اشتہار برائے منسوخی شادی خانہ آبادی

کل اخبار میں اشتہار دیکھا، سرخی کچھ یوں تھی۔ اطلاع برائے منسوخی تقریب شادی خانہ آبادی۔ اور متن کچھ یوں تھا افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ اس ویک اینڈ پر طے شدہ ننھے میاں کی تقریب شادی ناگزیر وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دی گئی ہے۔

مہمانوں سے پیشگی معذرت، ٹینٹ لائٹنگ کیٹرنگ کمپنیاں پریشان نہ ہوں ان کا حساب کر دیا جائے گا۔ اگلے پروگرام کا اعلان اہلخانہ کی مشاورت سے دوبارہ کیا جائے گا۔ نیچے پتہ و نام درج تھے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو اپنے گھر سے چند گلیاں چھوڑ کر بڑے گھر والوں کا پتہ ہے۔ اب ہم بھی  ٹھہرے پاکستانی، شادی کینسل ہو جائے وہ بھی اپنے گھر کے آس پاس اور چسکا نہ لیا جائے۔ نا ممکن۔ سو ہم چل دیے مشن انفارمیشن پر۔

اگلے ہی موڑ پر شیدا پوان دودھ دہی والا، کلچے اور دہی کا ناشہ اڑا رہا تھا۔ اس سے پوچھا کہ بھئی ہمارے محلے میں یہ ننھے میاں کون ہے؟ سدا کا پاپی، شیدا پوان، مونچھوں سے دہی صاف  کرتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا، ”وہی یار۔۔۔ کرکٹر۔۔۔ گرونڈ میں بھی آتا تھا اکثر”۔

ہم نے سمجھنے میں چند لمحے صرف کئے تو پوان سے رہا نہ گیا، جھنجھلاتے ہوئے کہنے لگا ”او یار وہی جو ہر چیز میں کرکٹ کو گھسائے رکھتا ہے، بہت چیڑا ہے، بڑا شوق تھا اس کو شادی کرانے کا، دیکھ اشتہار لگوا دیے اگلوں نے”۔

شیدے کے سینے سے غلیظ ہنسی اور بلغم دونوں ابلے۔ جنہیں اس نے روکنے کی کوئی کوشش نہ کرتے ہوئے فضا اور زمین دونوں تعفن زدہ  کردیے۔ ہمیں بھی سمجھ آگئی تھی۔ اثبات میں سر جھٹکاتے ہوئے ہم ننھے میاں کے گھر کی طرف چل دیے۔ راستے میں ہم ننھے میاں کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ ننھے میاں کا اصل نام تو مجھے یاد نہیں، نجانے اشتہار والے نے کیوں ننھے میاں لکھا؟

خیر، جتنا مجھے یاد ہے ننھے میاں کی عمر تو کافی تھی مگر وہ خود کو نوجوان سمجھتے تھے۔ کرکٹ کا شوق تھا۔ کسی زمانے کھیلے بھی ہوں گے۔ تاہم اب وہ اکثر گراؤنڈ میں دو تین کھلنڈرے نوجوانوں کا گروپ لیے بیٹھے ہوتے تھے۔ ننھے میاں کو دنیا کی ہر چیز اور ہر عمل کرکٹ کی نگاہ سے دیکھنے کی عادت تھی۔

اکثر میں نے سنا کہ اپنے ابا کو ایمپائر کہہ رہے ہیں اور کسی سے لڑائی کی صورت میں اس کو وکٹیں اڑانے کی دھمکیاں دیتے۔ شیدے پوان سے تو ایک زمانے میں ان کا خدا واسطے کا بیر تھا۔ مگر، پھر ننھے میاں کو ایک ٹھیکیدار نے اپنے ہاں نوکر کر لیا۔ چار پیسے بننے لگے تو ننھے میاں نے شیدے پوان سے دودھ لگوا لیا تب سے دونوں کے درمیان معاملات شیر و شکر کی نہج پر جا پہنچے تھے۔ مگر، اب نجانے کیوں شیدا پھر سے بدلا بدلا تھا۔ خیالات کی جھیل میں غوطہ زن تھے کہ ایک زوردار آواز ہمیں واپس لے آئی۔ دیکھا تو خود کو ایک گلی میں پایا۔ سامنے ایک منی لوڈر کھڑی تھی جس پر جلی حروف میں ”چوہدری ٹینٹ  اینڈ ایونٹ سروس” درج تھا۔ گلی میں ترچھی کھڑی گاڑی میں ابھی ابھی شادی کا سٹیج دھڑام سے رکھا گیا تھا جس کی دھمک سب کو سنائی دی تھی۔ گاڑی سے اس پار دیکھا تو کئی افراد تیزی سے شادی کے فینسی تنبووں کی رسیاں کھولنے میں مصروف تھے اور ایک کے بعد ایک چمکیلے بھڑکیلے تنبو گرتے چلے جا رہے تھے۔

دوسری طرف نظر پڑی تو ”بھائی باورچی آف کراچی” والوں کے لڑکے دیگیں اور عارضی چولہے سمیٹنے میں مصروف تھے جبکہ ”بلوچ لائٹ سروس” کے الیکٹریشن بھی تاریں لپیٹ رہے تھے۔ نجانے کیوں، دل برا سا ہوا۔ بوجھل قدموں کے ساتھ واپسی کے لئے نکلے ہی تھے کہ گلی کے کونے پر ان لونڈوں کا گروپ مل گیا جو اکثر میں ننھے میاں کے آس پاس دیکھا کرتا تھا۔ علیک سلیک کے بعد ہم نے ساری صورتحال پر تبصرہ چاہا۔ ان میں سے ایک تو شاید اسی انتظار میں تھا کہ موقع ملے اور وہ پھٹ ہی پڑے۔ اس نے تو زبان کے گھوڑوں کی لگامیں چھوڑ ہی دیں۔ کہنے لگا او بھائی! غلطی ساری ننھے میاں کی ہے۔ دیکھو ناں! ننھے میاں سے کوئی پوچھے کہ تم کرتے کیا ہو؟ کماتے کیا ہو؟ تیار شیار ہو کر زیادہ سے زیادہ گراؤنڈ میں چلے جاتے ہو ادھر ادھر کی ہانک لیتے ہو۔ تایا نے تمہیں ٹھیکیدار کا ملازم رکھوایا۔ پھر ابا نے تم سے بڑے اور قابل بھائیوں کو چھوڑ کر تمہاری شادی  طے کرا دی۔ بھائی اتنا کچھ مل گیا ہے، اب تم بھی کچھ کر لو۔ کچھ نہیں تو منہ ہی بند کر لو یار۔ مگر نہیں۔

شرطیں نہیں ختم ہوتیں بھائی، شادی میں ایسا ہوگا، ایسا نہیں۔ ایسے کریں ویسے نہیں۔ شادی میں پھوپھا نہیں آئے گا اس کی شکل نہیں پسند۔ پتہ نہیں کیا سمجھتے تھے خود کو۔ ارے بھائی پلے ہے کیا تمہارے؟ تو بس ابا طیش میں آگئے ایک دن۔ پھوپھا کی بات پر لڑائی تھی اس کے کمرے میں گئے اور شادی کینسل کرنے کا اعلان کر دیا۔ ننھے میاں بولے میں سب کو بتاؤں گا۔ میرے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اس گھر میں۔ ہاہا!۔ ننھے میاں کیا بتاتے۔ ابا نے اشتہار ہی لگوا دیا۔ ”اب یار ابا تو ابا ہے نا”

مختصر وقفے کے بعد پیچھے سے آوز آئی۔ گیم سمجھ آجانے کے بعد ہم مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ سو اجازت چاہی۔ ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا "تو ننھے میاں سے ملاقات کرنی ہو تو کیسے ہو سکتی ہے؟”

"وہ تو دو دن کے لئے گاؤں گئے ہیں اور کسی سے بھی ملنے سے منع کیا ہے” گروپ میں سے ایک نے اطلاع دی۔ ہم واپس آگئے مگر نجانے کیوں ننھے میاں کے معاملے کو لے کر دل بوجھل ہے۔ مگر، خود کو تسلی دی ہے کہ ننھے میاں کے ابا نے صرف شادی کی منسوخی کا اشتہار دیا ہے۔ دینے کو تو اللہ معاف کرے عاق نامے کا اشتہار بھی دے سکتے تھے۔ بیچارے ننھے میاں۔

نوٹ: یہ کہانی قطعی طور پر ہمارے محلہ جاتی حقائق پر مبنی ہے اور اس کا ملکی معاملات سے کہیں کوئی تعلق نہیں۔ کہانی کی ملکی سطح پر مماثلت اخذ کرنے والے اپنے لئے ہدایت کی دعا کریں۔