Type to search

انصاف تجزیہ جمہوریت سیاست

احتساب: دھندا ہے پر گندہ ہے یہ

نواز شریف اور مریم نواز جیل بھیج دیے گئے، کیونکہ صرف دو ہفتوں بعد عام انتخاب ہونے والے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں انتخابات میں نواز لیگ کو اکثریت ہی نہ مل جائے۔ پھر ضمنی انتخابات اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا زمانہ آیا تو نون لیگ کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف دھر لیے گئے، خوف تھا کہ کہیں شہباز شریف پنجاب میں اکثریت نہ حاصل کر لیں یا کہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ بن ہی نہ جائیں۔ گرفتاری چاہے ٹھیک ہی کیوں نہ ہو، وقت گرفتاری یہی بتا رہا ہے کہ مقصد یہی تھا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا۔ ہر شخص، ہر قانون دان یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا شہباز شریف تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے تھے یا وہ تحقیقات میں رکاوٹ بن رہے تھے، یا پھر وہ کون سے ثبوت ہیں جن کی بنا پر ان کی گرفتاری ناگزیر تھی۔ اور کیا وہ وجوہات میڈیا کو نہیں بریف کی جا سکتیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چل سکے۔

کرپشن کے خلاف جہاد سے کسی کو انکار نہیں، کسی کو یہ اعتراض نہیں کہ عوام کا لوٹا ہوا مال واپس نہ لیا جائے، کسی کو یہ انکار نہیں کہ عوام، سرکار، ریاست کے خزانے کو لوٹنے والوں کے کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے، پر احتساب کا عمل شفاف بنانا ریاست اور ریاستی مشینری اور حکومت کا فرض ہے۔

احتساب کا دھندہ 1997 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب بینظیر بھٹو کی حکومت کو ان کے اپنے ہی صدر سردار فاروق لغاری نے اٹھاون دو بی کا استعمال کر کے گھر بھیج دیا اور ایک پہلے سے طے حکمت عملی کے بعد نواز شریف کو بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت میں لایا گیا۔ اس بھاری اکثریت والی نون لیگی حکومت اور نواز شریف نے اپنے قریبی دوست سینیٹر سیف الرحمان کی سربراہی میں احتساب بیورو بنایا، جس کی تمام تر کارروائیاں بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گرد گھوما کرتی تھیں۔ چاہے وہ سوئس اکاؤنٹس ہوں یا فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدے اور ان میں کمیشن کا معاملہ ہو، برطانیہ میں سرے محل کی خریداری کا معاملہ ہو یا پھر ہیلی کاپٹر سکینڈل، کسی میں بھی آصف علی زرداری کو سزا نہ ہو سکی، کیونکہ لگتا یہی ہے کہ احتساب اک دھندہ تھا پر گندہ تھا، مقدمات بنانے کا مقصد احتساب نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنانا تھا۔

آصف علی زرداری نے طویل قید کاٹی، چاہے وہ نواز شریف کی حکومت کا دور ہو، یا پھر مشرف کی طویل آمریت، وہ بیشتر وقت جیل میں ہی رہے۔ قید کے دوران ان کی زبان بھی زخمی کی گئی، پر ان پر کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی۔ یا تو کرپشن تھی ہی نہیں یا پھر اس مہارت سے کی گئی کہ اس کو ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔

نواز شریف کے اس دور میں احتساب کے عمل کو چمکانے اور پروپیگنڈہ کرنے کے لئے سرکاری ٹی وی میں بھی ایک سیل بنایا گیا تھا، جس کا مقصد ٹی وی پر پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کے خلاف نفرت پیدا کرنا تھا، کرپشن کرپشن کا اتنا ڈھول پیٹنا تھا کہ لوگ یقین کر بیٹھیں کہ پیپلز پارٹی لٹیروں کا ٹولا ہے۔ سیل میں پی ٹی وی کے اپنے رپورٹروں اور پروڈیوسروں کے علاوہ اخبارات کے مدیر اور جہاندیدہ صحافی بھی ہوتے تھے، جو اس احتساب کے دھندے سے خوب خوب مستفید ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ کچھ کے نام تو سیف الرحمن نے مختلف ٹی وی چینلز پر اپنے انٹرویوز کے دوران بتا دیے تھے، پر کچھ کے نام آج بھی پوشیدہ ہیں۔ شاید کبھی منظر عام پر آ ہی جائیں۔ ویسے پی ٹی وی سے اگر ان صحافیوں کی لسٹ مانگی جائے جو مختلف ادوار میں سرکاری ٹی وی سے مستفید ہوتے رہے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے۔

خیر بات ہو رہی تھی احتساب کے دھندے کی، جب نواز شریف کو ان کے اپنے ہی لگائے ہوئے آرمی چیف جنرل مشرف نے نے آٹھ اکتوبر انیس سو ننانوے میں گھر بھیج دیا بلکہ جیل بھیجا، تو انہوں نے بھی آتے ہی لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کا نعرہ بلند کر دیا، اور احتساب بیورو کو ختم کر کے نیب یعنی، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو بنا ڈالا، جس کے سربراہ ان کے اپنے باوردی جرنیل ہوا کرتے تھے۔

پر کیسا احتساب، کہاں کا احتساب، اور کیوں کر احتساب؟ کس کو حقیقی سے دلچسپی ہے بھلا؟ احتساب کرنا مقصد تھوڑی تھا، یہ تو ایک دھندہ تھا جو سیاست دانوں کے بازو مروڑ کر ان کو اپنی مرضی اور خواہشات کے تحت چلانا تھا۔ سیاست دانوں نے بھی اس دھندے کو اپنے مقاصد کے لئے ہی استعمال کیا۔ اور مشرف نے تو بھرپور استعمال کیا۔

نواز شریف اور شہباز شریف کو طیارہ اغوا کیس میں گرفتار کیا گیا، ان پر کرپشن کے الزامات اس دور میں بھی لگے، لیکن کیونکہ جنرل مشرف کو بھی سعودی عرب سے مالی مدد لینا تھی، انہیں بھی مفت تیل کی ضرورت تھی اور شاید اپنی بھی ضروریات تھیں، جو عرب بادشاہ یا شیخ ہی پوری کر سکتے تھے۔ ذرا دباؤ آیا، پورے شریف خاندان سے انڈرٹیکنگ لے کر سعودی عرب روانہ کر دیا گیا، اس شرط پر کہ وہ دس سال تک نہ تو سیاست میں حصہ لیں گے بلکہ اپنی زبان بھی بند رکھیں گے۔ یہ تو بھلا ہو بینظیر بھٹو کا جو وہ 2007 میں عام انتخابات میں حصہ لینے پہنچ گئیں تو نواز شریف بھی ان کے پیچھے پیچھے یہاں آ گئے۔ گو کہ مشرف اور ان کی ٹیم نے انہیں واپس سعودی عرب اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیج دیا، لیکن اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری نے سوموٹو لے کر انہیں واپس آنے کی اجازت دلوا دی اور یوں پنجاب میں ان کے دس سالہ حکومتی دور کا آغاز ہوا، جس کا شاخسانہ یہ ہے کہ آج شہباز شریف آشیانہ پراجیکٹ میں بد انتظامی کے الزام میں بند ہیں۔

مشرف کے دور میں وہ سب جن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا، ان میں چوہدری بردران اور وہ جو آج انصافیوں کی نیا پاکستان والی حکومت کا بھی حصہ ہیں، وہ کرپٹ عناصر حکومت اور ریاست کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے اربوں روپے کے بینکوں کے قرضے معاف کروا کر قومی دولت کو لوٹا، سب کی معافی تلافی ہو گئی پر قوم کا پیسہ واپس کبھی نہ آیا، نہ کبھی واپس آنا ہے۔

اکثر نیب کی پلی بارگین سے مستفید ہو گئے، مطلب لوٹا ہوا کچھ پیسہ واپس کر دو باقی سے موج مستی کرو۔ زرداری کئی برس تک مشرف دور میں بھی جیل میں رہے، جب کچھ ثابت نہ ہو سکا تو انہیں رہا کر دیا گیا۔

پھر انہی لٹیروں کے لئے این آر او یعنی قانونی عام معافی دے کر اقتدار کا حصہ بنانے کے لئے موقع فراہم کیا گیا۔ مقصد تو صرف مشرف کے اپنے اقتدار کو طول دینا تھا پر بینظیر بھٹو کی شہادت نے یہ موقع ان کے ہاتھ سے چھین لیا۔ اور وہی کرپٹ (ان کے مطابق) آصف علی زرداری ملک کے صدر بن گئے اور پانچ سال تک کرسی صدارت پر رہے۔ اور زرداری حکومت نے دو بار آئین توڑنے والے آمر کو بینڈ باجوں کے ساتھ رخصت کیا۔

2017 میں پارلیمنٹ نے نیب کا نیا قانون لانے کی کوشش کی لیکن تحریک انصاف نے قانون یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ نئے قانون کے بجائے موجودہ قانون میں ترامیم لائی جائیں۔

اس مضمون لکھنے کے دوران ہی وزیر اعظم عمران خان نے احتساب پر پوری ایک پریس کانفرنس کر ڈالی اور ایک نیا ادارہ ایسٹ ریکوری یونٹ (Assets Recovery Unit Pakistan) کا اعلان کیا جو لوٹا ہوا مال اور چھپی پراپرٹیاں تلاش کر کے ملک کو مال ومال کر دے گا۔ اللہ کرے ایسا ہو اور ہم خان کی کامیابیوں کے ترانے بجا رہے ہوں۔

شہباز شریف کی گرفتاری بھی اسی دھندے کا حصہ اس وقت تک رہی گی جب تک ان کے خلاف تحقیات کو شفاف نہیں رکھا جاتا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *