Type to search

سیاست فيچرڈ فیچر

ایم پی اے ثانیہ عاشق کا نواز شریف کے نام کھلا خط

محترم میاں محمد نواز شریف صاحب

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

چند دن پہلے نیب کورٹ سے باہر نکل کر آپ نے شعر پڑھا

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

یوں محسوس ہوا کہ آپ ہم سب سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تم سب اس ملک کیلئے میری قربانیوں کا اعتراف بیشک مت کرو لیکن میں پھر بھی اس ملک کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ آپ کے عزم کیساتھ کہیں نہ کہیں وہ خلِش ضرور محسوس ہوئی جو آپ جیسے محسن کو ہم جیسی محسن کُش قوم سے ہو سکتی ہے۔

آج بس آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بیشک تمام عمر دائروں کا سفر کرتے گزری لیکن پچھلی تین دہائیوں میں صرف آپ ہی ہمیشہ تبدیلی کی ہوا بن کر آئے۔

آپ نے ہمیں خواب دکھائے، اور نہ صرف خواب دکھائے بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کو جب بھی موقع ملا آپ نے ان خوابوں میں رنگ بھی بھرے۔

پہلی موٹر وے بنانے کا عزم کیا تو مخالفین نے ڈٹ کے مخالفت کی، مذاق اُڑایا مگر میرے اللہ نے وہ دن بھی دکھایا جب آپ نے موٹر وے کا افتتاح کیا۔

ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا عہد کیا تو تمام عالم کی مخالفت مول لے لی، اپنی دو تہائی اکثریت کی قربانی دے دی، مگر ایٹمی دھماکے کر کے ہی دم لیا۔

جنابِ عالی، 2013 میں مانسہرہ جلسے میں آپ نے پاک چائنہ راہداری کا جو نقشہ پیش کیا تو ہم سب بھی اسے سمجھنے سے قاصر تھے کہ شاید ہماری زندگیوں میں ایسا کبھی ممکن نہ ہو۔ مخالفین نے اس کا بھی ٹھٹھہ اُڑایا لیکن چشمِ فلک نے دیکھا کہ سی پیک پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بن کر ابھرا۔

تمہید لمبی ہوتی جا رہی ہے مگر کہنا فقط یہ ہے کہ ہماری ترقی کا سفر آسان کرنے کی سعی بس آپ نے ہی کی۔ آپ نے ہمارا ہر خواب ممکن کر دکھایا، یہ جو آخری خواب آپ نے دکھایا ہے، یہ بھی آپ نے ہی ممکن کر کے دکھانا ہے۔ ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ نے اپنے حصے کا کام ضرور کیا۔ آپ جیسے رہنما کی رہنمائی میسر رہے تو ہمارا مقدر ایک انصاف پسند معاشرہ ہی ہے جس کی باگ ڈور اس کے عوام کے ہاتھ میں ہو۔ آج یا کل، کل یا پرسوں جب بھی اس خواب نے حقیقت کا روپ دھارا، اس میں آپ کی قربانیوں کا ذکر ضرور ہو گا۔

آج جب آپ کی سالگرہ کا دن ہے، تو آپ تب بھی ہمارے لئے سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔ آپکی استقامت اور لگن ہی ہماری کامیابی کی نشانی ہے۔

ہٹا دیں گے ہر اِک سنگِ گراں کو اپنے رستے سے
نمایاں اپنی شانِ استقامت کر کے چھوڑیں گے

Tags:

2 Comments

  1. کاشف احمد دسمبر 25, 2018

    زبردست

    جواب دیں
  2. Malik Faheem دسمبر 25, 2018

    سن 1998 تھا، ملک میں مارشال لاء نافز کیا گیا، ملک میں ہر دل عزیز فوج نے قبصہ کیا، قوم نے مٹھاہی بانٹھی !! ملک میں چند لوگ تھے جو فوج کے خلاف بولے ، لیکن کوہی جلسہ کوہی احتجاج نھی ہوا، وقت بیت گیا، پوری پی پی پی اور پوری ن لیگ ملک سے باہر تھئ، 2003 کے الیکشن ہوے، ن لیگ کو صرف 13 سیٹس ملی، قوم کے کرپٹ ترین سیاست دان جدہ اور لندن میں تھے، پھر کیا ہوا کہ 2008 میں فوج قوم میں اتنی بدنام ہوں گی کہ فوجی واردی میں کینٹ سے باہر نھی نکل سکتے تھے، وجہ یہ تھی کہ جو سیاسی خلا طاقت کے زور پر پیدا کیا گیا تھا وہ طالبان نے آ کر پور کیا، یہ ہی جنھے آج پوری ابو تاب کے ساتھ کرپٹ چور، ڈاکو کا گھٹیا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے انھوں نے اسی افواج پاکستان کو ڈاھال فراہم کی، ملک کی افواج پر حملے ہوں رہے تھے، انھوں نے غصہ زاہل کیا، ملک ان کی تخواہ اور مرات ڈبل کی، دفاہی بجٹ 1100 ارب روپے تک کیا، دینی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر طالبان کے مزہبی کمپین کو روکا، ملک میں ملٹری کوٹس کی منصوری دی، مل بھر میں سیف سیٹس پرجیکٹ، فروزک لیبز قاہم کی، ملک بھر میں پولیس اور افواج پاکستان کو اپریشن کرنے کی اجازت دی، افغانستان کے بارڈر پر خار دار فینس لگانے کے لیے اربوں روپے کا بجٹ اناونس کیا، 10 سال باد جو اگ جنرل مشرف نے لگاہی تھی انھی کرپٹ سیاست دانوں نے اس پر قابو پایا اور افواج پاکستان کا مورال بلند کیا !! انشاللہ نواز اور زردای کو فاطمہ جناح اور شہید شہروری کی طرح کھوڈے لین لگایا جاہے گا لیکن پھر خلا کو کون پر کرے گا؟ کوئی شیخ مجیب؟

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *