Type to search

خبریں

وہ بچے جو آلودہ ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان کے ڈیپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات تین سے چار گنا زیادہ ہوتے ہیں‎‎

اہور ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک (LEARN) نے لاہور ہائ کورٹ بار ایسوی ایشئن کے اشتراک سے لاہور ہائ کورٹ کے کراچی شہدا ہال میں “آلودہ ہوا سے نبٹنے ” دوارے ایک سیمینار منعقد کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق اس سیشن میں عالموں ، ایکٹوسٹوں ،وکلا،طلبا ،ماحولیات کے ماہرین اور سول سوسائٹی نے شرکت کی جس نے ملک میں فضائ آلودگی سے نبرد آزما ہونے کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

“فضائ آلودگی کا خاتمہ” سیمینار لاہور میں منعقد ہوا

لاہور ہائ کورٹ کے جج جواد حسن کہتے ہیں کہ صاف ہوا اور پانی انسان کا پیدائشی حق ہیں۔

جسٹس جواد نے مہمان خصوصی کے طور پر حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے عدلیہ بالخصوص لاہور ہائ کورٹ کے ماحولیاتی اور عوامی مفاد کے مسائل سے نبٹنے کی کاوشوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے تازہ ہوا اور تازہ پانی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کے متعلق ہے”۔

رافع عالم نے مشورہ دیا کہ ہمیں چین کے 2030 کے ویژن کو اپناتے ہوئے فضائ آلودگی کا مقابلہ کرنا چائیے۔

ماحولیات کے شعبے کے وکیل اور سرگرم کارکن رافع عالم نے کہا کہ پاکستان کو فضائ آلودگی سے نبرد آزما ہونے کیلئے چین کا ویژن 2030 اپنانے کی ضرورت ہے۔ رافع نے فضائ آلودگی دوارے تاریخی تناظر میں بحث کی اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق سے پاکستان کو مستفید ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پاکستانیوں کو پہلے مسئلے کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ایک بھرپور حکمت عملی بنا کر اس مسئلے کے تدارک کی کوشش کرنہ چائیے۔

فضائ آلودگی کا باعث صنعتیں، بجلی بنانے کے کارخانے ٹرانسپورٹ وغیرہ ہیں۔

داور بٹ نے فضائ آلودگی کو مختلف طریقوں اور پیمانوں کی مدد سے جانچنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف عناصر پر روشنی ڈالی جو فضائ آلودگی کا موجب بنتے ہیں۔اور سموگ اور ہوائ آلودگی کو جنم دینے والے محرکات پر گفت و شنید کی۔انہوں نے کہا کہ ہوا کا معیار دن بدن آلودہ ہونے کا باعث بجلی بنانے کے کارخانے، صنعتیں ، ٹرانسپورٹ اور پاکستان میں استعمال ہونے والے ڈیزل کے معیار کو جانچنے کے طریقہ کار کی عدم موجودگی ہے۔

وہ بچے جو آلودہ ماحول میں پرورش پاتے ہیں ان کے ڈیپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات تین سے چار گنا زیادہ ہوتے ہیں : دانیکا کمال

وکیل دانیکا کمال نے برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ آلودہ فضا دماغی صحت پر اثر انداذ ہوتی ہے اور تحقیق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے وہ بچے جو آلودہ ماحول والے خطوں میں پرورش پاتے ہیں ان کے ڈیپریشن اور دیگر دماغی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات تین سے چار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے آلودگی سے بھرے ذرات ہوا کے ذریعے دماغ کے اندر گھس کر ڈیپریشن کی علامات کا کارن بنتے ہیں۔

عائشہ راجہ نے ماسک اور ہوا کو صاف بنانے والے آلات کے استعمال پر بات کی ۔

عائشہ راجہ نے فضائ آلودگی کے سماج پر مرتب ہونے والے اثرات اور دشواریوں بالخصوص سکول جانے والے بچوں کے حوالے سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں حفاظتی تدابیر مثلا ماسک اور ہوا ڈاف بنانے والے آلات کے استعمال کے بارے میں سکولوں کی سطح پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تا کہ آلودہ ہوا کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکومتی محکموں کیلئے اس ضمن میں مرطوط حکمت عملیاں مرتب کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *