Type to search

خبریں فيچرڈ

شفقت امانت علی کہتے ہیں کہ بھارت کو پاکستانی فنکاروں پر عائد پابندی ختم کر دینی چائیے

نامور پاکستانی گلوکار شفقت امانت علی خان نے بھارت کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کیے جانے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ بھارت فن کے تبادلے کیلئے سرحدیں کھول دے۔ شفقت نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فن اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت آسان ہدف ہے اور سیاسی تناؤ کے باعث سرحد کے دونوں اطراف بہت نقصان ہو رہا ہے۔ "فن اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت آسان ہدف ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ فنکار لڑائی نہیں کر سکتے اس لئے ان پر پابندیاں عائد کر دو۔ یہ بہت آسان ہے۔ وگرنہ پاکستان اور بھارت کے مابین ابھی بھی بہت سے شعبوں میں تجارت ہو رہی ہے۔” شفقت نے اس ضمن میں اتاری واہگہ سرحد کی مثال بھی دی اور کہا کہ وہاں خدمات اور مختلف مصنوعات کا تبادلہ ہوتا ہے اور پاکستان بھارت کے درمیان اس سرحد سے تجارتی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی سرگرمیوں پر پابندیاں اس لئے عائد نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے نتیجے میں احتجاج اور شور برپا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے”۔ "اگر ان سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی جائیں تو یہ افراتفری کا باعث بنیں گی۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ فنکاروں اور اداکاروں پر پابندی عائد کریں تو وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اپنے خیالات بیان کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کریں گے۔

بھارتی صحافی بھوپن چوبے نے شفقت امانت علی سے اتفاق کیا ہے

نیا دور نے بھارتی صحافی بھوپن چوبے سے رابطہ کیا جنہوں نے کہا کہ وہ شفقت امانت علی خان کی کہی ہوئی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں سرحد کے دونوں جانب بسنے والوں کو ایک دوسرے سے مثبت چیزوں کا تبادلہ کرنا چاہیے۔ اور میرے خیال میں فنکاروں کا اس میں انتہائی اہم کردار ہے ۔”

پاکستان اور بھارت کے درمیان موسیقی کے مقابلوں کو دونوں ممالک میں پسند کیا جاتا ہے

بھوپن چوبے کہتے ہیں کہ "جو شفقت نے کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔ میرا نہیں خیال کہ پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام نہ کرنے اور بھارتی فنکاروں کے پاکستان میں کام نہ کرنے کی وجہ سے ہم آگے کی جانب مائل سفر ہیں۔ ہم اپنی سرحدیں تبدیل نہیں کر سکتے”۔ ستمبر 2016 میں بھارتی فلم ایسوسی ایشن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کے باعث پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *