Type to search

خبریں فيچرڈ

ذہنی دباؤ ایک اور طالبعلم کی جان لے گیا۔ ماہرین کہتے ہیں اس مسئلے کا تدارک لازم ہے

خیبر میڈیکل کالج پشاور کے ایک طالبعلم نے بدھ کے روز خود کشی کر لی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس نے ذہنی تناؤ اور پڑھائی کے دباؤ کی وجہ سے اپنی جان لی۔ مرنے والا طالبعلم فائنل ایئر کا طالبعلم تھا اور رپورٹوں کے مطابق ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اس فعل کے پیچھے چھپی وجہ پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔

 

مرنے والے طالبعلم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے اور اس کا معائنہ کرنے کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کی جائے گی۔ صحافی افتخار فردوس کہتے ہیں کہ میڈیکل لاج کے ڈین نے بتایا ہے کہ مرحوم طالبعلم ڈیپریشن کا شکار تھا۔”

انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ طالبعلموں کے خود کشی کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن کسی نے بھی اس بڑھتی ہوئی تعداد کا نوٹس نہیں لیا”۔

ماہر نفسیات اور مصنف علی ہاشمی نے بھی ٹویٹ کیا اور ملک میں طالبعلموں میں خود کشی کے رجحان میں اضافے کے مسئلے پر توجہ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

خودکشی اور خودکشی کرنے کی کوششوں کے واقعات ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گذشتہ برس بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبعلم نے کیمپس کی عمارت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی تھی اور اس کی وجہ تناؤ اور امتحانات کا دباؤ تھا۔ گذشہ برس ہی فیصل آباد میں فائنل ایئر کے طالبعلم نے اپنی جان لے لی تھی کیونکہ اس کے استاد نے اسے بار بار ذاتی عناد کے باعث امتحانات میں ناکام کیا۔ اس نے مرنے سے پہلے اپنے دوستوں اور خاندان کیلئے معذرت پر مبنی ایک دل دکھانے والا پیغام بھی چھوڑا تھا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *