Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

وہ سو دن

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے سو دن مکمل ہو کر گزر چکے پر زندگی آسان ہونے کے بجائے مسلسل اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کو نہیں آ رہا۔ پر وزیر اعظم عمران خان یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ کیا ہوا جو یہ ہو گیا یا وہ ہو گیا، فکر نہ کریں میں ہوں نا۔ بجلی مہنگی، گیس مہنگی، پیٹرول مہنگا، اور تو اور ڈالر مہنگا، لیکن ہمارے محبوب لیڈر عمران خان کہہ رہے ہیں کہ فکر نہ کرو، میں ہوں نا، فکر نہ کرو یہاں ڈالروں کی ریل پیل ہو گی، نہ جانے کب اور کیسے؟

سو دن مکمل ہونے پر مجھے اسی کی دہائی کی بھارتی فلم ”وہ سات دن” یاد آ گئی۔ جب فلم کی کہانی کی مرکزی کردار لڑکی مایا شادی کی سہاگ رات کو خود کشی کرنے کی کوشش کرتی پے پر اس کا شوہر جو خود ڈاکٹر ہوتا ہے، اس کا علاج کرتا ہے۔ مایا جب ہوش میں آتی ہے تو اپنے ڈاکٹر شوہر کو بتاتی ہے کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی پر اس کی زبردستی شادی کر دی گئی۔

یہی لگتا ہے کہ پی ٹی آئی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی پر اس کی حکومت سے زبردستی شادی کرا دی گئی ہے۔ اب اسکے شادی کرنے والے نہ اس کو مرنے دیتے ہیں اور نہ ہی زندہ رہنے دیتے ہیں اور حکومت یہ غصہ عوام پر نکال رہی ہے۔ کیونکہ جس تیزی سے تحریک انصاف اور عمران خان غیر مقبول ہو رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ دلہن زندہ نہیں رہنا چاہتی اور عوام کو تنگدستی کا شکار کر کے خودکشی کرنا چاہتی ہے۔

یہ مذاق اڑا کر کہ بس خوشحالی کی دن دستک دے رہے ہیں، خاموشی سے تماشہ دیکھو بس۔ و ہ دستک جو صرف حکمران جماعت کے چند گنے چنے لوگوں کو سنائی دے رہی ہے۔ عوام وطن کی محبت میں اور تحریک انصاف کے عشق میں کبھی ایک کان لگا کر تو کبھی دوسرا کان لگا کر وہ دستک سننے کی کوشش کرتے ہیں، پر انہیں دستک تو نہیں سنائی دیتی ہاں یہ ضرور ہے کہ انکے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے کہ اندر سے کبھی پیٹرول مہنگا، تو کبھی بجلی مہنگی ہونے کی آواز سنائی دیتی ہے تو کبھی گیس کے نرخ بڑھنے کی تو کبھی ڈالر پھلانگتا ہوا ملتا ہے۔ لیکن اب عوام کی بھی زبردستی شادی ہو چکی ہے تو اس زبردستی کی شادی کو بھگتو، جمہور کے بچو۔

سو دنوں کے منصوبے کی تاریخ

ماضی میں جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی تھی تو کبھی سو دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ وہ چاہے پاکستان ہو یا کوئی اور ملک۔ اس کا آغاز 2008 میں عالمی سطح پر جب معاشی اقتصادی بد حالی سامنے آئی جس کے نتیجے میں امریکہ، یورپ، اور دوسرے ترقی یافتہ اور اور ترقی پذیر ملک شدید مشکلات کا شکار ہوئے تو امریکا کو چین نے سات سو ارب ڈالر کا پیکج دیا۔ 2009 میں جب امریکہ میں پہلے سیاہ فام براک اوبامہ نے حکومت سمبھالی تو پہلی بار انہوں نے امریکہ کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا سو دن کا پلان دیا، جسکا مقصد صرف وہ فارمولہ بتانا تھا کہ کس طرح معیشت کو صحیح رخ پر ڈالنا ہے۔ یہ نہیں کہ سو دن میں وہ معاشی انقلاب برپا کر دیں گے۔ عمران خان نے انتخابات سے پہلے سو دن کے اپنے پلان کو اتنی ہوا دی کہ لوگ تڑپ رہے تھے کہ سو دن میں ہی انکی زندگی بن جانی ہے، باقی پانچ سال میں تو نجانے زندگانی کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہو گی۔

صحافیوں کے سوال پر انیل مسرت کا عجیب و غریب جواب

وزیر اعظم عمران خان نے سو دن پلان کے لئے پچاس لاکھ گھر فرام کرنے کا اعلان کیا جس کا پلان ہی سو دن میں اب تک سامنے نہ آ سکا۔ ابھی گذشتہ ہفتے خان صاحب کے دوست انیل مسرت جن کو گھروں کا منصوبہ بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا، ایک صحافی نے جب ان سے سوال کیا کہ یہ منصوبہ کیسے شروع ہوگا اور مکمل ہوگا تو ان کا جواب سن کر لگا کہ اس شخص کے پاس کوئی منصوبہ ہے ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو سو ڈویلپرز تیار کیے جائیں اور ہر ڈویلپر پانچ ہزار گھر بنا کر دے گا تو اس طرح پانچ سال میں پچاس لاکھ کا ٹارگٹ پورہ ہو چکا ہوگا۔

جو لوگ اتنے نااہل اور کرپٹ ہوں، وہ کیسے پچاس لاکھ گھر بنا پائیں گے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہاؤسنگ سیکٹر سے پچاس صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں، جن سے روزگار فراہم ہوتا ہے، صنعتیں چلتی ہیں، معیشت بہتر ہوتی ہے، لیکن کیا آپ کی وزارت ہاؤسنگ میں اکرم درانی کے فرنٹ مین جو آج بھی وزارت کو چلا رہے ہیں ان میں یہ صلاحیت ہے بھی؟ اور کیا ان پر کرپشن کے الزامات نہیں؟ کیا وزارت نے جو آج سے پندرہ سال پہلے منصوبے شروع کیے، جنہیں پانچ سال میں مکمل ہونا تھا وہ آج بھی نامکمل ہیں ان سے جواب طلبی ہوئی؟ جو لوگ اتنے نااہل اور کرپٹ ہوں، وہ کیسے پچاس لاکھ گھر بنا پائیں گے؟

یہی میرٹ رہا تو اینکر، ان کی بیویاں اور شوہر ہی مستفید ہوں گے

اب ایک کروڑ نوکریوں کی سن لیں۔ جس طرح ریلویز میں ضمنی انتخابات سے پہلے نوکریوں کا اشتہار آیا یہی صورتحال سب جگہ ہے۔ اینکروں کی بیویوں اور اینکروں کو شوہروں کو قابلیت کا اندازہ لگائے بغیر جونئیر سطح سے اٹھا کر اداروں کا سربراہ لگایا جا رہا ہے۔ اگر یہی میرٹ رہا تو صرف اینکر، ان کے شوہر یا بیویاں اور بچے ہی مستفید ہو سکیں گے۔

میرے سابقہ ادارے کو ہی لے لیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نون لیگ کی حکومت نے سرکاری ٹی وی کو ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت تباہ اور برباد کیا جس کی تباہی پر میں کھل کر کہہ سکتا ہوں کہ مریم نواز ہوں یا مریم اورنگزیب دونوں نے کردار ادا کیا۔ ریٹائر ہونے والے آج سڑکوں پر اپنے واجبات کی ادائیگیوں کے لئے دو سال سے سڑکوں پر مظاہرے کرتے پھر رہے ہیں اور جھولیاں اٹھا اٹھا کر نون لیگ کی لیڈر شپ خاص کر مریم اورنگزیب کو بد دعاییں دے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی انکی ادائیگیوں کے لئے اب تک کچھ نہیں کر سکی۔ یہی صورتحال دوسرے اداروں میں ہے۔

گرامین بینک کا ماڈل اور عمران خان کی دیسی مرغیاں

عمران خان نے سو دن کے پلان کے اجرا پر نچلے طبقوں کو اٹھانے کا کہا تھا، اور سو دن پورے ہونے پر اپنی تقریر میں غریبوں اور خاص کر عورتوں کو دیسی مرغی اور کٹوں کی فراہمی سے اور انہیں بیچ کر خوشحالی کا منصوبہ دیا۔ مجھے لگتا ہے ان کے میڈیا کے مشیر انہیں جان بوجھ کر کسی اور طرف لے جا رہے ہیں۔

میرے عیسیٰ خیل سے منتخب وزیر اعظم عمران خان صاحب، مائکرو کریڈٹ سے غربت کے خاتمے سے کوئی انکار نہیں پر اس کے لئے آپ بینظر انکم سپورٹ پرگرام، خوشحالی بینک یا کمرشل بینکس کو حکم دیں کہ وہ منصوبے بنا کر دیں، نہ کہ خود اپنی تقریروں میں ان کا ذکر کر کے میڈیا میں مذاق بنیں۔ بنگلہ دیش کے گرامین بنک کے منصوبوں جن کا آغاز 1976 میں ہم سے آزادی کے صرف پانچ سال بعد ہوا اور اس بنک نے سارا فوکس عورتوں پر کیا اور انہیں گھر کے صحن میں سبزیاں اگا کر اپنے لئے خوراک خود اگانے اور بچ جانے والی سبزی بیچنے کی ترغیب دی، خواتین کو چھوٹے خاندان کی طرف راغب کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف دیہی علاقوں میں غذائی صورتحال میں بہتری آئی بلکہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی آبادی جو سات کروڑ تھی جبکہ یہاں کی آبادی پانچ کروڑ، آج بنگلہ دیش کی آبادی سولہ کروڑ سے زائد اور پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔

گرامین بینک کے سابق سربراہ اور مؤجد محمد یونس کو نہ صرف پوری دنیا میں پزیرائی حاصل ہوئی بلکہ نوبل بھی مل گیا۔ ہمارے لیڈر گرامین بنک ہی ماڈل اٹھا لیں۔

بڑے بڑے ماہرینِ معاشیات بھی اب تو ڈرے بیٹھے ہیں

صرف ڈالر کو ہی اگر لے لیں تو وہ قلابازیاں کھاتا ہوا 119 سے آج 137 پر جا پہنچا۔ یہاں تک کہ یہ گذشتہ ہفتے 142 روپے کی حد کو چھو چکا ہے۔ عارف حبیب جیسے بڑے ماہر جنہیں میں نے کبھی پریشان نہیں دیکھا، اس بار وہ بھی پریشان لگے اور ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا، ڈالر کی قیمت میں اتنے فری فال سے معیشت کو بہت نقصان ہوگا۔ شرح سود میں اضافہ سے سرمایہ کاری لانا خام خیالی ہو گی۔ گھروں کے لئے آسان قرضے ممکن نہیں ہوں گے۔ معروف بینکر شوکت ترین نے بھی کہہ دیا کہ ڈالر کی قدر میں روز روز اضافہ کسی بھی معیشیت کے لئے مددگار نہیں ہوتا۔ پر کیا کریں کہ ہمارا سٹیٹ بنک اچانک اتنا خودمختار ہو گیا کہ وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کو بتائے بغیر آٹھ آٹھ روپے کے جھٹکے دیتا ہے، اور خان صاحب کہتے ہیں فکر نہ کرو میں ہوں نا!

سو دن کے حوالے سے دو کام ضرور اچھے ہوئے۔ ایک سکھوں کے لئے کرتار پور کا کھلنا اور دوسرا تحریک لبیک کے گالیاں دیتے اور بغاوت اور توڑ پھوڑ کی دعوت دیتے لیڈروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کو احسن قدم قرار نہ دینا انصافیوں کے ساتھ زیادتی رہے گی۔ ہاں یہ سو دن مجھے فلم ”وہ سات دن” کی طرح ہمیشہ یاد رہیں گے۔

Tags:
عصمت الله نیازی

مصنف سینئر صحافی ہیں اور ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • 1

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *