Type to search

صحت فيچرڈ

گٹکا ہزارہا افراد کو السر میں مبتلا کرتا ہے۔ کیا حکام اس پر عائد پابندی پر عملدر آمد کروانے میں سنجیدہ ہیں؟

نجی کمپنی کے چوکیدار طاہر خان کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا طاہر خان میرے لئے سب سے عزیز ہے جس کے بنا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح گٹکا بھی میرے بیٹے کی طرح ہے۔ اس کی انگلیاں تمباکو کے نشانات سے براؤن ہو چکی ہیں۔ اس کے نزدیک تمباکو چبانا یعنی گٹکا کھانا آرام اور سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اپنے قریبی دوست کو گٹکا کھانے کی لت کے باعث گلے کے کینسر سے مرتے ہوئے دیکھنے کے بعد بھی اس بچے کے باپ سے گٹکا کھائے بنا نہیں رہا جاتا اور وہ گٹکا چار گھنٹوں تک نہ ملنے کی صورت میں بیمار پڑ جاتا ہے۔

صدف سلیم جنہوں نے حال ہی میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے گریجوئیشن کی تعلیم مکمل کی ہے ان کا کہنا ہے کہ گٹکے میں نکوٹین شامل ہوتی ہے جو اس کی لت کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ چھالیہ، چونے، چکنائی، کتھے اور تمباکو کی آمیزش سے تیار کیا جاتا ہے۔ صدف کا کہنا ہے کہ گٹکا چپانا تمباکو کی کسی بھی دوسری لت سے زیادہ خطرناک ہے۔ مثال کے طور پر تمباکو نوشی کے دوران نقصان پہنچانے والے بیس فیصد کیمیکل پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں جبکہ تقریباً 80 فیصد کیمیلز باہر ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔ لیکن گٹکا جسم میں منہ کے ذریعے براہ راست داخل ہوتا ہے۔ گٹکے پر مختلف صوبائی اور مرکزی حکومتوں نے پابندی لگائی لیکن اس پر سختی سے عملدرآمد نہیں کروایا گیا۔

سندھ بار کونسل کے نو منتخب رکن فہد بلوچ کا ماننا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گٹکے کو خطرناک نشہ نہیں سمجھتے۔ فہد کا کہنا ہے کہ ہماری پولیس میں زیادہ تر اہلکار خود تمباکو چباتے ہیں، ایسے میں ہم ان سے اس عمل کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کی توقع کیوں کر سکتے ہیں؟ فہد نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے گہرا سانس لیا اور بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ کے باب X1V کے سیکشن 269، 270 اور 273 کے تحت گٹکے کی فروخت ممنوع ہے۔ یہ ان دفعات کے زمرے میں اس لئے آتا ہے کیونکہ دفعہ 269 سے مراد “ایسا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے جو جان لیوا مرض کا انفیکشن پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ دفعہ 270 کے مطابق یہ “بدخواہی پر مبنی فعل ہے جو خطرناک جان لیوا مرض کا انفیکشن پھیلانے کا موؤجب بن سکتا ہے”۔ اور دفعہ 273 کے مطابق “مضر صحت کھانے پینے یا مشروبات کی فروخت ممنوع ہے”۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ان جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا 6 ماہ قید یا تین ہزار روپے جرمانہ یا پھر دونوں بھی ہو سکتے ہیں۔ البتہ زیادہ سے زیادہ سزا پوری دنیا میں ایک فرضی روایت ہی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے سینیئر تحقیقاتی صحافی کامل عارف کہتے ہیں کہ گٹکے کی فروخت قابل ضمانت جرم ہے۔ اس ضمن میں پورے کراچی میں آپریشن کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس معاملے میں ہماری پولیس کی عدم دلچسپی ہے۔ زیادہ تر جب اس طرح کے آپریشن سخت اقدامات اٹھانے کیلئے کیے جاتے ہیں تو رشوت کی رقم دوگنی ہو جاتی ہے۔ عبدالقادر ایک چالیس سالہ شخص ہے اور چار سال سے کراچی کے ایک علاقے میں میں گٹکا بیچ رہا ہے۔ اسے پولیس نے تین مرتبہ گرفتار بھی کیا۔ عبدالقادر کہتا ہے پانچ برس قبل میں نے استعمال شدہ فٹبال ٹیبل خریدا تھا لیکن اس سے مجھے اس قدر کمائی حاصل نہیں ہو رہی تھی جس سے میں اپنے خاندان کے 6 افراد کی کفالت کر پاتا۔ میں گٹکا کھانے کا عادی تھا اور اسے مین سٹریم میں لانے کا خیال میرے ذہن میں بالکل مناسب وقت پر آیا۔ اس کیلئے گٹکے پر پابندی لگائے جانے کے بعد کمائی کرنا مشکل ہو گیا ہے لیکن وہ اپنے سنہری دن جی چکا ہے، جب وہ دس روپے میں تھوک پر ملنے والا گٹکا ساٹھ روپوں میں بیچا کرتا تھا۔ وہ اپنے گٹکے کی فروخت کے کاروبار سے ماہانہ 40 سے 45 ہزار روپے کماتا ہے اور اس میں سے ایک اچھی رقم ہر ہفتے قریبی تھانے میں پہنچا دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ گٹکا کھارادر، رنچھور لائن، بلدیہ ٹاؤن، نیو کراچی اور مختلف علاقوں میں کھلے عام بیچا جاتا ہے۔

گٹکے کے صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جناح ہسپتال کے سینیئر ای اینڈ ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر سعد کا کہنا ہے کہ ہر ماہ ہسپتال میں 150 سے 200 کے لگ بھگ مریض منہ کے السر کا علاج کروانے آتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ گٹکے کے استعمال اور تشخیصی عمل سے انکار کی وجہ جہالت کو قرار دیتے ہیں۔ تشخیص کو بہت سے لوگ کینسر پھیلانے کا مؤجب سمجھتے ہیں اور اس مرحلے پر اس کیلئے تیار ہوتے ہیں جب السر، کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ تشخیص اس قسم کے السر کی نوعیت جاننے کیلئے ضروری ہے جو دس دنوں میں ٹھیک نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف گٹکا کھانے والے ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے ایسے مریضوں کا علاج کیا ہے جنہوں نے گٹکا کھانا چھوڑ کر صحت مندانہ طرز زندگی اپنایا ہے وہ ایسے مریضوں کو گٹکا سروائیور (بچ جانے والے) قرار دیتے ہیں۔

ستر سالہ تنویر عالم اپنی رہائش گاہ کے ٹیرس پر ایک کرسی پر بیٹھا اپنے سفید رنگ کے کرتے سے عینک صاف کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2016 میں مجھے اپنے جسم میں اس وقت سستی محسوس ہوئی جب میں صبح 6 بجے فجر کی نماز پڑھنے کیلئے اٹھا۔ ناشتے میں مکھن لگی ڈبل روٹی اور چائے پینے کے بعد میں نے ہمیشہ کی مانند فرج کھول کر گٹکا نکالنا چاہا۔ مجھے جو آخری بات یاد ہے وہ یہ ہے کہ میری بیوی میرے چہرے پر ٹھنڈا پانی چھڑک رہی تھی۔ اسے وہ بیماری لاحق ہو گئی تھی جس میں دل کے دھڑکنے کی رفتار فی منٹ تیس دھڑکنوں تک جا پہنچتی ہے۔ گٹکا اس کی اس بیماری کا مؤجب تھا۔ لیکن عالم ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں۔ اس نے گٹکا کھانے کی عادت کو ترک کیا اور پھر کبھی دوبارہ مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔

4 مارچ 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ “سپاری اور گٹکا صحت کیلئے خطرناک ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ عدالت صحت کے مسئلے کو لیکر کتنی سنجیدہ ہے۔ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ عدالت صحت کے مسائل کو کس طرح سے دیکھ رہی ہے”۔ اس کے علاوہ 4 دسمبر کو نیشنل ہیلتھ سروسز نے اعلان کیا تھا کہ سگریٹ پینے پر گناہ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ لیکن پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گٹکا ابھی بھی فروخت کیا جاتا ہے اور کراچی میں بسنے والی آبادی کی ایک بڑی تعداد اسے استعمال کرتی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *