11 برس میں خیبرپختونخوا کی 4،504 خواتین قتل

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں پچھلے گیارہ برسوں میں خواتین پر تشدد کے کُل 7206 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اس عرصے کے دوران 4504 عورتوں اور بچیوں کو قتل کیا گیا۔

عورت فاؤنڈیشن نے گزشتہ روز عالمی یوم حقوق انسانی کے حوالے سے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کیا۔ پریس کانفرنس میں تنظیم کی سربراہ صائمہ منیر کا کہنا تھا کہ بتائی گئی تعداد صرف وہ ہے جو اخبارات میں آتی ہے۔ ’جو غیر رپورٹ شدہ کیسز ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ عورتوں کے خلاف تشدد کے کم از کم  دو واقعات ہو رہے ہوتے ہیں۔‘

عورت فاونڈیشن نے گیارہ سال کے عرصے میں کُل رپورٹ شدہ تشدد کے واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2009 میں کُل 615 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 2010 میں 650، 2011 میں 694، 2012 میں 674، 2013 میں 597، 2014 میں 736، 2015 میں 425، 2016 میں 663، 2017 میں 777، 2018 میں 646، اور امسال پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ یعنی 778 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ صائمہ منیر کا کہنا ہے کہ 2019 میں ابھی انہوں نے دسمبر کا مہینہ شامل نہیں کیا ہے۔