LOADING

Type to search

تاریخ تجزیہ فيچرڈ معاشرہ

مڈل کلاس اخلاقیات

اس مضمون میں ندیم فاروق پراچہ بتاتے ہیں کہ کیسے ڈاکٹر رمیش کمار کی ملک بھر میں شراب پر پابندی عائد کرنے کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد دراصل جارج برنارڈ شا کی "مڈل کلاس اخلاقیات” کی اصطلاح کی مثال تھی۔

اردو کے ادیب، شاعر اور طنزومزاح تحریر کرنے والے ابن انشا نے لکھا تھا کہ ایک بار میں نے ایک "معزز مڈل کلاس” شخص کو مسجد میں ایک غریب آدمی سے بات چیت کرتے دیکھا۔ اس شخص نے غریب آدمی سے پوچھا کہ وہ کیا دعائیں مانگ رہا تھا۔ غریب شخص نے جواب دیا کہ وہ کھانے، چھت اور نوکری کے حصول کی دعا مانگ رہا تھا۔

یہ سن کر مڈل کلاس شخص بولا کہ تم ان مادی چیزوں کیلئے دعا کیوں کر رہے تھے۔ غریب آدمی نے جواب میں ایک سوال پوچھا "آپ کیا دعا مانگ رہے تھے صاحب؟” مڈل کلاس شخص نے جواب دیا میں اپنے ایمان کی مضبوطی کیلئے دعا مانگ رہا تھا۔ غریب شخص بولا بہت اچھا کیا۔ ہمیشہ اس چیز کیلئے ہی دعا مانگی جاتی ہے جو اپنے پاس نہ ہو۔

ابن انشا پاکستان میں موجود اس مخصوص مائنڈ سیٹ پر طنز کر رہے تھے جو پاکستان کے مڈل کلاس طبقے میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے "مڈل کلای اخلاقیات” کا نام دیتے ہیں۔ بلکہ ابن انشا کی اپنی زندگی بھی اس مائنڈ سیٹ پر روشنی ڈالتی ہے۔

اپنے کرئیر کے عروج پر 1974 میں انشا کو کینسر کا مرض تشخیص ہوا۔ پاکستان میں موجود ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ یہ مرض قابل علاج تھا لیکن صرف مغربی ممالک میں۔

انشا کے پرستاروں کی درخواست پر ذوالفقار بھٹو کی حکومت نے انشا کے ساتھ معاہدہ کیا۔ انشا کو لندن میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں کلچرل سیکشن میں ملازمت دی جانی تھی جہاں وہ اپنے شاعری اور لکھنے کے کرئیر کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تنخواہ کو کینسر کے علاج کیلئے استعمال کر سکتے۔ ابن انشا کا علاج معالجہ ٹھیک چل رہا تھا۔ پھر تین برس بعد جنرل ضیاالحق نے مارشل لا لگا کر بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ فوجی حکومت کا سربراہ ضیاالحق بنا جو مخصوص قسم کی ثقافتی سرگرمیوں اور نظریات کو ناپسند کرتا تھا اور انہیں بے حیائی قرار دیتا تھا۔

فوجی حکومت نے پاکستان کے سماج کی اخلاقی اقداروں کے تباہ ہو جانے کا واویلا مچاتے ہوئے درجنوں شعرا، دانشوروں، مصوروں، اداکاروں اور اداکاراؤں پر پابندی عائد کر دی۔ پھر ضیا نے ابن انشا کی پاکستان ایمبیسی میں ملازمت ختم کیے جانے کا حکم صادر کیا۔ ابن انشا کا علاج بند ہو گیا اور ان کی حالت بگڑنے لگی۔ کچھ دوستوں نے انہیں ایک سرکاری ہسپتال میں داخل کروا دیا جہاں وہ مایوسی کی کیفیت میں چلے گئے اور 1978 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ضیا کا شاید ماننا تھا کہ ابن انشا کو اپنے علاج کیلئے پیسوں کی دعا کرنے کے بجائے اپنی روح کیلئے دعا کرنا چاہیے تھی۔


1938 میں اپنے لکھے گئے ایک ڈرامے پیگمالین (Pygmalion) میں آئرش ناول نگار جارج برنارڈ شا نے مڈل کلاس اخلاقیات کو بیان کیا تھا جس کے زیر اثر آزادی خوف میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ برنارڈ شا 20ویں صدی کے آغاز میں برطانوی مڈل کلاس اقدار پر تنقید کر رہا تھا۔

اس نے مڈل کلاس سوچ کو بیان کیا جس کے تحت انسان اپنے معاشی اور سماجی سٹیٹس کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے انسان ہر وقت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے سٹیٹس میں ہلکی سی تنزلی بھی انہیں اپنے سے نچلی کلاس کے افراد میں شامل کروانے کا مؤجب بن جائے گی۔ یہ اضطرابی کیفیت انہیں مخصوص قسم کے رویوں اور عقائد کا اظہار کرنے پر راغب کرتی ہے جو ان کے خیال میں زیادہ مہذب ہوتے ہیں اور انہیں نچلی سطح کے طبقات سے ممتاز بناتے ہیں۔

پروفیسر کے حسین جو کہ کراچی کے ایک سرکاری کالج کے مشہور استاد تھے (جن سے تعلیم حاصل کرنے کا شرف مجھے بھی حاصل ہے) نے ایک مرتبہ برنارڈ شا کی اس مڈل کلاس اخلاقیات کے تصور کو پاکستان کے تناظر میں بہت جامع انداز میں پیش کیا تھا۔

1985 کے آغاز میں پولیس نے ہمارے کالج پر ریڈ کی اور چند "تخریبی عناصر” کو پکڑا۔ طالبعملوں کا ایک وفد مجھ سمیت پروفیسر کے دفتر گیا۔ وہ کامرس کے شعبے کے انچارج تھے اور ہم ان سے گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کروانا چاہتے تھے۔

جب پروفیسر نے اس ضمن میں کالج کے پرنسپل سے بات کرنے کا وعدہ کر لیا تو ہم نے ان سے سیاست پر گفتگو شروع کر دی۔ دوران گفتگو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کسی نے برنارڈ شا کی پیگمالین پڑھی ہے۔ ہم نے نہیں پڑھی ہوئی تھی۔ انہوں نے مختصراً اس کتاب کے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ کیوں ہوا؟ ہم نے جواب میں مارکس کی تھیوریوں پر مبنی وحوہات پیش کرنا شروع کر دیں۔ انہوں نے ہمیں روکا اور کہا "مڈل کلاس سوچ”۔ ہم سب خاموش ہو گئے۔

وہ مسکرائے اور بولے "بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ مڈل کلاس سوچ کی وجہ سے ہوا۔” اس کے غریب طبقات کیلئے مقبول اقدامات نے مڈل اور اپر کلاس کو بے چین کر دیا تھا۔ انہوں نے سوچنا شروع کر دیا تھا کہ بھٹو ان سے نچلے طبقات کو بااختیار بنانا چاہتا تھا۔ اس اقدام نے معاشرے میں ان کی معاشی اور سماجی حیثیت کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک میں مڈل کلاس لوگوں کی اکثریت کی شمولیت کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ ایک طالبعلم نے حواب دیا کہ بھٹو کی سوشلسٹ پالیسیاں۔ پروفیسر نے جواب دیا، نہیں۔ بھٹو میں سوشلزم کا ایک بھی عنصر موجود نہیں تھا۔ لیکن اس نےایک تصور پروان چڑھا دیا تھا کہ وہ غریبوں کی حالت زار بہتر بنا رہا ہے اور یہ تصور مڈل کلاس لوگوں کیلئے پریشانی کا باعث بنا۔ پھر پروفیسر نے ہمیں وہ مشہور نعرے یاد کرنے کا کہا جو اس کے مخالفین نے اس کے خلاف استعمال کیے تھے۔ "اخلاقیات اور عقائد”۔

پروفیسر کا ماننا تھا کہ بھٹو کے مخالفین کے پاس معاشی پروگرام دینے یا اس پر بات کرنے کیلئے کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ پھر پروفیسر نے پوچھا "کیا آپ لوگوں نے ان کا انتخابی منشور کا مطالعہ کیا جو مارچ 1977 کے انتخابات سے قبل منظر عام پر آیا؟ اس منشور میں صرف یہ درج تھا کہ ایک مذہبی ریاست انصاف پر مبنی خوشحال معاشرے کو جنم دے گی”۔ پھر پروفیسر گویا ہوئے "انہوں نے شرابوں کی دکانوں، کلبوں اور سنیماؤں پر حملے شروع کر دیے جیسے کہ یہ غریبوں کو بااختیار بنا رہے تھے اور مڈل کلاس کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے تھے”۔

میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مرحوم پروفیسر نے بھٹو کی مخالفت کی تھی۔ اس نے کبھی شراب نوشی یا تمباکو نوشی نہیں کی تھی۔ لیکن ان کے کہے گئے یہ الفاظ اس وقت میرے کانوں میں گونجتے لگتے ہیں جب حکومت یا میڈیا میں سے کوئی ان سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا سوچتا ہے جو ان کے خیال میں غیر اخلاقی ہیں یا ہماری سماجی اقدار کے خلاف ییں۔

اس شخص کی ہی مثال لے لیجئے جس نے 2016 میں سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں قائم شراب کی دکانوں کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ شراب کو مسلمانوں کیلئے اپریل 1977 میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ شراب کی دکانیں غیرمسلموں کیلئے ہیں لیکن بہت سے مسلمان بھی یہاں سے شراب خریدتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شراب کی ان دوکانوں نے 1977 سے لیکر آج تک پاکستان میں ہونے والی غلط چیزوں میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ کیا شراب کی یہ دوکانیں دہشت گرد اور شدت پسند پیدا کرتی ہیں؟ کیا یہ ملک کے موجودہ معاشی بحران کا مؤجب ہیں؟ سچ یہ ہے کہ شراب کی دکانوں پر پابندی نے ایسے مافیا کو جنم دیا ہے جو خطرناک اور زہریلی قسم کی شراب (کچی) کی فروخت کرتا ہے۔

گو سندھ ہائیکورٹ نے اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے شراب کی دکانوں پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم شدہ تین رکنی سپریم کورٹ بنچ نے سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اخلاقی بنیادوں کو جواز بنا کر شراب کی دکانوں پر پابندی لگانے کا اختیار عدلیہ کے پاس نہیں ہے۔ ایک دوست نے حال ہی میں بتایا کہ "کسی ناظم یا صوبائی اسمبلی کے رکن سے پانی، بجلی یا سڑک کا تقاضہ کرو تو وہ آپ کو جواب میں ایک نایاب شے یعنی شراب کی بوتل کا تحفہ دینے کی نوید سناتا ہے۔ وہ چیز جسے وہ خود ناجائز سمجھتا ہے۔

ہم مڈل کلاس لوگ دہشت گردی اور گھریلو تشدد جیسے مسائل پر چپ تان لیتے ہیں لیکن ایسے اقدامات کو سراہتے ہیں جو ہمیں اخلاقی طور پر دوسروں سے بہتر ہونے کے جذبات سے آشنا کرواتے ییں۔ میرے مرحوم پروفیسر (خدا انہیں جنت میں جگہ عطا فرمائے) اس وقت بھی میرے ذہن میں آئے جب 2017 میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک صوبائی اسمبلی کے رکن اور سندھ کے ایک معمولی سے بیوروکریٹ دونوں کو سکولوں میں بچوں کے ڈانس کرنے سے مسئلہ پیدا ہوا۔ یہ فارغ اذہان کی مڈل کلاس اخلاقی سوچ کی عکاس مثال ہے جو ان کے کمزور سیاسی رتبے کو فراموش کروانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

اور پھر مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی مثال، جس نے پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے شراب کی خالی بوتلیں برآمد ہونے پر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔ یا پھر ایک غیر منتخب ہندو قومی اسمبلی کا رکن رمیش کمار جس نے حال ہی میں خود یہ تصور کر لیا کہ وہ وہ تمام ہندوؤں، مسیحیوں، سکھوں کی نمائندگی کر رہا تھا جب اس نے یہ کہا کہ "تمام مذاہب میں شراب نوشی منع ہے”۔ اور یہ کہ شراب پر مکمل پابندی عا ئد ہونی چاہیے۔ کچھ لوگوں نے اسے سٹوک ہولم (Stockholm syndrome) کا شکار قرار دیا۔

لیکن میرے پروفیسر کی تھیوری کے تناظر میں جمشید دستی اور رمیش کمار دونوں کے کیس دلچسپ نوعیت کے ہیں۔ جمشید دستی محنت مزدوری کرنے والے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جبکہ رمیش کمار ہندو اقلیتی برادری کا رکن ہے۔ قومی اسمبلی کا رکن بننے کے بعد ان دونوں میں یہ خیال پروان چڑھ گیا کہ اب وہ اخلاقی برتری والے طبقے میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے مڈل کلاس اخلاقیات کا مظاہرہ کیا۔

1993 میں کراچی میں ایک میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمینار "یوتھ اینڈ کرائم” میں ایک نوکری پیشہ کلاس کے نوجوان نے شکایت کی کہ اس کی بہنوں کو اس کے رہائشی علاقے کی گلیوں میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن پولیس نے شکایت کے باوجود اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

پینل میں موجود ادھیڑ عمر کے ایک "شریف مڈل کلاسیے” نے جواب دیا "بیٹا میرا خیال ہے کہ تمہاری بہنیں حجاب نہیں کرتی ہوں گی”۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *