مسٹر ناٹ انٹرسٹڈ

28 جولائی 2017 اور خاص طور پر 25 جولائی 2018 کے الیکشن کے بعد سے سیاسی منظر یوں آلودہ اور گھٹن زدہ محسوس ہوتا ہے جیسے لاہور کی فضا سردیوں میں سموگ کے نرغے میں محسوس ہوتی ہے۔ نرغے میں کہنے کو تو سب کچھ میسر ہوتا ہے، سب چل رہا ہوتا ہے، آکسیجن بھی دستیاب اور ناک بھی، پھیپھڑے بھی کام کررہے ہوتے ہیں سانس بھی آتا ہے۔ مگرجوں جوں یہ عمل تنفس جاری رہتا ہے جسم کمزور، بیمار اور لاغر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بس ایسے ہی کہنے کو جمہوریت بھی ہے، عدلیہ بھی ہے، افواج بھی اور ہینڈسم حکومت بھی۔ مگر جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے ملک ہے کہ لاغر، بیمار اور کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

اس کثیف سیاسی منظر میں گذشتہ روز ہونے والی افطار پارٹی قاتل سموگ سے اٹی فضا میں ہلکی پھوار کے مترادف تھی۔ میڈیا نے تو اٹھایا ہی اٹھایا، سوشل میڈیا کو بھی کسی پل چین نہ پڑا۔ اپوزیشن کے ہمنواؤں نے اس دعوت کو گیم چینجر جانا تو سوشل میڈیا پر حکومتی مورچوں کی جانب سے افطار پارٹی سے جڑی ہر شخصیت پر اپنی حیثیت کے مطابق بمباری کی گئی۔ کیا محسن داؤڑ اور کیا فضل الرحمان؟ کیا مریم اور کیا بلاول؟ زرداری سے لے کر حاصل بزنجو سب کو ملتے جلتے تنقیدی بموں سے اڑایا گیا۔ ان تنقیدی بموں میں کرپشن، غداری کا ملتا جلتا مسالہ عام طور پر استعمال کیا گیا۔ لیکن ایک منفرد شخصیت ایسی بھی تھی جس کو جو تنقیدی بم مارے گئے ان میں استعمال کیا جانے والا مسالہ بالکل منفرد تھا۔ یہی شخصیت میرا مسٹر ناٹ انٹرسٹد ہے۔

یہ ہے حمزہ شہباز شریف۔ آپ غور کیجئے، انصافی مورچوں سے حمزہ کی جانب لڑھکائے جانے والے تمام تنقیدی بموں کی ساخت باقی تمام شرکا سے مختلف تھی۔ بقول مخالفین، مریم، بلاول افطارابو بچاؤ افطارتھا۔ یہ سب کرپٹ ہیں، یہ غدار ہیں، یہ لوٹ گئے، یہ ملک بیچ دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن حمزہ شہباز پر ہونے والی تنقید میں یہ تمام عناصر غائب تھے۔ صرف ایک ہی بات موجود تھی۔ حمزہ کو مریم نے ہائی جیک کر لیا۔ حمزہ کی بیس سال کی سیاست ختم ہو گئی، حمزہ خاندانی سیاست میں مارا گیا اور ایک طویل فہرست۔ وہ اس شد و مد سے غدار کہلایا نہ ہی کرپٹ۔

دلچسپ یہ کہ میرے بہت سے ن لیگی دوست بھی خاندانی سیاست کے اس بیانیے کو درست مانتے ہیں۔ نجانے کیوں مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا ہے کہ مخالفین تو مخالفین، ن لیگی حامی اور آزاد تجزیہ کار بھی آج تک حمزہ شہباز کوسمجھنے سے قاصر رہے ہیں اور یہی کمی ان کی جانب سے حمزہ شہباز کے بارے تجزیات میں اس کی مخصوص تصور سازی کا مؤجب بھی بنتی ہے۔

کل اپوزیشن افطار میں مریم اور بلاول کی ایک ساتھ تصاویر کو ملک کا طاقتور اور روشن سیاسی مستقبل قرار دیا جاتا رہا۔ سب کی توجہ بھی ان کی جانب مرکوز رہی اور تجزیہ کاروں نے بھی امیدوں کی نئی لڑیاں پرو لیں۔ مگر میرے تصور میں نوجوان سیاسی پود کے ہاتھ میں اس ملک کی روشن اور طاقتور تصویر بنتی ہے تو وہ سب کی توجہ کا مرکز مریم نواز اور افطار دعوت میں کچھ فاصلے پر بیٹھے، چہرے پر بے زارگی کے تاثرات لیے مکمل طور پر مسٹر ناٹ انٹرسٹد حمزہ شہبازکی ہے۔

حمزہ شہباز اپنے والد کی زیراکس کاپی ہے، شہباز شریف سیاسی بیوروکریٹ ہیں۔ بطور صحافی میرا مشاہدہ ہے کہ شہباز شریف جب بھی ماڈل ٹاؤن اپنے کیمپ آفس 180-H میں سیاسی میٹنگز بلاتے ان کے چہرے پر مسٹر ناٹ انٹرسٹد واضح ہوتا۔ ہاں اگر یہی کسی پراجیکٹ پر کام کے حوالے سے 96 H ماڈل ٹاؤن میں میٹنگ ہوتی تو وہ مکمل طور پر اس اجلاس میں کھب چکے ہوتے۔ پرفارمنس کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر غصہ کرتے بھی دیکھا۔

شہباز شریف نے اپنے “مسٹر ٹو” کے طور پر خواجہ احمد حسان کو مشیر مقرر کیا جو اورنج لائن ٹرین سے لے کر لاہور اور صوبے میں ہونے والے بڑے منصوبوں کے کیپٹن رہے۔ تجربہ کار، نفیس اور عالم شخصیت خواجہ احمد حسان اس وقت بھی تحریک انصاف کے شفقت محمود سے قومی اسمبلی کی نشست ہار گئے تھے جب 2013 کے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کو لاہور نے پوچھا نہ تھا۔ تاہم جس بہترین تکنیکی انداز میں تمام اداروں کے ساتھ وہ منصوبوں کی جائزہ میٹنگز کرتے، افسران سمیت تمام لوگ ان کی قابلیت کے گرویدہ تھے اور ان کے غصے سے بھی گھبراتے تھے جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی کے حوالے سے شہباز شریف کی جانب سے سرزنش کے خوف کا ظہار خواجہ صاحب خود میٹنگز میں کرتے رہے۔

بلدیاتی رپورٹنگ کے دوران صحافتی ذمہ داریوں کے لئے گذشتہ دو سال مسلسل حمزہ شہباز شریف کے حلقے این اے 124 میں تقریباً روز کا ہی جانا رہا۔ اس دوران حمزہ کے ورکنگ سٹائل کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔

حمزہ شہباز اپنے والد کی طرح سیاسی بیورو کریٹ ہے۔ جیسے شہباز شریف نے صوبہ مضبوط انتظامی گرفت سے چلایا حمزہ شہباز کا حلقہ بھی ویسے ہی چلتا دیکھا۔ اندرون لاہور کے اس حلقے میں حمزہ شہباز کے پاس اپنے “مسٹر ٹو” کے لئے طاقتور اور دولت مند سیاسی نام موجود تھے، تاہم حمزہ شہباز کی جانب سے جس کا انتخاب کیا گیا وہ وسیم قادر تھے، متمول پس منظر اور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے وسیم قادر ن لیگ کی ٹکٹ سے ڈپٹی مئیر ہو گئے۔

خوبصورت شخصیت کے حامل وسیم قادر میرے شفیق دوست ہیں اور حمزہ شہباز سے اختلاف کے بعد سے اب پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔ حمزہ شہباز کے اس انتخاب کی وجہ یہی معلوم ہوئی کہ وسیم قادر کا مزاج بھی سیاسی بیوروکریٹس سا تھا۔ اتھارٹی استعمال کرنے کا بیوروکریٹک سٹائل۔ میں نے نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران بھی ان کے حلقہ میں پبلک سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے ایسی انتظامی گرفت نہ دیکھی جو حمزہ شہباز کی ایما پر وسیم قادر کی جانب سے روا رکھی جاتی۔ ترقیاتی منصوبوں میں کوتاہی اور روز مرہ شکایات کا ازالہ نہ کرنے پر وسیم قادر اداروں کی ٹھیک ٹھاک کھچائی کرتے۔ جبکہ ان کو حمزہ شہباز کی جانب سے بھی سخت خبر گیری سے گزرنا پڑتا۔

حمزہ سیاسی پنڈال سجانے پر خاص یقین نہیں رکھتے، ہاں ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنے بلدیاتی و سیاسی ورکرز سے، حلقے کے عوام سے کسی اجتماع میں کسی کارنر میتنگ میں کم ہی خطاب کیا مگر ان سب کو فرداً فرداً اپنی رہائش گاہ پر بلوا کر لاتعداد ملاقاتیں ضرور کی جاتی ہیں۔ کئی بار کے مشاہدے میں حمزہ شہباز کسی سیاسی ملاقات کے لئے آتے تو لوگوں کی شکایات کا ادارہ جاتی ازالہ موقع پر ہوتا۔ شاید ہی کسی سیاستدان کا سٹاف اتنا بہتر انداز سے اداروں سے فوری رسپانس حاصل کر سکتا۔ شاید حکمرانی کے دنوں میں مریم نواز کا بھی نہیں۔

سیاسی میدان میں امیدوار کے انتخاب اور سیاسی جوڑ توڑ، حکمت عملی کے حوالے سے حمزہ شہباز خو گر ثابت نہیں ہوئے تاہم لیگی سیاسی ہیڈ کوارٹرز نے سیاسی اجتماعات کی نگرانی اور انتظام کے لئے حمزہ پر ہی بھروسہ کیا۔ اس مسٹر ناٹ انٹرسٹڈ کے اطوار کا اگر تھیوریٹیکل جائزہ لیا جائے تو وہ ایک سٹرکچرل فنکشنلسٹ ہے۔ جو سٹرکچر کے ذریعے سیاسی و سماجی بڑھوتری اور طاقت حاصل کرنے کا قائل ہے جس کی چاہت یہ ہے کہ اس سٹرکچر کو، سسٹم کو کچھ نہ ہو اور اس کے لئے تمام تر قربانیاں دینے پر بھی راضی رہا جائے۔ سسٹم چلنا چاہیے۔ کسی فرد سے زیادتی کا ازالہ سٹرکچر اور سسٹم کی تباہی کی صورت میں نہ ہو۔

سو جس افطار پارٹی میں سب نے حمزہ کو بے زار دیکھا۔ حمزہ کے لئے ذاتی طور پر اس ماحول میں کچھ نہیں تھا۔ یہ تو عوامی جلسوں کی باتیں تحریکوں کی باتیں تھیں۔ ضروری تھیں، اس لئے حمزہ موجود تھا مگر اس کا کام تو حکومت ملنے کے بعد شروع ہوگا۔ تب تک وہ بوریت بھگانے کے لئے کبھی یہاں تو کبھی وہاں دیکھتے مسٹر ناٹ انٹرسٹڈ کی تصویر بنا بیٹھا رہے گا۔

میرے لئے بلاول اور مریم کی تصاویر بلا شبہ ایک نئے سیاسی ماحول کی امید ہیں مگر مسائل سے دوچار اس ملک کی ترقی اور خوشحالی دن رات پرفانس کی مرہون منت ہوگی۔ جب عوام پرفارمنس ڈھونڈیں گے تو اس پر مبنی سیاسی بیانیے کی ضمانت مریم اور حمزہ کی تصویر ہوگی۔ کیوں کہ جیسے نواز کو ایک مسٹر ناٹ انٹرسٹڈ چاہیے تھا ویسے ہی مریم کو یہ مسٹر ناٹ انٹرسٹڈ لازم ہوگا۔ گر پھر یقین نہ آئے تو وہ ویڈیو کلپ نکال کر دیکھیے جس میں نواز شریف اپنےمسٹر ناٹ انٹرسٹڈ کو چینی صدر سے ملوارہے ہیں اور پھر کل کا وہ کلپ بھی دیکھیے جہاں مریم اپنے مسٹر ناٹ انٹرسٹد کو سیاسی قیادت سے ملوارہی ہیں، بس کردار ہی بدلے ہیں۔

اور شاید مریم اور حمزہ دونوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے۔ یہ کمبینیشن صرف نون لیگ کو میسر رہا ہے اور اب بھی دکھائی یہی دے رہا ہے کہ نوجوانوں کے سیاسی افق پر اس کمبینیشن کی اننگز لگ گئی تو ملک کی روشن تصویر میں رنگ بھرے جا سکیں گے۔