Type to search

خبریں

سندھ: رواں ہفتے کا احوال (22 ستمبر تا 28 ستمبر)

دریائے سندھ میں پانی کی آمد کیساتھ ہی ڈوب کر ہلاکتوں کا سلسلہ شروع، تعداد 5 ہو گئی

سیٹلائیٹ ٹاؤن میں رہائش پذیر 17 سالہ حمزہ گل اپنے چچا زاد بھائیوں کے ہمراہ تعلقہ شجاع آباد میں واقع اپنے چچا کے اینٹوں کے بھٹہ پر گیا تھا، جہاں پانی کے گڑھے میں نہاتے ہوئے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا، اور غوطے کھانے لگا، شور کی آواز سن کر لوگ جمع ہو گئے اور جدوجہد کے بعد حمزہ گل کو سول ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔

ہالا: دریائے سندھ میں 2 چرواہے ڈوب کرہلاک ہو گئے۔ لاشیں نکال لی گئیں۔ ایک ہفتے میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4 ہو گئی۔ دریائے سندھ میں پانی کی آمد کے ساتھ ہی ڈوب کر ہلاکتوں کا سالانہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ دریا میں پانی کی آمد کے باوجود ایس ایم بچاؤ بند پر انتظامیہ کی مبینہ چشم پوشی اور اریگیشن ڈویژن ہالا بچاؤ بند حکام کی غفلت کے نتیجے میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے سے آبی اموات روایتی سانحہ بن گئی ہیں۔ ہالا اولڈ کے قریب قدیم بستی خداآباد کیچروا ہے۔ 10 سالہ اشرف ولد ملوک مری کو بچانے کے لئے ساتھ چرواہے 12 سالہ جنگ شیر ولد عبداللہ مری نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی۔ دونوں کو دریا کی بے رحم موجیں بہا لے گئیں۔ مقامی غوطہ خوروں نے 6 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے بعد دونوں لاشیں نکال کر ہالا ہسپتال پہنچائیں جبکہ رواں ہفتے  کے دوارن نیو سعیدآباد کے قریب کاری کیٹی کے دریائی پانی میں 13 سالہ ہندو لڑکا ساون ولد کرشن باگڑی ڈوب کرہلاک ہو گیا تھا جس کی لاش دوسرے روز برآمد کی گئی تھی۔


کروڑوں روپے سے بنائی گئی ڈرینیج سکیم تباہ، قیمتی موٹریں چوری

ٹنڈوجام شہر کے لئے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمینٹ کی جانب سے گندے پانی کی نکاسی کے لئے کئی برس پہلے کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی ڈرینیج سکیم میونسپل کمیٹی ٹنڈوجام کی عدم توجہی کے باعث تباہ ہو چکی ہے۔ اس ڈرینیچ سکیم کے تحت گندے پانی کو کھیسانہ مورری کے پاس روہڑی کینال میں اخراج کرنا تھا اور گندہ پانی جمع کرنے کے لئے مگسی گوٹھ کے پاس چھ ایکڑ زمین خرید کر تین بڑے تالاب بنائے گئے تھے اور ملازمین کی رہائش کے لئے کوارٹر بھی بنائے گئے تھے۔ گندے پانی کی نکاسی کے لئے بجلی کا ٹرانسفارمر لگا کر بڑی موٹریں بھی لگائی گئی تھیں اور ٹنڈوجام شہر کے گندے پانی کا اخراج بھی ان تالابوں میں ہو رہا تھا لیکن میونسپل کمیٹی کی عدم توجہی کے باعث یہ شاندار سکیم تباہی کا شکار ہو گئی ہے۔ تالابوں پر متعین عملے کے چلے جانے کے بعد وہاں سے بجلی کا ٹرانسفارمر اور پانی کی قیمتی موٹریں دروازے اور کھڑکیاں بھی چوری ہو گئیں اور پانی کا اخراج بھی بند ہو گیا۔ پیپلز پارٹی ٹنڈوجام کے سیاسی و سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ اس سکیم کو فوری طور پر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمینٹ اور میونسپل کمیٹی ٹنڈوجام نے توجہ نہیں دی اور اس سکیم کو فوری طور پر فعال نہیں کیا گیا تو بارشیں پڑنے کی صورت میں شہر ڈوب سکتا ہے، اس لئے حکومت سندھ کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے۔


تھر کول ایریا سٹی اسلام کوٹ میں زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت شروع

تھر کول ایریا سٹی اسلام کوٹ جہاں تھر کول کے ذخائر پر کام ہونے کے بعد سرمایہ داروں نے زمینوں کی خریداری تیز کر دی ہے۔ شہر کے چاروں طرف بیس بیس کلومیٹر تک بیشتر زمینیں سرکاری اور بڑی تعداد میں وہ زمینیں ہیں جو 1965 اور 1971 کی جنگ کے دوران لوگ چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے۔ ریونیو قانون کے تحت ان کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار فقط وفاقی حکومت کو ہے۔ تب تک یہ زمینیں سرکاری ملکیت سمجھی جائیں گی۔ تاہم اس وقت تک ان زمینوں کو علاقے کے لوگ ا پنے طور پر کاشت کر رہے ہیں۔ تھر کول پر کام ہونے کے بعد جہاں زمینوں کی قیمتیں بیس گنا زیادہ بڑھ گئی ہیں وہیں اینیمی پراپرٹی بھی قبضہ مافیا کے ہتھے چڑھتی جا رہی ہے۔ ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق ریونیو عملداران کی مبینہ ملی بھگت سے اینیمی پراپرٹی کو سابقہ مالک کے نام جیسا کوئی دوسرا نام ڈھونڈ کر ان سے فروخت کروائی جا رہی ہیں۔ اور یوں یہ ایک بڑا دھندہ چل پڑا ہے۔ اسی طرح سے سروی زمینوں کے آگے موجود سرکاری زمینوں کو بھی زمینداروں نے اپنے حصے میں شامل کر کے قبضے میں لے لیا ہے اور غیر قانونی پلاٹنگ کا کام جاری ہے۔


بھنبھور، 150 گھروں پر مشتمل گوٹھ عارب جت سمندری لہروں کی نذر، مکیں منتقل ہو گئے

بھنبھور میں کوسٹل ہائی وے کے قریب سمندری طغیانی سے سمندر کے کنارے واقع ایک گوٹھ سمندری لہروں کی نذر ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھنبھور کے مقام پر کوسٹل ہائی وے کے قریب 150 گھروں پر مشتمل گوٹھ عارب جت سمندری لہروں کی نذر ہو گیا جبکہ گوٹھ کے مکین موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ جلدی میں صرف ضروری سامان ہی وہاں سے نکال پائے ہیں جبکہ باقی تمام اثاثہ سمندری لہروں کی نذر ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ گھارو تا کیٹی بندر کوسٹل ہائی وے التوا کا شکار ہے اور کام بند پڑا ہے اور اگر کوسٹل ہائی وے کا کام مکمل ہو جاتا ہے تو یہ سمندری پانی کے لئے ایک مضبوط بند کا بھی کام دے گا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ کوسٹل ہائی وے کا کام جلد مکمل کرایا جائے۔


جھڈو، 23 پرائمری سکولوں میں تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا

تعلیمی سال کے 6 ماہ گزر گئے۔ جھڈو کے 23 پرائمری سکولوں میں تاحال تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا۔ اساتذہ کی عدم تقرری کے باعث سینکڑوں طلبہ در بدر ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق جھڈو کی یونین کونسل دلاور حسین میں 8، روشن آباد میں 8، آہوری میں 3 اور یونین کونسل فضل بھنبھرو میں 4 پرائمری سکول عرصہ دراز سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ مذکورہ دیہات کے باشندوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم نے بند سکول کھولنے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ غیر تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول پائے جاتے ہیں اور بچوں کا تعلیمی سلسلہ درہم برہم ہو چکا ہے۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے درس گاہوں میں اساتذہ کی پوسٹیں خالی ہو گئی تھیں جو کہ سندھ حکومت اساتذہ کی تقرریاں کر کے پوری کرے گی۔ تاہم آزاد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بعض اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ ملی بھگت اور مبینہ لین دین کر کے خود کا تبادلہ اور بائیو میٹرک من پسند سکولوں میں کروا لیا ہے اور سینکڑوں بچوں کی تعلیم کو داؤ پر لگا کر خود کے لئے آسانیاں تلاش کرنے کو ترجیح دی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *