Type to search

حقوقِ نسواں فيچرڈ معاشرہ

کیا ہماری ماحولیاتی پالیسیاں مزدوروں سے امتیازی سلوک پر مبنی ہیں؟

"ایسا لگتا ہے کہ قدرت بھی میری شادی کے خلاف ہے”۔ یہ الفاظ بیس سالہ ریحانہ نے ادا کیے جو گذشتہ دو برس سے منگنی طے ہو جانے کے بعد شادی کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ عرصہ انتظار اس کیلئے تھوڑا سا دراز ہے اور اس کے خاندان کے اندازوں سے بھی زیادہ جس میں وہ سمجھتے تھے کہ ریحانہ کی شادی کیلئے درکار رقم کی بچت کر لیں گے۔ لیکن قصور کے نواح میں اینٹوں کی بھٹی پر سار دن کام کرنے کے بعد ریحانہ کا خیال ہے کہ اس کی زندگی قدرت اور حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔ ریحانہ اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ گیلی مٹی کو اینٹوں میںں ڈھالنے کا کام اپنے ہوش سنبھالنے کی عمر سے کر رہی ہے۔

ریحانہ کا کہنا ہے کہ یہ کمر توڑ دینے والا کام ہے۔ دن کے اختتام پر آپ کے پاس سوچ بچار یا شکوہ کرنے کی طاقت نہیں بچتی۔ لیکن ہم اینٹوں کی بھٹی کے مالک کے مقروض ہیں اور وہ ہمیں کسی اور جگہ اس وقت تک کام نہیں کرنے دے گا جب تک کہ ہم اس کا قرضہ لوٹا نہ دیں۔ قرضہ چکانے میں بہت طویل عرصہ درکار ہو گا۔ اینٹیں بنانے والوں کی اجرت ایک روپیہ فی اینٹ ہے۔ ریحانہ اور اس کا خاندان اچھے دن پر کل ملا کر 700 روپے کما لیتا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی ہر جمعہ کو کی جاتی ہے۔ کچھ ماہ قبل ریحانہ کا خیال تھا کہ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے سے زیادہ تکلیف دہ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر پنجاب حکومت نے سموگ کے خاتمے کی کاوشوں کے سلسلے میں یہ حکم جاری کیا کہ صوبے بھر میں اینٹوں کی بھٹیاں 70 دن کیلئے بند کر دی جائیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ملک بھر میں فضا سارا سال آلودہ رہتی ہے لیکن چونکہ سردیوں کے مہینوں میں سموگ کے باعث یہ فضائی آلودگی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے اس لئے ابھی تک حکومت کی پالیسیاں سردیوں میں پیدا ہونے والی سموگ کے تدارک تک محدود ہیں۔ لاہور جو ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے فضائی آلودگی اور سموگ کا سب سے زیادہ شکار ہے، جس میں ایس او 2، این او 2، سی او 2، پی ایم 5 اورپی ایم 10 اور دیگر زہریلے کیمیکل پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں شہری فضائی آلودگی دنیا بھر کی بدترین فضائی شہری آلودگی میں شمار ہوتی ہے اور اس کے باعث انسانی صحت اور ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب اینٹوں کا بھٹہ بند ہوا تو ریحانہ کو معلوم ہوا کہ صورتحال ہمیشہ مزید بھی بگڑ سکتی ہے۔ اس کے خاندان کا معمولی ذریعہ آمدن بھی ختم ہو گیا اور انہوں نے ریحانہ کی شادی کیلئے بچائے گئے پیسوں سے پیٹ بھرنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ریحانہ کی شادی اب مزید التوا کا شکار ہو جائے گی۔

لاہور کے مضافات میں ایک اور اینٹیں بنانے والی 35 سالہ رخسانہ کی بھی یہی کہانی ہے۔ جب اینٹوں کا بھٹہ بند ہوا تو اس نے شہر میں گھروں کی صفائی کا کام شروع کر دیا تاکہ اس کا خاندان کم سے کم تین وقت کا کھانا تو کھا سکے۔ اس نے کچھ خاص مدد نہیں کی کیونکہ سردیوں کی آمد تھی۔ انہیں سردیوں سے بچاؤ کے لوازمات خریدنا تھے۔ رخسانہ کہتی ہے "کیا اتنے بڑے فیصلے لیتے وقت کوئی بھی ہمارے بارے میں نہیں سوچتا؟” حکومت کی جانب سے سموگ سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنائی جانے والی حکمت عملی کے باعث غربا سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اینٹوں کی بھٹیوں کی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل مہر عبدالحق کہتے ہیں کہ پنجاب بھر میں تقریباً دس ہزار اینٹیں بنانے کے بھٹے ہیں جن میں تقریباً پانچ لاکھ خاندان کام کرتے ہیں۔ ہر خاندان پانچ افراد پر مشتمل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پچیس لاکھ افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں جن میں سے نصف تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔

کیا اینٹوں کے بھٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

سموگ پہلی مرتبہ چار سال پہلے ابھری۔ لیکن اس کے تدارک کیلئے لاہور ہائی کورٹ نے ایک کمیشن 2017 میں قائم کیا۔ ۔بھٹیاں اکثر اوقات غیر معیاری پٹرول اور کوئلہ استعمال کرتی ہیں جس میں ربر کے پہیے اور پلاسٹک شامل ہوتے ہیں۔ اس کے باعث کالا دھواں خارج ہوتا ہے اور فضا کو آلودہ کرنے والے اجزا پیدا ہوتے ہیں۔ سیمنٹ کے شعبے کے بعد اینٹوں کے بھٹے کوئلہ استعمال کرنے والا دوسرا بڑا شعبہ ہے۔ لیکن اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت نے سیمینٹ کی صنعت کو 70 روز تک بند کرنے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ بلکہ جولائی 2018 میں گرین پیس NO2 ایمیشن سٹدی کے مطابق فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات سڑک پر ٹریفک کے ذرائع (40 فیصد) اور بجلی بنانے والے کارخانے (23 فیصد) ہیں۔ اسی طرح جنوری 2019 میں اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کا مؤجب بننے والے 43 فیصد عناصر ٹرانسپورٹ سیکٹر سے پیدا ہو رہے ہیں۔ تقریباً 20 فیصد چاولوں کی کاشت کے فاضل مواد، 12 فیصد بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں اور دیگر 25 فیصد آلودگی کے مؤجب عناصر کو مختلف صنعتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن میں اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں بھی شامل ہے۔

ماحولیات کے شعبے سے منسلک وکیل رافع عالم کا ماننا ہے کہ اینٹوں کے بھٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ سیاست پر مبنی تھا۔” حکومت کچھ کرتے ہوئے دکھائی دینا چاہتی تھی اور اس ضمن میں ان بھٹوں کی ایسوسی ایشن رضاکارانہ طور پر بھٹے بند کرنا چاہتی تھی اس لئے حکومت نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا”۔ پاکستان ایuر کوالٹی انیشئیٹو کے خالق عابد عمر کا کہنا ہے کہ "اینٹوں کے بھٹے اور کھیتوں کے کچرے کو جلانے والے آسان اہداف تھے کیونکہ وہ لوگوں کی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ کوئی بھی شخص جو رنگ روڈ لاہور پر سفر کرتا ہے وہ انہیں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور اس سے یہ غلط تصور جنم لیتا ہے کہ اینٹوں کے بھٹے دراصل مسئلے کی جڑ ہیں۔ اس طرح کے اقدامات مقبولیت حاصل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جاتے ہیں، جو اس مسئلے کی جڑ پر مفصل تجزیہ نہیں کرتی اور نہ ہی اس کی کشیدگی سے واقف ہے”۔

بھٹوں کے حکومتی فیصلے کی زد میں آنے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ اینٹوں کے بھٹوں کی ایسوسی ایشن نے رضاکارانہ طور پر بھٹیاں بند کرنے کی تجویز دی۔ اینٹوں کے بھٹوں کی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل حق کا کہنا ہے کہ "2018 کے وسط میں ہم نے حکومت کو  پیشکش کی کہ ہم رضاکارانہ طور پر سموگ کے موسم میں بھٹیاں بند کرنے کو تیار ہیں”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے سوچا کہ اس فیصلے کے باعث حکومت کو سموگ پیدا کرنے والے دیگر اسباب پر غور کرنے کا موقع ملے گا مثلاً گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے بارے میں آگاہی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا”۔ حق کا کہنا ہے کہ اینٹوں کی بھٹوں کی ایسوسی ایشن نے "انسانیت کی خاطر” رضاکارانہ طور پر پیشکش کی۔ عالم کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کی میٹنگ کے دوران جب حق سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں رضاکارانہ طور پر بھٹوں کو قربان کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اینٹوں کی بھٹوں کی ایسوسی ایشن کی ساکھ بری ہے اور ہم اسے درست کرنا چاہتے ہیں۔

کیا بھٹوں پر پابندی سود مند ثابت ہوئی؟

اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ کامیابی کو کیسے ماپا جاتا ہے اور کون اسے ماپ رہا ہے۔ حق کا کہنا ہے کہ بارشوں کے سیزن کے جلدی آنے کے باعث سموگ ختم ہو گئی جبکہ حکومت اسے اپنی پالیسیوں کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ پی اے کیو آئی(PAQI)  کے ڈیٹا کے مطابق ماحول میں اکتوبر اور دسمبر کے درمیان پی ایم 2.5 کی مقدار 2017 کے مقابلے میں کم رہی۔ لیکن ای پی ڈی کے ڈیٹا کے مطابق یہ مقدار اس سال مزید بڑھی۔ پی اے کیو سے وابستہ عمر کا ماننا ہے کہ اس سال تبدیلی کی وجہ موسمی تغیر ہے نہ کہ حکومتی اقدامات۔ وہ کہتے ہیں کہ "اینٹوں کے بھٹے بند نہیں کیے گئے تھے بلکہ انہیں چند مخصوص مقامات پر بند کیا گیا تھا اور وہ بھی ان دنوں میں جب آلودگی کی مقدار زیادہ تھی”۔ اس بارے میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کہ حقیقتاً کتنے اینٹوں کے بھٹے بند ہوئے اور کتنے عرصے کیلئے ہوئے۔

ایف اے او اور گرین پیس کی رپورٹ کی مانند ان کا بھی ماننا ہے کہ اینٹوں کے بھٹوں کا فضا میں آلودگی پھیلانے کا حصہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اس پابندی کا سب سے زیادہ نقصان بھٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا ہوا ہے۔ کچھ مزدور ریحانہ اور رخسانہ کی مانند بتاتے ہیں کہ انہیں بھٹے بند ہونے کے ایام میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ دیگر کا کہنا تھا کہ انہیں تاخیر سے پیسے دیے گئے جس کی وجہ سے ان پر مزید قرضے چڑھ گئے۔ جبکہ چند مزدوروں نے بتایا کہ ان کے بھٹوں کو بند نہیں کیا گیا تھا لیکن بھٹوں کے مالکان نے حکومتی پابندیوں کو جواز بنا کر ان کی تنخواہوں کو یا تو کم کر دیا یا تاخیر کا شکار کیا۔

لیکن حق کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن نے کسی ایک بھی مزدور کی اجرت نہیں روکی۔ وہ کہتے ہیں کہ "اینٹیں بنانے والوں جن میں اکثریت خواتین کی ہے کو اینٹیں بنانے کا کہا گیا اور ہم انہیں وہی اجرت دیتے رہے جو کہ عام حالات میں دیتے ہیں۔ ہم اینٹوں کو بلیک میں فروخت نہیں کر رہے تھے۔” اینٹوں کے بھٹوں کے مالکان کو دراصل اس عرصے میں نقصان برداشت کرنا پڑا”۔

جبری مشقت لبریشن فرنٹ کی جنرل سیکرٹری سیدہ غلام فاطمہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ انہوں نے ایک مقامی جریدے کو بتایا کہ بھٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ سموگ کے خلاف نہیں بلکہ مزدودروں کے خلاف تھا۔ "یہ مالکان کیلئے خوشی کی بات ہے کیونکہ ان کے منافعوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا لیکن مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے”۔ فاطمہ کی بات میں وزن ہے کیونکہ جب حکومت نے سموگ سے نبرد آزما ہونے کیلئے فیصلے لیے تو مزدوروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اور پھر ریحانہ کی طرح کئی اور خواتین ہیں جنہیں عورت ہونے کے باعث مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی ایکٹوسٹوں نے اس حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ یہ ریحانہ اور رخسانہ کی طرح کی خواتین ہیں جو اپنے خاندانوں کیلئے پانی، چولہا جلانے، صحت اور خوراک کا بندوبست کرتی ہیں اور وہ ماحولیاتی خرابیوں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور ماحولیاتی مسائل پر بحث کا آغاز کیا جائے۔ پاکستان اس ضمن میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ سموگ کمیشن کے تیرہ ممبران میں سے محض دو ممبر خواتین تھیں اور جو پانچ کمیٹیاں اس کمیشن نے تشکیل دیں ان کی صدارت مردوں کے پاس تھی۔

آگے بڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

حق اور حکومت اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اینٹوں کے بھٹوں کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ زگ زیگ ٹیکنالوجی سے مستفید ہونا ہے۔ یہ نیپالی ٹیکنالوجی ایندھن کے معیار اور استعداد کو بڑھاتی ہے، توانائی کی بچت کرتی ہے اور اخراج کو ستر فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ اس کیلئے ابتدائی طور پر 25 لاکھ کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن بھٹہ مالکان کیلئے اس کے مالی فوائد بیحد زیادہ ہیں۔ پنجاب میں مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو لگانے کیلئے یہاں ماہر تکنیکی افراد کی کمی ہے۔ حق تسلیم کرتے ہیں کہ "پنجاب میں موجود دس ہزار کے لگ بھگ اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے میں بہت سال لگیں گے”۔

ماحولیات سے منسلک وکیل رافع عالم کہتے ہیں کہ "بھٹہ مالکان کیلئے زگ زیگ ہی واحد حل نہیں ہے۔ مختلف قسم کے صفائی کے پلانٹ لگا کر آلودگی پھیلانے والے عناصر کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے۔ وہ پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو ماحولیاتی مسائل حل کرنے کیلئے سادہ حل تجویز کرنے ہوں گے نہ کہ روایتی اور مہنگے حل۔

اس سال حکومت نے بھٹوں کو بند کر کے اور تعمیرات کی قیمتوں میں بگاڑ پیدا کر کے عوام کو یہ باور تو کروا دیا کہ وہ فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن یہ حکمت سے عاری پالیسی آنے والے سالوں میں معاشی طور پر مفید ثابت نہیں ہو گی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *