Type to search

صنف عوام کی آواز فيچرڈ

عورت کی حقیقی خوبصورتی‎

معاشرے کے اصولوں اور روایات کے مطابق بھلے میں اور تم (عورت) وہ خوبصورتی نہ رکھتے ہوں۔ ان کو بڑی آنکھیں چاہئیں۔ اگر میری آنکھیں چھوٹی ہیں تو؟ تو کیا میں قدرت کی اس خوبصورتی کو اپنی چھوٹی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتی؟

میں مصنفہ ہوں۔

کیا میں اس بات کا شکر نہ کروں کہ خدا نے مجھے نہ صرف دو آنکھوں سے نوازا ہے بلکہ اس کی روشنی سے اپنی قدرت کا نظارہ بھی کروایا ہے اور اس خوبصورتی کو اپنے الفاظ میں قید کر کے دوسروں کو مؤثر کرنے کی بھی صلاحیت دی ہے۔

میں مصور ہوں۔

مجھے اللہ تعالی نے اپنی قدرت کو تصاویر اور رنگ روپ دینے کے ساتھ ساتھ ایک شکل اختیار کر کے دوسروں کو سبق دینے کی بھی صلاحیت سے مالا مال کیا گیا ہے۔

میں لکھاری ہوں، میں ترغیب متکلم ہوں۔

شاید میں دبلی پتلی نہ ہوؤں، شاید میں اپنے ہی جسم کا بوجھ اپنے پیروں سے نہ اٹھا پاتی ہوں۔ لیکن اپنے جذبے، اپنی ہمت اور اپنے فن سے دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

میں صوفی ملکہ ہوں۔

بھلے سماج کے رسموں اور ریتوں کی آنکھوں سے میں ظاہری خوبصورتی نہ رکھتی ہوؤں۔ مگر اپنی دلفریب آواز اور مخمل سروں سے سب کو حقیقی خوبصورتی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

میں پولیس کی سربراہ ہوں۔

نہ میری کوئی خاص شکل ہے اور نہ مجھ میں وہ ادائیں ہیں جن پہ میں ناز کروں۔ پر میں اس بات پر کیوں ناز کروں؟ کیوں نہ اس بات پر ناز کروں کہ دشمن کے خطرناک حملوں اور ناپاک ارادوں کو اپنے شہر قائد کو بچانے اور حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

میں مانتی ہوں فائزہ بیوٹی کریم ہمارے لئے ہی بنی ہے۔ لیکن میں اپنا حقیقی پرکشش رنگ کیوں مٹاؤں؟ کیا میری خوبصورتی صرف گورا رنگ بیان کر سکتی ہے؟ میں مانتی ہوں ماہرین سرجن نے ہماری ظاہری خوبصورتی کے لئے چمڑی کی سرجری کرنا سیکھی ہے۔ مگر کیا میں پیدائشی رنگ روپ اور خدا کے دیے ہوئے نقش و نین کا نام مٹا دوں؟ صرف سماجی اور معاشرے کے اصولوں کے غلاموں کے طنز سے بچنے کے لئے! جن کو حقیقی خوبصورتی کا حقیقی مطلب بھی نہیں پتہ۔

بڑی آنکھیں، لمبا ناک، قدآور، کوری اور پتا نہیں کن کن نقشوں اور نگاروں کو سماجی رسومات میں بے دردی سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ سب ہونا جیسے لازم بن گیا ہے۔ ایسے جیسے ان سب کے بغیر کوئی سانس نہیں لے سکتا ہے۔

وہ جو میں نہیں بدل سکتی اس کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع کیوں کروں؟ یہ سماجی اصولوں اور رسومات کے غلام ہمیں بھی ان کا غلام بنا دینگے۔ پھر ان کی غلامی سے ہمیں کبھی نجات نہیں ملے گی۔

کیوں نہ میں اپنے اندر حقیقی خوبصورتی کو تلاش کروں، دریافت کروں اور ظاہر کروں جو مجھ میں ہی کہیں چھپی ہوئی ہے اور دکھاؤں ان ہی سماجی اصولوں کے غلاموں کو کہ میں کیا ہوں اور اپنی صلاحیتوں سے کیا کر سکتی ہوں۔

اور اس فہرست میں اپنا نام بھی چمکتے دیکھوں! اور ان کی طرح فخر سے کہوں کہ

میں بے نظیر ہوں۔
میں ملالا ہوں۔
میں منیبہ ہوں۔
میں عابدہ ہوں۔
میں طاہرہ ہوں۔
میں سہائے ہوں۔
میں پروین ہوں۔
میں بینا ہوں۔
میں آمنہ ہوں۔
میں نمرہ ہوں۔
میں لاریب ہوں۔
میں شرمین ہوں۔
میں اپنے ملک کا آج ہوں
میں اپنے ملک کا کل ہوں

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. کاشف احمد دسمبر 12, 2018

    بہت عمدہ تحریر

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *