Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ مذہب

آگ تو شاید بجھ جائے، جلے ہوئے پل دوبارہ کون تعمیر کرے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست کی توجہ کا محور فقط تحریک لبیک ہے اور معتدل اور نوجوان طبقات جو کہ مستقل بنیادوں پر امن لانے کا باعث بن سکتے ہیں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے آسیہ بی بی کی بریت سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کی کمزور کوششوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شدت پسندوں کے مطالبات کے سامنے جھک جانا ہماری حکومت کی ایک اور ناکامی ہے۔ حکومت اس سرینڈر کو “آگ بجھانے کی کوشش” قرار دے کر فیس سیونگ حاصل کر رہی ہے جیسا کہ وزیر اطلاعات نے کہا بھی لیکن یہ دراصل فیس سیونگ اور کارپٹ کے نیچے گند جمع کرنے کے مترادف ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے ہم سب اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ آگ قالین کے نیچے نہیں چھپائی جا سکتی۔ جس حقیقت سے ہم آشنا نہیں ہیں وہ اس واقعے کے مستقبل میں اثر انداز ہونے والے مضمرات ہیں۔ اور اگر ہم واقف بھی ہیں تو کم سے کم اس بحث میں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے وہ بااثر دلچسپی ہی نہیں رکھتے جن کا کام اس طرح کے واقعات کو روکنا ہوتا ہے۔

معاشرے میں دو طبقات ایسے ہیں جنہیں متوجہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پہلا طبقہ معتدل مزاجوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا طبقہ مستقبل کی نسل ہے۔ لیکن ان دونوں طبقوں کیلئے آثار اچھے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔

معتدل مزاج افراد پر مشتمل طبقہ

اس وقت زیادرہ تر مباحث کا مرکز مذہبی بنیاد پرستوں اور ترقی پسند لبرل ہیں۔ جبکہ ایسے افراد کی جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ معقولیت کی آواز سمجھے جاتے ہیں اور کم از کم دونوں اطراف (لبرل اور مذہبی بنیاد پرستوں) میں ایک اچھی ساکھ رکھتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے حکومت کے شدت پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی وجہ سے مسئلہ یہ پیدا ہوا ہے کہ اس کے باعث ان افراد کو شہ ملی جو کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں چاہتے تھے جبکہ وہ افراد جو کہ ایک درمیانہ راستہ نکالنے کے حامی تھے وہ اکیلے چھوڑ دیے گئے۔ اگر بریلوی مکتبہ فکر کی جانب سے درمیانی راستے کا انتخاب کیا جاتا تو افضل قادری اور خادم رضوی کے بجائے جامعہ نعیمیہ کے مفتی راغب نعیمی اور رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمٰن اس تحریک کے راہنما قرار پاتے۔ مفتی راغب نعیمی اور مفتی منیب الرحمن دونوں نے ہی ہمیشہ سے پرتشدد بنیاد پرستی کے خلاف ٹھوس مؤقف اپنایا ہے اور یہ دونوں مذہبی رائٹ ونگ کے شدت پسندی کے بیانئے کے مقابلے میں پرامن بیانئے تیار کرنے اور انہیں پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں۔

البتہ آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر یہ دونوں افراد بھی طیش میں آ گئے۔ مفتی منیب الرحمن نے فیصلے کو “پاکستان کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین فیصلہ قرار دیا” جبکہ مفتی نعیمی نے ایک وڈیو پیغام کے ذریعے مظاہرین کی حمایت کا پیغام دیا اور وزیراعظم کے مظاہرین مخالف بیان کو ایک حساس صورتحال میں جذبات کو مزید مشتعل بنانے والا بیان قرار دیتے ہوئے عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

گو یہ کوئ بہت بڑا سرپرائز نہیں ہے لیکن جہاں یہ سوچنا درست نہیں ہے کہ ان دونوں افراد کا مؤقف ماضی میں اس سے مختلف رہا ہو گا وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان دونوں ضرات کا مؤقف اس قدر طیش پر مبنی نہ ہوتا اگر یہ تحریک لبیک کے قائم کردہ جذباتی اور پراشتعال فضا سے ہٹ کر پیش کیا جاتا۔ اس خطرے کے نشانات پچھلے سال ہی نمودار ہو گئے تھے جب مفتی راغب نعیمی کے مدرسے جامعہ نعیمیہ جو کہ معتدل مزاج مذہبی سوچ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آتا اور لبیک یا رسول اللہ کے نعرے بلند نہ ہوتے۔ گو مدرسے کی انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک سازش قرار دیا تھا لیکن اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ مذہبی رائٹ ونگ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مایوسی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ مذہبی معتدل مزاجوں نے کچھ خاص حاصل نہیں کیا اور سیاسی اور سماجی سطح پر اپنا تسلط اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کیلئے مزید شدت پسندانہ حربے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

خادم حسین رضوی کی آمد

ہماری حکومتوں کے بارہا گھٹنے ٹیکنے کی بدولت شدت پسند سماج کو یہ پیغام اور تاثر دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ صرف بدمعاشی، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور بدزبانی کی بدولت ہی آپ کی آواز ارباب اقتدار تک پہنچ پاتی ہے۔ ممتاز قادری کی پھانسی کی وجہ سے جو غصہ عوام میں پیدا ہوا شاید اس نے مسلم لیگ نواز کو سیاسی میدان میں سخت نقصان پہنچایا اور مرکزی پنجاب سے اس کی گرفت کمزور کرنے کا باعث بھی بنا۔ لیکن اس جذبے پر شدت پسندوں کے غلبے نے معتدل مزاج طبقے کو بھی غیر مؤثر بنا ڈالا۔ اس کے نتیجے میں معتدل طبقے کی معاشرے میں پنپ پانے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

ایک ایسا طبقہ جو ہمارے وطن کو تشدد پر مبنی مذہبی شدت پسندی سے بچانے کا کام سرانجام دے رہا ہے اس کے باعث کم سے کم ایک مکمل نسل پروان چڑھنے تک غیر مؤثر اور ناپید ہو جائے گا۔ اور ہم یہ سہہ پانے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

اور یہ نقطہ ہماری توجہ دوسرے حصے کی جانب مبذول کرواتا ہے :

اگلی نسل

تحریک لبیک کی مرکزی قیادت خود تو معمر افراد پر مشتمل ہے لیکن اس کے سپورٹر نوجوان ہیں، جو گرم خون اور گرم مزاج کے حامل ہیں اور کسی بھی قسم کی گڑبڑ مچانے سے نہیں گھبراتے۔ یہ نوجوان دوسروں پر الزامات لگاتے ہوئے نہیں ڈرتے چاہے ان کا عائد کردہ الزام عقل و دانش کے بالکل ہی منافی کیوں نہ ہو۔ اور ان کو عسکریت پسندی کی جانب مائل کر کے ان کی سوچ کو دہرے پن کا حامل بنایا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک اگر آپ تحریل لبیک کے سپورٹر ہیں تو ٹھیک وگرنہ آپ ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف ہیں۔ کسی بھی قسم کا اختلاف ان لوگوں کی نظروں میں توہین رسالت کے مجرموں کی حمایت کرنا ہے اور یہ سوچ ان نوجوانوں کو توہین مذہب کے گناہ گاروں کی مانند ایک مجرم بنا دیتی ہے۔

مستقبل میں مزید خطرات کے اشارے سامنے نظر آ رہے ہیں کیونکہ تحریک لبیک کے مظاہروں میں شمولیت کرنے والے افراد میں نوجوانوں کی شمولیت بڑھتی جا رہی ہے اور انہیں مزید مذہبی بنیاد پرستی کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔ نوعمر لڑکوں کے ایسے سوشل میڈیا وڈیو کلپس سامنے آئے ہیں جن میں وہ تحریک لبیک کے نعرے لگاتے ہوئے جوش و خروش سے مظاہروں میں شامل دکھائی دے رہے ہیں۔ جبکہ ایک وڈیو میں نوعمر لڑکوں پر مشتمل ایک گروہ آسیہ بی بی کو علامتی پھانسی دینے کے اظہار کے طور پر پلاسٹک کی ایک گڑیا (جس پر لفظ آسیہ درج ہے) کو پھانسی دیتا ہے اور لبیک یا رسول اللہ کے نعرے مارتے دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سوچنا بیحد آسان ہے کہ ایسے واقعات شاذر و نادر ہی رونما ہوتے ہیں یا بچوں کا ایسے کھیلنا بنیاد پرستی یا شدت پسندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عورت کو پھانسی دینے کا علامتی عمل بچوں کے کھیل کے زمرے میں آتا ہے؟ اور یہ کہ بچوں کو کیسے پتہ چلا کہ کسی کو پھانسی دینے کیلئے اس کی گردن کے گرد محض پھندہ ہی نہیں باندھا جاتا بلکہ اسے نیچے دھکیل کر اس پھندے پر لٹکایا بھی جاتا ہے؟

واضح طور پر انہوں نے یہ معلومات خود حاصل نہیں کیں بلکہ کسی شخص نے ان بچوں کو یہ معلومات فراہم کیں جس کے نزدیک بچوں کو اس طرح کی تربیت دینا ہرگز بھی معیوب فعل نہیں ہے۔ بنیاد پرستی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی موجودگی کے ثبوت اس وقت تک نہیں ملتے جب تک کہ اس کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو جائے۔ البتہ کچھ علامتوں کو بنیاد پرستی اور شدت پسندی کی ابتدائی نشانیاں سمجھ کر ان کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ ناخوشگوار وڈیو بھی ایسے ہی ایک خطرے کی جانب واضح اشارہ ہے۔ اس مسئلے کا ہمارے مستقبل پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک ایسا سماج تیار ہو سکتا ہے جہاں بچوں کو شدت پسندی اور عسکریت کی جانب مائل کر کے ان کے دماغوں میں باقی ماندہ دنیا کے بارے میں یہ سوچ بٹھا دی جائے کہ ہمارا مقابلہ پوری دنیا سے ہے۔ اس عمل کو روکنے کیلئے نفرت کی جانب راغب کرنے اور تشدد پر مائل کرنے والے نظریات اور تعلیمات کی حوصلہ شکنی کی بیجد ضرورت ہے۔

ایک شدت پسند جماعت یا تحریک کو منظم کرنا علیحدہ بات ہے، لیکن جب نظریات عوام الناس تک پہنچ جاتے ہیں تو کوئی بھی کسی بھی وقت اپنے گھر میں موجود رہنے کے باوجود شدت پسند بن سکتا ہے اور نتیجتاً کسی بھی لمحے بندوق اٹھا کر کسی کا بھی قتل کر سکتا ہے۔ اور جب آپ ریاست کے نمائندوں کو واجب القتل قرار دیتے ہوئے ان کے نوکروں، گارڈز، ڈرائیوروں اور ان کی حفاظت پر معمور اہلکاروں کو ان کے قتل پر اکسا رہے ہیں تو دراصل آپ ایک عام آدمی کو مشتعل کر کے اس سے ممتاز قادری جیسے دہشت گردانہ عمل کی توقع کر رہے ہیں۔ اس قسم کا تشدد یا دہشت گردی سب سے خطرناک ہوتی ہے کیونکہ نہ تو اس کے بارے میں اندازے لگائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو اچانک رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ اس ماحول کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خطرہ ہے جہاں محض تشدد کو ہی مقاصد کے حصول کا زریعہ جانا جاتا ہے اور اس کے تباہ کن اثرات سے چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے۔

سابق وفاقی وزیر احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ اس تناظر میں ایک واضح مثال ہے۔ اس واقعے کو تحریک لبیک کے دھرنوں اور ان کے رہنماؤں کے داغے گئے بیانات کے نتیجے کا شاخسانہ قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ تحریک لبیک اس بنیادی نکتے کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ سیاسی حکمت عملی کے طور مخالفین کے خلاف محض پوائنٹ سکورنگ کیلئے شدت پسندی کا پرچار محض پوائنٹ سکورنگ تک ہی محدود نہیں رہتا۔ جب آپ مذہبی شدت پسندی کا پرچار کرتے ہیں تو پھر اس کے نتیجے پر آپ کا اختیار نہیں رہتا۔ ہماری اگلی نسل محض اس پرتشدد رویے کے آگے ایکسپوزڈ نہیں ہے بلکہ اب یہ ذاتی طور پر مذہبی بنیادوں پر مبنی تشدد کا پرچار کرنے میں مگن ہے۔ یہ نسل سیکھ رہی ہے کہ آپ قتل کر کے بھی بچ سکتے ہیں اگر قتل کا جواز پیش کیا جا سکے۔ یہ نسل یہ بات بھی سیکھ رہی ہے کہ اگر آپ کسی بدترین پرتشدد کارروائی میں ملوث ہیں یا لوگوں کو اس کیلئے اکساتے ہیں تو ریاست آپ کے سامنے جھک جائے گی اور آپ کے مطالبات تسلیم کر لے گی۔

نوجوان اور مذہبی معتدل طبقے دونوں شدت پسندی سے پاک مستقبل کیلئے انتہائی اہم ہیں جو کہ اس پولرائزیشن کو کم کرنے کیلئے ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں جو ہماری قوم کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن یہ ہمارے بیانیوں سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ توجہ محض گرفتاریوں اور احتجاجوں پر مرکوز ہے۔ سارے کی ساری توجہ کا محور تحریک لبیک، تحریک انصاف، چیف جسٹس یا چیف آف آرمی سٹاف کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ افراد اور جماعتیں آتے جاتے رہیں گے لیکن تشدد پر مبنی اس رجحان کو روکنے کیلئے اس جڑ کو کاٹنا بیحد ضروری ہے جو نوجوان اور معتدل مزاج افراد کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے۔ یہ قدم اٹھائے بنا ہم اگلی دہائیاں محض “آگ بجھانے” میں ہی صرف کر دیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ پل جل جاتے ہیں تو ان کے دوبارہ ٹھیک ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوا کرتی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *