Type to search

حقوقِ نسواں صنف عوام کی آواز فيچرڈ معاشرہ

اعتماد کی فضا بہتری کی طرف پہلا قدم

ہم جذباتی قوم ہیں، ہر معاملے میں جذبات سے کام لیتے ہیں۔ کوئی سانحہ ہو، کوئی خوشی ہو یا غم، ہماری سوچ، ہمارا عمل اور رد عمل سبھی جذباتی ہوتے ہیں۔

ننھی کلیوں کے ساتھ ریپ، زیادتی، تشدد اور ناانصافی پر بھی ہمارا رد عمل جذباتی ہی ہے۔

شاید ہونا بھی چاہیے، یہ سانحے جذباتی کر دینے لائق ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ان سانحوں جیسے مزید سانحے مت ہوں، اس کے لئے عملی طور پر کچھ کرنا زیادہ اہم اور ضروری ہے۔

ہم میں سے کتنے گھروں کا یہ ماحول ہے یا ہماری بیٹیوں کو اجازت ہے کہ وہ ہم سے اظہار کر سکیں کہ گھر سے باہر سکول، کالج یا یونیورسٹی میں کسی نے ان سے کچھ نازیبا کہا یا کیا ہے؟ یا راستے میں کوئی انہیں تنگ کرتا ہے؟ یا گھر کے اندر ان کا یا آپ کا کوئی بہت اپنا آپ کی موجودگی یا غیر موجودگی میں انہیں تنگ کرتا ہے؟

کیا آپ کی بیوی، آپ کی بہو آپ سے کہہ سکتی ہے کہ آپ کے گھر میں کوئی اس پر بری نگاہ ڈال رہا ہے؟

اگر کوئی بیٹی، بیوی یا بہو ہمت کر کے اپنے خدشات کا اظہار کر دے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ کتنے باپ، بھائی یا شوہر ہیں جو اپنے گھر کی عورتوں کا ساتھ دیتے ہیں؟

1%؟

یا شاید وہ بھی نہیں۔ جواب میں آپ کے لباس، اخلاق، چلنے پھرنے کے انداز کو قصوروار ٹھہرایا جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ آپ کا گھر سے نکلنا کم یا ختم ہونا بھی ممکنات میں سے ہے۔ لیکن آپ کی بات کو سیریس لے کر اس کا حل سوچنا یا اپنی خواتین کو اعتماد دینا ناممکنات میں سے ہے۔ آپ اگر باپ یا بھائی ہیں تو آپ کا بیٹی اور بہن سے رشتہ صرف نام کا ہے یا پھر بےجا سختی کا، آپ محبت سے اس کا ہاتھ نہیں تھام سکتے، وہ اپنی کوئی پریشانی آپ سے شئیر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیا آپ کی بیٹی آپ کو کہہ سکتی ہے کہ اس کا اس کے شوہر سے رشتہ محبت کا نہیں زبردستی کا ہے؟ کبھی نہیں۔ کیونکہ اسے یہ یقین ہے کہ ماں، باپ میں سے کوئی اس کی اس بات کو سمجھے گا ہی نہیں اس لئے وہ سب برداشت کرتی کرتی مردہ ہو جاتی ہے لیکن آپ سے کچھ نہیں کہتی۔

آپ ماں ہیں تو آپ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے سے دور ہوتی چلی جائیں گی، یہ سوچے بغیر کے جوان ہوتے بچے کو آپ کی تربیت اور رہنمائی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آپ اس سے لاڈ پیار صرف اور صرف اس کی ہر جائز اور کبھی کبھی ناجائز خواہش پوری کر کے ظاہر کرتی ہیں۔ اسے پیار سے گلے لگا کر اچھا برا سکھانے کو آپ نہ پیار میں شامل کرتی ہیں نہ لاڈ میں۔

اور یہی دو باتیں، بیٹوں کو صحیح اور غلط میں فرق سکھانا اور اپنی خواتین کو اعتماد نہ دینا، سماجی مسائل کی وجہ بنتے ہیں۔
آپ نے نہایت اہم باتیں سکھانے اور بتانے کے درمیان میں جھجھک کی دیوار کھڑی کر لی ہے۔ اگر آپ اپنی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کو اعتماد دیں تو وہ آپ کو ہر اچھے برے حالات سے آگاہ کر سکیں گی بلکہ خود بھی بہتر طریقے سے ان مسائل کا سامنا کر سکیں گی۔

اگر آپ اپنے بیٹوں کو غلط اور صحیح کی پہچان کروانے کی کوشش کریں گے، اس سے اس قسم کا رشتہ استوار کریں گے کہ وہ دل و دماغ میں آنے والی ہر بات آپ سے شئیر کر سکے۔ آپ اس کے جسم اور ذہن میں ہونے والی تبدیلیوں سے واقف اس کے قریب رہ کر ہی ہو سکتے ہیں۔ آپ اس کے سامنے اگر مخالف جنس کی عزت کریں گے اسے مخالف جنس سے زیادہ ایک انسان سمجھیں گے تو آپ کا بیٹا بھی ایسا کرے گا۔

اپنی خواتین کو اعتماد دیجئے۔ یہ میرے والدین اور شوہر کا دیا ہوا اعتماد ہی ہے جس کی وجہ سے آج یہ تحریر لکھ پا رہی ہوں۔ میری والدہ نے بچپن سے ہی ہمیں اپنے اس قدر قریب رکھا اور محبت بھرا رشتہ بنایا کہ اپنی ہر اچھی، بری بات، ہر خوشی، ہر غم، ہر کامیابی اور ناکامی ہم ان سے بانٹتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک جن بھی دوستوں سے ان کو ملواؤں وہ نام سے ہی جان جاتی ہیں کہ یہ تو فلاں دوست ہے جس کی فلاں بات تم نے شئیر کی تھی۔ یہی اصول انہوں نے اپنے بیٹوں کے لئے بنایا۔ انہوں نے بیٹوں کے لئے بھی اچھے برے میں تمیز پیدا کی۔ انہیں سمجھایا کہ زندگی جینے کے کچھ قوانین و ضوابط ہیں۔ جن پر عمل کر کے ہی معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

پھر شادی کے بعد یہی محبت یہی اعتماد مجھے شوہر نے دیا۔ میرے شوہر کے اعتماد ہی کا یہ حاصل ہے کہ میں کسی کو بھرے مجمعے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ تصویر نہیں بنوانا چاہتی یا میں یہ برداشت نہیں کروں گی کہ آپ مجھے بھری محفل میں ہوس زدہ نظروں سے گھوریں۔
یہی اعتماد، یہی یقین اور یہی تربیت آپ کے بچوں کا حال اور مستقبل بہتر بنا سکتی ہے۔

ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اب وقت ہے عملی طور پر ان مسائل کا حل کیا جائے۔ گزرے کل پر افسوس کیجئے، مجرمان کو سزا دی جائے اپنی سی کوشش بھی کیجئے۔ لیکن اپنے بچوں کا حال آپ محفوظ کر سکتے ہیں۔ یہ احتجاج، شور شرابا اور توڑ پھوڑ مسائل کا حل نہیں ہے صاحب، جذباتی ہو کر چیخنا مسائل کا حل نہیں بلکہ عملی اقدام اٹھانے سے یہ مسائل حل ہوں گے۔ اپنے گھر سے شروعات کریں۔ اعتماد کی فضا آپ کے بچوں کو سکھ، چین اور حفاظت فراہم کر سکتی ہے۔ زندگی میں جذبات سے نہیں عملی اقدامات سے خوش حالی لائی جاسکتی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *