Type to search

انسانی حقوق انصاف تجزیہ جمہوریت

آسیہ بی بی آزاد ہو گئ لیکن نظام کی سمت درست کرنے کیلئے ایک بڑی تبدیلی درکار ہے

مسیحی خاتون آسیہ بی بی جسے توہین مذہب کے الزام میں آٹھ برس سلاخوں کے پیچھے بتانے پڑے اب مکمل آزاد ہو جائے گی کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کی بریت کے خلاف نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا انسانی حقوق کے کیلئے سرگرداں کارکنوں نے خیر مقدم کیا ہے لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہونے پایا کہ کیا ان افراد کے خلاف بھی کسی قسم کی کاروائ کی جائے گی جنہوں نے آسیہ پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا اور جھوٹی گواہیاں دے کر عدالت اور عوام کو گمراہ کیا۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے درخواست گزار کے وکیل کو لاجواب کرتے ہوئے چند اہم ریمارکس دئیے تھے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گواہان کی جھوٹ بولنے پر سرزنش کی اور کہا کہ اگر یہ مقدمہ حساس نوعیت کا نہ ہوتا تو انہیں عمر بھر کیلئے قید کی سزا سنائ جا سکتی تھی۔

قاری سلیم جو علاقے کا مولوی تھا اور آسیہ بی بی کے خلاف توہین مذہب کا مرکزی شکایت گزار تھا ،اس نے قران کریم پر ہاتھ رکھ کر آسیہ پر جھوٹا الزام لگایا جس کے نتیجے میں اس بے گناہ خاتون کو ایک ناکردہ گناہ کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے آٹھ برس بتانے پڑے۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آسیہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کبھی بھی ثابت نہیں ہوئے۔انہوں نے تحریک لبیک کے رہنماوں پر بھی تنقید کی جنہوں نے آسیہ بی بی کو بری کرنے پر سپریم کورٹ کے جج حضرات کے خلاف فتوے جاری کئیے تھے۔ چیف جسٹس نے اس بات پر بھی تاسف کا اظہار کیا کہ تحریک لبیک نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر پورے ملک کو مفلوج کر دیا تھا۔

چیف جسٹس کے ان تبصروں سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ توہین مذہب کے غلط استعمال اور جھوٹی گواہیوں کے مسائل کو اب حل کیا جائے گا۔ توہین مذہب کے قانون کو اکثر اقلیتوں کے استحصال اور ذاتی عناد کی تسکین کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب جبکہ معزز عدالت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو انصاف کے نظام میں خرابی کے باعث اور جھوٹی گواہیوں کو نہ پرکھ پانے کی وجہ سے آٹھ سال جیل میں گزارنا پڑے ، تو عدالتی نظام کا رخ درست سمت میں متعین کرنے کی اب اشد ضرورت ہے۔

ماہر قانون خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ مقدمے کی آخری سماعت کے دوران جج حضرات کے تبصروں سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بنچ جھوٹی گواہیوں پر برہم تھا ” لیکن درخواست گزار کے وکیل کو بے عزت کرنا کافی نہیں تھا”۔ خالد رانجھا کہتے ہییں کہ ” یہ انتہائ مناسب ہوتا اگر سپریم کورٹ مقدمے کو ٹرائل کورٹ میں بھیج دیتی تا کہ جھوٹے گواہوں کو منطقی انجام سے دوچار کیا جا سکتا۔ متبادل طور پر استغاثہ بھی ایسا کر سکتی تھی۔ جھوٹے گواہوں کو اسی قانون کے تحت سزا دینا بیحد ضروری ہے کیونکہ اس سے ایک روایت قائم ہو جائے گی "۔

خالد رانجھا کا مزید کہنا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کا وکیل اس مسئلے کو اٹھاتا ہے اور آسیہ پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں پر توہین کا مقدمہ درج کرواتا ہے تو عدالتیں اخلاقی طور پر اس بات پر مجبور ہوں گی کہ وہ آسیہ بی بی پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کو سزائیں دیں”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ توہین مذہب کے جھوٹے الزامات کا شکار ہونے والے افراد اپنی بریت کے بعد بھی جھوٹا الزام لگانے والوں کو چیلنج نہیں کرتے ، لیکن آسیہ بی بی کے مقدمے کو بین الاقوامی شہرت ملی ہے اس لئے یہ غلط کو درست کرنے کا بہترین موقع ہے۔

Aasia-Bibi-2

خالد رانجھا نے آخر میں کہا کہ ” جب توہین الزام کے جھوٹے الزام کا شکار افراد بری ہو جاتے ہیں تو وہ جھوٹی گواہیوں کے مسئلے کو نہیں اٹھاتے، لیکن آسیہ بی بی کا مقدمہ ایک ایسے موقع کے طور پر استعمال کرنا چائیے جس کے ذریعےمروجہ نظام کو تبدیل کیا جائے اور ایک نئ روایت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ وہ تمام افراد جنہوں نے آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر عدالت کو گمراہ کیا اگر انہیں سزا سنا دی جائے ، تو اس اقدام سے توہین مذہب کے قانون کو غلط طور پر استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی”۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *