Type to search

سیاست فيچرڈ

تاریخ ثاقب نثار کو کن الفاظ میں یاد رکھے گی؟

جناب ثاقب نثار صاحب سترہ جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو گئے۔ ان کی جگہ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب پاکستان کے چھبیسویں چیف جسٹس بن گئے ہیں۔ جو کہ اس سال 20 دسمبر تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔ انہوں نے ثاقب نثار صاحب کے اعزاز میں منعقد کیے گئے الوداعی فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثاقب نثار صاحب کی بطور چیف جسٹس کارکردگی کو سراہا اور یہ عندیہ دیا کہ وہ عدالتوں میں اس وقت جو زیرِ التوا مقدمات ہیں ان کو جلد نمٹانے کے حوالے سے کام کریں گے اور از خود نوٹس کا استعمال بہت زیادہ نہیں کریں گے جو کہ خوش آئند ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو آنے والے گیارہ ماہ ہی کریں گے کہ جسٹس کھوسہ اس میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ جب ثاقب نثار صاحب چیف جسٹس بننے جا رہے تھے تو اہنے حلف اٹھانے سے ایک دن پہلے انہوں نے بھی اسی عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ افتخار محمد چودھری کے متعارف کردہ جوڈیشل ایکٹیوزم کی پیروی نہیں کریں گے۔ مگر ہم نے دیکھا کہ اپنے بیس ماہ کے اس دور میں کس طرح سے نہ صرف انہوں نے اس پر عمل کیا بلکہ افتخار محمد چودھری کو بھی اس میں پیچھے چھوڑ دیا۔


یہ بھی پڑھیے: سابق وزیر اعظم نواز شریف اور چیف جسٹس ثاقب نثار آمنے سامنے


اس وقت بھی ‏پاکستان کی مختلف عدالتوں میں 19 لاکھ کے قریب مقدمات زیر سماعت ہیں

اب چونکہ ثاقب نثار صاحب ریٹائر ہو چکے ہیں تو بطور چیف جسٹس آف پاکستان ان کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں کے متعلق تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ بطور چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کی سب سے اولین ذمہ داری تو یہ تھی وہ جوڈیشل ریفارمز کے حوالے سے کام کرتے تاکہ لوگوں کے لئے انصاف کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔ مگر انہوں نے اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ خدمات سرانجام نہیں دیں کیونکہ اس وقت بھی ‏پاکستان کی مختلف عدالتوں میں 19 لاکھ کے قریب مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں 38,539 مقدمات سپریم کورٹ میں، 147,542 مقدمات لاہورہائی کورٹ میں، 93,335 مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں، 30,764 مقدمات پشاورہائی کورٹ میں، 6,030 مقدمات بلوچستان ہائی کورٹ میں اور 16,278 مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔ باقی ہزاروں مقدمات نچلی عدالتوں میں شنوائی کے منتظر ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ثاقب نثار صاحب کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے ان تمام مقدمات کا فیصلہ ہو جاتا، مگر ان کے حل کے لئے وہ کوئی لائحہ عمل ہی بنا کر دے جاتے جس سے کم از کم ان مقدمات کے فیصلے جلد ہونے کی کوئی امید پیدا ہوتی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ اس میں بھی ناکام رہے۔

انہیں میڈیا میں اتنی کوریج دی جاتی رہی کہ یہ گمان ہوتا تھا کہ وہ ملک کے سربراہ ہیں

بجائے اس کے ثاقب نثار صاحب اس طرح کے اقدامات کرتے کہ جس سے سائل کا ہمارے عدالتی نظام پر یقین پختہ ہوتا، انہوں نے اپنے آپ کو بابا رحمتے کے روپ میں ایک مسیحا سمجھ لیا جو کہ ملک کے تمام لوگوں کے مسائل کا مداوا بن سکتا تھا۔ جس کا اظہار انہوں نے بارہا کیا۔ اس بابا رحمتا کے روپ میں انہوں نے کبھی ہسپتالوں کے ہنگامی دورے کیے اور کبھی تعلیمی اداروں کے اور کبھی کہیں جا کر شراب کی بوتل برآمد کی۔ اس دوران انہوں نے اپنا اصل کام ہی بھلا دیا جو یہ تھا کہ وہ بطور چیف جسٹس شہرت حاصل کرنے کی بجائے میرٹ اور سچ کی بنیاد پر ایسے فیصلے کرتے جو باقی سب ججوں کے لئے مثال بنتے۔ ان کے کیے گئے وہ فیصلے اتنے معتبر ہوتے کہ ان کو بار بار ان فیصلوں پر وضاحت نہ دینا پڑتی۔ اور نہ ہی یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے دیے گئے فیصلوں پر عوامی ردِعمل پر ریمارکس دیتے۔ لیکن انہوں نے نہ صرف عدالت کے اندر بلکہ باہر بھی کھل کر کئی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جس سے ان کو میڈیا میں اتنی کوریج دی جاتی رہی کہ یہ گمان ہوتا تھا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان کی بجائے ہمارے ملک کے سربراہ ہیں۔

ڈیم فنڈ میں نو ارب روپے جمع ہوئے، تیرہ ارب روپے اس مہم کے اشتہارات پر لگ گئے

ثاقب نثار صاحب نے اپنے دور میں ملک میں پانی کی قلت کے حوالے سے اپنی ڈیم آگاہی مہم چلائی۔ جس کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ کے سائے تلے ڈیم فنڈ بھی قائم کیا۔ ملک میں رہنے والے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ اس میں بھرپور حصہ ڈالیں۔ وزیرِاعظم عمران خان نے بھی اس میں ان کا ساتھ دیا۔ سٹیٹ بنک کے مطابق اس فنڈ میں نو ارب روپے جمع ہوئے۔ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے مطابق تیرہ ارب روپے اس مہم کے اشتہارات پر لگ گئے۔ جبکہ پلیننگ ڈویژن کے مطابق صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چودہ سو پچاس ارب روپے درکار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ثاقب نثار صاحب کی نیت صاف ہو، مگر اتنے بڑے منصوبے اس طرح چندہ اکٹھا کر کے نہیں بنائے جا سکتے۔ یہ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کے منصوبے عالمی اداروں کی معاونت سے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے بنائے۔ کیونکہ اتنی تگ و دو کے بعد بھی جمع ہونے والے پیسے ڈیم کی تعمیر کے لئے درکار پیسوں کے مقابلے میں ایسے تھے، جیسے کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔

جج صاحب شائد ایک سیاسی جماعت کے حوالے سے ذاتی عناد کا شکار تھے

جناب ثاقب نثار صاحب ہمیشہ اس بات پر مصر رہے کہ ان کا کسی سے بھی کوئی ذاتی عناد نہیں تھا اور انہوں نے بطور چیف جسٹس تمام فیصلے بغیر کسی کے دباؤ میں آئے میرٹ پر کیے۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس نظر آتی ہے کیونکہ پانامہ کیس میں نواز شریف کی نااہلی سے لے کر مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں کو توہینِ عدالت میں سزاؤں تک یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جج صاحب شائد ایک سیاسی جماعت کے حوالے سے ذاتی عناد کا شکار تھے۔ اور اس میں وہ اتنا آگے چلے گئے تھے کہ مقننہ کے بنائے گئے آئین کو اپنی مرضی سے توڑتے مروڑتے رہے۔ جس کی مثال آئین کی شقوں باسٹھ، باسٹھ (ایف۔ون) اور تریسٹھ کی اپنی مرضی سے تشریح ہے۔ جج صاحب نے باسٹھ (ایف۔ون) کے تحت نواز شریف کو اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی سے اور سیاست سے تاحیات نااہل کیا، جبکہ آئین کی اس شق میں تا حیات نااہلی کا تذکرہ ہی موجود نہیں ہے۔ ان سب سیاسی لوگوں کو تو جج صاحب نے سزائیں دلوائیں مگر وہ اس ملک پر شب خون مار کر آئین کی دھجیاں اڑانے والے آمر، جنرل مشرف کو سکیورٹی کی اتنی یقین دہانیوں کے بعد بھی ملک میں نہ لا سکے۔ اسی طرح جبری گمشدگیوں کے حوالے سے اتنی یقین دہانیاں کروانے کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ ایکشن نہ لے سکے۔ یہی حال بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور صاف پانی مہیا کرنے والی کمپینوں کے مالکوں کا تھا کہ ان پر اتنا عرصہ کیس چلانے کے باوجود ان کو کوئی سزا نہ دلوا سکے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ثاقب نثار صاحب سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کوتاہی ہوئی۔

ان کا بہترین فیصلہ آسیہ بی بی کے مقدمے میں سامنے آیا

بطور چیف جسٹس، ثاقب نثار صاحب نے اگر کوئی اچھا فیصلہ دیا تو وہ آسیہ بی بی کی سزائے موت معطل کرنے کا فیصلہ تھا۔ آسیہ بی بی کو توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگرچہ اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی طرف سے بہت ردِعمل سامنے آیا تھا۔ مگر جج صاحب کا یہ فیصلہ میرٹ پر تھا۔ اس ایک فیصلے کے علاوہ ثاقب نثار صاحب نے اپنے دور میں جس قسم کے جوڈیشل ایکٹیوزم کا مظاہرہ کیا، اس کی وجہ سے شائد ان کو اب بہت زیادہ عزت نہ ملے، کیونکہ اس کی مثال ہمارے یہاں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی شکل میں موجود ہے۔ انہوں نے بھی اپنے دور میں اسی طرح سے جوڈیشل ایکٹیوزم کا مظاہرہ کیا تھا اور ان کو لگتا تھا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی ویسے ہی عزت ہوگی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہوا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی بنائی گئی سیاسی جماعت کا آج شائد کسی کو نام بھی نہیں یاد۔ ثاقب نثار صاحب کے پاس موقع تھا کہ وہ تاریخ کے اوراق میں اپنا نام اچھے الفاظ میں لکھوا سکتے تھے اگر وہ بغیر کسی ذاتی عناد اور دباؤ کے تمام فیصلے دیتے اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے کوئی کام کر جاتے، مگر وہ اس میں ناکام رہے، اس لئے شائد تاریخ ان کو اچھے الفاظ میں یاد نہ رکھے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *