وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتار ی کیلئے دوسرا چھاپہ بھی ناکام

پنجاب پولیس لاہور کے ہسپتال پر حملے میں ملوث وزیراعظم کے بھانجے کو اب تک گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے ، ملزم کی گرفتاری کے لیے مارے گئے دوسرے چھاپے میں بھی حسان نیازی ہاتھ نہیں آسکے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن انعام وحید کے مطابق لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر وکلاء کے حملے میں ملوث وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتاری کے لیے رائیونڈ روڈ پر واقعے ایک نجی اسکیم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تاہم ملزم چھاپہ مار ٹیم پہنچنے سے پہلے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حسان نیازی کی گرفتاری کے لیے مارا جانے والا یہ دوسرا چھاپہ تھا، پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے گھر پر چھاپہ مارنے کے سرچ وارنٹ بھی حاصل کئے گئے تھے۔

دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو میں وزیراطلاعات برائے پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ لاہور واقعہ کی تحقیقات کی جائیں، پی آئی سی واقعہ میں اب تک 54افراد کو گرفتارکیا گیا ہے، گرفتار 47 افراد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل، جب کہ 7 جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

حسان نیازی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حسان نیازی کی گرفتاری کیلئے 5 بار چھاپے مارے گئے، حسان نیازی کو ہر حال میں گرفتار کیا جائے گا، حفیظ اللہ نیازی سارا دن عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، حسان نیازی کے خلاف بھرپورکارروائی کی جارہی ہے۔ حسان کے والد حفیظ اللہ نیازی سارا دن عمران خان پر تنقید کرتے ہیں۔

ایک موقع پر ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ن لیگ والوں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے اچھے کام ہضم نہیں ہوتے، انہیں ان کے کارنامے یاد دلائیں تو برا مانتے ہیں، ہم نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں