Type to search

ادب فيچرڈ

اے شأن پیو کے ساتھ ان کے اردو زبان کے شوق کے حوالے سے ایک نشست

یہ اے سین پیو (A.Sean Pue) کے ساتھ کیا جانے والا ایک انٹرویو ہے جو ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے متعلق ہے۔ یہ مقالہ ن م راشد اور جدید اردو شاعری کے متعلق ہے۔ سین پیو نے برکلے اردو لینگوئج پروگرام (BULPIP) کے تحت لاہور میں اردو پڑھی۔ اس کے بعد انہوں نے مشیگن یونیورسٹی میں ہندی زبان اور جنوبی ایشیا کے ادب اور ثقافت کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ وہاں انہوں نے ہندی اور اردو زبانوں کی کلاسوں کا اجرا کیا اور انویٹو گلوبل سٹیڈیز ان آرٹس اینڈ ہیومنیٹیز کے شعبہ تدریس کے اہم ممبر تھے۔ مجھے ان کے ساتھ 2014 میں ایک نشست اور ان کے تجربات کے متعلق بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اس نشست کے درمیان کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

سوال: اپنے بارے میں بتائیے، آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیمی قابلیت خاندانی پس منظر اور بچپن کے یادگار واقعات سے ہمیں آگاہ کیجئے؟

جواب: میں سان ڈیاگو کیلیفورنیا میں پیدا ہوا اور وہیں میری پرورش ہوئی۔ یہ امریکہ کا جنوبی حصہ ہے۔ میری ماں کا تعلق آئر لینڈ سے ہے اور میرے والد کینیڈین اور آئرش نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے ماسٹرز کی دو ڈگریاں حاصل کیں۔ جنوبی ایشیا کے مطالعہ اور مذہبی تعلیم کی ماسٹرز کی ڈگریاں میرے پاس ہیں۔ 1997-98 میں مجھے برکلے کے اردو زبان کے پروگرام (BULPIP) کی بدولت پاکستان میں لاہور شہر میں اردو پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ پروگرام بدقسمتی سے اب بند ہو چکا ہے لیکن اس کی بدولت امریکی دانشوروں کی کئی نسلوں کو اردو سیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد میں کولمبیا یونیورسٹی چلا گیا جہاں سے میں نے مشرق وسطیٰ اور ایشیائی زبانوں اور ایشیائی تہذیب اور ادب و ثقافت میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ میری رہنمائی فرانسس پریچٹ (Frances Pritchett) نے کی جو کہ دنیا کہ مانی ہوئی اردو کی تاریخ دان تھیں۔ اس کے بعد مجھے یونیورسٹی آف شکاگو میں جنوبی ایشیائی زبانوں کے سینٹر میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ایک ذمہ داری سونپی گئی۔ جہاں میں نے جنوبی ایشیا کی زبانوں کے سکھائے جانے والے مواد کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر بنایا اور اس کے علاوہ ہندی اور اردو ادب کی کچھ کلاسوں کو بھی پڑھایا۔ اس کے بعد میں نے ایسٹ لانسنگ میں مشیگن میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ہندی زبان اور جنوبی ایشیا کے ادب اور ثقافت پر تعلیم دینے کا آغا ز کیا۔

سوال: آپ کو ہندی اور اردو زبانوں میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟

جواب: جب میں نے برکلے میں داخلہ لیا تو میرا ارادہ دماغی سائنس پڑھنے کا تھا۔ لیکن میں نے ان لوگوں کو تھوڑا رسمی پایا۔ اور میں کسی ایسے کام میں نہیں پھنسنا چاہتا تھا جہاں سارا دن ڈیسک پر بیٹھ کر کمپوٹر سکرین کو ہی تکتا رہنا پڑے۔ میں نے جنوبی ایشیا کی زبانوں کے متعارف کردہ کورس کی کلاسوں میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ان کلاسوں کو انجوائے کیا اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا۔ میرے پروفیسروں کا خیال تھا کہ میں پروفیسر ادیتیا بہل سے کلاسیں لوں جنہوں نے یونیورسٹی کے شعبہ تدریس کو تازہ تازہ جوائن کیا تھا اور یونیورسٹی آف شکاگو سے اپنا مقالہ جو کہ ہندی رومانویت کے متعلق تھا اسے ختم کر رہے تھے۔ وہ حال ہی میں کم عمری میں وفات پا گئے ہیں جو ان کے ساتھ کام کرنے والے کولیگز اور ان کے طالبعلموں کیلئے بہت افسوسناک امر ہے۔ وہ اپنی نسل کے ایک قابل ترین شخص تھے اور انہیں جنوبی ایشیا کی زبانوں اور ادب پر مکمل عبور حاصل تھا۔ میں نے ان کی جنوبی ایشا کی مذہبی شناختوں کی کلاس میں داخلہ لیا تھا۔ جب میں نے کلاس میں داخلہ لیا تو اس وقت طالبعلموں کی تعداد چالیس تھی جو ایک ہفتے بعد گھٹ کر محض تین تک محدود رہ گئی۔ پڑھنے کا بوجھ بہت تھکا دینے والا تھا۔ انہوں نے مجھے برصغیر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی تہذیبی تاریخ سے روشناس کروایا۔ اردو اور ہندی زبانوں میں میری دلچسپی پیدا کرنے کا کارن بھی وہی تھے۔ میرے خیال میں ان سے میں نے آٹھ یا نو کلاسیں لی تھیں جن میں گرمیوں میں سکھایا جانے والا ہندی زبان کا کورس بھی شامل تھا۔ میں نے ہندی سیکھنے کے دو سالوں بعد اردو کی پہلی کلاس بھی ان سے ہی لی۔ یہ شاید بہت تکلیف دہ تھا۔ ہم نے اردو سکرپٹ سیکھا اور پھر مرزا شوق کی تصنیف کردہ مثنوی زہر عشق کا مطالعہ شروع کر دیا۔ آدیتیہ بہل نے مجھے فرانسس پٹریشٹ کے ساتھ کولمبیا میں کام کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے وہاں فیلو شپ مل گئی۔ میں نے برکلے کے اردو زبان کے پروگرام کیلئے بھی اپلائی کیا اور میں نے لاہور میں اردو سیکھنے کی خاطر گریجویشن کو ایک سال کیلئے مؤخر کر دیا۔

سوال: آپ کی ادب میں دلچسی کیسے شروع ہوئی؟

جواب: میں نے جب گریجویٹ سکول کیلئے اپلائی کیا تو میں ادب پر کام کرنے کا بالکل بھی نہیں سوچ رہا تھا۔ جنوبی ایشیا کے مطالعے میں تاریخ کا مضمون زیادہ تخلیقی رہا ہے۔ اور میری دلچسپی تہذیبوں میں غیر ملکی حملہ آوروں کی تاریخ کے علم اور ادبی تھیوریوں میں گریجویشن سے قبل ہی شروع ہو چکی تھی۔ میں پہلے سے ہی اردو ادب کا مطالعہ کر رہا تھا اور میں لاہور میں قیام کے دوران اردو شاعری کی جانب کھنچتا چلا گیا۔ پھر میں کولمبیا چلا گیا اور فرانسس پٹریشٹ کے ساتھ تعلیم حاصل کی جس نے میری قسمت ہی تبدیل کر دی، کیونکہ وہ ادبی مواد کو پڑھنے اور اردو کیلئے اپنے شوق کے اظہار دونوں میں مہارت رکھتی ہے۔ مزاج کے اعتبار سے میں اعتراضات پر جوابات دینے میں بہتر تھا۔

تاریخی بیانئیے تخلیق کرنے کے کام سے بہتر تھا۔ اس لئے ادبی تنقید میرے لئے ذاتی طور پر بہتر ہے۔ البتہ میں تاریخ ادبی کا مطالعہ ضرور کرتا ہوں۔ امریکہ میں جنوبی ایشیا کے ادب کی تعلیم کچھ عرصے سے جمود کا شکار ہے۔ میرے خیال میں اب ہم ادبی سکالرشپ کا ازسر نو ابھرنا دیکھ رہے ہیں جو مشرقی تہذیب کے فن انتقاد کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے اور اس فلاسفی کو بھی اہمیت دیتی ہے جو اعلیٰ تحقیق کیلئے لازم و ملزم ہوتی ہے۔

سوال: آپ نے ن م راشد کا انتخاب کیوں کیا؟

جواب: جب میں نے کولمبیا یونیورسٹی میں ایم۔اے اور پی ایچ ڈی کا آغاز کیا تو مجھے یہ ادراک نہیں تھا کہ میں کس موضوع پر کام کروں۔ فرانسس پٹریشٹ نے مجھے اردو مثنوی پر کام کرنے کو کہا۔ میں نے اس پر تحقیق شروع کر دی۔ جب میں نے راشد کی جدید اردو کی نظمیں پڑھیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ اس کی شاعری پر تحقیق میرے لئے مناسب کام ہو گا۔ گو مجھے اس کی شاعری سمجھنے میں بہت دشواری پیش آتی تھی لیکن اس کو پڑھنے کے بعد میری حس جمالیات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے تھے۔ میں ایران اور فارسی ادب میں بھی کافی دلچسپی پیدا کر چکا تھا جس کی وجہ فارسی کے مشہور عالم حامد دباشی تھے۔ ان کے ساتھ میں اس وقت رومی کو پڑھ رہا تھا۔ راشد کی شاعری میرے سامراجی دور کے بعد اور تنقیدی تھیوری کیلئے تحقیق میں بھی معاون تھی، اور اس کے پاس قدرت اور تاریخ کے رشتے اور سامراجیت پر کہنے کو بہت کچھ موجود تھا۔ اس لئے میں نے اپنے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کیلئے ن م راشد اور جدید اردو شاعری کا انتخاب کیا۔ نائن الیون کے سانحے کے بعد مجھے پاکستان میں اپنی فیلو شپ دوبارہ بحال کرنے کا موقع نہیں مل سکا، اس لئے میں نے ایک سال بھارت میں کام کر کے گزارا، جہاں میں دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اردو کے شعبے سے منسلک رہا۔ میں نے بھارت میں بہت سے ادب کے نقادوں سے گفتگو کی اور جریدوں کی پرانی کالیاں کھنگالیں۔ میں اس موضوع پر آج بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔ اس لئے یہ ایک درست انتخاب تھا اور اس نے میرے مستقبل کی تحقیقات کیلئے بھی نئی راہیں متعین کیں۔

سوال: آج کل آپ کس پر کام کر رہے ہیں؟

جواب: میں اب اپنے مقالوں کو کتاب کی شکل دینے میں مصروف ہوں۔ میرے پاس اس منصوبے سے متعلقہ کئی مضامین بھی ہیں جو تدریسی رسالوں میں بھی شائع ہو رہے ہیں۔ میں پاکستان میں امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز کی سکالرشپ پر آیا ہوں تاکہ اپنی تحقیق مکمل کر سکوں اور کچھ لیکچر دے سکوں۔ مجھے نعمان الحق اور سلیمہ ہاشمی کی جانب سے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں فیض احمد فیض کے اعزاز میں صد سالہ تقریب پر ایک لیکچر دینے کیلئے مدعو کیا گیا تھا اس لئے میں فروری میں آ گیا۔ اس پیپر کا ایک نظرثانی والاحصہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے تحقیقی رسالے “بنیاد” میں بھی شائع ہو گا۔ میں نقادوں اور لکھاریوں سے بھی مل رہا ہوں اور ن م راشد کی سویں سالگرہ کے موقع پر شائع ہونے والا معیاری معیاد بھی جمع کر رہا ہوں۔

سوال: ن م راشد، فیض احمد فیض کی مانند مقبول شاعر کیوں نہ بن پائے؟

جواب: راشد کی شاعری کو سمجھنا کئی مواقعوں پر دشوار ثابت ہوتا ہے۔ گو یہ سماجی مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ فیض کی شاعری رسمی اردو شاعری کی تجدید نو کرتی ہے۔ راشد اس کے برعکس اردو کلاسیکل شاعری کی رسمی جہتوں سے انحراف کرتے ہوئے نئی اصناف اور استعارے متعارف کرواتا تھا۔ راشد کا پہلا مجموعہ ماورا بہت مقبول تھا یا شاید غیر مقبول۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کی اردو شاعری کی اصناف سے مختلف تھا۔ اس کا دوسرا مجموعہ “ایران میں اجنبی” دراصل ایران کی سیاسی اور تاریخی صورتحال کا عکاس ہے اور اس کو سمجھنے کیلئے تاریخ کے سیاق و سباق کا ادراک و فہم درکار ہے۔ اس کے بعد میں شائع ہونے والے مجموعوں “لا انسان” اور “گمان کا ممکن” میں تاریخ بالخصوص ایرانی نظموں کا ذکر موجود نہیں تھا اور انہیں مسلسل ضرورت سے زیادہ اندرونی عناصر اور جذبات پر مبنی قرار دیا گیا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اس کی وجہ راشد کی اپنی قوم سے دوری تھی کیونکہ ان مجموعوں کا کلام راشد نے بیرون ملک مقیم رہ کر لکھا جب وہ اقوام متحدہ کیلئے کام کر رہے تھے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ اس کا بیرون ملک لکھا گیا نظموں کا کام ایک تمثیل کی مانند ہے جو روایتی اردو ادب کے اجزا کو لیکر انہیں نئی وسعتیں عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران راشد اور اس کی نظموں نے پہلے سے موجود شاعری کی اصناف کے معنی کو تبدیل کرتے ہوئے نئی جہتیں روشناس کروا دیں۔ راشد کو “شاعروں کا شاعر” قرار دیا جاتا ہے لیکن اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اسکی لکھی گئی کئی نظمیں مثلاً “زندگی سے ڈرتے ہو” اور “حسن کوزہ گر” بیحد قابل فہم اور مقبول ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کی نظم “زندگی سے ڈرتے ہو” کے کئی مصرعے حالیہ حکومت کی تبدیلی ہونے والے عمل کے دوران ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے جاتے رہے جبکہ حسن کوزہ گر نظم اکثر محبت اور تخلیق کے درمیان رشتے کو بیان کرتی ہے۔ گذشتہ برس کئی سکالرشپ کے پروگرامز شروع کیے گئے اور میں نے قریب دس کے قریب مضامین اس کی شاعری پر پڑھے ہیں۔ راشد کی شاعری ابھی بھی دلچسپ ہے اور اس کی آواز آج بھی توانا ہے۔ نئی نسل، بالخصوص نوجوانوں کو راشد کی شاعری میں گہری دلچسپی ہے۔ میں حال ہی میں ایک ایسے شخص سے ملا ہوں جو راشد کی زندگی اور اس کے کام پر ایک وڈیو ڈاکومنٹری بنا رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری کتاب راشد کی شاعری سے متعلق نئے نقطہ نظر کو جنم دے گی۔ اس کے ساتھ ہی میں اردو ادب کے بارے میں سوالات اور اردو شاعری اور گہرے نصابی خلا (سامرجی دور کے بعد، اور زمانہ جدید) کو کم کرنے کی کاوش کر رہا ہوں۔ میں اردو ادب کے متعلق دنیا بھر میں پائے جانے والے تفکرات کو بھی دور کرنے کی کاوش کر رہا ہوں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *