Type to search

خبریں

عاصمہ نے بال ٹھاکرے کے ساتھ ملاقات کے بعد جو رپورٹ لکھی، اس میں بھارت کی دھجیاں بکھیر دیں

سال 2009 میں عاصمہ جہانگیر نے بھارت کا خصوصی دورہ کیا۔ اس دورے میں عاصمہ نے اقوام متحدہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی کہ بھارت میں مذہب اور عقیدے کے معاملات میں کیا صورتحال ہے۔ اس دورے کے دوران عاصمہ نے ہندو انتہا پسند گروہ شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے سے بھی ملاقات کی، اس ملاقات کو لے کر عاصمہ جہانگیر پر پاکستان میں خوب کیچڑ اچھالا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے اس ملاقات کا احوال اپنے الفاظ میں کچھ یوں بیان کیا تھا کہ "میں وہاں مظالم اور استحصال کی تحقیقات کرنے گئی تھی اور اگر آپ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ پڑھی ہے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ میں نے ان پر اقلیتوں کے استحصال کے حوالے شدید سے تنقید کی تھی، یہاں تک کہ ان کی ریاستی حکومت کو مسلمانوں پر حملوں میں ’ملوث‘ تک لکھ ڈالا تھا”۔

دونوں نے حساس معاملات پر گفتگو کی، بالخصوص انسانی حقوق جن میں “مراٹھی افراد” کا معاملہ بھی شامل تھا، مسلمانوں کے مسائل، آمریت اور جمہوریت شامل تھے۔ اس رپورٹ کا عنوان پروموشن اینڈ پروٹیکشن آف آل ہیومن رائٹس، سول، پولیٹیکل، اکنامک، سوشل اینڈ کلچرل رائٹس، جس میں ترقی کا حق بھی شامل تھا، عاصمہ نے اس رپورٹ میں اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جن میں اقلیتوں کے عقائد اور مذہب کی صورتحال، فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ افراد اور بچ جانے والے افراد کیلئے انصاف، جموں و کشمیر میں مذہب اور عقیدے کی آزادی، مختلف ریاستوں میں مذہب تبدیل کرنے کے منفی قوانین کے اثرات، اور مذہبی بنیادوں پر شخصی آزادی کو سلب کرنے والے قوانین شامل تھے۔ اس رپورٹ کی کچھ تحقیقات مندرجہ ذیل ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال

مسلمانوں نے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ کو بتایا کہ ان میں سے کئی افراد کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ گرفتار ہونے والے افراد کے خاندانوں کو بھی مصیبت کا سامنا رہتا ہے کیونکہ کوئی بھی وکیل دہشت گردی کے شعبے میں گرفتار افراد کا دفاع نہیں کرنا چاہتا۔ لکھنؤ کی بار ایسوسی ایشن نے تو اپنے وکلاء پر پابندی ہی لگا دی کہ دہشتگردی کے کسی ملزم کا مقدمہ نہیں لڑا جائے گا۔ تاہم بعد میں اس پابندی کو ہٹا لیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کو استحصال کا سامنا تھا کیونکہ ان کیلئے سکیورٹی کلیئرنس اور پاسپورٹ کا حصول بہت مشکل تھا۔

بابری مسجد کمیشن کے بارے میں

عاصمہ جہانگیر نے رپورٹ میں کہا کہ مرکزی حکومت نے بابری مسجد واقعے کی تحقیق کیلئے تحقیقاتی کمیشن حملے کے دو ہفتے بعد ہی قائم کر دیا۔ لیکن عاصمہ کے یہ رپورٹ پیش کرنے تک اس کمیشن نے اپنی کوئی حتمی رپورٹ جمع نہیں کروائی تھی۔ عاصمہ نے یہ رپورٹ قریب 17 برس بعد لکھی اور یہ خاص طور پر لکھا کہ اس کمیشن کی رپورٹ کے لئے اس وقت تک 47 مرتبہ ڈیڈ لائن آگے کی گئی۔

’حکومت نے گجرات میں دنگوں کے وقت غفلت برتی‘

عاصمہ نے گودھرا ٹرین کے جلائے جانے پر حکومت کا کوئی اقدام نہ اٹھانے اور اس کے سستی برتنے اور اس بات کی تحقیق میں ناکامی پر کہ یہ ایک حادثہ تھا یا سوچا سمجھا حملہ، سخت تنقید کی۔ “2002 میں فرقہ وارانہ دنگوں کے دوران درج کیے گئے زیادہ تر کریمنل مقدمات کی تفتیش ہی نہیں کی گئی یا ان مقدمات کو گجرات پولیس کی جانب سے بند کر دیا گیا اور اس باعث اپنے ہی گھروں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ گجرات کے مخصوص علاقوں میں مسلمانوں کو الگ تھلگ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر احمد آباد میں ایک علاقہ ایسا ہے جسے’منی پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔“

عاصمہ کو گجرات پولیس کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا

رپورٹ میں عاصمہ نے یہ بھی کہا کہ سول سوسائٹی سے مختلف میٹنگز کے دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس حکومتی اہلکار ان سے گفتگو کرنے والوں کے نام نوٹ کرتے رہے۔ کئی مواقع پر عاصمہ کو اصرار کرنا پڑا کہ غیر حکومتی میٹنگز کے دوران پولیس آفیسر کمرے سے باہر چلے جائیں۔

کشمیر کے بارے میں

کشمیر کے بارے میں عاصمہ نے لکھا کہ “مسلمانوں کی برادری سکیورٹی اداروں کے مظالم کا شکار رہتی ہے جبکہ ساری آبادی عسکری گروہوں کے تشدد کے نشانے پر ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ سری نگر میں رہنے والے مسلمانوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور عصمت دری کے بھی کئی واقعات ہوئے ہیں۔“

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاسپورٹوں پر مسلمان مذہب درج ہونے کے باعث انہیں ہوٹلوں میں داخلے سے بھی روک دیا جاتا تھا۔

عاصمہ جہانگیر کا مذہبی استحصال کے حوالے سے اداروں کی جانب سے چھوٹ دینے پر رائے

عاصمہ نے مذہبی استحصال پر چند گروہوں کو چھوٹ دیے جانے کا ذکر بھی کیا۔ "منظم گروہ جو مذہبی نظریات کا استعمال کرتے ہیں انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں ہجوم کے ذریعے پرتشدد کارروائیوں کا خوف بٹھا رکھا ہے”۔ عاصمہ نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ سکیورٹی کے ادارے مذہب کے نام پر تشدد کا پرچار کرنے والی شخصیات اور گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرنے سے کتراتے ہیں۔

عاصمہ نے جموں و کشمیر میں ٹرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا

رپورٹ میں جموں و کشمیر کی صورتحال سے اپنی جانکاری کے بارے میں عاصمہ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کو سب سے پہلے تحقییقاتی ٹیموں سے کروانا چاہیے، اس ضمن میں عدالت یا کوئی بھی کمیشن جس کے پاس اختیار ہو وہ یہ کام کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ریاست کو ٹرتھ اینڈ ریکنسیلیئشن کمیشن بنانا چاہیے تاکہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے اور عرصہ دراز سے موجود تنازعات جیسے جموں و کشمیر میں موجود ہیں ان کے حل کی جانب قدم بڑھایا جا سکے۔

بھارت میں نسلی امتیاز پر عاصمہ کی رائے

اپنی رپورٹ کے ذریعے عاصمہ نے نسلی امتیاز کے خاتمے کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی جو نچلی ذاتوں اور قبائل کو جنہوں نے دوسرے مذاہب اختیار کیے ریلیف پہنچا سکے۔ انہوں نے سفارش کی کہ نچلی ذات کے درجے کو انفردی مذہبی وابستگی سے علحدہ کر دینا چاہیے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *