Type to search

خبریں فيچرڈ

سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریک لبیک کے دھرنے کو مشتہر کرنے کا الزام میڈیا پر عائد کیا گیا

سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج کو سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔

Related image

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز 2017 کے فیض آباد دھرنے کے سومو نوٹس کیس کو نمٹا دیا اور حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کو حکم دیا کہ وہ آئین کے متعین کردہ "اختیارات” کے تحت اپنے فرائض انجام دیں۔ دو جج حضرات قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشمل بنچ نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہوا تھا جسے بدھ کے روز سنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا کہ وہ اشتعال انگیزی اور شدت پسندی پھیلانے والے عناصر کی نگرانی کریں اور انہیں سزائیں دیں۔ بنچ نے وفاقی حکومت کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ مسلح افواج کے ایسے افسران کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے اپنے حلف سے منحرف ہوتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

تحریک لبیک نے مذہبی جذبات کو بھڑکایا، اور نفرت اور تشدد کا پرچار کیا، اسے مالیاتی گوشوارے ظاہر نہ کرنے کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی

سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریک لبیک پر کڑی تنقید کی گئی اور فیصلے میں کہا گیا کہ "تحریک لبیک نے مذہبی اشتعال انگیزی پھیلائی، نفرت کی چنگاریوں کو ہوا دی، گالم گلوچ کی، اور تشدد کا راستہ اپناتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا جس کا تخمینہ 16 کروڑ 36 لاکھ روپے ہے”۔ عدالت عالیہ نے ریاست کو بھی تحریک لبیک کی دھمکیوں سے نمٹنے میں ناکام ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ہدایات جاری کیں کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملات سے بہتر طور پر نمٹا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ "تحریک لبیک اور اس کے کارکنان ہر ممکن طریقے سے عام زندگی کو تعطل کا شکار بنانے کیلئے تیار تھے”۔

"لیکن اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاص تیاری نہیں کی۔ مختلف قسم کے واقعات سے نمٹنے کیلئے کسی بھی قسم کی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی تھی”۔ اس کے اختتام پر سپریم کورٹ نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب دوسروں کے حقوق سلب کرنا نہیں ہوتا۔ "اجتماع کا حق، تنظیم سازی کا حق اور اظہار رائے کی آزادی کو دوسروں کے بنیادی حقوق سلب کر کے نافذالعمل نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی بھی قوت شہریوں کے اظہار رائے کے حق پر قدغن نہیں لگا سکتی۔ کوئی بھی حکومت، ادارہ یا خفیہ ایجنسیاں بنیادی حقوق جن میں بولنے اور اظہار رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی (آرٹیکل 19) شامل ہیں ان پر قدغن نہیں عائد کر سکتے۔ تحریک لبیک کے رہنماؤں کی جانب سے حکومت، فوج کے افسران کے خلاف فتاویٰ جاری کرنے کے بارے میں عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے فتوے دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے جس سے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں آ جاتی ہیں”۔

"وہ آدمی جو ایسا فتویٰ جاری کرے جس سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچے یا نقصان پہنچنے کا احتمال ہو اس کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور/یا، الیکٹرانک کرائم کے روک تھام کے ایکٹ 2016 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے”۔

خفیہ ایجنسیوں کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں دخل دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ 

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ "تمام خفیہ ادارے (جن میں آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو، اور ملٹری انٹیلیجنس بھی شامل ہیں) اور آئی ایس پی آر کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اظہار آزادی رائے پر قدغنیں نہیں عائد کر سکتے اور سوشل میڈیا پر مہم نہیں چلا سکتے”۔ آئی ایس آئی کی اس معاملے سے متعلق پیش کردہ رپورٹ کو بھی عدالت نے غیر مکمل قرار دیا۔ "آئی ایس آئی کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں تحریک لبیک کی قیادت کے ذرائع آمدن، کام کرنے کی جگہوں، رہائشی پتے، ان کی تنظیم کی فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق کچھ بھی ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ ہم نے بار بار پوچھا کہ کیا انہوں نے انکم ٹیکس ادا کیا یا ان کے بنک کے کھاتے موجود ہیں؟ آئی ایس آئی نے جواب دیا کہ اس کے پاس اس قسم کی معلومات جمع کرنے کا اختیار نہیں ہے اور اسلئے ہمارے سوالات کے جوابات نہیں ہیش کیے جا سکے”۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلح افواج سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کریں۔ "آئین سختی سے مسلح افواج کے افسران کو کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے جس میں کسی سیاسی جماعت دھڑے یا شخصیت کی پشت پناہی کرنا شامل ہے”۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شفاف مالی کھاتوں کی غیر موجودگی کے باوجود تحریک لبیک کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کردار پر بھی تبصرہ کیا اور فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک کو انتخابات میں شرکت کی اجازت اس حقیقت کے باوجود دے دی کہ "تحریک لبیک نے بارہا یاد دہانیوں کے باوجود اپنی فنڈنگ کے ذرائع ظاہر نہیں کیے تھے”۔ اور اس نے ملک میں امن و امان کا مسئلہ بھی کھڑا کیا تھا۔ 2018 کے انتخابات کے دوران سینیٹ نے خبردار کیا تھا کہ تین سو سے زائد کالعدم جماعتیں نام تبدیل کر کے انتخابات میں حصہ لے رہی تھیں۔

میڈیا پر عائد سینسر شپ اور تحریک لبیک کے حوالے سے

سپریم کورٹ نے پیمرا کے میڈیا پر سینسر شپ عائد کرنے کے کردار پر بھی تبصرہ کیا کیونکہ اس نے اپنے لائسنس یافتہ اداروں کیلئے کچھ نہیں کیا اور کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی۔ "پیمرا نے اپنی بنیادی ذمہ داری کو فراموش کیا، ایک ایسی ذمہ داری جسے وہ پورا کرنے کیلئے قانونی طور پر ذمہ دار تھا پیمرا اپنے لائسنس یافتہ نشریاتی اداروں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں بھی ناکام رہا۔ ڈان اور جیو کی نشریات کو روکا گیا اور شکایات سے اندازہ ہوا کہ پیمرا کو اس کا علم تھا”۔ "ڈان اور جیو کو بالخصوص کنٹونمنٹ کے علاقوں اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں نشریات کے تعطل کا سامانا کرنا پڑا جس کی تصدیق پیمرا نے بھی کی۔ بدقسمتی سے ہیمرا نے اس معاملے کو اور طرح سے دیکھا”۔

"گذشتہ برس ڈی ایچ اے کے رہائشیوں نے شکایات کی تھیں کہ ان کے علاقے میں ڈان اخبار تقسیم نہیں ہوتا۔ اسی سال اپریل میں جیو ٹی وی کی نشریات کو بند کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں پیمرا کے حکم پر نشریات کو دوبارہ جاری کرنے کی اجازت دے دی گئی”۔ فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ کونسل آف پاکستاب نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) نے میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ "مدیروں اور صحافیوں کو مجبوراً کام کے دروان مخصوص حلقوں کے دباؤ کے باعث سیلف سینسر شپ اختیار کرنی پڑتی ہے”۔ اور اس نے تمام ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سے درخواست کی تھی کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پرہیز کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کے دھرنوں کی کوریج کرنے پر میڈیا پر بھی تنقید کی۔ "دھرنے کے رہنماؤں نے اشتعال پھیلایا، گالیاں دیں، دھمکیاں دیں، اور نفرت کا پرچار کیا۔ میڈیا نے تحریک لبیک کو بلاتعطل کوریج فراہم کی۔ جسے بھی حکومت سے بغض تھا وہ اس میں شامل ہو گیا”۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *