Type to search

عوام کی آواز فيچرڈ کلچر

’سرد جاڑوں کی شام ایک اور سہی‘، جب آتش جوان تھا

میرے دونوں پوڈ کاسٹ اورسارے مضامین سیاسی نوعیت کے تھے۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ دماغ کی سیاسی خشکی کو دور کرنے واسطے اور سامعین کی روحانی آسودگی کیلئے ان کی خدمت میں تھوڑی شاعری پیش کی جائے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بیچوں بیچ ایک باغیچہ ہے جس کو لوو گارڈن کہتے ہیں۔ اس باغیچے کے دامن میں پاکستان کے بڑے بڑے لوگوں کی نوجوانی کی محبتیں دفن ہیں۔ 1997 سے 1999 تک گورنمنٹ کالج لاہورمیں گزارے ہوئے زمانہ طالبعلمی میں ہم بھی لّو گارڈن نامی دربارِ محبت کے بنچ پر بیٹھ کر سستے سگریٹ کے کش لیتے ہوئے ان کہی اور یکطرفہ محبت کے غم میں آہیں بھرتے فیض کی غزل کا وہ شعر پڑھا کرتے تھے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے


تحریر کو مصنف کی اپنی آواز میں سنیے:


اور ساتھ ہی یار لوگ آوازے کستے تھے "کہ تینوں ابّے کولوں لتر پین والے، ہور گل کوئی نہیں (تجھے والد سے جوتیاں پڑنے والی ہیں، اور کوئی بات نہیں”۔ خیر ابّا جی کے لتروں کی تاثیر سے کچھ اُفاقہ نہ ہوا، الٹا لوو گارڈن کے عشق کا بھوت سر چڑھ کر بولنے لگا اور پھر خود بھی شاعری پر طبع آزمائی کی۔ جیسے پلیٹو نے کہا ہے "At the touch of love everyone becomes a poet (محبت کا لمس چھوتے ہی ہر کوئی شاعر بن جاتا ہے)ـ آج سامعین کی خدمت میں دو غزلیں پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔

میری تنہائی میں اکثر وہ مقام آئے
تیری یاد کو جب عروج بام آئے

بس اِک وجہ قراقر بن جاتا ہے
بے ساختہ لبوں پہ جو تیرا نام آئے

یہ دامن بھی پاک ہو گر تیری محبت کا
اس دامن پر اگر یہ حسیں الزام آئے

کچھ اس طرح سے آئے وہ مے خانہ دل میں
مسجد میں جیسے کوئی امام آئے

ایک پہلے سے شام ادھار ہی دے دو
سود کے زیاں میں چاہے عمر تمام آئے

(عدنان حفیظ، 2001)

2000 میں شاہ رخ خان کی محبتیں نامی فلم نے کمال شہرت پائی۔ میری نسل کے عاشقوں کے زخموں کیلئے وہ مرہم سے کم نہ تھی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو محبتیں فلم میں میپل لیف (Leaf) کے سپیشل افیکٹس کا کافی استعمال ہوا ہے۔ میں اس زمانے میں یونیورسٹی آف ونڈزر کینیڈا کا طلبعلم ہوا کرتا تھا اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میپل لیف کینیڈا کا قومی نشان ہے، تو فال سیمسٹر کے آخری ایام تھے اور میں غروب آفتاب کے وقت آخری لیکچر سن کر یونیورسٹی سے گھر واپس جا رہا تھا۔ چار سُو سفید برف پر زرد پتے بکھرے ہوئے تھے۔ شام کا دھندلکا، برفانی ہوا کے جھونکے اور آسمان پر پھیلی زردی۔ ناکام عاشق کی رگِ شاعری پھڑک اٹھی۔ قلم کاغذ بستے میں موجود تھے۔ بس وہیں یخ بستہ سردی میں چٹان پر بیٹھ کر یہ غزل تحریر کر دی۔

سرد جاڑوں کی شام ایک اور سہی
ڈھلتا سورج چڑھتا چاند ایک اور سہی

زرد پتوں کو کچلتے تیرے نازک قدم
اس دل کی جانب تیرا قدم ایک اور سہی

یہ جو گزرا میرے پاس سے وہ آخری لمحہ
تیری جدائی کا یہ لمحہ ایک اور سہی

سرد ہوا کی گونج اور خاموشی کا یہ شور
ویرانی میں یہ ویرانہ ایک اور سہی

شام کی سرخی یار تیرے رخسار کی لالی
ترکش کا تیرے یہ تیر ایک اور سہی

(عدنان حفیظ، 2000)

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *