روشنی میں صدر مملکت کی ملک سے باہر روانگی یا اچانک وفات کی صورت میں چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالتا ہے۔ اگر وہ بھی موجود نہ ہو تو سپیکر قومی اسمبلی اور اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان، سویلین چین آف کمانڈ کی اگلی کڑیاں ہیں۔

سابق نائب صدر نورالامین

1973 کے آئین کے نفاذ کے بعد کئی شخصیات کو قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا۔ لیکن غلام اسحاق خان، وسیم سجاد اور محمد میاں سومرو اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے دو صدور کے انتخاب کی درمیانی مدت میں لمبے عرصہ کے لئے صدر کی ذمہ داری نبھائی۔

کس صدر کا تعلق کس علاقے سے رہا؟

پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کا تعلق مشرقی بنگال سے تھا۔ اور وہ اس عہدے پر فائز رہنے والے واحد بنگالی تھے۔ البتہ ان سے پہلے قائد اعظم کے بعد گورنر جنرل بننے والے خواجہ ناظم الدین کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے ہی تھا۔ جنرل ایوب خان کا تعلق خیبر پختونخوا (سابقہ صوبہ سرحد) کے علاقے ہری پور ہزارہ سے تھا۔

صدر یحییٰ خان برٹش پنجاب کے ضلع چکوال میں پیدا ہوئے۔ البتہ ان کے آباؤ اجداد بھی جنرل ایوب خان کی طرح پشتون علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا۔ فضل الٰہی چوہدری کا تعلق پنجاب کے علاقے پوٹھوہار کے ضلع گجرات سے تھا۔ جنرل ضیاالحق کی پیدائش مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر میں ہوئی تھی۔ غلام اسحاق خان صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے دوسرے صدر بنے۔ ان کا آبائی گاؤں ضلع بنوں میں تھا۔ قائم مقام صدر وسیم سجاد، صدر فاروق لغاری اور صدر جسٹس (ر) رفیق تارڑ تینوں کا تعلق پنجاب سے ہی تھا۔ تاہم تینوں شخصیات پنجاب کے علیحدہ علیحدہ حصوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

سابق صدر رفیق تارڑ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف

وسیم سجاد کا آبائی علاقہ بھی جنرل ضیاالحق کی طرح مشرقی پنجاب کا ضلع جالندھر ہی ہے۔ جب کہ فاروق لغاری جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے تھے۔ رفیق تارڑ کا تعلق وسطی پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی پیدائش متحدہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ہوئی۔ اور ان کا بچپن اپنے والد کے سفارتی کریئر کے دوران مختلف ممالک میں گزرا۔ تاہم وہ خود کو کراچی والا کہا کرتے تھے۔ اور مہاجر سیاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے خواہش مند بھی رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے بعد آنے والے قائم مقام صدر محمد میاں سومرو اور صدر آصف زرداری کا تعلق بھی سندھ سے ہی تھا۔ محمد میاں سومرو اور زرداری اندرون سندھ کے جاگیردار اور با اثر خانوادوں سے ہیں۔ ممنون حسین اور عارف علوی کا تعلق سندھ کے دارالحکومت کراچی سے ہے۔ یوں عارف علوی سندھ سے تعلق رکھنے والے مسلسل پانچویں صدر مملکت بن گئے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری

پاکستان کے 13 صدور کی برادریاں

خاندانی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسکندر مرزا بنگال کے میر جعفر کی اولاد میں سے تھے۔ تین صدور جنرل ایوب خان، یحییٰ خان اور غلام اسحاق خان پشتون تھے۔ پاکستان کے دو صدور، فضل الٰہی چوہدری اور رفیق تارڑ کا تعلق جاٹ برادری سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو، فاروق لغاری، محمد میاں سومرو اور صدر آصف علی زرداری اپنے اپنے قبائل کے سردار بنے۔ جبکہ جنرل پرویز مشرف سید تھے۔

پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا

کس صدر کا تعلق کس مسلک سے رہا؟

مسلکی اعتبار سے اسکندر مرزا، یحییٰ خان، بھٹو اور آصف علی زرداری کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔ باقی نو صدور سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔

فوج اور وکالت پاکستانی صدور میں مقبول ترین پیشے

پیشے کے اعتبار سے چار آرمی چیف صدر پاکستان رہ چکے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان فور سٹار سے فائیو اسٹار جنرل بننے والے پہلے اور واحد پاکستانی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف فور سٹار جنرل تھے، جبکہ میجر جنرل اسکندر مرزا ون سٹار جنرل اور بعد ازاں سینیئر بیورو کریٹ رہے۔ ان کے علاوہ صدر غلام اسحق خان اور فاروق لغاری بھی بیوروکریسی سے تعلق رکھتے تھے۔

چار صدور کا تعلق شعبہ قانون سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور وسیم سجاد بیرسٹر تھے۔ فضل الٰہی چوہدری نے ایل ایل ایم کے بعد 1928 میں لاہور میں ایک لا فرم کی بنیاد رکھی۔ جبکہ رفیق تارڑ نے ایل ایل بی کے بعد گوجرانوالہ میں اپنی لا فرم بنائی۔ بعد ازاں وہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج بھی بنے۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو 1973 کے آئین کے نفاذ سے پہلے صدر کے عہدے پر موجود تھے

آصف علی زرداری اور صدر ممنون حسین بزنس مین ہیں۔ جب کہ محمد میاں سومرو پیشے کے اعتبار سے بنکر رہے ہیں۔ نو منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) ہیں۔

دو کو چھوڑ کر باقی تمام صدور پاکستان بننے سے پہلے پیدا ہوئے

آصف علی زرداری اور ڈاکٹر عارف علوی تقسیم ہند کے بعد پیدا ہوئے۔ جبکہ باقی تمام صدور کی پیدائش برٹش انڈیا میں ہوئی۔ اس وقت پاکستان کے پانچ منتخب اور دو قائم مقام صدور حیات ہیں۔ رفیق تارڑ اس وقت بقید حیات سب سے طویل العمر سابق صدر ہیں۔ ان کی عمر اس وقت 89 سال ہے۔ جبکہ جنرل پرویز مشرف اس وقت 75 سال، آصف علی زرداری 63 سال، ممنون حسین 79 سال اور ڈاکٹر عارف علوی 69 سال کے ہیں۔

وفات پا جانے والے صدور میں سے اسکندر مرزا 70، ایوب خان 67، یحییٰ خان 63، ذوالفقار علی بھٹو 51، فضل الٰہی 78، ضیا الحق 68، غلام اسحاق خان 91 اور فاروق لغاری 70 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *