Type to search

فيچرڈ کلچر

کمرشل پنجابی تھیٹر: کیا یہ ہماری پہچان ہے؟

گذشتہ چند برسوں کے دوران کمرشل تھیٹر مقامی سطح پر تفریح کا ایک بڑا ذریعہ جانا اور گردانا گیا ہے۔ کمرشل تھیٹر ہمارے معاشرے کے ان ’معیوب‘ معاملات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔ اس انڈسٹری کے اندر ایک اور انڈسٹری موجود ہے جو اس پر تھوڑی سی تحقیق کرنے سے پہچانی جا سکتی ہے۔

تھیٹر ڈارموں کے ذریعے اس قسم کے حاضرین کی تفریح طبع کا سامان کیا جاتا ہے جو اپنی تفریح کی تسکین بیہودہ رقص اور مذاق سے حاصل کرتے ہیں۔ کمرشل تھیٹر کے واہیاتی کی بلندیوں پر پہنچنے کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک وجہ عوام کا ان پڑھ ہونے کے باعث پرفارمنگ آرٹس کے پیغام کو سمجھ نہ پانا ہے جو خودبخود ایک اخلاقیات سے عاری بیہودہ تفریح میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تعلیم کی کمی کے مسئلے سے ہٹ کر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سٹیج تھیٹر پر کام کرنے والے فنکاروں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے بہت سے فنکار معاشی طور پر اتنے مستحکم نہیں ہیں کہ اپنے خاندان یا بچوں کی کفالت کر سکیں۔ جب انہیں بھوک اور فاقہ کشی ستاتی ہے تو پھر آمدنی کے ذرائع کو نہیں دیکھا جاتا۔

سینسر شپ بورڈ کی اس ضمن میں ذمہ داری بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ سب کچھ ان کی ناک کے نیچے ہوتا ہے۔ گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کے ایک وزیر نے ایک خاتون سٹیج اداکارہ کا ایک تقریب میں اپنے بیان کے ذریعے مذاق اڑایا۔ بعد میں اسی اداکارہ کی جانب سے تلخ جوابات سن کر اس وزیر نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ فنکاروں اور ایسے افراد جو موجودہ تھیٹر کو پسند نہیں کرتے کے درمیان نظریاتی کشمکش کے تناؤ کو کم کرنے کیلئے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں حکومت کو اس مسئلے کے تدارک کیلئے معیاری تفریحی پروگرام پیش کرنے کے پلیٹ فارم مہیا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ فنکاروں کیلئے آمدنی بڑھانے کے مواقع فراہم کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے اور اس قسم کے تھیٹر ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے جو بے حیائی اور بیہودگی کا پرچار کرتے ہیں۔

یہ بلاگ لکھنے کا مقصد دراصل اس نکتے کو اجاگر کرنا ہے کہ کیسے وہ چیزیں جو معاشرے میں معیوب سمجھی جاتی ہیں انہیں بیک وقت معیوب بھی گردانا جاتا ہے اور  ساتھ ہی ساتھ انہیں پذیرائی بھی ملتی رہتی ہے۔ پروفیشنل اداکار بھی بہیودہ قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے میں تامل نہیں برتتے۔

سٹیج اداکار رانجھا کا کہنا ہے، “ہمارے فنکار بہت برے حالات سے گزرتے ہیں، ہماری حکومت انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اور فنکاروں کیلئے معاوضہ مقرر کرنے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ ہم یہ سب کرنے کیلئے مجبور ہیں کیونکہ لوگوں کو یہی پسند آتا ہے”۔

فنکار جاہل ہیں لیکن انہیں اخلاقیات اور آداب کا علم ہے لیکن کوئی یہ اندازہ نہیں کر پاتا کہ فنکاروں کو کس قسم کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رانجھا کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ جا کر سٹیج ڈرامہ دیکھو۔ جو لوگ ان ڈراموں کے خلاف ہیں وہ بیشک نہ آئیں اور جنہیں یہ پسند ہیں انہیں ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *