Type to search

سیاست عوام کی آواز

نیب بنائی ہی اس لئے گئی تھی جناب، بس اپنا کام کر رہی ہے

12 اکتوبر کے ‘کامیاب’ انقلاب کے بعد ہمارے کمانڈو صدر کو احساس ہوا کہ انتخابات کرائے بغیر زیادہ عرصہ کام نہیں چلنے والا تو 2002 میں انتخابات کا سوانگ رچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سوانگ کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ ہمارے کمانڈو کا ‘حلقہ انتخاب’ تو اتنا بڑا تھا نہیں جو انہیں فتح کی نوید سنا سکتا، اس لئے انہوں نے بھی وہی حربہ استعمال کرنا تھا جو سابقہ صدور نے کیا تھا، یعنی ‘ہم خیالوں’ کی حکومت۔

اب ظاہر ہے کسی کو ہم خیال بنانا بھی تو آسان کام نہیں۔ اس کے لئے تلاش شروع ہوئی کسی ایسے شخص کی جو ‘الیکٹیبلز’ کو کمانڈو کی گوناں گوں خصوصیات سے آگاہ کر کے انہیں ہم خیال بنائے۔ جہاندیدہ قانونی مشیر نے راستہ دکھایا کہ یہ کام کسی شخص کے بس کا نہیں بلکہ اس کے لئے ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جو ‘الیکٹیبلز’ کو ان کی غلط کاریوں سے آگاہ کرے اور انہیں ‘صراط مستقیم’ پر آنے پر مجبور کرے۔ آخر کار ایک ادارہ نیب کے نام سے تخلیق کیا گیا اور اس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ ‘صراط مستقیم’ سے بھٹکے ہوؤں کو راہ ‘راست’ پر لائے۔

ادارے نے کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو ایسے ایسے نیک مرد حر موجود ہیں جو بذات خود کسی کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتے اور جذبہ ایمانی کے تحت فوری مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں نام گجرات کے ایک خاندان کا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، کوئی ایک بھی ‘فاتح’ ان کے بغیر حکومت نہیں بنا پایا۔ بلکہ یہ تو دس دس سال وردی میں منتخب کرنے کا عہد بھی کرتے ہیں لیکن تقدیر ہی ساتھ نہ دے تو اس میں اللہ کے ان نیک بندوں کا کیا قصور؟ یہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے اور پھر ہمسفر ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔

کمانڈو نے نیب کا سربراہ بھی اپنے پیٹی بند بھائی ہی کو بنایا تاکہ دھاندلی کا امکان باقی نہ رہے۔ اس مرد درویش نے ملک میں موجود تمام سیاستدانوں کو بلایا اور ان کے سامنے ان کے ماضی کے گناہوں کی کتاب رکھ دی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہمارے سیاستدان تو ویسے بھی کسی کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتے لہٰذا انہوں نے فوری طور پر اپنے ماضی کے گناہوں سے تائب ہونے کا اعلان کیا اور اپنی ‘عاقبت’ بچائی۔

انتخابات کے نتائج کے نتائج آنا شروع ہوئے تو معلوم ہوا کہ ابھی بہت سے لوگ اپنے ماضی کے گناہوں سے تائب نہیں ہوئے لہٰذا کیمیا گروں کو حکم ہوا کہ وہ اپنا نسخہ آزمائیں تاکہ نتائج حسب منشا بر آمد ہوں۔ جیسے جیسے رات گزرتی گئی نتائج کچھ موافق آنا شروع ہوئے لیکن مکمل نتائج نے ایک بار پھر ہمارے ‘کمانڈو’ کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ کیمیا گروں نے پھر اپنے کمال دکھانا شروع کیے اور کوشش بسیار کے بعد ایک ووٹ کی اکثریت سے حکومت بن گئی۔ انہی انتخابات میں ہمارے موجودہ ‘وزیر اعظم’ کی نیا بھی ڈوبنے لگی تو فریاد کی کہ ‘چھیتی آئیں وے طبیبہ نئیں تے میں مر گئی آں’ اور پھر بقول اقبال ‘دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے’۔

آمر وقت کے نزدیک نیب کی تخلیق کا مقصد ہی جائز و ناجائز طریقے سے اپنے حق میں زمین ہموار کرنا تھا جو کہ بڑی سفاکی سے کی گئی۔ سنہ 2006 میں لندن میں ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے جس میں دیگر باتوں کے علاوہ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیب ایک آمر کا ہتھیار ہے جو اس نے بلیک میلنگ کے لئے بنایا ہے لہٰذا حکومت میں آتے ہی اسے تحلیل کر کے احتساب کا ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے گا جو کسی کے بھی تسلط سے آزاد ہوگا۔ آج اگر دونوں بڑی جماعتیں انتقام کی لپیٹ میں ہیں تو اس میں ان کا اپنا بھی قصور ہے۔ اگر انہوں نے آمر کے تخلیق کردہ اس ادارے کو اسمبلی کے ذریعے ختم کر دیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔

جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اب اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے ہے کہ اسی اسمبلی کے ذریعے اس ادارے کو مکمل طور پر تحلیل کر کے اس کی جگہ ایسے خود مختار ادارے کی بنیاد رکھیں جو احتساب تو کڑا کرے لیکن کسی بھی دوسرے ‘ادارے’ کے دباؤ میں نہ ہو۔ آج جو جماعتیں نیب کے ڈسے سیاستدانوں کی پریشانی پر خنداں ہیں وہ بھی یاد رکھیں کہ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *