Type to search

تجزیہ معاشرہ

قصّہ اس دیس کا جسے جادو کھا گیا

کہتے ہیں افریقہ کے دور افتادہ جنگلوں میں ہزاروں سال پہلے ایک ملک تھا جہاں جادو ٹونے کا رواج حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ آج کل تو جادو ٹونے کو زوال آ چکا ہے، لوگ سائنس اور ٹیکنالوجی کے سحر میں گرفتار ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے وہ سب اور اس کے علاوہ مزید بہت کچھ سچ کر دکھایا جو جادوگر پرانے زمانے میں کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، لوگوں کو زبردستی مجبور کرتے تھے کہ اعتراف کریں کہ جادوگر جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہ سب کچھ انہوں نے واقعتاً کیا ہوا ہے، اور اگر کوئی قسمت کا مارا شخص ثبوت کے بغیر یہ ماننے سے انکار کر دیتا یا پھر سوال اُٹھا دیتا تو جادوگر اپنے جادو کے زور سے یا تو اُسے غائب کر دیتے، یا اس کی راہ چلتے غائب سے زبردست پٹائی ہو جاتی اور یا پھر غائب سے اس کے گھر پر پتھراؤ ہو جاتا۔

آج جس شخص کے پاس بھی پچپن روپے ہوں۔۔۔

ہزاروں سال تک جادوگر دعوے کرتے رہے کہ وہ اُڑن کھٹولے پر اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے یہ سب کچھ سچ کر دکھایا۔ آج جس شخص کے پاس بھی پچپن روپے ہوں اور سائنس اور ٹیکنالوجی پر یقین رکھنے والے امریکہ، روس یا چین کے غیر مسلموں کا بنایا ہوا اپنا ہیلی کاپٹر ہو تو برادرم فواد چوہدری کی گواہی موجود ہے کہ وہ بفسِ نفیس ہوا میں سب سے سہل اور سستا سفر کر سکتا ہے۔ اسی طرح جادوگر دعوے کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس جادوئی ٹوپی ہے جسے پہن کر وہ دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہو کر ان کی مانیٹرنگ کر سکتے ہیں، آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل سم اور انٹرنیٹ پکڑا دیا ہے اور دورِ جدید کے جادوگر گھر بیٹھے بغیر کسی جادوئی ٹوپی کے غیر مسلموں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کی مدد سے جس شخص کے ساتھ چاہیں، ہو لیتے ہیں اور سچ مُچ میں وہ کچھ کر دکھاتے ہیں جن کا پرانے زمانے کے جادوگر صرف دعویٰ کر سکتے تھے۔ اسی طرح پُرانے زمانے میں اگر کوئی بیمار پڑ جاتا تو جادوگر ٹونے کر کے اس کا علاج کرنے کے دعویدار تھے لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے آج پوری دنیا میں میڈیکل اور بیالوجی کے شعبے کے کروڑوں ماہرین کا جال بچھا کر انسانیت کو سچ مُچ لاتعداد بیماریوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ مثالیں اتنی ہیں کہ اگر لکھنے بیٹھوں تو دفتر کھُل جائے گا لیکن جادو اور سائنس کے تقابل کا یہ محل نہیں۔ اس کالم میں تو افریقہ کے دور افتادہ جنگلوں میں ہزاروں سال پہلے تباہ ہونے والے ایک ملک کا قصہ بیان کرنا مقصود ہے۔

افریقہ کے دور افتادہ جنگلوں میں ہزاروں سال پہلے تباہ ہونے والے ایک ملک کا قصہ

دوستو! اس جنگل میں انسان اور جادوگر اکٹھے رہتے تھے۔ ویسے تو اس زمانے میں ہر ملک میں جادوگر موجود ہوتے تھے لیکن یہ ملک کچھ “وکھری” ٹائپ کا تھا، اس ملک کے جادوگر بڑے “ڈاڈے” تھے، جی ہاں! پنجابی والے ڈاڈے، “توتیا منموتیا اوس گلی نہ جا، اس گلی دے جٹ بڑے ڈاڈے، او لیندے پھایا پا” والے “ڈاڈے”۔ وہ ملک بالآخر تباہ ہو گیا۔ کیونکہ پنجابی زبان میں ہی ایک محاورہ ہے “مردے نیں ان موڑ” (جو کسی کی نہ سنیں وہی مرتے ہیں)۔

اس ملک کی مشرقی سرحد پر ایک گھنا جنگل تھا جو لاتعداد جنگلی غاروں سے اٹا ہوا تھا۔ ایسی ہی ایک غار میں کچھ سال پہلے دو دانشور لولوہاکا اور ڈوڈوبا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ دراصل اس ملک میں جادوگر اتنے طاقتور اور منہ زور ہو گئے تھے کہ انہوں نے ملکی سیاست، معاشرت، بیانئے، معیشت، رسوم و رواج اور عقائد و نظریات، غرض ہر چیز اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ وہ مرضی کے حکمران لاتے تھے کہ دعویدار تھے کہ انہیں اپنے جادو کے زور سب سے زیادہ معلوم ہے کہ حکومت کیسے کرتے ہیں، اور کون بہتر حکمران ہے۔ وہ بچوں کو اپنی مرضی کی تعلیم و تاریخ پڑھاتے تھے کہ دعویدار تھے کہ ان کے جادوئی تصورات مروجہ اجتماعی انسانی دانش سے زیادہ بہتر ہیں سو وہ پورے ملک کے بچوں کو اپنی مرضی کی تعلیم دیں گے۔

اس ملک میں جادوگروں نے دانشوروں، مفکروں، لکھاریوں، شاعروں اور ادیبوں کا جینا محال کر دیا تھا

ان جادوگروں کا کہنا تھا کہ انہیں بہتر معلوم ہے کہ عوام کے مذہبی تصورات کیا ہونے چاہئیں اور اپنی دیگر سیاسی و معاشی ضروریات کے پیشِ نظر مختلف اوقات میں مختلف فرقوں اور جماعتوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ غرض اس ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی کا یہی عالم تھا۔ اس ملک میں جادوگروں نے دانشوروں، مفکروں، لکھاریوں، شاعروں اور ادیبوں کا جینا محال کر دیا تھا، نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے لوگوں کا انتخاب کرتے اور انہیں عوام پر زبردستی تھوپ دیتے اور تقاضا کرتے کہ ہر کوئی کہے اور سمجھے کہ ان کے بنائے ہوئے دانشور ہی اصل اور بہتر دانشور ہیں۔ سو ان حالات میں اس ملک کی مشرقی سرحد والے جنگل کی غاریں آباد ہونا شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے بھر گئیں، جو اس ملک کے جادوگروں سے جان بچا کران غاروں میں پناہ لیتے تھے۔

لولوہاکا اور ڈوڈوبا کی بحثیں

یہ زمانہ یونانی فلسفیوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ یونان کے فلسفی نہ صرف یونان میں چھوٹی چھوٹی جمہوری شہری ریاستیں قائم کر چکے تھے بلکہ انہوں نے جمہوریت اور آمریت کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں سیر حاصل فلسفیانہ بحثیں بھی کتابی شکلوں میں ڈھال دی تھیں جو دنیا بھر کے دانشوروں اور فلسفیوں تک پہنچ رہی تھیں۔

لولوہاکا سمجھتا تھا کہ جادوگروں کو جمہوریت کے لفظ تک سے نفرت ہے، اگرچہ وہ باامرِ مجبوری عوامی سطح پر جمہوریت کا بھرم بھرتے ہیں لیکن پسِ پردہ وہ اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے اپنے جادو ٹونوں سے ہر لحظہ جمہوریت، جمہوری آزادیوں، انسانی جمہوری حقوق کا گلا گھونٹتے ہیں۔ جبکہ ڈوڈوبا کا کہنا تھا کہ جادوگر جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور سیاست، سماج، مذہب اور معیشت وغیرہ میں جادوگروں کی مسلسل دخل اندازی کی وجہ سے اگرچہ ملک کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے لیکن اس کے پیچھے جادوگروں کی بدنیتی شامل نہیں ہے۔ لولوہاکا اور ڈوڈوبا کی بحثیں سالہا سال جاری رہیں۔ اس دوران ملک کی حالت دن بدن مخدوش ہوتی جا رہی تھی۔ لولو ہاکا ہلکان ہوا جاتا تھا کہ ارد گرد کے ممالک مضبوط اور خوشحال ہوتے جا رہے تھے جبکہ ان کا ملک جنگوں پہ جنگیں ہار رہا تھا۔ جادوگروں کے زیر اثر ان کا ملک عقل و خرد کی جنگ عرصہ پہلے ہارچکا تھا کیونکہ جادو اور عقل ایک دوسرے کی ضد ہیں، من مانی اور معروضیت ایک دوسرے کی دشمن ہیں، ڈنڈا اور انصاف ایک دوسرے کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتے۔ عقل و فہم کی بات اس ملک میں غیر قانونی قرار دی جا چکی تھی۔

ڈوڈوبا ان سارے دلائل کو تسلیم تو کرتا تھا لیکن جادوگروں کی نیت پر شک کا روادار نہیں تھا

جنگ و حرب ہر وقت جدید ترین ہتھیار اور حکمتِ عملی مانگتی ہیں اور یہ دوںوں چیزیں عصری علوم کے ماہرین پیدا کر سکتے ہیں، لیکن عصری علوم چونکہ عقل و خرد پر مبنی تھے اس لئے ان پر پابندی تھی۔ صحت مند معاشرے جدید عصری معاشرتی علوم سے بنتے ہیں لیکن جادوگر اپنے خیالی جادو ٹونے کو معاشرتی علوم کا نام دیتے تھے۔ مضبوط معیشت جدید عصری اصولوں پر استوار ہوتی ہے جبکہ جادوگر اپنی معیشت کو ہی ملکی معیشت تصور کرتے تھے۔ جادوگروں نے اس ملک کو پوری دنیا میں تنہا کر دیا، پھر وہ ساری دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے، پھر ساری دنیا نے ان کے ملک کا بائیکاٹ کر دیا لیکن وہ اپنے خیالی جادوئی تصورات پر بضد تھے۔ لولوہاکا کے خدشات کی ایک نہ ختم ہونے والے فہرست تھی اور وہ ہر وقت دعا کرتا کہ ملک کا اقتدار انسانوں کو واپس مل جائے جبکہ ڈوڈوبا ان سارے دلائل کو تسلیم تو کرتا تھا لیکن جادوگروں کی نیت پر شک کا روادار نہیں تھا۔ وہ دونوں جنگلی غار میں بحث کرتے رہے جبکہ ان کے ملک کا وہی انجام ہوا جو قوانینِ قدرت سے بغاوت کا انجام ہوتا ہے۔ اللہ ہر ملک کو اس انجام سے بچائے!

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *