Type to search

عوام کی آواز فيچرڈ کلچر معاشرہ

اب وہ مالشی بھی نہیں رہا

اُس کی آنکھ کُھلی تو اندھیرا چھا چُکا تھا۔ دماغ سوچنے کے قابل ہوا تو غمِ روزگار پھر سے عُود آیا۔ گزری رات کا خیال آیا تو جلدی سے اسے بھلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ وہ گزرے وقتوں کو کبھی یاد نہیں رکھتا تھا ورنہ شائد اس کیلئے ماضی کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہو جاتا۔ آنکھیں بند کر کے دوبارہ سونے کی کوشش کی مگر اب زندگی کے جھمیلوں سے دماغ بھر چُکا تھا۔ سگریٹ کی ڈبی کی جانب ہاتھ بڑھایا تو یاد آیا کہ کل شب کی کمائی اور سگریٹ کا پیکٹ تو پولیس والے لے اُڑے تھے لہٰذا نہ کھانے کو کچھ تھا اور نہ پینے کو۔ بستر سے نکلنے کے سوا اب کوئی چارہ نہ تھا۔

سرد شام اور بلب کی زرد روشنی ماحول کو مزید پژمردہ بنا رہی تھی۔ جیسے تیسے کر کے خود کو ایک نئی رات کیلئے تیار کرنا شروع کیا۔ سیفٹی ریزر پرانا ہو چکا تھا مگر تیسری چوتھی کوشش میں قابل قبول شیو ہو ہی گئی۔ ایک ہاتھ میں پھٹکری کو چھِلی ہوئی جلد پر لگانا شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے پرفیوم کی شیشی کو زور زور سے ہلا کے سپرے نکالنے کی کوشش کی اور گھر سے نکل پڑا۔ رات کے بازار رنگین ہو چکے تھے۔ بالے جلیبی والے کا ملازم سڑک پر مُوڑھے رکھ چکا تھا جبکہ سامنے مچھلی والے نے بھی تیل گرم کر لیا تھا۔

گاہکوں کا رش دیکھ کر اُسے امید ہوئی کہ آج کی رات اچھی گزر جائے گی۔ کھانے کے ڈھابوں سے گزر کے اندھیری گلی کی واحد روشن لیمپ پوسٹ اس کا ٹھکانہ ہوتا تھا۔ گرمی ہو یا سردی، یہی لیمپ پوسٹ اسے حرارت بھی دیتی تھی اور گاہک بھی۔ لیکن آج وہاں پہنچا تو وہاں ایک جوان حسینہ پہلے سے کھڑی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی جگہ پر قبضہ ہو چکا ہے۔ دل کی دھڑکن بےربط ہوئی تو یکدم چکر سا آ گیا۔ شائد بھوک تھی یا اچانک غصہ کہ اس کے منہ میں زبان جیسے گنگ ہو گئی۔

وہ لڑکی کے پاس پہنچا اور لہجے میں کرختگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا، پتہ ہے یہ جگہ کس کی ہے؟ وہ بھی آگے تنک کر بولی؛ تیرے باپ کی ہے؟ “نہیں۔ مگر یہاں روز میں کھڑا ہوتا ہوں” اس نے فوراً جواب دیا۔ “تو؟” وہ بولی جیسے وہ جواب کیلئے پہلے سے ہی تیار تھی۔ “تو یہ کہ یہاں سے جاؤ اور کہیں اور کھڑی ہو”، اس کے لہجے کی تلخی اور جھنجھلاہٹ بڑھنے لگی۔

قریب تھا کہ وہ دونوں دست و گریباں ہوتے کہ ایک گاڑی پاس آ کر رُکی۔ وہ لڑکی کو چھوڑ کے تیزی سے گاڑی کی جانب لپکا اور بولا: “صاحب مالش؟ کمر، کندھوں، سر کی مالش؟ بہترین زیتون کے تیل، سانڈے کے تیل کی مالش؟”

اتنے میں وہ لڑکی بھی ڈرائیور سے مخاطب ہوئی اور انگریزی لہجے میں بولی: “ہیلو سر۔ وُڈ یو مائینڈ اف آئی کین گیو یو آ نائیس ریلیکسنگ مساج ایٹ آور ورلڈ فیمس سپا جسٹ اکراس دی روڈ؟ وی پرامس منی بیک گارنٹی اینڈ بیسٹ ریٹس (آپ برا تو نہیں مانیں گے اگر میں سامنے اس سپا میں آپ کی بہترین قسم کی مالش کروں؟ ہمارے یہاں تسلی نہ ہونے پر گاہک کے پیسے واپس کیے جاتے ہیں اور ہمارے نرخ بھی بہترین ہیں)۔”

ڈرائیور جھٹ گاڑی سے نکلا اور سامنے موجود ورلڈ فیمس سپا میں چلا گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب وہ مالشی بھی نہیں رہا۔ سر جھکائے ہوئے وہ واپس گھر کی جانب چل پڑا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *