Type to search

خبریں فيچرڈ

بلوچستان: رواں ہفتے کا احوال (7 اکتوبر تا 13 اکتوبر)

وڈھ، سردار اختر مینگل پر حملے کی کوشش ناکام، 2 مشتبہ افراد گرفتار، اسلحہ و دستی بم برآمد

3 مشکوک افراد رہائشگاہ میں داخل ہونا چاہتے تھے، گارڈ نے تلاشی کے دوران اسلحہ برآمد کر لیا، ایک فرار، 2 کو حراست میں لے لیا

اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، جدوجہد جاری رہیگی، سردار اختر مینگل

بلوچستان کے علاقے وڈھ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سردار اختر مینگل کے ذاتی سکیورٹی گارڈ نے مین گیٹ پر تلاشی کے دوران مشکوک افراد سے اسلحہ و ہینڈ گرنیڈ برآمد کر لیا۔ حملہ آور اسلحہ و ہینڈ گرنیڈ کے ہمراہ رہائش گاہ میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ بعد میں دو مشکوک افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا گیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ہوں، جن لوگوں نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی وہ خود ڈرے ہوئے ہیں۔ ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ میرے گھر پر حملہ بلوچ روایات کے منافی ہے۔ انہوں نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ واقعہ کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ بی این پی مینگل کے رہنماؤں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے بی این پی کے ساتھ حکومت اوراپوزیشن میں ناروا سلوک کانشانہ بنایا جاتا رہا ہے، مگر ہم ان منفی ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ رکن قومی اسمبلی آغا حسن نے کہا کہ بی این پی ایک سیاسی و قومی و جمہوری جماعت ہے اور ہمیشہ عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتی رہے گی۔


وفاق اور پنجاب کی خیرات نہیں چاہیے، نواب اسلم رئیسانی

ضمنی انتخابات میں مینڈیٹ چرانے کے نتائج بھیانک ہونگے، سابق وزیراعلیٰ

سیاست کا محور عوام کی خدمت ہے، نواب اسلم رئیسانی

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان پی بی 35 سے بی این پی کے حمایت یافتہ امیدوار نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ ہمیں پنجاب اور وفاق کی کسی خیرات کی ضرورت نہیں مگر ہم اپنے صوبے کے معدنی وسائل پر حق ملکیت چاہتے ہیں جہاں سے سونا، چاندی، گیس، تیل اور دیگر قیمتی معدنیات نکلتی ہیں۔ مگر ریاست اور وفاق کی ناانصافیوں کی وجہ سے یہاں کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انتخابی مہم کے سلسلے میں تحصیل دشت کے علاقے گونڈین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے ہمارا استحصال ہو، اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تو ہمارے تشخص اور قوم پرستی کی سیاست کا جنازہ نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد ہے، اگر بی این پی کا مینڈیٹ غیر جمہوری قوتوں نے جعلی و غیر شفاف الیکشن کے ذریعے چرانے کی کوشش کی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔


بلوچستان کا عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا فیصلہ

قرضے سے متعلق وزیراعظم عمران نے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو تعاون کی یقین دہانی کرا دی

بحران کے باعث ابھی تک سرکاری ملازمین سمیت منتخب عوامی نمائندوں کو تنخواہ ادا نہیں کی جا سکی

بحران کے باعث صوبے میں جاری منصوبے رک جانے سے کھربوں روپے ضائع ہونے کا بھی خدشہ

بلوچستان حکومت نے مالی بحران سے نمٹنے کیلئے قرضے لینے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس عمل میں وفاق صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں پہلے سے جاری سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے 450 ارب روپے کی ضرورت ہے تاہم بلوچستان میں مالی بحران کے باعث سرکاری ملازمین سمیت منتخب عوامی نمائندوں کو بھی تنخواہ ادا نہیں کی جا سکی ہے۔ موجودہ بحران سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ وفاقی حکومت نے بھی صوبائی حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت بلوچستان میں رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی کو ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاہم اس کیلئے کابینہ کا متفق ہونا ضروری ہے۔ حکومتی کابینہ اور بیوروکریسی پر مشتمل ٹیم پی ایس ڈی پی کی سکیموں کا جائزہ لے رہی ہے تاہم اجتماعی مفادات کے برعکس ان کو پی ایس ڈی پی سے ڈراپ کر دیا جائے، اس فیصلے پر ارکان صوبائی اسمبلی اور وزرا پریشان ہیں کہ اگر ان کے علاقوں کی سکیموں کو پی ایس ڈی پی سے نکالا گیا تو پھر وہ اپنے حلقے کے عوام کو کیا جواب دیں گے۔


احتساب سب کا ہونا چاہیے، فوج کی حکومتوں میں مداخلت برداشت نہیں کرینگے، محمود اچکزئی

ملک غیر آئینی، غیر جمہوری، غیر سیاسی طرز عمل اور بحرانوں کی وجہ سے خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے، سربراہ پشتونخوا میپ

عام انتخابات مکمل طور پر بدترین دھاندلی پر مبنی تھے، مداخلت کر کے باپ پارٹی بنا کر حکومت ان کے حوالے کی گئی، شہدا کی برسی پر جلسہ عام سے خطاب

پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی آئین کے تحت فوجی حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ ملکی آئین کا احترام کرتے ہوئے کبھی بھی سیاست میں مداخلت نہیں کرینگے، اسی طرح میونسپلٹی کے کونسلر سے لے کر وزیراعظم تک سب سیاسی نمائندے آئین کے احترام اور ضرورت پڑنے پر اس کے دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ ملکی آئین کا دفاع کرینگے، تمام ججز بھی آئین کے احترام اور ضرورت پڑنے پر آئین کی حفاظت اور دفاع کا عہد کرتے ہیں لیکن میں آپ تمام کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ فوج حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی؟ مداخلت کر کے باپ پارٹی بنا کر حکومت ان کے حوالے کی گئی اور آج وہ حکومت چلانے میں بری طرح ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل غیر آئینی، غیر جمہوری سیاسی طرز عمل اور مسلسل بحرانوں کی وجہ سے ملک انتہائی خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے اور عالمی سیاست میں تنہا ہو گیا ہے اور اس کے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ عوام پر بھروسہ کیا جائے۔ عوام سے مشورہ کرتے ہوئے عوام کی مرضی کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوج اور ان کے اداروں کے ہر گز خلاف نہیں؛ اگر وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو نبھائیں تو ہم زمانہ جنگ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے مگر ہم کسی بھی طرح فوج کی حکومتوں میں مداخلت برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات میں مکمل طور پر بدترین دھاندلی کی گئی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے سے قوموں اور قبیلوں کو تقسیم اور جدا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پورے ڈیورنڈ لائن پر دونوں طرف پشتون قبائل آباد ہیں۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں کیونکہ دنیا میں ایک زبان اور ایک قوم کے لوگوں کو خاردار تاروں کے زریعے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔


نادہندگان اور ناجائز کنکشنز کی تلاش، کوئٹہ میں پانی فراہمی بند، شہری بے حال

برسوں سے بوند بوند کو ترسنے والے شہریوں پر 25 ہزار تک جرمانے، 8 ارب روپے کا منصوبہ زیر زمین پائپ لائن بچھا کر ادھورا چھوڑ دیا گیا

ٹینکر مافیا نے نرخوں میں اضافہ کر دیا، فی ٹینکر 15 سو سے 2 ہزار وصول کرنے لگے، 5 روز سے پانی بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات

مدتوں بعد غیر قانونی کنکشنز اور نادہندگان کی کھوج میں مصروف محکمہ واسا نے کوئٹہ شہر کی آبادی کو پانی کی فراہمی بند کر دی۔ صارفین پر جرمانوں کی بھرمار کر دی گئی ہے۔ محکمہ کئی سالوں سے پانی کی بوند بوند کو ترسنے والے شہریوں سے واجبات کی مد میں 10 سے 25 ہزار تک جرمانے وصول کر رہا ہے۔ پانی کی بندش سے شہری بے حال، ٹنکرمافیا نے نرخوں میں اضافہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق کوئٹہ شہر کو روزانہ 41 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ محکمہ واسا کوئٹہ کو 26 ملین گیلن پانی ہی فراہم کر رہا ہے۔ کوئٹہ شہر میں واسا کے 238 ٹیوب ویل ہیں جن سے شہر کو پانی کی فراہمی کیلئے 11 سو کلو میٹر پر محیط پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت کوئٹہ شہر میں سریاب روڈ، قمبرانی روڈ، کرانی روڈ سمیت دیگر علاقوں میں خطیر رقم سے حاصل کی گئی اراضی ناکارہ پڑی ہے جسے محکمہ واسا سمیت کوئی ادارہ لینے پر آمادہ نہیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ واسا شہر میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جو لوگ باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں انہیں قربانی کا بکرا نہ بنائے یا پھر واسا ان کو اپنے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کو یقین بنائے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *