قصہ ایک گمشدہ خط کا

جس طرح کچھ انسانوں کی قسمت میں پردیس ہوتا ہے، وہ وہاں نہیں ہوتے جہاں ہونے کو ان کی روح تڑپ رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح کچھ چیزیں بھی وہاں نہیں ہوتیں جہاں ان کو ہونا چاہیے۔ جیسے کے میری کتابوں کے ڈھیر میں دفن ایک خط۔ یہ خط کبھی ایک کتاب میں رکھ کر بھول جاتی ہوں عرصے بعد پھر کبھی ٹکرا جاتا ہے تو کسی دوسری کتاب میں رکھ دیتی ہوں۔

ایسا نہیں ہے کہ میں نے اس خط کو منزل تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ بہت کی۔ یہ سفید کاغذ پر، پنجابی میں، لال بال پوائنٹ سے لکھا ہوا تھا۔

جب کسی طرح اس کو وہاں تک نہیں پہنچا پائی جہاں اسے ہونا چاہیے تو آخری کوشش کے طور پر پنجابی کو اردو میں بدلا، سچ کہیے تو اس کی روح کو زخمی کر دیا۔ مگر اس خط کو لکھنے والے جذبے اتنے سچے تھے کہ وہ پھر بھی خوبصورت ہی رہا۔ پھر ایک بہت پیاری دوست کی مدد سے اسے انٹرنیٹ کی دنیا میں بھیجا کہ شاید کوئی اسے منزل مقصود تک پہنچا دے مگر ناکامی ہی مقدر رہی۔

اب جب آخرکار ہار مان ہی لی ہے کہ اس خط کا منزل پر پہنچنا ممکن نہیں تو سوچا کہ اس کے لفظ جس شخص کی آنکھوں کی روشنی سے چھو کر امر ہونے تھے وہ تو نہ ہو پائے مگر اس کی سوچ شاید ہم میں سے کئی لوگوں کے دل کو ایک احساس سے روشناس کر دے اس لیے اس کے کچھ حصوں کو کاٹ کر یہ خط آپ کو سونپ رہی ہوں، اس امید کے ساتھ کے آپ مرد ہونے کے ساتھ امروز بھی ہوں تو ایک سلام عقیدت آپ کے لیے بھی ورنہ سوچ کا ایک در۔

خط کچھ یوں ہے:

(یہ خط امروز جی کے نام لکھا گیا تھا)

امروز جی،

سلام!

پتا نہیں یہ خط آپ کو ملے گا بھی یا نہیں، پتا نہیں مجھے یہ خط لکھنا چاہیے بھی تھا یا نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ خط میں نے لکھا نہیں ہے، یہ میرے دل پر ایک وحی کی صورت نازل ہوا ہے۔ میرے اندر ایک عرصے سے ویران بنجر صحرا پہ ایک گہرے کالے بادل کی صورت آیا اور اتنا برسا کہ سب جل تھل ہو گیا۔ کہیں تو اس قدر سوکھا کہ آنکھیں خشک اور اب اس قدر بارش برسی ہے کہ کئی روز گزر گئے اس حادثے کو لیکن آنکھیں ابھی تک پرنم ہیں۔

آپ حیران ہوں گے اس بے ربط ابتدا پر، مگر الفاظ پر کوئی قابو نہیں ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ، چند روز پہلے امرتا جی کی کتاب “رسیدی ٹکٹ” پڑھی اور پڑھتے ہی آپ کی محبّت پور پور میں سرائیت کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ دل اک عجیب سی لے پر دھڑکنے لگا۔ دماغ نے کہا بھی کہ یہ سب امرتا جی کہ کلام کا اعجاز ہوگا ورنہ ایسے لوگ کہاں اس دنیا میں بستے ہیں۔ دل کی مگر ضد تھی اور وہ دماغ سے جنگ پر بضد تھا، سو دوبارہ کتاب اٹھائی اور پڑھی۔ تب دماغ کو بھی منانا پڑا کہ امروز جی کا تو ذکر بہت کم ہے۔ اتنا کم جیسے کوئی ماضی کے ورق کھولے تو اپنے ذکر کے ساتھ کسی دوست کا بھی سرسری سا تذکرہ چھیڑ دے۔ مگر میرے لئے تو محبّت میں مبتلا ہونے کے لئے یہ بھی بہت تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا؟

ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت کی عزت ایک رشتے کے طور پر تو کی جاتی ہے لیکن انفرادی انسان کی حیثیت سے نہیں۔ جب تک ماں، بہن، بیوی، یا بیٹی کے نام کا طوق آپ کے گلے میں نہ ہو، عورت معتبر نہیں بنتی۔ ایسی دنیا جہاں میری ذات نہیں لیکن میری ذمے داری میری پہچان ہوتی ہے۔ جس زمانے میں قاتل کو تو معافی مل جاتی ہے لیکن عورت کی محبّت غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں، اگر کوئی مرد کسی عورت کو اس کے ماضی سمیت قبول کر لے تو یہ جیتا جاگتا معجزہ ہی ہے۔

ہم ایسی دنیا کے باسی ہیں جہاں ہمارے پاس گھر کی تو حکمرانی ہے لیکن شخصی آزادی نہیں، ذات کا اختیار نہیں ہے۔ جہاں آپ کو مقام بنانے کے لئے خود اپنی ہی ذات کو کچلنا پڑتا ہے۔ محبّت کے دعویداروں کی نظر میں قابل ستائش ہونے کے لئے، اپنی خواہشوں کو دفنانا پڑتا ہے۔ ان سب کے بیچ، ایک آپ جیسا انسان، ایک مرد جو آپ کو آپ کی ذات سے بھی اوپر رکھے۔ ہے نا عجیب بات؟ یا پھر شاید محبّت کی معراج۔

بس مجھے اس محبّت سے محبّت ہے جو آپ کو امرتا جی سے تھی اور رہے گی۔ اپنی ذات کا مان، اپنے خوابوں کی خود مختاری، اپنی سوچ کی آزادی اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ کی پہچان جو ہر گھریلو عورت ماں/بیوی بننے کے بیچ کہیں قربان کر دیتی ہے، مگر پھر کبھی دل سے ہنس نہیں پاتی۔ ذات سے باہر کی ہر خوشی، ہر رونق اندر کا سونا پن کبھی ختم نہیں کر سکتی۔ مرد اسی کو جیت سمجھتا ہے کہ اس نے ہمیں چھت دے دی، گود بھر دی تو زندگی کی تکمیل ہو گئی۔ آپ نے امرتا جی کی ذات میں خود کو سما دیا تھا، بنا کسی رشتے کی طلب کے۔

کاش، میری دنیا کے مرد یہ سمجھ سکیں کہ عورت کو رشتوں میں بانٹنے سے عورت مکمّل نہیں ہوتی۔ یہ تو وہ ذات ہے جس کو دنیاداری نے مار ڈالا۔ اس بےجان کو اگر کوئی زندہ کر سکتا ہے تو وہ ہے امروز کا لمس، اس کا ساتھ جو مرد نہ بنے بلکہ دوست بن کر ہر دکھ سن لے۔ جو شوہر نہ بنے، محرم بن کر اندر چھپی ہوئی “میں” کو دیکھ لے۔ جو سرپرست نہ ہو، بلکہ ساتھی بن کر ہر خواب کی سانجھےداری کر لے، جیسے آپ نے کی۔ آپ کو معلوم ہے امروز جی، مجھے لگتا ہے اگر مرد ذات کو یہ سمجھ آ جائے کہ عورت کو مردانگی کی نہیں، امروز کی ضروت ہے تو کوئی عورت خود کی “میں” کا قتل نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے آپ سے آپ کی وجہ سے محبّت ہے اور عقیدت بھی۔

خط کو اعتراف سمجھ لیجئے اس احساس کا جو صرف اس وقت جنم لیتا ہے جب کوئی مرد اپنی انا کے چنگل سے آزاد ہو کر کسی عورت کی “میں” کو اپناتا ہے۔ آخر میں بس دعا کروں گی کہ ہر عورت کو اس کی ذات کہ لئے “امروز” ضرور ملے۔

آپ کے لئے ڈھیروں دعا اور عقیدت، اس عورت کی طرف سے جس کا ساحر اس کے ساتھ ہے مگر وہ محبّت میں ذات کی نفی کرتے کرتے تھک گئی ہے اور امروز کی منتظر ہے۔

رب راکھا

خط والی خاتون کو ان کا امروز ملا کہ نہیں، نہیں پتہ اس خط کو پڑھ کر آپ اپنی زندگی میں موجود خاتون کے امروز بن جائیں تو اس خط کو منزل ملے بنا بھی یہ منزل پر پہنچ جائے گا۔