Type to search

سماج فیچر کلچر

پانچ روایتی تصورات جن کے بغیر پاکستانی ڈرامے ادھورے ہیں

ایک ڈرامہ ایک وسیع کینوس کی طرح ہوتا ہے جسے معاشرے کی اصل حقیقتوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اچھا ڈرامہ زندگی کے ہر پہلو کو غیر جانبداری سے پیش کرتا ہے اور تمام صورتحال کو صرف ایک چوڑے برش سے نہیں رنگتا۔ افسوس کے ساتھ، 1970 کی دہائی کی لولی وڈ فلموں سے لے کر آج کے مقبول ترین پاکستانی ٹیلی وژن سیریلز تک کی ہر کہانی سماجی تصورات سے بھری ہوئی ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستانی ثقافت اس سب سے بہت بڑھ کر ہے جو ہم ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ آپ کو پاکستانی ڈراموں میں موجود روایتی تصورات کی ایک جھلک دکھانے کے لئے اور ان کے حل کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے، میں یہاں تمام پاکستانی ڈراموں کے پانچ عمومی روایتی تصورات پر روشنی ڈال رہی ہوں۔

  • ساس بمقابل بہو: گیم آف تھرونز

تقریباً ہر خاندان میں ساس اور بہو کے مابین مسائل ہوتے ہیں۔ یہ صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ بیشتر ثقافتوں کا مسئلہ ہے جہاں دونوں اطراف سے گھر میں اپنی برتری قائم کرنے یا برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش ہوتی ہے۔ تاہم، صرف اسی خیال پر مبنی ڈرامے بنانا ایک پریشان کن امر ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہمارے دیسی گھروں میں بس یہی ایک مسئلہ رہ گیا ہے۔

محض کچھ مرچ مصالحے جسے ٹی آر پی کا جامہ پہنا کر پرکشش بنا دیا گیا ہے مصنف اور پروڈیوسر دونوں ایسی ہی کہانیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کہانیوں میں یا تو بہو ناقابلِ یقین حد تک بدتمیز اور رعب جمانے والی ہوگی یا ساس کو دنیا میں موجود بد ترین مخلوق کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

ہمیں دل لگی کی طرض کے ڈراموں کی ضرورت ہے جن میں کردار ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف تو کرتے ہیں مگر احترام کے دائرے میں رہ کر۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑائی، نفرت، اور تنازعہ زندگی کا ایک حصہ ہیں لیکن اسی طرح محبت اور ہم آہنگی بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں۔

  • محبت کی تکون

مجھے پورا یقین ہے کہ بالکل میری طرح آپ بھی ایک ہی موضوع والے ایسے ڈراموں سے شدید بے زار ہوں گے جن میں دو کردار ایک ہی شخص کی شدید محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سادہ رومانوی تعلقات اب ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اب نہ صرف ہمارے پاس محبت کی تکون ہے بلکہ شادی سے باہر کے ناجائز تعلقات بھی ہیں۔ ان ڈراموں میں ہیرو کو یا تو اپنی سیکرٹری سے محبت ہو جاتی ہے یا کسی خاتون کولیگ سے یا کسی نوجوان اور خوبصورت کزن سے جبکہ ان کی ایک وفادار بیوی اور چار بچے پورا دن گھر پر ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

چونکہ وہ خاتون گھر پر رہتی ہیں یا گھریلو عورت ہیں وہ اپنے شوہر کی نظروں میں اتنی پر کشش یا خوبصورت نہیں  رہتیں جیسی وہ ہر روز اپنے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کو دیکھتے ہیں۔ لہٰذا، ہمارا ہیرو ہمیشہ کسی بھی ایسی خوبصورت لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو سکتا ہے جو اس کی طرف دیکھ کر دو بار اپنی پلک جھپکا دے۔ جبکہ کچھ صورتوں میں ہیروئین اپنے شوہر کے دوست کی طرف مائل ہو جاتی ہے جس کا رویہ اس کے ساتھ  اس کے اپنے شوہر سے زیادہ اچھا ہوتا ہے اور وہ اس کے شوہر سے زیادہ اس کا خیال رکھتا ہے۔

اس موضوع پر بننے والے لاتعداد ڈرامے اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ اگر آپ ان کی ایک بھی قسط دیکھنے بیٹھیں تو آپ کو متلی کی کیفیت میں مبتلا کر دیں۔

  • طبقاتی تفریق: امیر ترین یا غریب ترین

اس میں کوئی شک نہیں کہ طبقاتی فرق ایک حقیقت ہے۔ دو پیار کرنے والے دو مختلف مالی پسِ منظر سے تعلق رکھ سکتے ہیں لیکن دو انتہاؤں کا ہونا اتنا ضروری کیوں ہے؟ پاکستانی ڈراموں میں، امیر انسان کو ڈرامہ ‘کچھ نہ کہو’ کی طرح اپنے گیراج میں ایک فینسی کار رکھنی ضروری ہے۔ (ایک سوچ ذہن میں آتی ہے کہ کیا آپ واقعی پاکستان کی سڑکوں پر اس طرح کی گاڑی چلا سکتے ہیں؟) دوسری طرف، غریب ہمیشہ بھوک سے مر رہا ہوتا ہے۔ خانی اور گُلِ رعنا ایسے موضوعات کی بہترین مثالیں ہیں۔

مسئلہ ایسے سکرپٹ میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ حقیقت ہے کہ ایسے سکرپٹ اب ایک فرسودہ روایت بن چکے ہیں اور تقریباً ہر ڈرامہ نگار انہی پر ڈرامہ بنا رہا ہے۔ امیر لڑکیاں ‘ہمسفر’ کی سارہ یا ‘زندگی گلزار ہے’ کی اسمارہ کی طرح امیر اور مطلبی ہوں گی اور مڈل کلاس لڑکی ‘زندگی گلزار ہے’ کی کشف اور ‘ہمسفر’ کی خرد کی طرح ہمیشہ ستی ساوتری۔ یہ لڑکی ایک مشکل زندگی گزار رہی ہوگی لیکن اتنی ذہین کہ ہر وہ چیز حاصل کرنے کی قابلیت رکھتی ہوگی جس کا وہ خواب دیکھے۔

اب وقت ہے کہ ہم چھوٹے پردے پر زیادہ حقیقت پسندانہ کردار متعارف کرائیں۔ یہ عناصر اتنے مقبول ہو گئے ہیں کہ عمیرہ احمد جیسی بڑی ناول نگار بھی ان موضوعات سے باہر نکلنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

  • شاونسٹک مرد

پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اپنی ابتدا سے صرف ایک برائی کا سوچتی ہے جو نہ صرف باغی ہے بلکہ خوفزدہ کرنے والی بھی ہے، شاونسٹ آدمی۔ میں پر یقین ہوں کہ وہ صرف یہ سوچتے ہوں گے کہ تمام آدمی انا سے بھر پور شاونسٹک مرد ہیں جن کی زندگی کا واحد مقصد عورتوں کو نیچا دکھانا اور اُس پر خوشی محسوس کرنا ہے۔

ظالمانہ اور شاونسٹ مردوں والے موضوعات اتنے عام ہو گئے ہیں کہ یہ اب ایک سماجی سچائی لگنے لگے ہیں۔ زیادہ تر باپ برے ہیں جبکہ باقی اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے لئے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے اور اپنی خواتین کو بچوں کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ڈراموں میں کیوں ہمیشہ طاقتور آدمی کو برا دکھایا جاتا ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں نیک آدمی کی کوئی مثال موجود نہیں ہے؟ کیا تمام مرد برے پیدا ہوتے ہیں جو اپنے ارد گرد موجود عورتوں کو تباہ کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

  • سسکتی ہوئی لڑکی

ایمانداری سے بات کی جائے تو پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری دو انتہائوں میں تقسیم ہے۔ چیزیں یا تو سیاہ ہیں یا سفید، درمیانی کوئی چیز نہیں ہے۔ کرداروں میں تنوع کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ مثلاً سسکتی ہوئی لڑکیاں اب ڈرامہ سیریلز کا عام موضوع ہیں۔ اس طرح کے کردار ناظرین کی بہت زیادہ ہمدردی اور توجہ بٹورتے ہیں یا یوں کہیں کہ یہ آج کل ہٹ ہونے کا فارمولا ہے۔ ہر نئی اداکارہ کو شہرت حاصل کرنے اور انڈسٹری میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لئے روتی صورت والے کردار ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اب ان ڈراموں میں کوئی حقیقت نہیں رہ گئی۔

پاکستانی ڈراموں کی ایک سچی عاشق سے نصیحت لیں۔ یہ بہترین وقت ہے کہ ہم ان صدیوں پرانی روایات اور دقیانوسی خیالات سے باہر نکلیں۔ ہمارا مقصد آنگن جیسے شاہکار تخلیق کرنا ہونا چاہیے۔ پاکستانی ثقافت اور روایات میں بہت کچھ ہے۔ جب تک ہم نصف سچائی کو جان بوجھ کر دھندلاتے رہیں گے تب تک ہم اپنی ڈرامہ انڈسٹری کے ساتھ ناانصافی کرتے رہیں گے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *