LOADING

Type to search

جمہوریت سیاست فيچرڈ فیچر نوجوان

پاکستان میں طلبہ سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے

1984 میں جنوری اور مارچ کے مہینوں کے دوران ضیاالحق کی فوجی حکومت نے متعدد مارشلا لا آرڈینسوں کا اجرا کر کے پاکستان بھر میں کالجوں اور جامعات میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی کے پیھحے دو بنیادی وجوہات تھیں۔ اقبال حیدر بٹ کی کتاب "ری وزیٹنگ سٹوڈنٹ پالیٹکس ان پاکستان” کے مطابق کراچی میں 1983 میں منعقد ہونے والے طلبہ یونین انتخابات کے نتائج نے جس میں ضیاالحق مخالف طلبہ اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی، حکومت کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ طلبہ یونین نے 1968 میں ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس تحریک کی بدولت 1969 میں ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑ گیا تھا۔

1983 کے آخر میں لیفٹینینٹ جنرل ایس ایم عباسی کے زیر نگرانی سندھ کی حکومت نے ضیاالحق کو خبردار کیا کہ طلبہ یونینز ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں کے شروع ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس تنبیہہ کے بعد آمر ضیاالحق نے اپنا اقتدار بچانے کیلئے سرکاری کالجوں اور جامعات میں سیاست اور طلبہ یونین کے انتخابات پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ مارشل لا حکومت کا کہنا تھا کہ یہ قدم طلبہ یونین کے انتخابات کے دوران رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے اٹھایا گیا تھا۔

یہ بات درست تھی کہ طلبہ تنظیموں اور پولیس کے مابین اور طلبہ تنظیموں کے آپس میں جھگڑوں اور پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ لیکن یہ اضافہ ضیاالحق کے وطن عزیز میں 1977 میں لگائے گئے تیسرے مارشل لا کے بعد ہونا شروع ہوا تھا۔

اس پابندی پر طلبہ نے شدید مخالفت کی اور کراچی اور لاہور میں مظاہرے کرتے ہوئے متعدد پولیس والوں پر حملوں کے علاوہ درجنوں بسوں کو بھی نذر آتش کر ڈالا۔ ان مظاہروں کی قیادت جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے کی۔جماعت اسلامی نے 1977 میں ضیاالحق کو بھٹو کا تختہ الٹنے میں معاونت فراہم کی تھی۔ یہ جماعت ضیاالحق کی افغان مجاہدین کو ٹریننگ دینے، اسلحہ فراہم کرنے اور کابل میں قابض روسی افواج پر حملے کرنے کی پالیسی کی بھی حمایت کرتی تھی۔

بٹ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ضیاالحق نے اپنے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہونے پر جماعت اسلامی سے اپنی طلبہ تنظیم کو مظاہرے ختم کرنے کا کہا جسے جماعت اسلامی نے مان لیا۔ لیکن یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ ضیاالحق اور جماعت اسلامی کے درمیان دوریاں بڑھتی جا رہی تھیں اس لئے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو اپنی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو مظاہروں سے پیچھے ہٹانے کی خاطر قائل کرنے کیلئے خود میدان میں آنا پڑا۔

پراگریسیو سٹوڈنٹ الائنس اور یونائٹڈ سٹوڈنٹس موومنٹ جامعہ کراچی میں 1983 کے طلبہ یونین کے انتخابات میں جلوس نکال رہے ہیں۔

این ایس ایف کی زیر قیادت طلبہ اتحاد کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج میں 1983 میں منعقد ہونے والے طلبہ یونین کے انتخابات جیتنے کی خوشی مناتے ہوئے۔

اسلامی جمعیت طلبہ 1984 میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کے خلاف جلوس نکالتے ہوئے۔

طلبہ تنظیموں پر پابندی کی دوسری بڑی وجہ سٹوڈنٹ ایکٹویزم کا دنیا بھر میں تیزی سے زوال پذیر ہونا تھا۔ طلبہ سیاست اور ایکٹوزم ساٹھ کی دہائی میں پوری دنیا میں اپنے عروج پر تھے لیکن ستر کی دہائی کے درمیانی سالوں میں یہ تنزلی اور زوال کا شکار ہو گئے۔

مائیکل برلیغ نے اپنی کتاب "بلڈ اینڈ ریج” میں تحریر کیا کہ سٹوڈنٹ ایکٹوزم کے ساٹھ کی دہائی میں مقبولیت اور عروج کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس افراد نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد پھر سے بڑی تعداد میں داخلہ لینا شروع کر دیا تھا۔ بارلیغ کے مطابق اگرچہ زیادہ تر یورپی ممالک، امریکہ اور ایشیا و افریقہ کے نو آبادیاتی تسلط سے نجات پانے والے ممالک معاشی خوشحالی کا عروج دیکھ رہے تھے، بالخصوص 60 کی دہائی میں، لیکن ان ممالک کے کالجز اور جامعات طالبعلموں کی اس کثیر تعداد کے داخلے سے ٹھیک طرح سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اس کی وجہ سے لاجسٹک اور انتظامی نوعیت کے مسائل پیدا ہوئے جن کے باعث  طلبہ اشتعال کا شکار ہو گئے۔

1950 میں کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج کے کچھ طلبہ ایک تنظیم کا قیام عمل میں لائے جس کا مقصد پریشر گروپ کے طور پر کام کرتے ہوئے حکومت کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے مجبور کرنا تھا۔ اس تنظیم کا نام ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن رکھا گیا۔

بارلیغ کا کہنا ہے تب بہت سے طلبہ نے اس غصے کو ایک منظم سمت میں رخ دیتے ہوئے لیفٹ ونگ کے سیاسی نظریات کو اپنا لیا۔ پاکستان میں بھی سٹوڈنٹ ایکٹیوزم کی پہلی مثال اس سے ملتی جلتی ہے۔ اپنے قیام کے بعد نوزائیدہ ملک پاکستان میں انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے مسائل موجود تھے اور کالج و جامعات بھی اس سے مبرا نہ تھے۔ 1950 میں کراچی ڈاؤ میڈیکل کالج کے کچھ طلبہ ایک تنظیم کا قیام عمل میں لائے جس کا مقصد پریشر گروپ کے طور پر کام کرتے ہوئے حکومت کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے مجبور کرنا تھا۔ اس تنظیم کا نام ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن رکھا گیا۔

1953 تک ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کا دائرہ کار پھیلا اور اس نے کراچی کے مختلف کالجوں کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور لاہور کے بھی کچھ کالجوں میں اپنی تنظیم کا دائرہ کار پھیلا دیا۔ اسی سال ڈی ایس ایف نے ایک "چارٹر آف ڈیمانڈز” پیش کیا۔ اس کے مطالبات میں حکومت کو تعلیمی اداروں کی فیس میں کمی ، کلاس رومز کی حالت زار بہتر بنانے اور کراچی میں ایک عدد یونیورسٹی کا قیام شامل تھے۔

ان مطالبات کے حق میں "ڈیمانڈ ڈے” ریلی بھی کراچی میں نکالی گئی لیکن اس ریلی پر پولیس نے حملہ کر دیا۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور چھ طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بہر حال حکومت نے بالآخر کراچی میں یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا لیکن اس نے ڈی ایس ایف پر ہمیشہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی جانب سے پشت پناہی کا الزام لگایا۔ 1954 میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی اور ڈی ایس ایف دونوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

ڈی ایس ایف کا ایک رہنما 1954 میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کر رہا ہے۔

پولیس ڈی ایس ایف کی احتجاجی ریلی پر گولیاں برساتے ہوئے (1953)۔

ڈی ایس ایف کے ممبران 1953 میں گورنمنٹ کے نمائندوں کے ساتھ کراچی میں نئی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جکومت نے یہ مطالبہ مان لیا تھا۔ لیکن جلد ہی ڈی ایس ایف پر پابندی عائد کر دی تھی۔

2009 میں میں نے ڈان اخبار کیلئے ڈی ایس ایف کے بانی ممبر مرحوم ڈاکڑر محمد سرور کا انٹرویو کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس ایف کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی ذیلی تنظیم یا طلبہ تنظیم نہیں تھی۔ ڈاکٹر سرور کا مزید کہنا تھا کہ ڈی ایس ایف کے قیام کا مقصد محض حکومت کی توجہ طلبہ کے مختلف مسائلکو اجاگر کرنا تھا۔

ڈی ایس ایف پنجاب اور سندھ میں طلبہ کی چند بڑی تنظیموں میں سے ایک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ باقی بڑی طلبہ تنظیموں میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) کے دو دھڑے شامل تھے۔ ایم ایس ایف پاکستان کی بانی سیاسی تنظیم آل انڈیا مسلم لیگ کا طلبہ ونگ تھا۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد مسلم لیگ کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی اور اسی طرح اس کی طلبہ تنظیم ایم ایس ایف کے بھی مختلف دھڑے بن گئے۔ ایس ضیا عباس نے 1970 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب سٹوڈنٹس اینڈ دا نیشن (students and the nation)  میں لکھا تھاکہ ڈی ایس ایف کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کیلئے 1955 میں  اس وقت کی حکومت نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے قیام میں معاونت فراہم کی۔

عباس کے مطابق 1956 میں این ایس ایف میں ڈی ایس ایف کے سابقہ ممبران اور مارکسزم سے متاثر انقلاب پسند نوجوان طلبہ بھی شامل ہو گئے۔ اس طلبہ تنظیم کی ہئیت اس وقت مکمل تبدیل ہو گئی جب اس نے مصر میں سیز کے بحران کے دوران اسرائیل مخالف اور برطانیہ مخالف احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے ریلیاں نکالیں۔

1958 کے شروع تک این ایس ایف نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں طلبہ تنظیموں کے انتخابات جیتنا شروع کر دیے۔ اسی سال لیفٹسٹ تنظیموں اور این ایس ایف کی طلبہ سیاست میں کامیابیوں سے فکرمند ہو کر جماعت اسلامی نے اپنے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کو طلبہ کی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ این ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبہ مغربی پاکستان کی دو سب سے بڑی طلبہ کی نمائندہ جماعتیں بن گئیں۔

این ایس ایف کا اثر و رسوخ کراچی اور پنجاب کے مختلف کالجز پر قائم ہو گیا جبکہ جماعت اسلامی نے اپنا رسوخ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور کراچی میں تعمیر شدہ نئی یونیورسٹی جامعہ کراچی پر مضبوط کر لیا۔ مشرقی پاکستان طلبہ ونگ (East Pakistan Students Wing) اور بنگالی قوم پرست جماعت عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی طلبہ جماعتوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ  نے اردو بولنے والی مہاجر برادری کے اس غلط اندازے کا بھی خوب فائدہ اٹھایا جس کے مطابق مہاجر برادری یہ سمجھتی تھی کہ ایوب خان کی حکومت انہیں بیوروکریسی اور مجموعی معاشی نظام سے نکال باہر کرنے کی خواہاں ہے۔

1962 میں این ایس ایف نے لیفٹ ونگ کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی (ANP) سے قربت بڑھائی جو اس وقت ترقی پسند سندھی پشتون بلوچ اور بنگالی قوم پرستوں کی جماعت تھی۔ 1960 سے 1967 کے دوران طلبہ یونین کے انتخابات کے نتائج کبھی اسلامی جمعیت طلبہ اور کبھی این ایس ایف کے حق میں آتے رہے۔ 1965 اور 1966 کے دوران ایوب خان کی حکومت کا زوال شروع ہوا تو این ایس ایف نے ایوب خان سے متنفر ہو کر ان کے سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو سے قربت بڑھا لی۔

1967 میں این ایس ایف دو دھڑوں میں بٹ گئی جس کی وجہ نیشنل عوامی پارٹی کا خود دو دھڑوں میں تقسیم ہونا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی جو کہ پرو چائنہ دھڑا تھا اور نیشنل عوامی پارٹی ولی خان جو کہ پرو سویت یونین دھڑا تھا، ان کا قیام عمل میں آیا۔ این ایس ایف کا ایک بہت بڑا دھڑا جو کہ چین سے رغبت رکھتا تھا، بھٹو کے کی پیپلز پارٹی کے ساتھ  منسلک ہو گیا جبکہ روس سے نظریاتی قربت رکھنے والا این ایس ایف کا دھڑا ولی خان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی سے جا ملا۔

طلبہ کراچی کے ایک کالج میں 1964 کے طلبہ یونین کونسل کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے جمع ہیں۔

ذوالفقار بھٹو 1967 میں این ایس ایف کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں۔

مغربی پاکستان میں این ایس ایف اور مشرقی پاکستان میں ایسٹ پاکستان سٹوڈنٹس لیگ 1968 میں ایوب خان کے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک میں پیش پیش رہے۔

1968 طلبہ سیاست کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ مارک بورن نے اپنی 2013 میں شائع ہونے والی تصنیف (Student Resistance: History of an Unruly Subject) میں لکھا تھا کہ 1968 میں طلبہ احتاجی تحریکیں یورپ کے درجن سے زائد ممالک، امریکہ ،افریقہ اور ایشیا میں ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں۔ بارلیغ کے مطابق معاشی خوشحالی شہری مڈل کلاس میں اضافے کا باعث بنی لیکن یہ معاشی خوشحالی طبقاتی فرق کو کم کرنے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں بہت سے سماج کے طبقات میں سیاسی اور سماجی محرومی کا احساس پیدا ہوا۔ اس بات کا اثر طلبہ پر بھی پڑا اور طلبہ تننظیموں نے اپنے جلسے میں ان تحفظات کو دور کرنے کیلئے لیفٹیسٹ خیالات اور نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔

ایوب خان کو 1969 میں استعفا دے کر جانا پڑا اور 1970 میں پاکستان میں بالغ افراد کے حق رائے دہی استعمال کرنے کے حق کے ساتھ پہلی دفعہ عام انتخابات منعقد ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی نے مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی جبکہ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان سے کلین سویپ کیا۔ دسمبر 1971 میں خانہ جنگی کے بعد مشرقی پاکستان علحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔

ذوالفقار بھٹو نے بچے کھچے مغربی پاکستان میں حکومت قائم کر لی۔

امریکہ اور یورپ میں اپنی مقبولیت کے عروج پر پہنچنے کے بعد 1968 میں طلبہ کی سیاست بتدریج زوال پذیر ہونا شروع ہو گئی۔ 1973 کے تیل کے عالمی بحران کے بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران کے نتیجے میں بہت سی مغربی معیشتیں بحران کا شکار ہو گئیں۔ اس معاشی بحران نے طلبہ کی سیاست کا دائرہ کار محدود کر دیا کیونکہ ان حالات میں طلبہ کیلئے کسی قسم کی معاشی سرگرمی میں شریک ہوئے بنا اپنا معاشی بوجھ اٹھانا ناممکن ہو گیا تھا۔ سٹوڈنت ایکٹوزم میں کمی کے باعث بہت سی طلبہ تنظیمیں مایوسی کا شکار ہو گئیں۔ انہوں  نے بغاوت کا آغاز کیا اور انتشار پھیلانے والی مسلح تنظیموں کا روپ دھار لیا۔

لیفٹسٹ مسلح گروہ جیسے کہ اٹلی مین ریڈ بریگیڈ، جرمنی میں ریڈ آرمی فیکشن، جاپان میں ریڈ آرمی، فرانس میں ایکشن ڈائریسٹ، برطانیہ میں اینگری بریگیڈ اور شمالی امریکہ میں ویدر انڈر گراؤنڈ، ان تمام  گروہوں نے 1960 کی دہائی کے آخر میں منتشر ہونے والی طلبہ تنظیموں کی کوکھ سے ہی جنم لیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو چونکہ خود 60 کی دہائی میں طلبہ سیاست کو استعمال کر کے اپنا سیاسی فائدہ حاصل کر چکے تھے، اس لئے وہ طلبہ سیاست کی طاقت اور اس کے حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے تباہ کن اثرات سے واقف تھے۔

عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم ای پی ایس ایف ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایوب خان کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہے (1968)۔

این ایس ایف 1968 میں ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھٹو کے حق میں ریلی نکال رہی ہے۔

1968 میں ایشیا،یورپ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور امریکہ کے درجنوں ممالک میں طلبہ کے مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

بھٹو نے طلبہ تنظیموں اور سیاست کو نظم و نسق کا پابند بنانے کیلئے 1974 میں سٹوڈنٹ یونین آرڈیننس کا اجرا کیا جس کے مطابق سرکاری کالجوں اور جامعات کو سرکار کی دی گئی تاریخوں کے مطابق طلبہ یونین کے انتخابات کروانے کا پابند کر دیا گیا۔ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ جب باقی دنیا میں طلبہ سیاست ختم ہوتی جا رہی تھی پاکستان میں یہ جڑیں مضبوط کر رہی تھی اور اس میں جمہوری کلچر پروان چڑھ رہا تھا۔

1971 سے 1977 تک طلبہ یونین کےانتخابات باقاعدگی اور انتہائی اعلیٰ طریقہ کار کے تحت منعقد ہوتے رہے۔ ان انتخابات میں اصل مقابلہ اسلامی جمعیت طلبہ اور ترقی پسند اتحاد پر مبنی طلبہ تنظیموں کے مابین ہوتا تھا۔ ترقی پسند طلبہ تنظیموں میں این ایس ایف، پی ایس ایف، اور علاقائی و نسلی سیاست کرنے والی تنظیمیں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتونخوا سٹوڈنٹس فیڈریشن، سندھی طلبہ تنظیمیں، بریلوی جمعیت علمائے پاکستان کا طلبہ ونگ اےٹی آئی نمایاں تھے۔

لیکن 1977 کے مارشل لا کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔ ضیاالحق کی حکومت نے ترقی پسند گروہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جبکہ دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ کو فری ہینڈ دے دیا گیا اور 1979 تک اس جماعت نے اپنے آپ کو مسلح کر لیا۔ طلبہ تنظیموں میں مسلح ونگز نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی روس افغان جنگ میں مداخلت کی وجہ سے وطن عزیز میں اسلحے کی بھرمار ہو گئی۔

1971 سے 1977 کے درمیان تدریسی اداروں میں طلبہ تنظیموں کے مابین لڑائی جھگڑوں میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی رپورٹ موجود تھی۔ لیکن ضیا دور میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اورصرف 1980 سے 1983 کے دوران دو درجن سے زائد طلبہ نے ایسے واقعات میں اپنی جان گنوائی۔

طلبہ سیاست 70 کی دہائی میں یورپین ممالک میں زوال پذیر ہو گئی اور اس کے باعث لیفٹ ونگ کے مسلح گروہوں کا جنم ہوا۔

 

جامعہ کراچی میں 1972 میں منعقدہ طلبہ یونین کے انتخابات کے دوران این ایس ایف کی دو کارکنان۔

ین ایس ایف کا ایک دھڑا 1973 کے طلبہ یونین کے انتخابات میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایک کارنر میٹنگ کا انعقاد کرتے ہوئے۔

مہاجر قوم پرست طلبہ تحریک 1978 میں معرض وجود میں آئی۔

اسلامی جمعیت طلبہ 1979 کے طلبہ یونین کونسل کی انتخابی مہم چلا رہی ہے۔

بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد 1989 میں طلبہ کی سیاست پر عائد پابندی ختم کر دی۔ پنجاب کے تمام سرکاری کالجوں اور جامعات میں طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوئے۔ لیکن 1992 میں نواز شریف کے دور اقتدار میں سپریم کورٹ نے نواز حکومت کی درخواست پر طلبہ سیاست پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

یہ پابندی پی ایس ایف اور آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس فیڈریشن کے درمیان کراچی، اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور اسلامی جمعت طلبہ کے مابین لاہور میں خون ریز تصادم کے تناظر میں عائد کی گئی۔ یوں روایتی طلبہ سیاست بتدرج دم توڑتی چلی گئی۔ اس طرز کی طلبہ سیاست سرد جنگ کے دور کا استعارہ تھی۔ پاکستان میں سرکاری کالجوں اور جامعات میں گرتے ہوئے تعلیمی نظام اور نجی کالجوں اور جامعات کی مانگ میں اضافے نے بھی طلبہ سیاست کو زوال پذیر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نجی کالجوں اور جامعات نے کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت تو نہ دی لیکن طلبہ کے نئے گروہوں کو خوش آمدید کہا۔ یہ گروہ روایتی طلبہ سیاسی تنظیموں کی مانند کام نہیں کرتے۔ بلکہ یہ سیاست ترک کرنے کا اعلان کر کے طلبہ کو "اچھا مسلمان” بننے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ گروہ اپنے آپ کو درس اور تبلیغ دینے والا قرار دیتے ہیں۔ یہ خود ساختہ تبلیغی گروہ نجی تعلیمی اداروں میں اپنی جڑیں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کا ایجنڈا سیاست سے زیادہ سماجی معاشرت پر مبنی تھا۔

ان گروہوں کی تدریس کا محور "اچھا سماجی برتاؤ” تھا۔ لیکن 2013 کے بعد سے جب دہشتگردی کے اکثر واقعات کے تانے بانے پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس کے نوجوانوں سے ملنے لگے تو بہت سے مبصرین کا ماننا تھا کہ ایسا ان تبلیغی گروہوں کی وجہ سے ہوا جنہیں نجی تعلیمی اداروں نے اپنے کیپمسوں میں سرگرمیوں کی اجازت دی اور نتیجتاً بہت سے نوجوان طلبہ نے شدت پسند  گروہوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ ایسے افراد جو اس وقت روایتی طلبہ سیاست کو دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کا ماننا ہے کہ روایتی طلبہ سیاست کے دوبارہ شروع ہونے سے مڈل کلاس کے نوجوانوں کے شدت پسند گروہوں سے منسلک ہونے کے رجحان میں نمایاں کمی آئے گی۔


پاکستان کی قابل ذکر طلبہ تنظیمیں

ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف)

(ڈی ایس ایف)؛ قیام: 1950؛ پابندی: 1954؛ تشکیل نو: 1977؛ نظریات: مارکسسٹ؛ وابستگی: کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (1950-1954)؛ مسلح ونگ: ریڈ گارڈز (غیر فعال)؛ دھڑے: کوئی نہیں؛ مقبولیت کا عرصہ: 1950 سے 1954؛ عصر حاضر میں: غیر فعال

مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف)

قیام: 1937؛ نظریات و منشور: مسلم قومیت پرستی (1937 سے 1966)، دائیں بازو کی سیاست (70 کی دہائی)، اسلامی سیاست (1985 سے 1987)، مرکزیت (2001 سے تاحال)؛ وابستگی: آل انڈیا مسلم لیگ (1937 سے 1947)، مسلم لیگ ( 1948 سے 1968)، فنکشنل مسلم لیگ (70 کی دہائی)، پاکستان مسلم لیگ (1985 سے 1992)، پاکستان مسلم لیگ نواز (1993 سے 2002)، پاکستان مسلم لیگ قائد (2002 سے 2007)، پاکستان مسلم لیگ نواز ( 2008 سے تاحال)؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں۔ البتہ 90 کی دہائی کے آغاز میں ایم ایس ایف اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف مسلح جھڑپوں میں شریک رہی؛ مقبولیت کا عرصہ: 1937 سے 1948 اور 1990 سے 1998؛ دھڑے: جناح مسلم سٹودنٹس فیڈریشن (1949 سے 1956)؛ عصر حاضر میں: فعال

نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف)

قیام: 1955؛ نظریات: سوشلسٹ/ترقی پسند؛ وابستگی: نیشنل عوامی پارٹی (1960 سے 1967)، پاکستان پیپلز پارٹی (1967 سے 1972)، مزدور کسان پارٹی (1974 سے 1980)، عوامی ورکرز پارٹی (2012 سے تاحال)، مسلح ونگ: مزدور کسان پارٹی (غیر فعال)؛ مقبولیت کا عرصہ: 1960 سے 1973؛ دھڑے: این ایس ایف راشد (غیر فعال)، این ایس ایف کاظمی (غیر فعال)، این ایس ایف باری (غیر فعال)، این ایس ایف معراج (غیر فعال)، این ایس ایف سندھ (غیر فعال) عصر حاضر میں: رسمی طور پر فعال

اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی)

تشکیل: 1947؛ نظریات: مذہبی؛ سیاسی وابستگی: جماعت اسلامی؛ مسلح ونگ: تھنڈر سکواڈ (غیر فعال)، خدا کے شیر (غیر فعال)؛ مقبولیت کا عرصہ: (1969 سے 1981)، دھڑے: پاسبان (1992)؛ عصر حاضر: فعال

پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف)

قیام: 1972؛ نظریات: بائیں بازو کے لبرل، ترقی پسند؛ وابستگی: پاکستان پیپلز پارٹی؛ مسلح ونگ: پی ایس ایف ٹیپو (غیر فعال)؛ مقبولیت کا عرصہ: 1976 سے 1993؛ دھڑے: پی ایس ایف – شہید بھٹو؛ عصر حاضر: فعال

انجمن طلبہ اسلامی (اے ٹی آئی)

تشکیل: 1969؛ نظریات: مذہبی (سنی بریلوی)؛ وابستگی: جمعیت علمائے پاکستان (1969 سے 1985)؛ تحریک لبیک؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں؛ مقبولیت کا عرصہ: 1974 سے 1985؛ دھڑے: کوئی نہیں؛ عصر حاضر: فعال

انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشبن (آئی ایس ایف)

تشکیل: 1997؛ نظریات: دائیں بازو کا سیاسی رجحان؛ وابستگی: پاکستان تحریک انصاف؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں؛ مقبولیت کا عرصہ: 2011 سے 2017؛ عصر حاضر: فعال

امامیہ سٹوڈنٹس آدگنائزیشن (آئی ایس او)

تشکیل: 1972؛ نظریات: شیعہ مذہب؛ وابستگی: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ (1974 سے 2002)؛ مجلس وحدت المسلمین؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں؛ مقبولیت کا عرصہ: 1980 سے 1999؛ دھڑے: کوئی نہیں؛ عصر حاضر: فعال

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او)

تشکیل: 1968؛ نظریات: بلوچ قوم پرست، ترقی پسند؛ سیاسی وابستگی: نیشنل عوامی پارٹی (1968 سے 1975)، بلوچستان نیشنل موومنٹ (1988 سے 1990)، بلوچستان نیشنل پارٹی (1993 سے نامعلوم مدت)، نیشنل پارٹی (2013)؛ مسلح ونگ: بی ایس او – آزاد، بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچستان رپبلیکن آرمی؛ مقبولیت کا عرصہ: 1969 سے 1975، 1988 سے 1991، 2003 سے 2013

آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن

تشکیل: 1978؛ نظریات: مہاجر قوم پرست/ترقی پسند؛ وابستگی: متحدہ قومی موومنٹ؛ عرصہ مقبولیت: 1988 سے 2008؛ دھڑے: کوئی نہیں؛ عصر حاضر: فعال

پختون سٹوڈنٹس فیڈیشن (پی کے ایس ایف)

تشکیل: 1969؛ نظریات: پشتون قوم پرست؛ وابستگی: نیشنل عوامی پارٹی (1969 سے1977)، عوامی نیشنل پارٹی؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں؛ دھڑے: نہیں؛ عصر حاضر: فعال

جئیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے ایس ایس ایف)

تشکیل: 1973؛ نظریات: سندھی قوم پرست؛ وابستگی: جئیے سندھ پارٹی؛ مسلح ونگ: کوئی نہیں، لیکن جے ایس ایس ایف پر تشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے؛ دھڑے: جئیے سندھ ترقی پسند سٹوڈنٹس؛ عصر حاضر: فعال

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *