Type to search

فيچرڈ کتاب کا تجزیہ

اروندھتی رائے، عوام اور حقیقی مسائل

اروندھتی رائے ایک بھارتی ناول نگار اور ادیب ہیں۔ ادبی دنیا میں اروندھتی رائے کی پہچان ان کا پہلا ناول اور پہلے اور دوسرے ناول میں پایا جانے والا بیس سال کا طویل عرصہ بنا۔

مجھے اروندھتی کے بے باک اور نڈر انداز بیاں نے ان کا گرویدہ بنا دیا۔ ان کا حقیقی مسائل پر بات کرنا اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی پروا کیے بغیر مستقل حقائق بیان کرنے کی لگن نے انہیں دیگر لکھاریوں سے مختلف ثابت کر دیا۔

اروندھتی کے ناولز کے کردار اور پلاٹ بے حد مختلف اور اچھوتے ہیں۔ لیکن اروندھتی رائے کے لکھے مضامین انہیں دراصل دوسرے لکھنے والوں سے مختلف ثابت کرتے ہیں۔

اروندھتی رائے نے جوہری جنگ کے خلاف لکھا اور بھرپور لکھا۔ وہ پاکستان اور انڈیا کی اس لڑائی سے خوفزدہ ہیں اور بار بار جوہری جنگ کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ دونوں ملکوں کی عوام کو مطلع کرنا چاہتی ہیں کہ جوہری جنگ زندگی کا اختتام ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ اس جنگ سے جیت کسی کی نہیں ہوگی۔ دونوں طرف ہار ہو گی۔ آگ ہو گی، تپش ہو گی، ایسی تپش کہ انسان، جانور یہاں تک کہ پیڑ پودے بھی پگھل جائیں گے۔ رائے فکر مند ہیں، وہ 1998 کے بعد سے بار بار یہ بتاتی ہیں کہ جوہری جنگ عام جنگ نہیں۔ جوہری جنگ ہو گئی تو نہ انڈیا پاکستان کا دشمن رہے گا، نہ پاکستان انڈیا کا۔ بلکہ اس کرہ ارض کے اجزائے ترکیبی جیسے ہوا، پانی، آسمان، زمین ہمارے دشمن ہو جائیں گے۔ وہ حیران ہیں کہ اتنی بڑی تباہی اور دشمنی کا سامنا کرنے پر دونوں ممالک خوشی کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟

اپنے مضمون ’تخیل کی موت (End of Imagination)‘ میں رائے لکھتی ہیں:

’اگرچہ ہم دو علیحدہ علیحدہ ملک ہیں، تاہم ہمارے آسمان، ہماری ہوائیں اور ہمارا پانی مشترک ہے۔ تابکار مادہ کہاں تباہی نازل کرے گا؟ اس بات کا انحصار ہوا اور پانی کے رخ پر ہے۔ لاہور اور امرتسر کا درمیانی فاصلہ صرف تیس میل ہے۔ اگر ہم لاہور پر بم پھینکیں تو بھارتی پنجاب بھی جل اٹھے گا۔ اگر کراچی کو نشانہ بنائیں تو گجرات، راجستھان اور شاید ممبئی بھی برباد ہو جائیں۔ پاکستان کے ساتھ جوہری جنگ خود اپنے ساتھ جوہری جنگ ہے۔‘

اروندھتی کی یہ بات صد فیصد سچ ہے۔ یہ بات پاکستان کو بھی سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اروندھتی جوہری بم اور اس پر لگنے والے ہر سال کے بجٹ پر بھی بات کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس پیسے کو کئی بھوکے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سینکڑوں بچے جو تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ان کی تعلیم میں مدد مل سکتی ہے۔ اروندھتی جوہری بم کو انسان مخالف ترین چیز قرار دیتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ “جوہری بم، وہ غیر جمہوری ترین، ملک مخالف ترین، انسان مخالف ترین چیز اور مکمل برائی ہے جو بنی نوع انسان نے تخلیق کی۔”

اگر آپ مذہب کی جانب مائل ہیں تو یاد رکھیں کہ بم کی صورت میں خدا کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ خدا سے ایک سادہ سی بات کہتا ہے،

“ہم ہر اس چیز کو برباد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جو تم نے تخلیق کی۔”

اگر آپ مذہبی ذہن کے مالک نہیں تو اسے ایک دوسرے زوایے سے دیکھیں، “ہماری یہ دنیا چار ارب ساٹھ کروڑ سال پرانی ہے جسے صرف ایک سہ پہر میں تباہ و برباد کر دیا جا سکتا ہے۔”

رائے یقیناً جوہری بم، ہتھیاروں کے متعلق اتنی بے باکی اور سچائی سے لکھنے والی پہلی لکھاری ہیں۔ رائے کے مضامین پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی علمبردار بن کر اس دنیا میں اتاری گئی ہیں۔ انہوں میں نرمدا وادی پر بننے والے ڈیم کی مخالف تحریکوں کا بھی بھرپور ساتھ دیا۔ وہاں موجود کسانوں اور کھیتوں پر کام کرنے والی خواتین کی آواز میں آواز ملائی۔ وہ پاکستان اور انڈیا میں مذہب کے نام پر جاری قتل و غارت پر بھی نالاں نظر آئیں۔

رائے گمشدہ افراد کے لئے بھی لکھتی رہی ہیں اور پاکستان اور انڈیا میں جمہوری نظام کی ناکامی پر بھی قلم اٹھا چکی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ رائے کی طرح اور کتنے لکھاری ہیں جو ان مسائل پر، جو کہ حقیقی مسائل ہیں، اپنا قلم اٹھا چکے ہیں؟

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو میری نظر سے کوئی ایک لکھاری بھی نہیں گزرا جو جوہری جنگ کی حقیقتوں کو اتنی بے باکی اور وضاحت سے بیان کر سکے۔ جو تلخ حقیقتوں پر بات کر سکے۔ اگر کچھ لکھاری ان مسائل پر کچھ لکھتے بھی ہیں تو بے حد ڈھکے چھپے انداز میں اور افسوس اس کے باوجود انکے قلم توڑ دیے جاتے ہیں۔

جب تک ہم حقیقی مسائل اور ان کے حل پر بات نہیں کریں گے، معاشرے میں پھیلتا انتشار کم نہیں ہو سکتا۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمیں اس جمہوری دور میں حقیقی مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کے حل تلاش کرنے کے لئے آواز اٹھانے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کا استعمال کس حد تک کیا جا رہا ہے؟

اگر نہیں تو پھر خاموش ہو جانا مسائل کو بڑھانے اور مزید انتشار کی وجہ بنے گا۔ سوسائٹی سے شدت پسندی دور کرنا ناممکن ہو جائے گا ور حالات کا زوال کی طرف تیزی سے رخ کرنا یقینی ہے۔

اب یہ فیصلہ باشعور افراد کا ہے کہ خاموش رہا جائے یا آواز اٹھانے کے حق کو استعمال کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ feminism اور Metoo# جیسی تحریکوں کے لئے آواز اٹھانے والی باشعور خواتین عوام کے بیسک(Basic)  مسائل پر آواز اٹھانے کے لئے سامنے آئیں۔ عوام کی فلاح کے لئے اپنا مثبت اور بھرپور کردار ادا کریں۔ تاکہ ہم بھی پاکستان کی کسی خاتون کو اروندھتی رائے کی طرح “انسانی حقوق کا علمبردار” کہہ سکیں۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Naeem kamali دسمبر 11, 2018

    Buhat achay..keep it up!! 🙂

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *