Type to search

تجزیہ سیاست

92 کی فتح کا جشن، وزیر اعظم کی کرسی، اور گورنر ہاؤس لاہور میں مچنے والا ادھم

میرے بچپن کی یادوں میں کچھ تصاویر کھنگالوں تو 92 میں کابل فتحیابی کے جشن کے مناظر کہیں آج بھی سلگتے ہیں جہاں ہمارے تربیت یافتہ مجاہدین کابل محل کے باتھ ٹب میں بندوقیں کھڑی کیے کیمروں میں دانت نکوستے تھے۔ مجھے عراق میں صدام حسین کے محل کے کھنڈرات سے لے کر قذافی کے وحشت ناک انجام تک کے مناظر سے زیادہ اس سوچ کی ترویج اور جنونیت کو ملتی اَن دیکھی تھپکیاں یاد ہیں جو ماب جسٹس کو معاشروں میں نارملائز کرتی ہیں۔

آج سے نو برس قبل راولپنڈی میں ایک اہم ترین عمارت پر دہشتگرد حملہ ہوا تھا جس کا مبینہ ماسٹر مائنڈ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان واقعے کے دو برس بعد دوبارہ خبروں کی زینت بنا اور ہمیں آزاد میڈیا کے ذریعے بتایا گیا کہ اس حملے سے قبل کیسے علاقے کی ریکی کی گئی اور  گوگل ارتھ سے مدد حاصل کی گئی۔ اٹھارہ گھنٹے دہشتگردوں سے مذاکرات کے بعد فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ واقعہ میں 9 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے اور ایک حملہ آورعقیل عرف ڈاکٹر عثمان زندہ ہاتھ آ گیا۔ اس بندے کی ایکسپرٹیز سری لنکن ٹیم پر حملے میں بھی یہ قوم دیکھ چکی تھی۔

مجھے مہران ائر بیس پر حملے میں فراہم کردہ معلومات اور سہولتکاری بھی یاد ہے۔ ریکی وہاں بھی ہوئی۔

یہ سب واقعات اور خبریں میرے ذہن میں اُس روز سے گھوم رہے ہیں جب ہمارے ہاں وزیرِاعظم ہاؤس کی کیمرہ جاتی سیریں کروائی جا رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوا کہ راولپنڈی میں حملے سے قبل جس طرح بلال بوائز ہاسٹل استعمال ہوا کہیں وہ مقام ہمارے ان دو شدید پڑھے لکھے اینکرز نے تو حاصل کرنے کا بیڑہ نہیں اٹھا لیا۔ دو شوز نشر ہوئے اور صاف دکھائی دیتا ہے کہ دو مختلف طرح کی آڈیئنس ٹارگٹ ہوئی۔ لطف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سارا میلہ مرد اینکر نے لوٹ لیا کیونکہ خاتون اینکر نے چاہے فرسٹ فیملی کے زیرِ استعمال ماسٹر بیڈ روم میں گھس کر تفصیلات سے آگاہ کیا ہو یا ملحقہ بیڈ روم کے بارے میں قوم کو جتلایا ہو کہ یہ پرسنل سٹاف کے قیام کی جگہ ہوگی یا پھر بیڈ رومز کے پردے ہٹا کر “یہاں سے ویو بہت اچھا ہے” کہتے ہمارے ان رشتہ داروں کی یاد تازہ کر دی ہو جو کراچی سے جونہی اسلام آباد پہنچتے ہیں عجیب سرمستی چھا جاتی ہے ان کے رویوں میں، لیکن خاتون ہونے کے ناطے انہیں مکمل استثنیٰ حاصل ہوا۔

یہ سب حماقتیں دراصل اس چغدپن کا نیکسٹ لیول ہیں جو ہم لوگوں کو گذشتہ کئی برسوں سے سکرینوں پر “ہنسی مزاح” کے نام پر بیچا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کی ڈمی کی صورت اس ملک کے ہر سیاستدان کی تضحیک پر کبھی کوئی توہین کا کیس نہیں ہوا، ہتکِ عزت کے دعوے نہیں ہوئے۔ نمایاں عوامی نمائندوں کے لہجے، لباس و انداز اور ذاتی زندگی پر رکیک حملے کر کے ایک پوری نسل میں یہ سوچ انجیکٹ کر دی گئی ہے کہ سیاستدان کو سنجیدہ نہیں لینا۔ اس عمل کا اگلا فیز عام انتخابات سے قبل موبائل کیمروں پر امیدواروں کو ہراساں کرنے کی وڈیوز وائرل کروا کر اس کو “جواب دہی” کا ٹیگ لگا کر تالیاں پیٹنے کا عمل تھا۔ عوام کو ان کے نمائندوں سے بدظن کیا جاتا رہا ہے اور اب اس نظام سے بھی دل اچاٹ کیا جا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس کارروائی میں اسی نظام کا حصہ بنے لوگ سہولتکاری فراہم کر رہے ہیں۔ وزیرِاعظم کے عہدے اور کرسی کی ایک تکریم ہوتی ہے، سکول سے لے کر دفاتر اور کام کرنے کی دیگر جگہوں تک انسان کو تمیز سکھائی جاتی ہے کہ استاد، سینیئر یا سربراہ کے عہدے کا احترام کرتے اس کی جگہ پر پھسکڑے نہیں مارنے لیکن یہ تہذیب ہمارے اینکرز کو سکھائے کون؟ ویسے کسی روز اپنے چینل مالکان کے دفتر میں جا کر ان کی نشستوں پر بیٹھ کر ایک آدھ سیلفی تو پوسٹ کریں ذرا۔

وزیراعظم ہاؤس کی اندرونی عمارت تک پہنچنے میں کتنے بیرئرز اور حفاظتی حصار پار کرنا ہوں گے قوم کو اس کی آگہی بھی دی گئی۔ ایک صاحب وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پر لپکتے ہی سلطان اور سلطنت کی رٹ لگا دیتے ہیں۔ دہائیوں پرانا جم دکھا رہے ہیں لیکن شرم نہیں آ رہی۔ وہ خاتون کچن میں گھس کر ریفریجریٹر کھول کر عوام کو طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ  بتا رہی ہیں کہ یہ میاں نوازشریف کا ذاتی فریج تھا۔ تو دوسرے حضرت خانساماں سے سابق وزیرِاعظم کے کھانے کی تفصیل جاننے کو بےچین ہیں۔ لیکن بار بار یہ ہائی لائٹ کرنا نہیں بھولتے کہ سابق خاتون اول کی وفات کا بہت دُکھ ہے لیکن آئیے آپ کو ماسٹر بیڈ روم دکھاتے ہیں اور یہ دوسرا کمرہ ان کی والدہ کے زیرِ استعمال رہا۔

بھائی صاحب نے زندگی میں پہلی دفعہ صاف ستھرا فرش اور فانوس سے آراستہ جگہ دیکھی تھی شاید۔ باتھ ٹب ہو یا کسی گاڑی میں بقول آپ کے بوتھی یوتھی چیک کرنے سے لے کر چلِر تک کا انتظام یہ کہہ کر دکھانا کہ آپ عوام اپنے پیسوں سے وزیرِاعظم کو دِلواتے ہیں تو بھیا اس ملک کے دیگر اداروں کے سربراہان کی گاڑیوں میں چوٹے ماٹے لے کر کسی روز کیمروں کے ذریعے ان کی تفصیل بھی بتائیے نا۔ وہ بھی ہمارے پیسوں سے ہی آتا ہے نا؟

دو مختلف چینلز اور دو مختلف فالؤنگ رکھنے والے اینکرز کے شوز بالترتیب 15 ستمبر اور 16 ستمبر کو نشر ہوتے ہیں۔ حسنِ اتفاق حضورِ والا اور اس سے بھی بڑھ کر دونوں چینلز کے کیمرہ مین یا تو مشترکہ تھے یا پھر ہدایات ایک ہی طرح کی موصول ہوئی تھیں کہ فوکس کون سی اشیاء اور زاویوں کو کرنا ہے۔

فرسٹ فیملی کے زیرِاستعمال کمروں سے لے کر پینٹری، ڈائننگ ہال یا میٹنگز اور کانفرنس ہالز کی ترتیب و مقاصد سے جُڑا “سامنے، دائیں، بائیں” جیسا سب نقشہ سمجھایا گیا ہے۔

ختمِ نبوت شق کے حوالے سے جس چینل نے غلیظ ترین کھیل میں بھرپور حصہ لیا اسی کی اینکر کھڑی پی۔ایم ہاؤس لائبریری میں قرآنِ کریم کے مختلف نسخے اور تفاسیر کے ساتھ سیرتِ نبی پر کتب دکھاتے ہوئے کیا سوچ رہی ہوں گی؟ فرماتی ہیں “وہ فیملی شوقین مزاج تھی کھانے پینے کی، بڑی رونق ہوتی تھی کچن میں۔۔” سستے پن کی کوئی تو حد ہونی چاہیے یا نہیں؟ جہاں آپ کا لاڈلا سکونت اختیار کرے وہاں کیمرے اندر لے جانے میں سیکیورٹی ایشوز ہیں لیکن جہاں آئندہ آنے والے وزرائے اعظم نے اپنی فیملی کے ساتھ رہنا ہے اس کا چپہ چپہ چوم لیا گیا۔ سبحان اللہ
ان کی کفایت شعاری کے ڈراموں، گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی پر الگ سے قلم گھسیٹوں گی۔

ویسے اگلی دفعہ جب ریاستی مہمان تشریف لائیں اور دوسرے ممالک کے سربراہان اپنے وفود یا فیملی کے ساتھ پاکستان کا دورہ کریں تو انہیں بتا دیجیے گا کہ وزیرِاعظم ہاؤس تو ہم نے دس پندرہ روپے کا ٹکٹ لگا کر ریوینیو کمانے کے لئے رکھ لیا ہے، آپ فلاں بڑے گھر طعام فرمائیں۔ جناب آپ بادشاہ نہیں لگا دیے گئے اس ملک میں کہ آئندہ آنے والے ہر وزیراعظم کی رہائش اور ریاستی عمارت کا فیصلہ کر لیں گے۔ ہاں لیکن سہولتکار ضرور بن گئے ہیں کہ آئندہ جب ڈی۔چوک میں دولے شاہ کے چوہے اکٹھے کیے جائیں تو اس عمارت کے اندر کا نقشہ تک باآسانی سمجھ کر پہنچنا اور اشتعال انگیزی کے ذریعے مطلوبہ نتائج ماب جسٹس کے نام پر حاصل کرنا آسان ہو۔

اس ہنگامی تام جھام کا اصل مقصد اُس وقت واضح ہو گیا جب ڈان لیکس پر “محاذ” کھول کر کانفرنس روم میں نشستوں اور وہاں براجمان ہونے والے عہدیداروں کی سب پوزیشن کا ڈیمو پیش کیا جا رہا تھا۔ اور اس گھٹیا شو میں ڈان لیکس کو ریاست کے خلاف منصوبہ بتاتے ہوئے ایک دفعہ پھر منظورِ نظر مؤقف کی پیشکش میں جتلایا گیا کہ ریاستِ پاکستان کو نقصان ہوا۔

آپ وہاں گھومتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ کہاں کہاں جیمرز نصب ہیں، کیا ایسی حرکتیں آپ کسی اور سرکاری عمارت میں گھس کر عمل میں لا سکتے ہیں؟ پینٹری میں لگی لفٹ دکھاتے وقت اس کی وجوہات اور مقصد سمجھنے کا شاید آرڈر نہیں ہوگا آپ کو۔ دیسی مرغی بھی سابق وزیرِاعظم کے پلے ڈال دی جناب نے۔ اورنگزیب عالمگیر کے پورٹریٹ کو سیلوٹ مارنے اور شیرشاہ سوری کو فیورٹ کہنے کے بعد ارشاد ہوا کہ چونکہ بادشاہت چل رہی تھی اس لئے ان بادشاہوں کے پورٹریٹ آویزاں ہیں۔ اس شومیں یہ آفاقی انکشاف بھی ہوا کہ ہم دنیا کا چوتھا پانچواں بڑا ملک ہیں۔

“لوگوں کو دکھائیں کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے” اسی ایک جملے میں اس شو کا سارا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔ “لاٹ آف فَن یو کین ہیو ہئیر” کِس بنیاد پر کہا گیا اس بارے میں اگر کوئی پلٹ کر جواب دے گا تو بہت ہتک محسوس ہوگی کچھ طبقات کو۔

“اس محل میں بیٹھ کر بلوچستان پر کتاب پڑھی جاتی تھی۔” کہنے والے سے گذارش ہے کہ جھونپڑیوں میں بیٹھ کر بلوچستان چلانے اور سنجرانی ماڈل لانے والوں کے غریب خانے بھی دِکھا دیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

میں کسی روز گاڑی اٹھا کر بلوچستان میں گھومنا چاہتی ہوں۔ ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ وقت بتانا چاہتی ہوں اور جس طرح کچھ روز قبل میرے بھائی کو اس کے گیارہ دوستوں سمیت چلاس میں روکا گیا کہ اکیلے سفر نہیں کر سکتے، بیس بائیس دیگر گاڑیاں اکٹھی ہونے پر روانہ کیا گیا تو چاہوں گی کہ میں جب چندے پر بنایا گیا ڈیم دیکھنے جاؤں تو یوں کارواں میں چلنے کی مجبوری لاحق نہ ہو۔ سنا ہے چلاس سے بابوسرٹاپ کا راستہ رات کو بند ہوتا ہے۔ دیامیر اور بشام والا کھلا ہوتا ہے۔ کسی روز اس سکیورٹی حصار پر کوئی محاذ ہو جائے ذرا۔ اکاؤنٹبلیٹی کے مراحل بڑے کٹھن ہوتے ہیں جناب لہٰذا من پسند کارروائی ڈال کر آپ چند لوگوں کو وقتی طور پر بےوقوف بنا سکتے ہیں لیکن مستقل بنیادوں پر سب ہی مست ملنگ نہیں ہو سکتے۔

نصرت جاوید صاحب چاہتے ہیں کہ فیاض الحسن چوہان کسی روز پیلے سکول کے بچوں کو ایچی سن کا دورہ کروائیں لیکن میری حسرت ہے کہ میرے بھتیجے بھتیجیاں ایک آدھ مشہورِ زمانہ گالف کلب میں گھس کر ویسا ہی ادھم مچائیں جیسا کہ لاہور کے شہری ان دنوں گورنر ہاؤس میں ہفتہ وار پکنک منا کر ریاست کو درست سمت میں لے جاتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *