Type to search

خبریں فيچرڈ

پاکستانی اخبارات سے گذشتہ ہفتے کے 5 دلچسپ ترین واقعات

“عمران خان دو سالوں میں اقتدار سے باہر ہو جائیں گے”

جاوید ہاشمی جو کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف دونوں جماعتوں کے صدر رہے ہیں، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان دو سال کے اندر اقتدار کھو بیٹھیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اس وقت پانچ مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل پاشا 2014 کے دھرنوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ عمران خان نے خود مجھے بتایا تھا کہ یہ دونوں جرنیل لندن پلان کا حصہ تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جرنیلوں کے اثاثے اربوں روپے مالیت پر مشتمل ہیں۔ اگر سیاستدان اپنے اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں تو سابقہ جرنیلوں کو بھی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر نہیں بنتی۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو اور نواز شریف کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی بات سننا پڑتی تھی۔ عمران خان  کے اردگرد بھی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ موجود ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک انقلابی رہنما ہیں اور ان کی رہائی کسی خفیہ ڈیل کی مرہون منت نہیں ہے۔ پاکستان کی عوام چین سے محبت کرتی ہے اور وہ چائنہ پاکستان  اقتصادی راہداری میں کسی قسم کی تبدیلی کو برداشت نہیں کرے گی۔

بابری مسجد کو 1992  میں مسمار کیا گیا تھا نریندر مودی 2001 میں گجرات کے وزیراعلی منتخب ہوئے تھے۔ لیکن سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ مودی نے بطور وزیر اعلیٰ گجرات بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے بابری مسجد کو مسمار کروایا

مودی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات بابری مسجد کو را کے تعاون سے مسمار کروایا

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے  روزنامہ نوائے وقت کی وساطت سے اپنا مذاق خود اڑوا ڈالا۔ نوائے وقت کے ادارتی صفحے کےلئے لکھے گئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ “مودی نے بابری مسجد کو را کی مدد سے مسمار کروایا”۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کو 1992 میں مسمار کیا گیا تھا اور مودی نے گجرات کے وزیراعلیٰ کا منصب 2001 میں سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنے کالم میں مزید یہ بھی تحریر کیا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر حقائق کے منافی اور جھوٹ پر مبنی تھی۔ شدت پسند ہندو جماعت آر ایس ایس ہندوستان کی پالیسیاں مرتب کرتی ہے اور یہ جماعت دہشت گردی کو مودی کے مخالفین اور اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ بھارت بدترین آمریت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ آر ایس ایس، را کی دست راست بن چکی ہے۔ اب آر ایس ایس اور را میں کوئی فرق موجود نہیں رہا۔ آر ایس ایس میڈیا پر بدترین سینسر شپ عائد کر رہی ہے۔ ہندوستانی میڈیا میں آر ایس ایس کے خلاف ایک بھی لفظ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ دنیا نے آر ایس ایس اور را کا تعاون بابری مسجد کی شہادت اور سمجھوتا ایکسپریس پر حملے کی صورت میں دیکھ رکھا ہے۔ پٹھان کوٹ اور اڑی حملے را نے خود کروائے تھے اور الزام پاکستان پر دھر دیا تھا۔ بھارت آج تک حافظ سعید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ بھارتی افواج نے کشمیر میں تین پولیس افسران کو قتل کیا کیونکہ پولیس وہاں پر فوج کی موجودگی پر احتجاج کر رہی تھی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہودیوں اور مسیحیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہیں شاطر اور سازشی قرار دے ڈالا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہیں ایٹمی بم کا خالق اور محسن پاکستان قرار دیا جاتا ہے، نے جنگ اخبار میں 2 اکتوبر کو لکھے گئے اپنے کالم میں مسیحی اور یہودیوں کو حدف تنقید بنایا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے انہیں شاطر، سازشی اور مسلم دشمن قرار دیا۔ ڈاکٹر قدیر کے مطابق قرآن مسلمانوں کو یہودیوں اور مسیحیوں سے دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے۔ ان کا کالم کچھ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ پوری دنیا یہودیوں کی چالاکی، مکاری اور عقلمندی سے واقف ہے۔ پہلے دن سے آج تک ان مذاہب نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انہیں تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اپنے اگلے کالم میں انہوں نے قارئین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمان ملحدوں خصوصی طور پر چائنہ سے تعلق رکھنے والے بااثر ملحدوں سے دوستی استوار کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھاتے نظر آئے کہ اگر ایک مسلمان مسیحی یا یہودی عورت سے شادی کر سکتا ہے تو پھر وہ ایک ملحد عورت سے شادی کیونکر نہیں کر سکتا؟

ہندوستان  نے پوری دنیا کی مختلف قوتوں کے اشتراک سے پاکستان کو دولخت کیا

کالمسٹ نصرت مرزا نے روزنامہ جنگ میں یکم اکتوبر کو لکھا کہ پاکستانیوں کو جاگنے میں بہت عرصہ لگتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین اور بالخصوص فوجی تنصیبات پر بے شمار دہشتگرد حملے ہوئے لیکن یہ پھر بھی ہوش میں نہ آئے۔ انہیں تب ہوش آیا جب دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا۔ پھر انہوں نے دہشتگردی کو ختم کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ پاکستان کی 1948 اور 1965 کی جنگوں میں فتوحات ایک مسلمہ حقیقت ہیں البتہ 1971 کی جنگ میں بھارت نے دنیا کی مختلف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ صاحب اپنے 23 مارچ 2010 کے روزنامہ جنگ میں چھپنے والے کالم میں 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کو پاکستان کے خلاف امریکی سازش قرار دے چکے ہیں۔

مسلمانوں کو غلام بنانے کی بین الاقوامی سازش رچائی جا رہی ہے

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نوشہرہ میں علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو غلام بنانے اور اسلام اور مسلم امہ کو تقسیم کرنے کیلئے بین الاقوامی سازش رچائی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ہماری خود مختاری کو مجروح کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا نے 20 نومبر 2007 کو امریکی سفیر این پیٹریسن کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا تھا اور امریکی سفیر سے وزارت عظمیٰ کی کرسی تک رسائی کیلئے امریکی حکومت کی پشت پناہی کی درخواست کی تھی۔ مولانا نے یہ بھی کہا تھا کہ واشنگٹن کو پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو کو اقتدار میں نہیں لانا چاہیے کیونکہ وہ بینظیر بھٹو کے مذہبی علما مخالف بیانات کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنے سے ابھی تک قاصر  ہیں کہ وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ دوبارہ سیاسی تعاون کریں گے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *