Type to search

سیاست فيچرڈ

مریم نواز کیوں چپ ہیں؟ ذہنی صدمات یا ڈیل؟ ایک نفسیاتی جائزہ

مریم نوازشریف نے سیاست میں بہت کم وقت میں بہت زیادہ نام پیدا کیا۔ مسلم لیگ (نواز) میں نوجوانوں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کو متحرک کرنے میں مریم کی کاوشوں کا بہت زیادہ عمل دخل رہا ہے۔ مگر پھر کچھ حادثات کے بعد مریم اچانک خاموش ہو گئیں۔ اِس بات نے ان کے بہت سے کارکنان میں شدید مایوسی پھیلائی۔

پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہے کہ مریم نواز صاحبہ کیوں چپ ہیں اور کیا یہ خاموشی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے؟ کیا انہوں نے ‘ووٹ کو عزت دو’ تحریک ترک کر دی ہے؟ اور اگر وہ لیڈر ہیں تو کیا وہ خوفزدہ ہو گئی ہیں؟

ان سوالات کا مریم کے حامی اور مخالفین الگ الگ جواب دیتے ہیں۔ چلیں آج مریم کی ممکنہ ذہنی کیفیات کا ایک نفسیاتی جائزہ لیتے ہیں۔ مریم کی شخصیت (Personality) اور اب تک کی سیاست کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایک انتہائی حساس انسان ہیں۔ نفسیات میں اسے Highly Sensitive Person یا HSP کہتے ہیں۔

Dr. Elaine N. Aron, a scientist, along with her husband Dr. Arthur Aron are the pioneers in studying both sensitivity and love using functional magnetic resonance imaging

ان کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا میں انتہائی کامیاب لیڈر ہمیشہ حساس ترین بھی ہوتے ہیں، جیسے کہ Justin Menkes نے یہ بات تفصیل سے بیان کی ہے کہ حساس ترین ہونا کس وجہ سے ایک بہترین لیڈرشپ کوالٹی ہے۔

It is well established that human beings with brilliant achievements tend to have significantly heightened sensitivities in all of their perceptions, including even their sense of taste or smell

مگر جب لیڈر حساس ترین ہوتا ہے تو پھر وہ درد بھی دوسروں سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ Robert C. Coghill, PhD نے ایک تجربے سے یہ ثابت کیا کہ حساس لوگوں کو درد کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ اس تجربے کی تفصیل نیچے درج ہے۔

اسی تجربہ کے  نتیجے میں جب fMRI لیے گئے تو پتہ چلا کہ حساس اور کم حساس لوگوں کی برین Activation میں فرق ہوتا ہے۔ آپ برین امیج (Image) کو غور سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ درد کو کیسے مختلف لوگ مختلف طرح محسوس کرتے ہیں۔

اب جب آپ کو اس بات کی سمجھ آ گئی، تو اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مریم کی آج کل کی ممکنہ ذہنی کفیات کیا ہیں۔ مریم نواز ماضیِ قریب میں دو بڑے صدمات سے گزری ہیں؛ ایک ان کا ایسے مقدمے میں جیل جانا جو کم از کم ان کی دانست میں جھوٹا ہے اور دوسرے اس دوران اپنی والدہ کی وفات کے صدمے سے گزرنا۔ اور ایسے حالات میں گزرنا جب وہ باوجود خواہش کے آخری وقت میں اپنی ماں کے پاس نہیں تھیں۔ آپ اسی بات کو محمد نواز شریف پر بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔ نواز شریف صاحب عموماً دل کی بات نہیں کرتے، مگر اگر آپ یاد کریں تو بہت سے حالیہ مواقع پر انہوں نے محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کا ذکر کیا اور ساتھ یہ بھی کہا؛ ہم تو کھل کر رو بھی نہی سکے۔ مریم بھی ٹویٹر (Twitter) پر متعدد بار اس بات کا ذکر کر چکی ہیں۔ اگر کسی کا پیارا دنیا سے چلا جائے تو وہ کن حالات سے گزرتا ہے، اس پر نفسیات میں دنیا کے مشہور ترین ماڈل ایک سوئس امریکن ماہر نفسیات نے متعارف کروایا ہے۔ اس ماڈل میں غم کی پانچ سٹیجز کا ذکر کیا گیا ہے۔

The model was first introduced by Swiss-American psychiatrist Elisabeth Kübler-Ross in her 1969 book On Death and Dying. The Kübler-Ross model is popularly known as the five stages of grief

دنیا بھر میں جب بھی صدمات کے شکار لوگوں کا نفسیاتی علاج درکار ہوتا ہے تو اِسی ماڈل کو اپلائی کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق غم کا شکار لوگ جن پانچ درجوں (Stages)  سے گزرتے ہیں، وہ یہ ہیں۔

The 5 stages of grief and loss are

Denial and isolation

Anger

Bargaining

Depression

Acceptance

People who are grieving do not necessarily go through the stages in the same order or experience all of them

اس میں سے ہر اسٹیج کی اپنی علامات ہوتی ہیں۔ پہلی اسٹیج جسے Denial and Isolation کہتے ہیں میں یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ہماری عزیز ترین ہستی دنیا سے چلی گئی ہے۔ آپ خود کو یہ یقین دلا رہے ہوتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ یہ ایک طر ح سے خود کو تکلیف سے بچانے کا  ڈیفنس میکنزم ہے۔ اس سٹیج میں غم کے شکار لوگ ایک طرح سے Emotional Numbness میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ مریم نواز کی والدہ کی وفات کے  وقت جیل سے رہائی کے فوراً بعد یا حالیہ تصاویر کو غور سے دیکھیں تو آپ کو مریم نواز کا چہرہ مکمل سپاٹ یا کسی بھی تاثر سے عاری نظر آئے گا، جو ظاہر کرتا ہے کہ مریم نواز ابھی تک Emotional Numbness کا شکار ہیں۔

اس کے بعد  Anger کی Stage آتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں یہ سٹیج آپ کی Healing کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سٹیج میں بے انتہا غصہ آتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا اکثر لوگ ایسے حالات میں خدا تک سے گِلہ کرتے ہیں کہ وہ کدھر ہے اور میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ تیسرا مرحلہ بارگیننگ کا آتا ہے۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ سے مختلف سوالات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر؛ اگر میں ایسا کروں تو کیا ہو گا، اگر میں خود کو نقصان پہچاؤں تو کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ ہم بعض اوقات خود کو تکلیف دے کر بھی اس مرحلے کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر Depression کی اسٹیج آتی ہے، جب ہم  ایک مکمل اداسی میں چلے جاتے ہیں اور ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا۔ سب سے آخر میں Acceptance کی سٹیج آتی ہے۔

یہ ساری سٹیجیز کتنا وقت لیتی ہیں؟ اس بارے ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ غم کا شکار شخص کتنا حساس یا Sensitive ہے۔ یہ پانچ مراحل کچھ مہینے بھی لے سکتے ہیں اور کچھ سال بھی۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ بالعموم مکمل نارمل ہونے میں کم سے کم دو سال لگتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم سے وابستہ لوگ ہمیں Heal ہونے کا وقت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کی رفتار سے چلیں نہ کہ وہ ہماری رفتار سے۔ اور اکثر ایسے حالات میں ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں، کہ "دیکھو اگر تم زیادہ رو گے، تو پھر جانے والوں کو تکلیف ہوگی”، یا پھر یہ کہا جاتا ہے، کہ جب ہمارے ساتھ ایسا ہوا تھا تو ہم بہت جلد ایسی کیفیت سے نکل آئے تھے۔ ایسی باتیں اس لئے بھی تکلیف دہ ہوتی ہیں کہ یہ غم یا تکلیف کے شکار لوگوں کو مزید جذباتی صدمات دینے کا سبب بنتی ہیں اور اُس وقت ہم اُن لوگوں سے زیادہ اپنے آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ سب صورتحال الجھن پیدا کر رہی ہوتی ہے۔

یاد رکھیے! کوئی بھی لیڈر ایک انسان بھی ہوتا ہے، ان کے جذبات اور احساسات بھی ہوتے ہیں۔ لیڈر کو Dehumanize مت کیجیے۔ مریم نوازشریف ایک بہت حساس شخصیت کی مالک خاتون ہیں اور بہت شدید صدمے سے گزر رہی ہیں۔ چونکہ وہ لیڈر ہیں، لہٰذا بہت کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پا رہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک اس وقت ایک کٹھن دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ نارمل ہے کہ ورکرز لیڈر کی طرف دیکھیں اور جب لیڈر خاموش ہو تو ان کا غصہ بجا ہے۔

If we’re feeling very angry at the source of that frustration, we may become aggressive. The frustration-aggression theory states that frustration often leads to aggressive behaviour

اکثر جذباتی ورکرز اسی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں؛ جب جذبات انتہا پر ہوں تو ان کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا اکثر ندامت کا با عث بن سکتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ورکرز کو سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ ایسے ردعمل یا Reaction سے اپنے لیڈر کو مزید صدمے سے دوچار یا اس کو مزید مشکلات کا شکار تو نہیں کر رہے؟ مشکل وقت میں اپنوں کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما جاتا ہے، اُسے جھٹکے نہیں دیے جاتے۔

ٹھہریے! تھوڑا سوچیے، لیڈر کو وقت دیجیے اور اس پر اعتماد کیجیے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *