Type to search

خبریں

تاریخی طور پر پاکستان نے افغانستان میں مثبت کردار ادا نہیں کیا لیکن اب صورتحال بہتر ہے۔ زالمے خلیل زاد‎

افغانستان میں مذاکرات کیلئے امریکہ کے خصوصی مندوب زالمے خلیذ زاد نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے تاریخی طور پر افغانستان میں "مثبت کردار ادا نہیں کیا ” لیکن اب اس کا رویہ پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ خلیل ذاد نے یہ بات یونائٹیڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے ایک پروگرام کے موقع پر کہی جہاں پروگرام کے میزبان سٹیفن ہیڈلی نے ان سے متعدد سوالات پوچھے- افغانستان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوال پر خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ” یہ حساس نوعیت کا سوال ہے”۔ میرے خیال میں تاریخی طور پر پاکستان نے افغانستان میں امن کے حوالے سے مثبت کردار ادا نہیں کیا ہے، لیکن میری رائے میں موجودہ عرصے میں اب پاکستان کے رویے میں مثبت تبدیلی آئ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی ہمیشہ یہ خواہش رہے گی کہ پاکستان اور دیگر ممالک افغانستان میں مثبت کردار ادا کریں۔ ” لیکن ہم ان کے ابھی تک اٹھائے گئے اقدامات کی قدر کرتے ہیں۔”

امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے اور انہوں نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کو بھی اہم قرار دیا۔ ” پاکستان ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ ہم بہتر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ امن مذاکرات سے مستفید ہو گا لیکن اس کے کردار کے حوالے سے اس کی خدمات کو سراہا نہیں گیا ہے ” زالمے کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے سب سے اچھا انعام امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات ہو سکتے ہیں۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کروانے کی کوشش کی اور یہ افغانستان کے اندر ڈائیلاگ کا حامی ہے جو کہ "مثبت” اقدام ہے۔

امریکہ افغانستان سے اس وقت تک انخلا نہیں کرے گا جب تک امن قائم نہ ہو جائے۔

جب یہ سوال پوچھا گیا کہ امریکہ افغانستان سے امن قائم ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ہی انخلا کر لے گاتو زالمے نے جواب دیا کہ ” ہم نے امن کے عمل کا آغاذ کر دیا ہے جس میں انخلا کا عمل بھی شامل ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد انخلا کا معاہدہ کرنا نہیں بلکہ امن کا معائدہ کرنا ہے۔ اور انخلا تبھی ممکن ہو گا جب امن کا معائدہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔ ” انہوں نے کہا ” امن کے معائدے کی صورت میں انخلا کا عمل ممکن ہے ، لیکن ہم محض انخلا کے معاہدے کے طالب نہیں ہیں "۔ زالمے کا کہنا تھا کہ امن کے معاہدے کی خاطر امریکہ مختلف مسائل پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان میں سے دو مسائل انسداد دہشت گردی اور امریکی افواج کا انخلا ہیں”۔

طالبان کہتے ہیں انہوں نے خواتین کے ساتھ برتاو برتاو میں غلطی کی۔

زالمے سے افغانستان میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے سلوک اور ان کی صورت حال دوارے سوال بھی پوچھا گیا اور طالبان کا اس حوالے سے خصوصا ذکر کیا گیا۔ اس پر زالمے کا کہنا تھا کہ صورتحال آئیڈیل تو نہیں ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس میں بہتری آئ ہے۔”افغانستان کو اس ضمن میں ابھی بہت وقت درکار ہے۔

ابھی اس بات پر خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم نے اور افغانستان کی خواتین نے وہاں کیا حاصل کیا”۔ زالمے کا کہنا تھا کہ طالبان نے بہت سی جگہوں پر اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا ، خصوصی طور پر اس انداذ کو جس سے انہوں نے خواتین سے برتاو کیا۔ ” طالبان کا اس مسئلے پر مختلف خیال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہوں نے خواتین کے ساتھ برتاو کے معاملے میں غلطی کی "۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *