Type to search

انسانی حقوق انصاف تجزیہ فيچرڈ مذہب

آسیہ کے گستاخ ثابت نہ ہونے سے عقائد کے سوداگر سیخ پا کیوں؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ نورین کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بے گناہ قرار دے دیا۔ آسیہ نورین جسے آسیہ بی بی کے نام سے جانا جاتا ہے گذشتہ نو برس سے آٹھ بائی دس کی جیل کی کوٹھڑی میں ایک ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہی تھی۔ آسیہ بی بی پر توہین کا الزام کسی بھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا تھا لیکن سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے محض ایک زبردستی لیے گئے بیان کی بنیاد پر آسیہ کو مجرم قرار دیا تھا۔

آسیہ بی بی پر لگنے والا الزام

آسیہ بی بی نے اپنی ایک ساتھی کام کرنے والی خاتون کے برتن سے پانی پی لیا تھا جس کو لے کر اس کا اپنی دو مسلمان دوستوں سے جھگڑا ہوا۔ ان دو مسلمان خواتین نے علاقے کے ایک مولوی کے تعاون سے آسیہ پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگایا اور آسیہ اس کے بعد پورے ملک میں ایک گالی بنا کر رکھ دی گئی۔ نو برس کی قید کاٹنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ سے اسے ریلیف ملا اور بلاشبہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابل تحسین قرار دیا جا سکتا ہے۔

آسیہ خوش قسمت ہے کہ زندہ بچ گئی

البتہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے آسیہ پر جھوٹا الزام لگایا ان کو سزا کون دے گا؟ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ جج جنہوں نے بنا شواہد کے آسیہ بی بی کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی ان کا احتساب کون کرے گا؟ اور سب سے بڑھ کر آسیہ بی بی کی زندگی کے نو سال جو اس نے زنداں کی سلاخوں کے پیچھے بتائے انہیں کون واپس لوٹائے گا؟ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر جنہیں آسیہ بی بی کے حق میں آواز بلند کرنے پر قتل کیا گیا تھا ان کی زندگی کو کون واپس لوٹائے گا؟ آسیہ بی بی کی خیر شکر ہے کہ جان بچ گئی وگرنہ ہمارے سماج میں محض توہین کا الزام ہی کسی بھی شخص کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مروانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔

آسیہ بی بی کے بریت کے فیصلے پر تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتیں سڑکوں پر

آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد مولوی خادم حسین رضوی اور دیگر شدت پسند مذہبی جماعتوں نے ملک کے تمام بڑے شہروں کو ایک طرح سے بند کر دیا اور ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے لاہور، راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر شہروں میں گشت کرتے نظر آئے۔ ان حضرات کا مطالبہ ہے کہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دینے کا عدالتی فیصلہ واپس لیا جائے اور فیصلہ سنانے والے ججوں کو ملازمت سے برخاست کیا جائے۔ مولوی خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری نے تو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور دیگر جرنیلوں کو قادیانی نواز قرار دیتے ہوئے فوج سے ان کے خلاف بغاوت کا مطالبہ بھی کر دیا۔

آسیہ نورین اب کبھی اپنے وطن میں نہیں جی پائے گی

مذہبی بنیادوں پر عوام کو مشتعل کرنے اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی  اور فوج کو بغاوت کی ترغیب دینے کے باوجود ان شدت پسندوں کو قانون کی گرفت میں نہ لا پانا انتہائی حیران کن  امر ہے۔ آسیہ بی بی عدالت سے بے گناہ قرار دیے جانے کے باوجود اب وطن عزیز میں باقی ماندہ زندگی نہیں گزار پائے گی کہ کوئی بھی مذہبی جنونی مشتعل ہو کر اس کی جان لے سکتا ہے۔ ہمارے وطن میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی حقائق کو جانے بنا آسیہ کو توہین رسالت کا مجرم سمجھتی ہے اور عدالتی فیصلے کو بیرونی دنیا کے دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ مذہب کو لے کر ہمارے ہاں ایک عجیب منافقت پائی جاتی ہے۔

یہ قانون ہمیں لڑوانے کے لئے لایا گیا

دراصل ہمارا سماجی ڈھانچہ جن بنیادوں پر کھڑا ہے وہ کمزور اور منافقت پر مبنی ہیں۔ توہین مذہب کا قانون 1860 میں گوروں نے برصغیر میں مذہبی اشتعال پھیلا کر مقامی آبادی کو ایک دوسرے سے لڑوانے کیلئے بنایا تھا۔ یہ قانون آج بھی پاکستان پینل کوڈ کا حصہ ہے اور 295-C کہلاتا ہے۔ ضیاالحق نے آرڈیننسوں کا اجرا کر کے اس قانون میں مزید ترامیم کر کے اسے اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے استحصال کیلئے ایک خطرناک ہتھیار بنا ڈالا۔

ہمارا سماج اقلیتوں اور کمزور طبقات کو اپنے عقائد پر عمل کی اجازت نہیں دیتا

ترقی یافتہ اور مہذب سماج اپنے باشندوں کو یکساں مواقع فراہم کرتے ہوئے انہیں آزادی رائے اور آزادی مذہب کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسے سماجوں میں ریاست کا سماج میں بسنے والے باشندوں کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارا سماج اقلیتوں اور کمزور طبقات کو اپنے عقائد پر عمل کی اجازت نہیں دیتا اور ریاست خود مذہبی معاملات پر اثر انداز ہوتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر شہریوں میں تفریق کرتی ہے۔ یعنی سماج میں عقائد کی بنیاد پر نفرتوں کے بیج بو کر شدت پسندی کو ایک طرح سے فروغ دیا جاتا ہے۔

مسیحی آج بھی اس ملک میں تیسرے درجے کے شہری مانے جاتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ توہین مذہب کے  اکثر و بیشتر الزامات یا تو ذاتی عناد اور رنجشوں کے باعث لگائے جاتے ہیں یا پھر کسی کے عقیدے اور اس کے مسلک سے نفرت کی بنیاد پر۔ آسیہ بی بی چونکہ مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہے اس لئے ہمارے معاشرے میں وہ تیسرے درجے کی شہری ہے جس کے برتنوں کو ہاتھ  لگانے سے بھی  ہمارے برتن ناپاک ہو جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر لنڈے بازار سے مسیحیوں کے پرانے دان کیے کپڑے پہنتے ہوئے ہمارا ایمان خطرے میں نہیں پڑتا اور نہ ہی ہم ناپاک ہوتے ہیں۔ مسیحیوں سے شراب منگوا کر پینے سے بھی ایمان کمزور نہیں ہوتا اور نہ ہی عیسائیوں کے دیسوں میں جا کر ان سے گھل مل کر اور ساتھ کھا پی کر ہمارا ایمان کمزور ہوتا ہے یا ہمیں ناپاکی کا احساس ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھے بغیر ہی تنقید کی جا رہی ہے

منافقت اور مذہبی جنونیت کی یہ فرسودہ سوچ اس قدر پختہ ہے کہ اکثر افراد نے سپریم کورٹ کا 56 صفحات پر مبنی تفضیلی فیصلہ پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی جس میں واضح طور پر درج ہے کہ استغاثہ آسیہ بی بی کے خلاف اپنا مقدمہ بلاشک وشبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، تمام گواہان، شواہد، حقائق اور بیانات تضادات سے بھرپور ثابت ہوئے۔ اس فیصلے میں یہ بھی تحریر ہے کہ الزام لگانے والوں نے سچ کو بالائے طاق رکھا، اللہ تعالیٰ کے احکامات، رسولؐ پاک کی احادیث اور قرآن پاک کی تعلیمات کو نظر انداز کیا گیا۔

اس فیصلے کے  بعد بھی کوئی بہکاوے میں آئے تو اسے دماغی معالج کی ضرورت ہے

اس قدر واضح فیصلے کے بعد بھی اگر کوئی عقائد کے سوداگروں کے بہکاوے میں آ کر اس فیصلے کے خلاف اپنے ہی شہروں میں آگ لگاتا ہے اور توڑ پھوڑ کرتا ہے تو اسے کسی اچھے دماغی معالج کی اشد ضرورت ہے جو کہ اس کے اندر کی شدت پسند سپلٹ پرسنالٹی ڈس آرڈر شخصیت کا علاج کر سکے۔ عقائد کے سوداگروں کا اس فیصلے پر شور مچانا تو بنتا ہے کیونکہ اس فیصلے کی رو سے آسیہ بی بی توہین رسالت کی مرتکب نہیں اور جب آسیہ بے گناہ ہے تو سلمان تاثیر جو آسیہ کی حمایت میں بولے تھے وہ بھی بے گناہ اور سچے ٹھہرے جبکہ ان کا قاتل ممتاز قادری ایک مجرم اور پراپیگینڈے کا شکار انسان ثابت ہوا۔ اب ممتاز قادری کی قبر سے اور اس کے نام پر سالانہ لاکھوں کروڑوں بطور چندہ و خیرات ہضم کرنے والے عقائد کے سوداگر کیونکر اس سچ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی روزی روٹی پر لات ماریں گے؟

کیا اسلام صرف جہاد تک ہی محدود ہے؟

البتہ اشتعال میں آنے سے پہلے عام افراد کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اسلام محض توہین مذہب یا جہاد تک ہی محدود ہے؟ کیا اسلام سچ بولنے، بے ایمانی اور ملاوٹ نہ کرنے، دوسروں سے حسن اخلاق سے پیش آنے اور امن و محبت پھیلانے کے احکامات نہیں دیتا؟ محض اپنی ذاتی فرسٹریشن یا شدت پسندی کے رجحان کی تسکین کیلئے مذہب کو استعمال کر کے کاٹ دو، مار دو کے نعرے لگا کر نہ تو مذہب کی کوئی خدمت ہوتی ہے اور نہ ہی وطن کی۔

آسیہ بی بی خوش نصیب ہے جسے بہر طور اعلیٰ عدلیہ کے انصاف پر مبنی فیصلے کے باعث انصاف مل گیا لیکن وطن عزیز میں بیشمار افراد ابھی بھی توہین مذہب کے جھوٹے الزامات میں جیلوں میں قید ہیں۔ جبکہ اکثر افراد مشعال خان کی مانند جنونیوں کے ہاتھوں محض الزام لگنے ہر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

توہین مذہب کے اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف ریاست کو اب اس بارے میں قانون سازی کی اشد ضرورت ہے تاکہ کوئی اور آسیہ زندگی کے قیمتی سال ناکردہ جرم کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے نہ گزارے اور مستقبل میں  کوئی اور سلمان تاثیر یا مشعال خان مذہبی جنونیوں اور بلوائیوں کے ہاتھوں بے گناہ قتل نہ ہونے پائیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *