Type to search

سیاست فيچرڈ

اسلامی پاکستان، سیکیولرازم اور کپتان تاریخ کے آٸینے میں

پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے ممتاز عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد کی ویڈیو پر مشتمل ایک ٹویٹ کی جس میں ڈاکٹر اسرار احمد قاٸداعظمؒ کے آخری ایام کے ایک واقعے کی مدد سے جو کہ ٹی بی کے ایک ڈاکٹر ریاض علی شاہ صاحب کی کتاب کے ترجمے سے لیا گیا تھا (جسے جنگ اخبار نے 1980 میں شاٸع کیا) یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ قاٸداعظم مذہبی عقاٸد پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظمؒ نے وفات سے چند روز قبل فرمایا کہ

’تم جانتے ہو کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے، تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا، میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے‘۔

اس کے علاوہ کچھ دن قبل مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی عمران خان کے ریاست مدینہ کے عزم کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستانی تاریخ کے یہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے پاکستان کی ریاست کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا اس لئے تمام پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم کا اس مقصد میں بھرپور ساتھ دیں۔

اس کے بعد سے وزیراعظم لبرل اور سیکیولر حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں اور کچھ لوگوں نے ڈاکٹر اسرار اور مولانا طارق جمیل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو ٹویٹ کی جہاں تک بات ہے تو اس میں ایک اہم بات تو محمدؐ کے روحانی فیض کی تھی، اس پر کیا تبصرہ کرنا؟ مسلمانوں کا تو یہ ایمان ہے کہ پاکستان کیا، حضرت محمدؐ تو وجہ تخلیق کاٸنات ہیں۔ اور دوسری اہم بات خلافت راشدہ کے قیام کی تھی جس کو لبرل حلقوں میں طالبان کی حکومت کا قیام سمجھا گیا اور کچھ لوگوں نے یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ قاٸداعظم تو سیکیولر نظریات کے حامل تھے۔ یہ بھی ایک قسم کی انتہا پسند سوچ ہے جسے ہم لبرل یا سیکیولر انتہا پسندی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اپنےحق میں قاٸداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس میں قاٸداعظم نے فرمایا تھا کہ

”آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔“

میری نظر میں قاٸداعظم نے یہ بات پاکستان میں اقلیتوں کے ان حقوق اور مذہبی آزادی کیلئے کہی تھی جو اسلام نے ایک مسلم ریاست میں لازمی قرار دیے ہیں۔ سیکیولر حلقے اس بات کی جو تعبیر کر رہے تھے، قائد اعظم نے خود اس کی نفی کر دی تھی۔

25 جنوری 1947 کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے دو ٹو ک انداز میں فرمایا تھا

’اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی کے لئے اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے قابل عمل تھے‘۔

نیز یہ ہمارے نبی حضرت محمدؐ کی سنت بھی ہے اور جب بھی کوٸی عظیم قاٸد کوٸی فتح حاصل کرتا ہے تو اس کی عظمت معاف کرنے، غلاموں کو آزاد کرنے اور لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنے سے ہی جھلکتی ہے۔ جب دین اسلام کی تکمیل ہوٸی اور حضرت محمدؐ نے آخری حج ادا کیا تو خطبہ حجة الوداع میں ایک موقع پر فرمایا کہ

دیکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر اور کسی سرخ کو کسی کالے، سیاہ پر کوئی فضیلت و امتیاز نہیں، مگرہاں تقویٰ کے سبب۔

اسی طرح خطبہ حجة الوداع میں ہی ایک اور موقع پر حضرت محمدؐ نےاسلامی ریاست، حکومتی قوانین اور احکامات کی اطاعت، اسلامی ریاست کے دولت مند لوگوں کو زکوٰة ادا کرنے (جسے آج کے اعتبار سے زکوٰة کے ساتھ ساتھ ٹیکس ادا کرنے کے زمرے میں بھی لیا جا سکتا ہے) اور دین میں انتہا پسندی سے بچنے کی تلقین بھی کی، فرمایا کہ

خوب سن لو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو، نماز پنج گانہ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے (رب کے) گھر (خانہ کعبہ) کا حج کرو، اپنی زکوٰة خوشی خوشی دیا کرو، اپنے حکام کی اطاعت کرو (اس طرح ان امور کی انجام دہی کے بعد بطور اجر) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاوٴ۔

خبردار! دین میں غلو (مبالغہ آمیزی، انتہا پسندی) سے بچو، اس لئے کہ تم سے پہلے جو (قومیں) تھیں وہ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں۔

اللہ سے ڈرو! (ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو) اور لوگوں کو ان کی چیزیں (ناپ تول میں) کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد کرتے نہ پھرو۔

اس سے قبل مدنی دور میں حضرت محمد ﷺ نے اسلامی حکومت قائم بھی کر کے دکھاٸی۔ اسلامی سیاست اور اسلامی ریاست کے دائرہ کار کا تعین بھی کیا اور اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے حقوق سے لے کر اپنے مسلم غربا و یتامیٰ و مساکین و مظلوم و محکوم و متاثر و مستحقین کے حقوق بھی متعین کر دیے تاکہ قیامت تک اسلام کے ذریعے یا اسلام کے نام پہ بننے والے نظاموں، حکومتوں، ریاستوں اور معاشروں کو اسلام کے نظام کی حدود و قیود کا ادراک ہو جائے۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ قاٸداعظم نے گیارہ اگست کی تقریر سے قبل اور بعد میں بھی بہت تقاریر کی تھیں جن میں پاکستان کو اسلامی اصولوں پر مبنی فلاحی ریاست بنانے کا اشارہ دیا۔ ان تقاریر کو کیوں نظرانداز کر دیا جاتا ہے؟ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ایک لیڈر کی ہر تقریر کو آٸین کا حصہ یا مستقبل کا خاکہ تصور کیا جا سکتا ہے؟ میری نظر میں تقاریر کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے بانیان کا طرز عمل اور پوری جدوجہد آزادی اور اس جدو جہد آزادی کے پیچھے کارفرما عوامل کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔ اگر ایسا کریں گے تو اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست ہی ہونا چاہیے۔

قاٸداعظم بہرحال ایک سیاست دان بھی تھے۔ سیاست دان رائے عامہ ملکی مفادات کے حق میں کرنے کے لئے کچھ ایسے بیانات بھی دیتے ہیں جو وقت کی ضرورت ہوتے ہیں۔ 11 اگست کی تقریر ایک ایسے وقت میں کی گٸی جب دنیا بھر میں اور بالخصوص پاکستان میں رہنے والی غیرمسلم اقلتوں میں مذہب کے نام پر بننے والے پاکستان میں غیر محفوظ ہونے کا احساس پایا جا رہا تھا۔ حالانکہ تقسیم کے وقت یا بعد میں پاکستان میں بھارت جیسی اقلیتوں کی نسل کشی کا کوٸی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے باوجود کہ بھارت میں سیکیولرازم کا پرچار تھا، پھر بھی ہجرت کرتے مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اسی طرح تقسیم کے بعد بھی بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ ظلم اور نسل کشی کے واقعات ہوتے رہے ہیں جبکہ پاکستان میں اس طرح کے ظلم کی کوٸی مثال نہیں ملتی۔ ہاں نچلی سطح پر انفرادی معاملات ہوتے رہے ہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے۔ کیا کوٸی سیکیولرازم و لبرل ازم کا حامی آج اس بات کی گارنٹی دے سکتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے؟ اگر کوٸی ایسا کہہ دے تو میں بھی اسلامی نظام کے مطالبے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہوں۔

اگر میں اپنی بات کو یوں بھی سمجھا سکوں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو یہ احساس ہوا کہ عالمی طاقتیں ان کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کے جرم میں منظر سے ہٹانا چاہتی ہیں تو انہوں نے اسمبلی کے فلور پر حلفیہ دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم نیوکلیٸر ٹیکنالوجی کبھی جنگی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کریں گے بلکہ پرامن مقاصد جیسے کہ تواناٸی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔ یہ تقریر یو ٹیوب پر آج بھی موجود ہے تو اب سیکیولر حلقوں کو چاہیے کہ وہ ایٹمی پروگرام بھی بند کروا دیں کیونکہ اس پروگرام کے بانی نے یہ کہا تھا کہ ہم جنگی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کریں گے، لیکن بعد میں ہم نے میزاٸل بھی بنا لیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاستدانوں کی تقاریر سیاسی میدان تک ہی رکھنی چاہئیں۔ ہر تقریر کو آٸینی و قانونی معاملات میں گھسیٹنا کوٸی عقلمندی نہیں ہوتی۔ سیاسی تقریر جھوٹ بھی نہیں ہوتی۔ لیکن مکمل سچ بھی نہیں ہوا کرتی۔ جمہوری معاشروں کی خوبصورتی اسی میں ہوتی ہے کہ وہاں کسی کی خواہش پر آٸین نہیں بنا کرتے بلکہ اجتماعی دانش سے بنتے ہیں۔ ترکی کبھی لبرل ہوا کرتا تھا۔ آج وہاں اخوان کا راج ہے۔ اسی طرح ایران میں بھی لوگوں کی اکثریت جب ایک نظریے پر اکھٹی ہوٸی تو وہاں بھی تبدیلی آ گٸی۔ ایسی بہت سی اور مثالیں موجود ہیں اور جمہوری معاشروں میں تو ہر دور کے لوگوں کی اجتماعی دانش ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ نظام کیسا ہونا چاہیے اور کیا تبدیلی لانی چاہیے۔ اگر آپ اکثریت کی رائے کو رد کریں گے تو پھر انقلاب سر اٹھاتا ہے۔

11 جنوری، 1938 کو ریلوے سٹیشن بہار پر ایک بہت بڑے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے مسلم لیگ کا جھنڈا لہرا کر فرمایا،

’آج اس عظیم الشانٕ اجتماع میں آپ نے مجھے مسلم لیگ کا جھنڈا لہرانے کا اعزاز بخشا ہے۔ یہ جھنڈا در حقیقت اسلام کا جھنڈا ہے، کیونکہ آپ مسلم لیگ کو اسلام سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ بہت سے لوگ، بالخصوص ہمارے ہندو دوست ہمیں غلط سمجھے ہیں۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ یہ جھنڈا اسلام کا جھنڈا ہے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مذہب کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں، حالانہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک مذہب ہے بلکہ اس میں قوانین، فلسفہ اور سیاست سب کچھ ہے۔ درحقیقت اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایک آدمی کو صبح سے رات تک ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو ہم ایک اسے ایک کامل لفظ کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ ہمارا کوئی غلط مقصد نہیں، بلکہ ہماری اسلامی ضابطہ کی بنیاد آزادی، عدل و مساوات اور اخوت ہے‘۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمارے دین میں حقوق العباد کو بے انتہا اہمیت دی گٸی ہے، قرآن و حدیث میں بھی جابجا انسانی حقوق کا تو ذکر ہے ہی لیکن اگرصرف پورے خطبہ حجة الوداع پر ہی غور کر لیا جائے تو یہ آپ کو انسانی حقوق کا ایک عظیم دستور نظر آئے گا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انسانی حقوق اور انسانیت کا جذبہ تو ہے ہی مسلمانوں کی میراث اس کے باوجود اگر ہم مدینے کی ریاست اور خلافت راشدہ کے قیام کی بات سے صرف اس لئے خوف کھاٸیں کہ انسانی حقوق پامال ہونگے تو پھر اسے لبرل انتہا پسندی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ بحث تو یہ ہونی چاہیے کہ ہم دین اسلام کی درست تشریح پر کس طرح متفق ہو سکتے ہیں اور پھر کس طرح اس کا نفاذ ہو سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم مغربی ممالک کے بنائے انسانی حقوق کا حوالہ دیں اگر ہم اپنے ہی دین کا حوالہ دیں تو ہماری بات مسلمانوں کے لئے زیادہ پر اثر اور پر کشش ثابت ہوگی اور دنیا بھر میں اسلام کا صحیح تشخص بھی پیش کیا جا سکے گا، بجائے اس کے کہ ہم سیکیولرازم اور لبرل ازم جیسی لادینی اصطلاحوں کا استعمال کریں۔

قاٸداعظم 6 مارچ 1946 کو فرماتے ہیں

’ہمیں قران پاک، حدیث شریف اور اسلامی روایات کی طرف رجوع کرنا ہو گا جن میں ہمارے لئے مکمل رہنمائی ہے، اگر ہم ان کی صحیح تر جمانی کریں اور قراٰن پاک پر عمل پیرا ہوں۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ اگر وزیراعظم نے خلافت راشدہ اور مدینہ جیسی فلاحی ریاست کے قیام کی بات کی ہے تو اس کی حمایت تو تمام مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔ ہاں، دین اسلام کی کسی مخصوص تشریح سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن وزیراعظم کی اس خواہش پر تنقید تو نہیں کی جا سکتی۔ بحیثیت مسمان ہم سب کی یہی خواہش ہونی چاہیے کہ پاکستان میں خلافت راشدہ اور مدینے کی ریاست والا نظام نافذ ہونا چاہیے اور میری نظر میں مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی عمران خان کی سیاسی حمایت نہیں کی بلکہ صرف ان کے  پاکستان کو ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کےعزم کی حمایت کی۔ اسی طرح ڈاکٹر اسرار کی ویڈیو میں جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے وہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے بنسبت اس سوال کے کہ کیا اس ٹویٹ کا یہ مطلب لیا جائے کہ ریاست مدینہ کسی خاص عالم دین کے نظریات پر مشتمل ہوگی؟ یہ فیصلہ تو بہرحال ریاست کے اداروں نے ہی کرنا ہے کہ نظام میں کس قسم تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔

ماہ فروری 1948 کو قائد اعظم نے ریڈیو پاکستان پر اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ

’پاکستان کا آئین ابھی پاکستان کی قومی اسمبلی کو بنانا ہے۔ مجھے نہیں معلوم اسکی شکل و شباہت کیا ہوگی۔ مجھے یہ یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا جو اسلام کے اصولوں پر مشتمل ہوگا۔ جو آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح آج سے تیرہ سوسا قبل قابل عمل تھے‘۔

میری ذاتی رائے میں پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم یا جھٹلایا نہیں جا سکتا کیونکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے اور دو قومی نظریہ کی بنیاد دو الگ الگ مذہب ہی تھے جس کی وجہ سے ایک ہی خطے میں بسنے والے لوگوں کی ثقافت اس قدر مختلف تھی کہ جس کی وجہ سے ان دو قوموں کا ایک ساتھ رہنا مشکل تھا جو کہ پھر بعد میں بر صغیر کی تقسیم کی وجہ بنا۔

کانگریس سیکیولر نظریات رکھنے والی جماعت تھی لیکن چونکہ ہندو اکثریت میں تھے اور لابنگ کی مدد سے وہ مسلمانوں کی ایک نہیں چلنے دیتے تھے جسے دیکھتے ہوئے قاٸداعظم نے بھی اپنا مٶقف تبدیل (عمران خان کی زبان میں ”یوٹرن“) کرتے ہوئے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔

اگر سیکیولر نام کی کوٸی چیز ممکن ہوتی تو قاٸداعظم کبھی بھی کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں نہ آتے۔ قاٸداعظم پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ سیکیولر کوٸی شے نہیں سوائے اس کے کہ آپ ملک کی اقلیت کو جھوٹی تسلی دے دیں۔ انسان کی فطرت میں تعصب ہے جس کی وجہ سے پچھلی قوموں نے پیغمروں تک کو جھٹلایا اور ان کا انکار کیا۔ اگر قاٸداعظم سیکیولر پاکستان چاہتے تو وہ مسلم لیگ کا نام تبدیل کرنے کی ضرور کوشش کرتے اور ”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“ اور پاکستان کا مطلب کیا لاإله إلا الله جیسے نعروں کی حوصلہ شکنی بھی کرتے مگر میری نظر سے کبھی کوٸی ایسا واقعہ نہیں گزرا۔ پھر قاٸداعظم یہ بھی جان چکے تھے کہ اگر ہندو اور مسلمان مشترکہ طور پرانگریزوں سے آزادی حاصل بھی کر لیں تو ہندو قوم کی اکثریت کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ان کے تعصب کا شکار رہیں گے۔

اب یہ ایک لمبی بحث ہے کہ جن مسلمانوں (جو کہ ہندو اکثریتی علاقوں میں رہتے تھے جو کہ براہ راست ہندوؤں کے مظالم کا شکار تھے) کوالگ وطن کی سب سے زیادہ خواہش اور ضرورت تھی ان میں سے بہت کم تعداد ہجرت کر کے پاکستان آٸی اور باقی مسلمانوں کا ہجرت کے دوران قتل عام دیکھ کر یا پھر کچھ دوسری وجوہات کی بنا پر ہجرت نہ کر سکی جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں کے وہ مسلمان جو براہ راست ہندوؤں کے مظالم اور تعصب کا شکار تو نہیں تھے لیکن انگریزوں نے اس خطے کے مسلمانوں کو کہیں تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول کے تحت اور کہیں خان، ملک، وڈیروں اور جاگیرداروں کے ذریعے محکوم اور پسماندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیم سے بھی محروم رکھا ہوا تھا جبکہ ہندوؤں کے قرب میں رہنے والے مسلمان نسبتاً تعلیم یافتہ تھے بعد میں یہ مسلم اکثریتی خطہ پاکستان کا حصہ بن گیا لیکن انڈیا میں رہ جانے والے مسلمان پہلے سے چھوٹی، مظلوم اور محکوم اقلیت بن کر رہ گئے۔

قاٸداعظم کے مد نظر یہ بات تھی کہ اگر وفاق میں ہندوؤں کی حکمرانی ہوگی تو مسلم اکثریتی صوبے اسی طرح کنٹرول کیے جاٸیں گے جس طرح برطانوی سامراج کر رہا ہے۔ انہیں خدشہ تھا کہ اس خطے کے مسلمان بدحال ہی رہیں گے کیونکہ وہ کانگریس کی صورت حال دیکھ چکے تھے اس لئے انہوں نے ابوالکلام آزاد کے نظریات سے اختلاف رکھا اور جتنے مسلمانوں کو وہ اکثریت کے تعصب سے بچا سکتے تھے وہ قیام پاکستان کی صورت میں کر گئے۔ رہی بات ابوالکلام آزاد کی تووہ بھی اپنی جگہ درست تھے۔ گستاخی معاف ہو تو میں یہ کہوں گا کہ ابوالکلام آزاد عالمی نظام اور عالمی طاقتوں کی حقیقت سے واقف تھے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قاٸداعظم کو اس کا ادراک نہیں تھا۔ وہ بھی ادراک رکھتے تھے، تبھی قائد اعظم نے 26 مارچ 1948 میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:

’آزادی کا مطلب بے لگام ہو جانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظرانداز کر کے آپ جو چاہیں، کر گزریں۔ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ۔ اب یہ ضروری ہے کہ آپ ایک منظم و مثبت قوم کی طرح کام کریں۔ اِس وقت ہم سب کو چاہیے کہ تعمیری جذبہ پیدا کریں‘۔

ویسے بھی اگر غور کیا جائے تو دنیا میں مادر پدر آزاد ملک تو صرف ایک ہی ملک ہوا کرتا ہے جسے آج کل کی زبان میں سپر پاور کہا جاتا ہے۔ اگر دو ہوں تو دنیا میں جنگیں شروع ہوجاتی ہیں اور اگر ایک ہی رہے تو دنیا کے باقی ممالک کو کچھ نہ کچھ کمپروماٸز تو کرنا ہی پڑتا ہے، لہٰذا تقسیم کی صورت میں ہمیں اتنی یا اس سے کچھ کم آزادی تو مل ہی گٸی جتنی دنیا کے باقی ممالک کو حاصل ہے۔ باقی ہماری محنت، لگن، ایمانداری، اتحاد، تنظیم، جذبہ اور جدوجہد پرمنحصر ہے کہ ہم خود کو کتنا آزاد منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ قاٸداعظم کے نزدیک بھی صرف ہند کی تقسیم کا نام آزادی نہیں تھا۔ انہیں بھی اس بات کا ادراک تھا کہ آزادی کے لٸے تقسیم کے بعد بھی مزید قربانیاں دینا پڑیں گی۔

ابوالکلام آزاد یہ سمجھتے تھے کہ برصغیر کی تقسیم سے وہ مسلمان اقلیت جو ہندو اکثریتی علاقوں میں یا قرب میں رہتی ہے جو کہ براہ راست اکثریت کے تعصب کا شکار تھی وہ مزید چھوٹی اقلیت بن جاٸیں گے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کے مسلمانوں کو علیحدہ ریاست تو مل جائے گی لیکن جس آزادی کا خواب وہ دیکھ رہے ہیں وہ خواب شاید پورا نہ ہو سکے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ دنیا کا کوٸی ملک عالمی معاشی نظام سے علیحدہ نہیں رہ سکتا اور عالمی معاشی نظام مغربی طاقتوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے پاکستان پرمغرب کا اثر رہے گا جسے دیکھتے ہوئے ہندوستان بھی مغربی مفادات کا خیال رکھے گا اور پھر مغرب ان دونوں ممالک کو آپس میں لڑوائے گا اور یہ دونوں ممالک اپنے دفاعی اخراجات بڑھاتے چلے جاٸیں گے اور معاشی خود انحصاری نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بھاری بوجھ ہوگا اور اسلامی معاشرے کا نفاذ کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکے گا اور اسلامی نظام کی غیر موجودگی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قوم پرستی سر اٹھائے گی اور قوم پرستی کی اس آگ پر مفاد پرست مقتدر ٹولے کی ناانصافیاں تیل کا کام کریں گی اور بنگال کا پاکستان سے منسلک رہنا ناممکن ہوجائے گا اور دیگر صوبے بھی وفاق سے مطمٸن نہ ہونگے۔ اس داخلی انتشار سے نمٹنا آسان نہ ہوگا اور وہ یہ بھی ادراک رکھتے تھے کہ تعلیم یافتہ، نظام حکومت چلانے کا تجربہ رکھنےوالے افراد کی کمی، انگریزوں کے وفادار نودولتیوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے سیاست پر قبضے کی وجہ سے نظام حکومت چلانے میں شدید دشواری کا سامنا ہوگا اور پاکستان میں عرب ممالک کی طرح فوج نظام حکومت سنبھال لے گی۔ ابوالکلام آزاد کے بیشتر خدشات درست ثابت ہوئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان دولخت ہونے کے باوجود ابوالکلام آزاد کے تمام تر خدشات کو ساتھ لیے ہوئے بھی دنیا کے نقشے پر ایک روشن ستارے کی طرح جگمگا رہا ہے جس کی روشنی کبھی کبھی دھیمی پڑ جاتی ہے لیکن یہ قوم اپنے خون سے اس کو پھر سے روشن کر دیتی ہے۔ لیکن کیا خبر اگر ابوالکلام آزاد کے  تمام خدشات درست ثابت ہونے اور اسے درست تسلیم کرنے میں ہمیں 71 سال لگے، اللہ نہ کرے کہ ایک دن متحدہ ہندستان کی حمایت کا فیصلہ بھی درست لگنے لگے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *