Type to search

انسانی حقوق سیاست فيچرڈ

پشتون تحفظ موومنٹ کی مقبولیت ریاست کے لئے اچھا شگن ہے

پاکستان اس وقت سیاسی و سماجی حقوق کی تحریکوں کے دوبارہ سے ابھرنے کے دور سے گزر رہا ہے۔ یہ تحاریک ملک میں سکیورٹی اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو چیلنج کر رہی ہیں۔ ریاست کے کریک ڈاؤن اور میڈیا سینسر شپ کا نشانہ بننے کے باوجود پشتون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) کا عروج اور اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت چھوٹے صوبوں میں ریاستی جبر کے خلاف ایک مثبت پیش رفت ہے اور یہ شہریوں کے ان جذبات کی ترجمانی کرتی ہے جس کے مطابق وہ پاکستان میں ریاست کے دفاعی اداروں کو آئین کے مطابق کام کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی ایم سیاسی و سماجی حقوق کی بڑی تحریک بن کر ابھری ہے جو پاکستان کے دوسرے حصوں سے بھی لبرل نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے، گو ا س کو زیادہ تر حمایت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بسنے والے پشتونوں سے مل رہی ہے۔

ملک میں تاریخی پس منظر کے حوالے سے سول ملٹری تعلقات کی نوعیت اور دفاعی بیوروکریسی کی ملکی سیاست پر اجارہ داری کو دیکھتے ہوئے پی ٹی ایم کی نوجوانوں کو متحرک کرنے میں کامیابی اور عوامی رائے عامہ پر اثر انداذ ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ یہ تحریک ابتدائی طور پر نقیب اللّٰہ محسود کو انصاف دلوانے کیلئے شروع ہوئی تھی جسے جنوری 2018 میں کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن بتدریج یہ تحریک پھیلتی چلی گئی اور اس نے بہت سے ایسے پشتونوں کی جانب توجہ مبذول کروانی شروع کر دی جنہیں یا تو ریاستی اداروں کی جانب سے اغوا کر لیا گیا تھا یا پھر مار دیا گیا تھا۔ نقیب اللّٰہ محسود کے قتل کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کیلئے شروع ہونے والی تحریک اب پسے ہوئے طبقات کیلئے ایک پلیٹ فارم اور کمزوروں کیلئے قومی سطح پر ایک مؤثر آواز بن چکی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت پڑھی لکھی علاقائی قیادت پر مشتمل ہے۔ ان کی حکمت عملی، مثال کے طور پر مختلف شہروں میں پر امن دھرنوں کا انعقاد، نے دفاعی بیوروکریسی کو خوفزدہ کر دیا ہے کیونکہ ان پرامن مظاہروں نے انہیں عوام میں مثبت حمایت دلوا دی ہے۔ ان کی اپنی آوازوں کو حکام بالا تک پہنچانے کی پرامن کاوشیں اور اس کے نتیجے میں انہیں سوشل میڈیا پر ملنے والی پذیرائی نے ریاستی مشینری کیلئے ایک مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جو اب تک اس تحریک کے خلاف کوئی مؤثر بیانیہ تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے۔ ریاست کی مشینری کو بتدریج خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ریاست کے ہاتھوں ظلم کا شکار بننے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے شہریوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ پی ٹی ایم کے بنیادی مطالبات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، قانون کے شفاف عمل تک رسائی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ، قبائلی علاقہ جات میں بسنے والوں کی نقل و حرکت پر عائد کڑی نگرانی کا خاتمہ اور پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔

پاکستان کی تاریخ نسلی اقلیتوں اور چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والی سیاسی قوتوں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے ایک منفی تصویر پیش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ریاست ہمیشہ سے ہی علاقائی گروہوں کو حقوق کی فراہمی اور چھوٹے صوبوں کو خودمختاری دینے کے بارے میں تذبذب کا شکار رہی ہے۔ آزادی کے بعد سے لیکر آج تک ریاست نے اختلاف کرتی ہوئی آوازوں کو بہیمانہ طریقے سے دبانے کی کوشش کی ہے اور سٹیٹس کو کو درپیش خطرات کو کچلنے کیلئے ریاستی طاقت کا استعمال کرنے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ اختلاف کرتی آوازوں کا ہمیشہ سے ہی منفی تاثر پیش کرنے کی خاطر انہیں "بنگالی علیحدگی پسند” "سندھی قوم پرست” اور "بلوچ دہشت گرد” قرار دیا گیا۔ اس وجہ سے علاقائی اور نسلی اقلیتیں چھوٹے صوبوں میں اپنے آپ کو مرکزی عمل سے الگ تصور کرتی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں اختلاف کرتی آوازوں کو طاقت سے کچلنے کی کوششوں کے باعث ملک دولخت ہو گیا۔ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن نے وہاں بسنے والے لوگوں کی تکالیف اور شکایتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ پشتون قوم تشدد کے ایک بیحد طویل دور سے گزری ہے۔ سکیورٹی اداروں کے ان کے ساتھ نامناسب رویوں کے بارے میں ان کے تحفظات جائز ہیں۔ اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کیلئے ان کا سیاسی پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ریاست کیلئے اچھا شگن ہے۔

پی ٹی ایم کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات پاکستان کے آئین کے مطابق ہیں اور آئین ان مطالبات کے پورا کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ پی ٹی ایم کے جلسوں کے دوران پاک فوج مخالف نعروں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے یہ مطالبات کہ سکیورٹی اداروں کا احتساب اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ مستحکم اور جمہوری پاکستان وجود میں آ سکے پر ریاست کو کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی جانب سے پی ٹی ایم کی قیادت سے مذاکرات اور ان کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا عمل پی ٹی ایم کو ایک سنجیدہ سیاسی قوت بنا دے گا جو پسی ہوئی نسلی اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے۔

پی ٹی ایم کو پشتونوں کے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے اس کے اپنائے گئے طریقوں پر خراج تحسین پیش کرنا چاہیے اور اس کے مطالبات کی حمایت کرنی چاہیے۔ البتہ اس تحریک کو ریاست کے خلاف قرار دینے کی کاوشیں یا اسے طاقت کے ذریعے کچلنے کی کاوشیں کسی بھی خطرناک صورتحال کی جانب پیش قدمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ پاکستان کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کے حصول کیلئے سیاسی جدو جہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوریت ابھی ملک میں کام کر رہی ہے۔ ریاست کو پی ٹی ایم کی قیادت کے ساتھ علاقائی معاملات میں گفت و شنید کا آغاز کرنا چاہیے اور قبائلی علاقوں میں درپیش سکیورٹی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے پی ٹی ایم کی قیادت کی تائید حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کیلئے دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو قیادت اور اختیارات منتخب حکومتوں کو سونپنا ہوں گے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. راحیل فروری 14, 2019

    اس آرٹیکل میں بہت ہی خوبصورت طریقہ سے پاکستان کے مستقبل سول اور ملٹری تعلقات اور اس میں پی ٹی ایم کا رول اور سول سپر میسی کا زکر کیا گیا ہے..

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *