Type to search

سیاست فيچرڈ

آج کل سرخوں میں بھی تنقید کے لئے اتنی ہی برداشت ہے جتنی مولویوں میں

میں اگر یہ تسلیم بھی کر لوں کہ میں جاہل ہوں، آپ میری مدد کیجئے اس جہالت سے نجات پانے میں تو اس میں خالصتاً سیکھنے کا جذبہ موجود ہے۔ دوسری جانب سے بھی دو لفظ زیادہ آ جانے سے کسی بھی طرح کے کمپلیکس کا شکار ہونا بنتا نہیں ہے۔ ابھی ابھی ‘فلسفے کا خاتمہ؟’ کے عنوان سے ایک کالم پڑھا، انتہائی معلوماتی اور فلسفے پر آسان باتوں میں کیا جانے والا بہترین تجزیہ ہے۔ محنت کش اور اوزاروں والے معاملے پر میری سوئی ذرا اٹک گئی تھی۔ اس بات کو انتہائی بنیاد سے اٹھا کر تجزیہ کیا جائے، کہ شروع شروع میں محنت، کش مکش کی ضرورت اور سہولت کے مطابق ہی چیزوں نے رنگ ڈھنگ شکلیں بدلیں۔ ٹیکنالوجی کے ترقی کرنے سے مزدور کم وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہے۔ اب جب وہ اپنی محنت بیچ رہا، محنت کاری نے بھی اپنی شکلیں بدل لی ہیں، مزدور سرمایہ دار کا آلہ کار بن گیا ہے۔ آج اگر انڈسٹری دن بدن ترقی کر رہی ہے تو اس میں سرمایہ دار ہی واحد منافع خور ہوا۔ سو اس دور میں ہم فلسفے کو بنیاد اور کچھ اختلافیوں کو ضد بنا کر  کس حد تک جم سکتے ہیں؟ مقابلہ کرا لیں تو اس سے مضبوط نکتہ تو آج کا مسلمان گھڑ لیتا ہے کہ فلسفہ اور سائنس مسلمان کی دین ہے، سو ہے۔

‘پاکستانی لیفٹ کا کنفیوژ آدمی’

مدعا یہ ہے کہ وہاں نشانہ سٹیفن ہاکنگ اور اس کی بکواسیات تھیں، یہاں نشانہ احمد الیاس نامی لکھاری ہے جس کو پچھلے دنوں ‘پاکستانی لیفٹ کا کنفیوژ آدمی’ لکھنے کا ایوارڈ گالیوں اور بدزبانی کے ساتھ مکمل اعزاز کے ساتھ دیا گیا۔ دینے والے کوئی اور نہیں سرخوں کی تنظیموں کے لوگ تھے۔

بائیں بازو کے قوم پرست تحریکوں سے الحاق پر سوال اٹھانا گناہ؟

کالم میں مصنف نے پاکستانی بائیں بازو کی قوم پرست تحریکوں سے الحاق پر سوال اٹھائے۔ قوم پرستی کے آئیڈیا کے مغرب کی طرف مرغوب ہونے پر بات کی گئی۔ اور ایک اہم نکتہ پاکستانی لیفٹ پر کمرشل لبرلزم کی چھاپ کا بھی زیر بحث لایا گیا۔ آخری پوائنٹ کی تفصیل میں ریاست اور مذہب کا ہر صورت ہدف ہونا اور مزدور کلاس کے مسائل کو ثانوی حیثیت ملنا شامل کیا گیا۔

لیفٹ کے لوگوں میں یہ چیز دوسروں سے قدرے زیادہ پائی جاتی ہے

افسوس اس بات کا ہوا کہ اس کالم کو لے کر ہم نے وہی کچھ کیا جس کی شکایت ہم ریاست اور مذہب سے کرتے ہیں۔ پاکستانی لیفٹ میں آج بہت کم ایسے لوگ رہ گئے ہیں جو صحیح معنوں میں سیکھنے اور جدوجہد کو آگے بڑھانے کی غرض سے مطالعہ کرتے ہیں۔ مجھے اس کا اندازہ تب اتنا نہیں تھا جب میں نیا نیا سیاست کے ایک نئے رخ، مارکسزم، سوشلزم سے متعارف ہوا۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اس کا اندازہ ہوتا گیا کہ ہم مطالعہ محدود اور اس کا دکھاوا دوگنا کرتے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم سب میں ذرا ابھرے ابھرے سے نظر آئیں۔ یہ بات مجھے کامریڈ صبغت کے کالم پڑھنے کے بعد زیادہ بہتر سمجھ آئی۔ کالم میں سوچ کی وہ پختگی کا احساس کچھ کچھ ہوتا رہا، ساتھ ہی ان کا سوشل میڈیا پر گالم گلوچ والا رویہ مجھے اس نتیجے پر لے آیا کہ یہ دراصل وہ انتشار ہے جو خود کو سب سے افضل سمجھنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ لیفٹ کے لوگوں میں یہ چیز دوسروں سے قدرے زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو بعد میں کمپلیکس کا شکار کر دیتا ہے۔ نتیجہ شدید انتشار کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ احمد الیاس کے کالم پر لیفٹ کے اس شدید رویے نے یہ بات مزید واضح کر دی ہے۔

لیفٹ کے دھڑے ایک ساتھ بیٹھ نہیں سکتے

پاکستان میں لیفٹ کے بھی اب کئی دھڑے ہیں۔ لیکن ان میں اتفاق سے بیٹھنا آج تک نہیں دیکھا گیا۔ منظور پشتین والے معاملے پر لیفٹ کے ہاں ایک الائنس ظاہر تو ہوا مگر اس کی افادیت پر سوال منظور پشتین کے لاہور جلسے میں ہی اب تک کھڑا انتظار میں ہے کہ اس کی اہمیت پر کوئی بات تو کرے۔

ہم مذہب اور ریاست پر تنقید کرنے والے لیفٹ کے لوگ خود کتنے مختلف ہیں؟

کالم پر واپس آتے ہیں۔ میرے ایک انقلابی دوست نے مجھ سے کہا کہ میں اس کالم پر اگر کوئی ردعمل دیتا تو صرف ہنس دیتا اور آگے بڑھ جاتا۔ یہ رویہ انتہائی سنگین مسئلے کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ مگر اس سے بھی شدید ردعمل سرخوں کی ایک تنظیم کی طرف سے آیا۔ ہمارے کامریڈ ساتھیوں نے گالم گلوچ، اور بدلحاظی سے ماحول انتہائی کشیدہ کر دیا۔ سوشل میڈیا پر کالم نگار کو کالم لکھنے اور مجھے اس پر رائے دینے پر خوب رگیدا گیا۔ اس پر میں اب تک بہت پریشان سا ہوں کہ ہم لیفٹ کے لوگ اس بات پر احتجاج کرتے ہیں کہ ریاست اپنا مدعا رکھتی ہے اور مخالف مدعا رکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایسا کرنے والوں کو سنگین نتائج دیکھنا پڑتے ہیں جو ریاست کی متعین کی گئی حدود کو عبور کرتے ہیں۔ ہم مذاہب کے ان رویوں پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ جب وہ پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب نہیں رکھتے تو ان سوالوں کو دبانے پر زور دیتے ہیں۔ ہم ایک جانب یہ سب اپنی اولین ذمہ داری سمجھ کر کرتے ہیں، دوسری جانب وہی رویہ خود بھی اپنائے ہوئے ہیں جس کی توجیہات تاریخ کی کڑیوں سے جوڑی جاتی ہیں۔ کیا یہ عمل واقعی تضاد نہیں رکھتا؟ کیا اس زمرے میں آپ پر لگنے والا الزام کہ آپ لبرلز کا فرنٹ فیس بن گئے ہیں درست ثابت نہیں ہوتا؟

مارکس صاحب کوئی مقدس ہستی نہیں تھے

مولویوں کا کام ہمارے سرخوں نے پکڑ لیا ہے اور نجانے کیوں اب ان کو علاوہ خود کے، سوال کرنے والے اچھے نہیں لگتے۔ جناب نہ تو مارکس صاحب کوئی اتنی مقدس ہستی تھے اور نہ انہوں نے اپنی تھیوریز کو خدائی صحیفے کہہ کر اپنی امت کو اس کی حفاظت اور پھیلاؤ کا بیڑا دے رکھا ہے۔ ہم کیوں بلاوجہ سوچ اور کام کے تناظر کو چھوڑ کر شخصیات کو نکتہ آخر بنائے بیٹھے ہوئے ہیں؟ کوئی کچھ بھی پوچھ لے تو وہ سامراج کا ساتھی تصور کر لیا جاتا ہے اور منہ سرخ کر کے جو منہ میں آئے نکال جاتا ہے۔ مارکس اس ارتقائی شکل کو دیکھ کر خود بھی زندہ رہنے کو ترجیح نہ دیتے۔ دوست ایک انگریزی ناول کا ذکر اکثر کرتا ہے جس میں عیسیٰ اس دور میں دوبارہ آتے ہیں اور اپنے ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ اللہ اللہ کر کے یقین آ بھی گیا تو پادری نے یہ کہہ کر ان کی سزائے موت کے حکم پر مہر لگا دی کہ بیشک کہ آپ سچے ہیں، مگر اب ہمیں آپکی تعلیمات کے صحیح تناظر کی ضرورت نہ رہی ہے۔

پارٹی کا الیکشن دفتر اسلام آباد کے پوش علاقے میں بنا کر غریبوں کو کیا پیغام دیا گیا؟

ایک اور لیفٹ کی پارٹی کے ایک نوجوان کارکن سے پوچھا گیا کہ سیاست عام لوگوں کی اور الیکشن کے دوران نعرے اسلام آباد کے پوش علاقوں میں تو جواب ملتا ہے کہ یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جس کے مقاصد تشہیر تک ہی تھے، ہمیں معلوم تھا کہ ہم جیت نہیں سکتے۔ پوچھا جائے کہ ایک حلقہ تو اسلام آباد میں بسے دور دراز گاؤں وغیرہ سے آئے لوگوں کی اچھی بھلی تعداد والے علاقے سے ہوتا تاکہ یہ ثابت تو ہوتا کہ آپ عام لوگوں کی پارٹی ہیں۔ پارٹی کا الیکشن دفتر اسلام آباد کے پوش علاقے میں بنا کر غریبوں کو کیا پیغام دیا گیا کہ ساری سیاست ہی آپکی ان کے سر پر تھی۔ الیکشن کے ہارنے پر آئندہ کے لائحہ عمل پر سوالات ہوں تو جواب آتا ہے کہ یہ پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں اس سب سے کسی تیسرے شخص کا بھلا کیا لینا دینا۔

یہ سب اس لئے کہ آپ اپنے مفادات سے نکل کر اصولی سیاست کی طرف نہیں آ سکتے؟

صرف یہی کہہ دیا جائے کہ جو کام کر رہے ہیں اس کا طرز ٹھیک معلوم نہیں ہوتا، تب بھی غصہ۔ این جی اوز سے وابستگی کے معاملے سے تو ایسے بھاگا جاتا ہے جیسے چوہا بلی کو دیکھ کر بھاگتا ہے۔ کیا یہ سب اس لئے کہ آپ اپنے مفادات سے نکل کر اصولی سیاست کی طرف نہیں آ سکتے؟ تو پھر لوگوں کو کس بنیاد پر سیاست پر راغب کیا جاتا ہے؟ کچی آبادی میں ایسے لوگ بھی دیکھے گئے ہیں کہ جن کی نوکریاں سیاست کی نظر ہوئیں اور وہ کچھ نہ بولے۔ ایسے لوگوں کے لئے آپ یا تو فل ٹائم سیاست میں آئیں یا بیان کر دیں کہ این جی او سے وابستگی ختم نہیں ہو سکتی۔

کیا فیض احمد فیض سامراجی ایجنٹ تھے؟

جب تشدد پسند رویوں کی بات ہوتی ہے تو فیض اور مودودی کی ہاتھ ملاتے، مسکراتے، تصویر کا عکس ذہن میں بن جاتا ہے جو پاکستان ٹائمز کے فرنٹ پیج پر کسی دور میں لگی تھی۔ کیا فیض احمد فیض سامراجی ایجنٹ تھے؟ آپ تو اس بات کے قائل ہونگے کہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے عروج سے خوفزدہ ہو کر ضیا نے جالب کے بقول آپ پر ڈنڈا رکھا تھا۔ نفرت زدہ ماحول کا بیج ضیا نے بویا تھا۔ اس سے پہلے لاہور کے چائے خانوں کی میزوں پر بیٹھے دھواں اڑاتے ان صاحبان کا ذکر نہ ہو تو زیادتی ہوگی۔ سوالوں اور بحثوں سے بیزاری کی جڑیں اگر آپ لیفٹ کی اپنی ہی عالمی جڑوں میں ڈھونڈتے ہیں تو رواں دور میں ایسی بے سمتی نفرت اور تشدد پسندی کی سوچ کو آپ واقعی لیفٹ کی اساس سمجھتے ہیں؟

’نیشنلزم کی جڑیں تاریخ کے دوسرے دہانے پر دبی ملتی ہیں‘

اس سب کے برعکس کامریڈ ایاز ملک نے اس بحث کو بہترین رخ دیا۔ چونکہ یہ ایک حاصل کن بحث تھی۔ آخر کار اپنے ہدف کو پہنچی۔ کامریڈ نے مذہب اور ریاست پر تنقید برائے تنقید کے لبرل ایجنڈوں کی پہلی صفوں میں سرخوں کے پیش پیش ہونے کا اعتراف کیا۔ ساتھ ہی ساتھ نیشنلزم کی بحث میں حاصل کن اضافہ بھی کیا۔ ایاز نے کہا کہ نیشنلزم کی جڑیں تاریخ کے دوسرے دہانے پر دبی ملتی ہیں۔ اشتراکی تحریکوں کا محور سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ارتقا کے سائنسی/ مادی تجزئیے کو قرار دیتے ہیں۔ اس بحث میں تب دوسرے دوستوں نے بھی حصہ لیا اور جن چیزوں پر سوئی پھنس رہی تھی، بہت سے خیالات وہاں سے آگے کو یقیناً بڑھے ہی ہونگے۔

یہ بھلا کیا جواز ہوا کہ آپ کو دانشوروں سے بات نہیں کرنی؟

اس بات کو تسلیم کر لینے میں بھی بھلا کیا غلط ہے کہ مصنف واقعی میں ایک کمزور تحریر لکھنے کا مرتکب ہوا ہو؟ ہاں تو کیا قلم حرکت چھوڑ دے؟ خود کے لئے سپریورٹی کا احساس اور دوسروں کے لئے کمی کا احساس پال لینے سے تو معاملہ آگے نہ بڑھے گا۔ اب یہ بھلا کیا جواز ہوا کہ آپ کو دانشوروں سے بات نہیں کرنی نہ آپ ان کو جواب دہ ہیں؟ بقول آپ کے آپ صرف کام پر یقین رکھتے ہیں اور بات بھی صرف سیاسی کارکنان سے کرنا پسند کرتے ہیں۔ جناب اتنی دقیانوس سوچ تو ہمارے اسلامی بھائیوں میں بھی اب باقی نہ رہی ہو۔ یہ تو بحث نہ کر سکنے کی کمزوری کا پرچار ہے جو انتہائی درجے کا ذہنی کمپلیکس کہلاتا ہے۔ اگر آپ گالی گلوچ، ڈنڈے بجاؤ کلچر کی حمایت نہیں کرتے تو جناب غصہ جانے دیجئے، آئیں بیٹھ کر چائے پئیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *