Type to search

عوام کی آواز فيچرڈ معاشرہ

نیلی رات اور چاند

چاند بچپن سے میرے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ گاڑی میں کہیں جا رہے ہوتے تو سر پہ پاؤں رکھے ہماری گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتا۔ گھر سے باہر نکلتے ہی چاند جیسے میری انگلی پکڑ لیتا۔ پھر جہاں میں وہاں چاند۔ اوسلو سے امرت پورہ آ گئے اور چاند میرے ساتھ ہی چلا آیا۔

کبھی برف سے لدے پہاڑ کی چوٹی پہ چاند کی چاندنی برستے دیکھی ہے؟ انت حُسن، سفید پہاڑ، نیلی رات اور چاند۔ وہ اتنی ہی حسین تھی۔ پہلی بار اسے دیکھا، نیلی شلوار قمیض میں برف سے سفید بازو اور جیسے نیلی رات کے اوپر چاند سا چہرہ۔

نام صفورہ تھا اس کا۔ امرت پورہ کی ہی تھی۔ چاچے رحیم کی بیٹی تھی اور بچپن سے جوانی تک اپنی نانی کے پاس ہی رہی تھی، اب نانی کے گزر جانے کے بعد واپس اپنے گھر لوٹی تھی۔ وہ گاؤں کیا لوٹی، میرا تو سب چین سکون لوٹ لے گئی۔

کالج آتے جاتے گاڑی میں اسے دیکھنا اور پھر دیکھتے جانا، مبہوت کہتے ہیں اسے شاید۔ میری سدھ بدھ کھو جاتی تھی۔ محبت اقرار کی محتاج نہیں ہوا کرتی۔ یہ شعاعوں کا چکر ہے۔ پہلے دل ملے، پھر نظریں ملیں، پھر ہم ملنے لگے۔ کبھی کسی دکان سے کالج کی ویگن تک کا بولتا سفر، کبھی گاؤں کے کھیتوں سے گلی کے کونے تک کا خاموش سفر، اس خاموشی میں ہم محبت کا اظہار کرتے، اقرار کرتے، زندگی بھر ساتھ ساتھ چلنے کے وعدے کرتے۔ کبھی بدن بولتے سنے؟ کبھی راستے پہ چلتے جوتے کی آواز میں گانے سنے؟ ہم یونہی ملتے تھے۔

نئی نئی جوانی تھی، پہلی پہلی محبت۔ سب جہاں نیا لگتا تھا۔ سارا جہاں اپنا لگتا تھا۔ مگر صرف لگتا تھا، تھا نہیں۔

گاؤں کے باہر بڑی سڑک کے پاس میلہ لگا تھا۔ تین دن کا میلہ تھا۔ یہ تیسرا دن تھا جب بالآخر ہمیں ملنے کا موقع دستیاب ہوا۔ ہم میلے سے ذرا دور ایک بوڑھے درخت کی نیچے بیٹھ رہے۔ وہ نیلی شلوار قمیض میں تھی، میرا ایک بازو اس کے کندھے پہ دھرا تھا اور وہ میری پہلو سے لگی پگھلتی جا رہی تھی۔ جی میں آتا تھا کہ اسے چھاتی سے لگا کے بھاگ جاؤں، برف سے لدے پہاڑوں کی وادی میں لے جاؤں، جہاں نیلی رات میں دو دو چاند چمکیں۔ ہم خاموشی کے سمندر میں چُپ بول رہے تھے کہ صفورہ کے بھائی کی للکار نے ہمیں جھنجھوڑ ڈالا۔ وہ میرے پہلو سے آٹھ کے کھڑی ہو گئی اور دوجے ہی لمحے میرے گلے لگ گئی۔

اس کے بھائی کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور ہاتھوں میں کلہاڑی تھی۔ وہ میرے سینے سے لگی ہوئی تھی، اس نے سر اٹھا کے مجھے دیکھا اور میرے منہ پہ خون کا فوارہ چھلک گیا۔ اس کے بھائی کی کلہاڑی صفورہ کے سر کے بیچ میں تھی اور میری آنکھوں کے آگے سیاہ رات آ گئی۔ بے ہوش ہو گیا۔ ہوش میں آیا تو ہاسپٹل میں تھا۔ چاند دو دن پہلے دفن ہو چکا تھا۔ ہم سب گھر والے واپس ناروے لوٹ آئے۔

زندگی دوڑ رہی ہے یہاں۔ میں بھی اسی دوڑ میں شامل ہوں۔ دن رات گزر رہے ہیں۔ رات سورج اگلتی ہے اور سورج شام اوڑھ لیتا ہے۔ شام رات کی بانہوں میں کھو جاتی ہے اور رات بھی سیاہ رات۔ اب نیلی رات کہیں نہیں ملتی اور چاند۔۔۔ چاند کب کا دفن ہو چکا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *