Type to search

فيچرڈ معاشرہ

بھائیوں کا دن منانے کی تجویز

ایک مقامی یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، آج کل کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ خوامخواہ ہی اپنا خود ساختہ تصور دے رہی ہے۔ ذاتی طور پر میری رائے ہے کہ ناقد ایک ایسے اقدام پر خوامخواہ تنقید کر رہے ہیں جو ذرا ہٹ کر ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانے کے بجائے “بہنوں کا دن” منانے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال کا خیال ہے کہ ویلنٹائن ڈے کا تصور فرسودہ اور کچھ زیادہ ہی مغربی ہے، اس لئے یونیورسٹی “بہنوں کا دن” منا کر نوجوانوں میں مشرقی اقدار اور اسلامی نظریات کو فروغ دے گی۔ وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی اس روز طالبات میں دوپٹے، شالیں اور برقعے بانٹنے کا سوچ رہی ہے تاکہ خوبصورت کارڈز، مہکتے ہوئے پھولوں اور چاکلیٹوں کے بجائے لڑکیوں کو اپنی حیا کی حفاظت کرنے کیلئے کپڑے میسر آ سکیں۔


یہ مضمون انگریزی میں پڑھیے


آپ خود سوچیے، کارڈز بھیجنا اب پرانی رسم ہو چکی ہے، پھولوں سے آپ کو چھینکیں بھی آ سکتی ہیں اور چاکلیٹ تو ویسے بھی کیلوریز میں اضافہ کرتی ہیں، اس لئے تھوڑے سے دوپٹے یا برقعے بانٹنے سے بھلا کون سی قیامت آ جانی ہے؟ آپ برقعوں کو اپنے کاندھوں پر لپیٹ سکتے ہیں اور برقعے کے ٹرینڈ کے شروع ہونے تک اسے الماری میں رکھ سکتے ہیں۔ حجاب کا مقصد سر ڈھانپنا ہے؟ کیا یہ حکم نہیں ہے تو پھر کون خوامخواہ میں رائے دے رہا ہے؟ فیصلہ دینے کی باتوں سے یاد آیا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خیال قدامت پسندانہ ہے۔ حقوق کی پامالی، شدت پسندانہ اور عورتوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہے۔ تھوڑا سا سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کیجئے۔ آئیے اس نئے خیال کو آزما کر ہی دیکھ لیں۔ ہم ہمیشہ مغرب کہ تقلید ہی کیوں کریں؟ کیوں نہ انہیں ایک نیا نظریہ دیا جائے؟ خیر، حساب برابر کرنے کیلئے میرے پاس ایک تجویز ہے۔ آخر لڑکیوں کو بھی تو تھوڑا سا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ اکیسویں صدی ہے اور ہم لڑکیاں اس معاملے میں پیچھے نہیں رہ سکتیں۔ یہ انتہائی نامناسب اقدام ہے کہ ہم لڑکیاں آرام سے بیٹھ کر محض تحائف ہی حاصل کرتی رہیں۔ یہ عمل دو طرفہ ہونا چاہیے۔

اس لئے میں یہ تجویز کرتی ہوں کہ 14 فروری کو ہمیں اخلاقیات اور مشرقی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے “بھائیوں کا دن” بھی منانا چاہیے۔ ذرا تصور کیجئے کہ ایک جانب سے لڑکے آگے بڑھ رہے ہیں اور دوسری جانب سے لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں اور ہر طرف سے “پیاری بہن” اور “پیارے بھائی” کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ کیا ہی روح پرور اوراخلاق پر مبنی منظر ہے۔ جہاں بھائی بہنوں کو دوپٹے، برقعے اور شالیں تحفے میں دیں گے وہیں ان کی بہنیں انہیں تسبیح، نمازی ٹوپیاں اور کالے چشمے تحفے میں دیں گی تاکہ لڑکوں کو معاشرے کی برائیوں سے دور رکھا جا سکے۔ لڑکے بھی چادروں کا تحفہ وصول کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کے مردانہ پن کی پردہ پوشی بھی ہو جائے گی بلکہ وہ پنجابی فلموں کے ہیرو دکھائی دیں گے۔ مولا جٹ کا ری میک چونکہ سینما گھروں کی زینت بننے والا ہے اس لئے کیا پتا کہ یہ نیا فیشن ہی بن جائے۔

کیا یہ اچھا خیال نہیں ہے؟ مجھے تو ابھی سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے برادرانہ اور بہنوں کے مقدس رتوں کی مثبت لہریں محسوس ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اس تاثر کو قائم کرنے کیلئے ماحول سے مطابقت رکھنے والی موسیقی بھی شامل کی جا سکتی ہے۔ میری چھوٹی سی بہن، بہنا او بہنا، میری پیاری بہنیا بنے گی دلہنیا، پھولوں کا تاروں کا سب کا کہنا ہے ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے قسم کے گانے روایتی رومانوی، گٹار اور فلوٹ سے آراستہ ان گانوں سے زیادہ بہتر لگیں گے جو ہم ایک زمانے سے سنتے چلے جا رہے ہیں۔ ذرا ماحول کی پاکیزگی اور تازہ پن کا تصور کیجئے۔ اور اس سے بہتر وقت کیا ہو سکتا ہے کہ بسنت کا تہوار بھی قریب ہی ہے اور حال ہی میں اس پر سے پابندی اٹھنے کے بعد سارا ماحول ہی رنگا رنگ ہو جائے گا۔ بھائی اور بہنیں ڈھول کی تھاپ پر ایک ساتھ بھنگڑے بھی ڈال سکیں گے۔ آپ کو اعتراض ہے؟ کیوں؟

مجھے تو لگا کہ وائس چانسلر مشرقی روایات کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور بسنت سے زیادہ روایتی اور کونسا تہوار ہو سکتا ہے؟ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ یہ تجویز ہمیں اپنے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی دینی چاہیے۔ کبھی کبھار وہاں بھی بڑھتی ہوئی مغربی تقلید اور اثر و رسوخ پر شور اٹھتا رہتا ہے۔ ہمارے مجاہدین کی طرح وہاں کے ہندو بنیاد پرست بھی آج کل کافی سرگرم ہیں۔ ہم انہیں بتا سکتے ہیں کہ یہ تصور ان کے رکھشا بندھن کے تہوار کو سال میں ایک دن مزید منانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ میں شرطیہ بتا سکتی ہوں کہ ان کا رد عمل یہ ہو گا “وہ ہمارا کتنا خیال کرتے ہیں، ہمیں اس موقع پر بھی یاد رکھا”۔ اور شاید مستقبل میں اب بہن بھائیوں کا یہ تہوار سرحد کے دونوں جانب مشترکہ طور پر بھی منا سکیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہر شے کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو بھی ہوتا ہے۔ مثبت چیز ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ طویل سے طویل سرنگ کے اختتام پر بھی روشنی ضرور موجود ہوتی ہے۔ آئیے اس تبدیلی کو تسلیم کریں۔

محبت کرنے والوں کا کیا ہوگا؟ یہ تجویز محض یونیورسٹی کے احاطے تک کی ہے۔ ہے نا؟ محبت شاید گوروکل کی فضاؤں میں نہ ہو، لیکن یہ باقی کہیں بھی موجود ہو سکتی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *