Type to search

فلم فيچرڈ فیچر

پاکستان کا سوشلسٹ سنیما: ایک مختصر سے رجحان کی مختصر سی تاریخ

سوشلسٹ سنیما کی اصطلاح فلمی نقادوں اور فلمی تاریخ دانوں کی جانب سے سابقہ سویت یونین اور مشرقی یورپ میں بننے والی ان فلموں کے متعلق استعمال کی جاتی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لیکر 1989 تک بنائی گئیں۔ ان فلموں کا بنیادی مقصد سوؤیت یونین کے سیاسی اور نظریاتی تصورات اور رجحانات کو فروغ دینا ہوا کرتا تھا۔ مشہور روسی ڈائریکٹر سرجیل آئن سٹائن کی بنائی ہوئی فلم (Battleship Potemkin) جو کہ شاندار فلم سازی اور کمیونسٹ پراپیگینڈے کا حسین امتزاج تھی، اور اس کی مانند دیگر فلمیں "سوشلسٹ فلمیں” کہلاتی ہیں۔ اس طرح کی فلمیں بنانے کا رجحان 1940 سے 1990 کے عرصے میں سرد جنگ کے دوران مشرقی یورپ، سوؤیت یونین اور چائنہ میں بہت مقبول تھا۔

روس میں بولشویک ریولوشن اور چین میں 1949 میں کمیونسٹ پارٹی کی فتح کے بعد کمیونزم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اس مقبولیت کو دیکھتے ہوئے نان کمیونسٹ ملکوں کے فلمسازوں نے کمیونزم اور سوشلزم سے متاثر ہو کر ایسی فلمیں بنانا شروع کر دیں جو سوشلزم اور کمیونزم کی جانب مائل تھیں۔ فرٹز لینگ کی 1927 میں بنائی ہوئی جرمن کلاسک فلم (Metropolis) اور ہالی وڈ کے شاندار مزاحیہ اداکار چارلی چپلن کی 1936 میں ریلیز ہونے والی فلم (Modern Times) نے مین سٹریم سنیما اور سائنس فکشن و مزاح کو استعمال کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام میں ملازمت پیشہ افراد اور مزدوروں کے استحصال کو اجاگر کیا۔ ہالی وڈ کی فلموں میں سوشلسٹ خیالات کے پرچار کی بھرمار سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے قدامت پسند امریکی سینیٹر جوزف میک کارتھی نے کہا تھا کہ ہالی وڈ امریکہ مخالف کمینسٹوں اور سوشلسٹوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ 1947 میں اس نے امریکن فلم انڈسٹری پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور نتیجتاً درجنوں سکرپٹ رائٹرز، پروڈیسروں اور ڈائریکٹروں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے باوجود 70 کی دہائی تک کسی نہ کسی طور سوشلسٹ فلمیں بنانے کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔

1973 میں بننے والی فلم (The way we were) جس کی کاسٹ میں رابرٹ ریڈفورڈ، اور باربرا سٹریسنڈ شامل تھے، اور 1981 میں بننے والی فلم  (Reds)جو امریکن کمیونسٹ صحافی جان ریڈ کی زندگی پر مبنی تھی، اس ضمن میں مثالیں ہیں۔ فلم ریڈز تین اکیڈیمی اوارڈز (آسکرز) جیتنے میں بھی کامیاب رہی۔

برطانیہ میں بھی کافی مقبول سوشلسٹ فلمیں بنائی گئیں۔ 1941 میں بننے والی فلم دا ایجیٹیٹر، 1967 میں بننے والی فلم پریویلیج اور 1966 میں بننے والی فلم مورگن ان سوشلسٹ فلموں کی فہرست میں نمایاں ییں۔ لیکن "کمیونسٹ بلاک” میں بنائے جانے والی فلموں کے برعکس، نان کمیونسٹ ملکوں میں بنائی جانے والی یہ فلمیں قدرے مختلف تھیں اور ان فلموں میں اکثر سوؤیت یونین اور ماؤزے تنگ کے چائنہ کے کمیونسٹ پراپیگینڈے پر تنقید بھی کی جاتی تھی۔ بھارت میں مین سڑیم سنیما اور آرٹ سنیما دونوں ہی اکثر سوشلسٹ رومان پروری سے متاثر نظر آئے۔ بھارتی مین سٹریم سنیما نے سوشلزم کو ابھارتے ہوئے اس میں بھارتی قوم پرستی کا عنصر بھی شامل کر دیا۔ محبوب خان کی 1957 میں بنائی گئی شاہکار فلم مدر انڈیا اور یش چوپڑا کی 1977 میں بنائی گئی فلم کالا پتھر اس ضمن میں نمایاں مثالیں ہیں۔ 70 کی دہائی کے آخر اور 80 کی دہائی کے دوران بھارت نے آرٹ فلمیں بنانا بھی شروع کر دیں۔ اس آرٹ سنیما نے درجنوں سوشلسٹ پیغامات پر مبنی آرٹ فلمیں بنائیں۔ سوشلسٹ فلموں کی یہ صنف 1990 میں سرد جنگ کے نتیجے میں سوؤیت یونین کا شیرازہ بکھرنے اور چین میں پیراڈائم شفٹ کے بعد معدوم ہو گئی۔

موجودہ دور میں پاکستانی فلم انڈسٹری پھر سے بحالی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔ پاکستانی انڈسٹری کے زوال کا آغاز 80 کی دہائی سے شروع ہوا اور 21 ویں صدی کی پہلی دہائی کے ابتدائی سالوں میں یہ مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی۔ فلمساز مشتاق گزدار کی کتاب "پاکستان سنیما” کے مطابق پاکستانی فلم انڈسٹری نے 60 کی دہائی میں مقبولیت کی بلندیوں کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ 70 کی دہائی میں اس نے تخلیقی صلاحیتوں اور منافع کمانے کا سنہرا دور دیکھا۔ 1975 کے آغاز تک پاکستانی فلم انڈسٹری نے ہر سال پینتیس سے چالیس فلمیں ریلیز کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن 1980 اور اس کے بعد فلم انڈسٹری تین وجوہات کی بنا پر زوال کی جانب مائل ہو گئی۔

پہلی وجہ تخلیقی صلاحیتوں کی بتدریج کمی اور سستی، دوسری وجہ وی سی آر کی آمد اور اس کے نتیجے میں بھارتی فلموں کی بھرمار، اور تیسری وجہ جنرل ضیاالحق کی کڑی سینسر شپ کی پابندیاں تھیں۔ 60 اور 70 کی دہائی میں گو پاکستان اور بھارت میں بننے والی زیادہ تر فلموں کا موضوع پیار اور محبت ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود اس عرصے میں ایسی کئی فلمیں بنیں جن کے ذریعے سوشلسٹ نظریات کا پرچار کیا گیا۔ اس ضمن میں لاتعداد مثالیں موجود ہیں جن کی تصدیق بھارتی اور مغربی فلمی تاریخ دانوں نے کی ہے۔ لیکن اس طرح کی کوئی تحقیق پاکستان کے سوشلسٹ سنیما پر نہیں کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی نسبت پاکستان میں بہت کم سوشلسٹ فلمیں بنائی گئیں۔ ان محدود فلموں کی تعداد کی یادداشت بخارات کی مانند کہیں ہوا میں تحلیل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے سوشلزم کو 70 کی دہائی سے پہلے نہیں اپنایا تھا۔ 1947 میں اپنے قیام سے لے کر 1971 میں سوشلسٹ حکومت معرضِ وجود میں آنے تک کے درمیانی عرصے میں پاکستان ایک سرمایہ دارانہ ملک کے طور پر جانا جاتا تھا جو سوشلزم کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔ سوشلزم 1977 میں ایک بار پھر پاکستان کیلئے ولن بن گیا اور 90 کی دہائی میں ویسے ہی سوشلزم بین الاقوامی سطح پر بھی تنزلی کا شکار ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری نے زوال سے دوچار ہونے سے پہلے کچھ اچھی سوشلسٹ فلمیں بنائیں۔

جاگو ہوا سویرا (1959)

ہدایتکار اے جے کاردار کی فلم جاگو ہوا سویرا 1959 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کا سکرپٹ اور گانے مشہور شاعر فیض احمد فیض نے لکھے تھے۔ یہ فلم ایک بنگالی مصنف کے ناول سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی جس میں مشرقی پاکستان کے ایک مچھیروں کے گاؤں کے ان خاندانوں کو دکھایا گیا تھا جو غربت، قرضوں کے بوجھ اور سرمایہ داروں کے استحصال سے روزانہ کی بنیاد پر نبرد آزما ہوتے تھے۔ سوشلسٹ حقیقت پسندی اور اطالوی غریب امیر کی جنگ سے متاثر اس فلم میں کچھ بھی بڑھا چڑھا کر حقیقت کے برعکس نہیں پیش کیا گیا تھا۔ فلم میں ایک مچھیرے اور اس کے خاندان کی جدوجہد کو ایک حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا تھا اور برطانوی کیمرہ مین والٹر لیزلی نے اس میں شاندار عکس بندی کا مظاہرہ کیا۔ جاگو کو پاکستان کی پہلی آرٹ فلم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ فلم پاکستان میں ایوب خان کے لگائے ہوئے مارشل لا کے محض ایک برس بعد نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ ایوب خان نہ صرف مذہبی جماعتوں کو ناپسند کرتا تھا بلکہ اسے سوشلزم سے بھی نفرت تھی، وہ ملک میں موجود بائیں بازو کے سیاستدانوں اور دانشوروں کو خطرناک مہم جو قرار دیتا تھا۔ جس کی وجہ اس کا صنعتیں لگا کر صنعتی ترقی حاصل کرنے کا خواب تھا۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی اس وقت فیض احمد فیض جیل میں قید تھے۔ اس فلم کو کڑی سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے کئی سین بھی کٹوائے گئے۔ اس فلم کو آسکر اوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ یہ آسکر کیلئے بہترین فارن لینگینج فلم کیٹیگری میں نامزد ہونے والی  پہلی پاکستانی فلم تھی۔

شہید (1962)

ایوب خان کی آمریت کے بام عروج میں ہدایتکار خلیل قیصر اور لکھاری ریاض شاہد نے مین سٹریم سنیما کیلئے ایک ایسی اردو فلم بنائی جس میں سوشلسٹ انقلاب کو دکھایا گیا تھا۔ ایوب خان کی سوشلزم سے مخاصمت کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاض شاہد نے فلم کی کہانی ایک عربی ملک کے بارے میں لکھی جہاں ایک قبائلی بادشاہ ہوتا ہے۔ ریاض شاہد انقلابی شعرا فیض احمد فیض اور منیر نیازی کے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ ان دونوں شعرا نے اس فلم کے گیت لکھے۔ فیض احمد فیض سے دوستی کے باعث ریاض شاہد اس وقت کے مصری فرمانروا جمال عبدالناصر کے فین بن چکے تھے۔ جمال عبدالناصر اس وقت مسلمان دنیا کے سب سے بااثر حکمران تھے۔ وہ ایک فوجی افسر تھے جنہوں نے 1952 میں مصر سے برطانوی حمایت یافتہ بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ پھر جمال عبدالناصر نے "عرب سوشلزم” کو متعارف کروایا۔ عرب سوشلزم، عرب قوم پرستی اور سوشلزم کا امتزاج تھا۔ جمال عبدالناصر نے سوؤیت یونین سے اپنے تعلقات بڑھائے اور عرب دنیا کے دائیں بازو کی تحریکوں کی مالی، سیاسی اور فوجی معاونت شروع کر دی۔ جمال عبدالناصر عرب بادشاہت بالخصوص سعودی بادشاہت کے سخت ترین مخالف کے طور پر ابھرے۔ جمال عبدالناصر نے انہیں مغربی سرمایہ داروں کا ایجنٹ قرار دیا۔ فلم شہید واضح طور پر عرب سوشلزم کو نمایاں کرتی ہے۔ فلم میں ایک تیل کی دولت سے مالا مال عرب ملک دکھایا گیا ہے۔ ایک برطانوی آدمی لارنس اس ملک کے محب وطن بادشاہ کو اقتدار سے باہر کرنے کی سازش تیار کرتا ہے اور اس کہ جگہ ایک بے ایمان بادشاہ کو تخت پر بٹھا دیتا ہے۔ لارنس اس ملک میں ہیروئن کے نشے کی لت کو بھی فروغ دیتا ہے تاکہ لارنس کا برطانیہ کو تیل ایکسپورٹ کرنے کا دھندہ کوئی چیلنج نہ کر پائے۔ لیکن ایک غریب لوہار جو کہ انقلاب پسند ہوتا ہے وہ جلا وطن بادشاہ کا ساتھ دیتا ہے۔ دونوں مل کر نئے حکمران اور لارنس کے خلاف عوام کو تحریک چلانے پر راغب کرتے ہیں۔ اس فلم نے ایوب حکومت کو تھوڑا سا بے چینی میں مبتلا کیا لیکن بہرحال اس فلم کو نمائش کی اجازت مل گئی اور اس کا ہر شو ہاؤس فل ہوتا تھا۔ اس فلم کو لے کر سعودی سفارتخانے نے پاکستانی حکومت کو شکایات بھی ریکارڈ کروائیں لیکن ان دنوں سعودی عرب کا پاکستان پر کوئی گہرا اثر و رسوخ نہیں تھا اس لئے فلم کی نمائش کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

زرقہ (1969)

مارچ 1969 میں طلبہ اور مزدوروں کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا۔ یحییٰ خان نے عنان اقتدار سنبھالی اور اس نے پاکستان میں عام انتخابات پہلی مرتبہ بالغ حق رائے دہی کے تحت کروانے کا وعدہ کیا۔ انقلاب پسندی اس وقت تک مشرقی اور مغربی پاکستان کے نوجوانوں میں سرایت کر چکی تھی اور ریاض شاہد ایک بڑے اداکار کے طور پر پہچانے جانے لگ گئے تھے۔ رہاض شاہد اس دور کے غالب رجحان کو پردہ سکرین پر دکھانا چاہتے تھے جس میں طلبہ پوری دنیا میں پرانے طرز حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ریاض شاہد اس وقت بھی عرب سوشلزم کے حامی تھے اور عرب سوشلزم پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بدولت اسلامی سوشلزم کے نام سے آ چکا تھا۔ ریاض شاہد فلسطینی بنیاد پرست لیلیٰ خالد کے بھی گرویدہ تھے۔ اس لئے ریاض شاہد نے فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف جدو جہد پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا اور استعارتاً پاکستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اس میں ذکر کیا۔ زرقہ فلم کے گیت کمیونسٹ شاعر حبیب جالب نے لکھے۔ زرقہ فلم کا مرکزی کردار فلسطینی عورت زرقہ تھی جسے اداکارہ نیلو نے نبھایا۔ فلم سامراجی نظام کے خلاف بنائی گئی جو سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے پیدا ہوا۔ زرقہ فلم سپر ہٹ قرار دی گئی تھی۔

مٹی کے پتلے (1974)

اس وقت کے مشہور فلم سٹار ندیم بیگ نے اس فلم کو پروڈیوس کیا۔ مٹی کے پتلے اداکار ندیم کی آرٹ اور سیاسی نوعیت کی فلموں میں پہلی انٹری تھی۔ یہ فلم 1972 کی کراچی میں چلنے والی مزدوروں کی تحریک سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی یہ تحریک ذوالفقار بھٹو کی انتخابی مہم سے متاثر ہو کر شروع ہوئی تھی جسے دائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور مزدوروں کی یونین کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن بھٹو اور یونینز میں اس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب بھٹو دسمبر 1971 میں اقتدار میں آئے۔ بھٹو نے مزدوروں سے متعلق چند پالیسیاں بنائیں لیکن مزدور یونین اس سے خوش نہیں ہوئیں اور ہڑتالوں کا آغاز کر دیا۔ اس تحریک میں شدت کراچی شہر میں آئی جسے ایوب خان کے دور میں انڈسٹریلائزڈ کر دیا گیا تھا۔ بھٹو کی حکومت نے اس تحریک کو کچل ڈالا اور مزدور یونینز کو شر پسند قرار دیتے ہوئے عوام کو باور کروایا کہ حکومت پہلے ہی مزدوروں کے حقوق کیلئے بیحد پالیسیاں ترتیب دے چکی ہے۔ فلم میں ندیم نے ایک بااثر صنعتکار کے بیٹے کا کردار ادا کیا ہے جو انگلستان سے تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آتا ہے۔ مگر واپسی پر وہ دیکھتا ہے کہ اس کا باپ فیکٹری کے مزدوروں سے ٹھیک برتاؤ نہیں کرتا۔ پوری فلم میں ندیم کا کردار مختلف پیچیدہ مسائل کو سلجھاتے دکھائی دیتا ہے۔ وہ مزدور یونین سے ہمدردی دکھاتا ہے اور انہیں باور کرواتا ہے کہ وہ اپنے باپ جیسا نہیں ہے۔ لیکن ایسا کرتے وقت اسے اپنے باپ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے حو سمجھتا ہے کہ اس کا بیٹا بھولا بھالا ہے۔ اس کی معشوقہ بھی اس کے مزدور دوست رویے پر خوش نہیں ہوتی۔ لیکن وہ تینوں محاذوں پر اس وقت ناکام ہو جاتا ہے جب مزدور فیکٹری پر حملہ کر کے اسے جلانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کی واحد کامیابی اسے تب ملتی ہے جب وہ مزدوروں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے خود ان کے اپنے گھر کے چولہے بجھ جائیں گے۔ فلم مٹی کے پتلے پردہ سکرین پر کچھ خاص کامیابی نہ حاصل کر پائی اور بہت جلد ہی سنیما سکرینوں سے اتر گئی۔

عورت راج (1979)

دائیں بازو کی تحریک مغرب میں 60 کی دہائی میں ابھری اور سوؤیت اور چین پر تنقید شروع ہوئی، اس کے باعث سوشلسٹ جمہوریت کا نظریہ پروان چڑھا جو 60 کی دہائی کے آخر میں کئی دائیں بازو کی تحریکوں کو جنم دینے کا باعث بنا۔ 70 کی دہائی میں یہ سوشلسٹ تحریکیں خواتین کی آزادی کی تحریکوں کو جنم دینے کا باعث بھی بنیں۔ 1978 میں مشہور کامیڈین اور اداکار نے مختلف فلمی ستاروں کو سائن کر کے ایک اچھوتے آئیڈیا پر مبنی فلم بنائی۔ اس فلم کا نام عورت راج تھا۔ ڈسٹری بیوٹرز اس فلم کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ یہ فلم مردانہ غالب اکثریتی معاشرے پر ایک شدید طنز کے طور پر بنائی گئی تھی۔ فلم میں پاکستانی فلموں کے ہیرو اور ہیروئن کے روایتی کرداروں کی پیروڈی بھی شامل تھی اور یہ اس وقت بالکل فیمینسم کی حمایت کرتی دکھائی دیتی تھی۔ اس طرح کی کوئی اور فلم آج تک پاکستان میں نہیں بنی۔ فلم میں اداکارہ رانی نے ایک مظلوم بیوی کا کردار نبھایا ہے جس کا شوہر (وحید مراد) ایک مردانہ برتری کو ماننے والا اور دوسری عورتوں سے رومانس جھاڑنے والا شخص ہوتا ہے۔ اپنے شوہر کی حرکتوں سے تنگ آ کر بالآخر بیوی اپنے علاقے میں خواتین کے حقوق کی تحریک چلا دیتی ہے۔ تحریک ہر جانب پھیل جاتی ہے اور عورتوں کے ہجوم مردوں کی سر عام پٹائیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حکومت معاملے کو سلجھانے کیلئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیتی ہے۔ عورت راج پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے اور اقتدار میں آ جاتی ہے۔ رانی ملک کی نئی لیڈر بن جاتی ہے اور بیرون ملک سے ایک خاص قسم کا بم حاصل کر لیتی ہے۔ یہ بم پھٹنے کے بعد تمام مردوں کو عورتیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تمام خواتین کو گھریلو سماجی اور سیاسی سطح پر اعلیٰ پوزیشنیں دے دی جاتی ہیں جبکہ مردوں کو عورتوں والے کپڑے پہنا کر ان کو ہر اس کام پر لگا دیا جاتا ہے جو پہلے عورتیں انجام دیا کرتی تھیں۔ اس کے بعد کہانی میں جو ہوتا ہے وہ مزاح سے بھرپور اور روایتی مردانہ برتری و حاکمیت پر ایک بھرپور طنز ہے۔ یہ فلم اپنے آئیڈیے اور عکس بندی کے باعث اس قدر چونکا دینے والی تھی کہ فلم بینوں کو سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ انہیں کیا ری ایکشن دینا چاہیے۔ حتیٰ کہ ضیاالحق دور کے سینسر بورڈ کو بھی سمجھ نہ آیا کہ فلم دراصل ہے کیا؟ فلم اگرچہ فلاپ ہو گئی تھی لیکن آج بھی اسے ایک یادگار فلم کے طور پر جانا جاتا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *