Type to search

سیاست فيچرڈ فیچر

عمران خان کہتے ہیں یوٹرن لینا لیڈر کی نشانی ہے۔ جواب میں لوگ کیا کہتے ہیں؟

جمعہ 16 نومبر کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یوٹرن لینا نہیں جانتا، وہ لیڈر ہی نہیں ہو سکتا۔ اپنی اس بات میں غالباً وزن پیدا کرنے کے لئے انہوں نے مثال دی کہ ہٹلر اور نیپولین اگر یوٹرن لے لیتے، تو مارے نہ جاتے اور ان کی قوموں کو بڑی ہزیمت بھی اٹھانی نہ پڑتی۔

واضح رہے کہ عمران خان صاحب پر ان کے ناقدین اکثر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ یوٹرن کے ماہر ہیں اور اپنی بات پر قائم نہیں رہتے۔ اس کے لئے بیشتر اوقات ان کے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے بیانات کا حکومت میں ہوتے ہوئے بیانات سے تقابل بھی کیا جاتا ہے۔

تاہم عمران خان کی اس عجیب غریب منطق نے ان کے مخالفین کو بھی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ان پر مزید جملے کس سکیں۔

چند سیاسی کارکنان اور صحافیوں کی Twitter اور Facebook پوسٹس میں کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دیا۔

مثلاً محمد معاویہ نامی ایک صارف نے عمران خان کے بیان کا قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ایک بیان سے تقبال کیا۔

انجینییئر محمد معاویہ کی طرح، جناحؒ کے یہی الفاظ مختلف لوگوں نے ٹویٹ کیے۔ جس پر لکھاری نور الہدیٰ شاہ نے لکھا کہ کیا قائد اعظم کو بھی یوٹرن لے لینا چاہئے تھا؟

بہت سے لوگوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اب عمران خان کے حامی ان کی اس بات کا دفاع کرنے کے لئے عجیب و غریب تاویلیں کریں گے۔ ایسا ہی ہوا بھی، جب پی ٹی آئی کے ایم این اے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے یوٹرن کے فضائل بیان کرتے ہوئے لکھا کہ یوٹرن سے مراد رجوع ہے اور یہ لینا چاہیے۔

عمار مسعود نے کہا کہ یوٹرن کے بیان کے بعد سے پی ٹی آئی نے اس کے حق میں اتنے دلائل دیے ہیں کہ اب جن لوگوں نے اپنے خیالات پر یوٹرن نہیں لیا، وہ خود کو مجرم سا سمجھ رہے ہیں۔

صحافی مطیع اللہ جان نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ، اسلام میں بھی چار یوٹرنز کی اجازت ہے۔

دوسری جانب ایسے حمایتی بھی تھے، جن کو عمران خان کی اس بات نے پریشان کر رکھا تھا۔

خرم حسین نے نیپولین اور ہٹلر والی بات کے جواب میں ٹوئیٹ کی کہ جولیس سیزر بھی ایک عظیم لیڈر تھا اور اس نے یوٹرن نہیں لیا تھا۔

کچھ عرصہ قبل، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ایک جلسے سے تقریر کے دوران عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں جہاں پنجاب میں سڑکوں پر یوٹرن کے نشان ہیں، وہاں عمران خان کی تصویر لگا دی جانی چاہیے۔ کسی منچلے کو شاید یہی بات یاد آئی ہوگی کہ اس نے یوٹرن کے نشان کے ساتھ لیڈر لکھ کر تصویر فوٹو شاپ کر ڈالی۔

ایک صاحب کا کہنا تھا کہ وہ گھر والوں کے ساتھ شاپنگ پر جا رہے ہیں اور دل میں سوچ رہے ہیں کہ یوٹرن لے لیں ورنہ کہیں نیپولین اور ہٹلر جیسے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑ جائے۔

فلمساز و اداکار عاشر عظیم سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ کی حکمتِ عملی غلط ثابت ہو جائے تو یوٹرن لینے کے علاوہ کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ جس پر عاشر نے جواب دیا، کہ اپنی ذمہ داری کو قبول کیا جانا چاہیے، جاپانی انداز میں۔

ملک عمید نے Facebook پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر سمرن، راج کے کہنے پر یوٹرن نہ لیتی تو فلم نہ بن پاتی۔

صولت پاشا کا کہنا تھا کہ اگر فرعون بھی یوٹرن لے لیتا تو سمندر میں غرق نہ ہوتا۔

ظفر عمران کا کہنا تھا کہ۔۔۔

مگر سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ غلط بات کو دین اور تاریخ سے صحیح نہیں کیا جا سکتا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *